You are currently viewing ناشرؔ نقوی بطور مرثیہ نگار

ناشرؔ نقوی بطور مرثیہ نگار

شاہد ایوب

 انگریزی  لیکچرار، مولاناآزاد اردو یونیورسٹی

ناشرؔ نقوی بطور مرثیہ نگار

موجودہ دور کے اردو ادب میں ناشرؔنقوی کا نام ایک اہم اور نمایاں مقام پر نظر آتا ہے۔ ان کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ادب کے ہر شعبے میں اپنی خاص پہچان بنائی ہے۔ بطور استاد، اردو زبان کی ترویج میں ان کی تحریریں اور کتابیں یونیورسٹی کی نصاب میں شامل ہیں۔ انہیں اردو شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اگرچہ وہ نثر اور نظم کے مختلف اصناف میں مہارت رکھتے ہیں، مگر ان کی شاعری اتنی دلکش اور متاثرکن ہے کہ دیگر تمام جہات ان کے شاعرانہ جوہر کے سامنے مدھم پڑ جاتی ہیں۔ ہر شعر میں ایک نئی دنیا کا تذکرہ ہے جو قاری کو گہرے اور نادر تجربات سے روشناس کراتا ہے۔  اگرچہ انہوں نے مختلف صنفوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ان کی پسندیدہ صنفیں مرثیہ اور غزل ہیں۔ وہ نہ صرف غزل کو سجانے، سنوارنے اور اس کے ناز اٹھانے میں ماہر ہیں، بلکہ اس میں اپنا دکھ بھی شامل کرتے ہیں۔ ناشرؔ نقوی نے اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں میں ہی شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شاعری ان کے لیے ایک قدرتی وراثت تھی۔ انہوں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، اس نے ان کے بچپن کے بے ترتیب قدموں کو سنبھالنے میں مدد فراہم کی، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انہوں نے شاعری کے میدان میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا سفر ابتدائی طور پر لفظوں کی سادگی سے شروع ہوا، جو بعد میں کمال فن کی صورت اختیار کر گیا۔ وہ بچپن سے ہی ادبی محفلوں کا حصہ بننے لگے، جہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا گیا۔انھوں نے اپنی شاعری کی ابتدا منقبت سے کی۔در اصل ناشر نقوی کو بچپن ہی سے نوحے اور سلام پڑھنے کا شوق تھا۔اپنی شاعری کے بارے میں خود لکھتے ہیں؛

’’اماں کی گود سے بابا کی انگلی پکڑ کر مجلسوں میں جانے تک مجھے انیس اور دبیر کی بہت سی رباعیاں از بر ہو چکی تھیں۔پانچ برس کی عمر میں انیس اور دبیر کی رباعیوں اور پھر مرثیوں کو تحت اللفظ خوانی کے ساتھ پڑھتے ہوئے میں مجلسوں کا ذاکر بن گیا۔اسی وابستگی نے مجھے سخن فہم سے سخن ور بنا دیا۔مجلسوں کے علاوہ میرے شہر میں منعقد ہونے والی قصیدوں کی سالانہ محفلوں نے بھی فکر و عمل پر صیقل کی ہے۔پچھلے 80 برس سے جاری محلے کی سالانہ منقبتی محفل میں لڑکپن سے ہی میں قصیدہ پڑھا کرتا تھا۔میرا قصیدہ کبھی میرے بابا اور کبھی ماموں کہہ دیا کرتے تھے۔1972 میں ان دونوں نے میرے دسویں کلاس میں فیل ہو جانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نئی منقبت کہہ کر نہیں دی تو مجھے بھی طیش آگیا اور میں نے گھر کی سدری میں بیٹھ کر امام زین العابدین کی شان میں سات اشعار کی ایک منقبت خود ہی کہی اور پورے طنطنے کے ساتھ پڑھی۔

خودی نے ساتھ دیا بے خودی نے ساتھ دیا

بقدرِ ظرف میرا ہر کسی نے ساتھ دیا

اسیر ہو کے جو بیمار کربلا سے چلا

تو شام تک ترا بے کس پھوپھی نے ساتھ دیا

کیوں کہ میں اعلان کر چکا تھا کہ یہ میری اپنی کاوش ہے۔اس لیے مجھے داد بھی خوب ملی اور اگلے دن میرے دادا اور ماموں دونوں نے مجھے شاباشی دی۔‘‘1

         بچپن سے ہی اردو ادب سے گہرا تعلق رکھنے کی وجہ سے ناشرؔ نقوی میں ذوقِ جمال اور شوقِ کمال دونوں کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، وہ فطری شاعر ہیں، جنہیں شاعری کے لیے ذہنی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ کوئی خیال ذہن میں آ جائے تو الفاظ خود بخود زبان پر آ جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف زبان کے ماہر ہیں بلکہ اصل اہلِ زبان بھی ہیں، اور اس کی لطافت ان کی شاعری میں بخوبی نمایاں ہوتی ہے۔ یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں ہوگا کہ موجودہ دور میں ناشر نقوی اپنے آپ میں ایک انجمن کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ صرف شاعر نہیں ہیں بلکہ ایک ایسے گنجِ چشمہ ہیں جہاں ہمیشہ نئے خیالات کی دھار جاری رہتی ہے اور اشعار کا نزول لگاتار جاری رہتا ہے۔ اسی گنجِ چشمہ سے کئی کتابیں جنم لے چکی ہیں، جن میں نہ صرف شعری بلکہ نثری تخلیقات بھی شامل ہیں۔

         ناشرؔ نقوی کی دنیاوی زندگی کا آغاز 15 جولائی 1956 کو ہوا۔ ان کے والد، سید ناظر حسین نقوی، نہ صرف زمیندار بلکہ ایک معتبر شاعر اور صحافی بھی تھے۔ ناشرؔ نقوی نے اپنی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مقامی اسکول اور آی۔ایم۔ انٹرکالج سے حاصل کی اور 1974 میں شاعری کا آغاز کیا۔ایم۔اے کرنے کے بعد ناشر نقوی نے دہلی میں روزگار کی تلاش شروع کی، جہاں ان کی ملاقات اردو کے معروف شاعر مہدی نظمی سے ہوئی، جو ان کے استاد بھی بنے۔ ناشر نقوی نے بچپن سے ہی شاعری میں دلچسپی لی تھی اور نظمی کے زیرِ اثر ان کی شاعری میں نکھار آنا شروع ہو گیا۔ دہلی میں ہی انہیں اردو ادب کے بڑے دانشوروں سے قریب ہونے کا موقع ملا، جیسے پروفیسر محمد حسن، پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر اعجاز عسکری، اور پروفیسر تنویر احمد علوی۔پروفیسر جاوید وشیشٹ کے مشورے پر ناشر نقوی نے ہریانہ اردو اکادمی کے رکن کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں اور اڈیٹر کے طور پر اپنے جوہر دکھائے۔ اس دوران انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ’اردو کے سکھ شعراء‘کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور کچھ عرصہ بعد پنجابی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی، اردو اور عربی میں لکچرار کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور ترقی پاکر پروفیسر کے منصب تک پہنچ گئے۔ناشرؔ نقوی کا مقام آج نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت بلند ہے۔ ان کی شاعری اور منفرد انداز نے انہیں ایک خاص پہچان دی ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہوں نے کئی مشکلات کا سامنا کیا، لیکن ان کے لیے ان کی شاعری کا سفر ایک مسلسل ارتقاء کا عمل رہا ہے۔

         ناشرؔ نقوی نے جدید لب و لہجے کی منفرد آمیزش اور اسلوب کے ذریعے بامقصد شاعری تخلیق کی ہے۔ ان کے ہر شعر میں عصری شعور اور انسانی تجربات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری مختلف آوازوں کا امتزاج ہے، جس میں خوبصورتی، حرکت، قوت اور توانائی کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔ ان کے اشعار میں نغمگی اور بلند آہنگی کے ساتھ ساتھ تغزل، سادگی، شیریں زبان اور متوازن اندازِ بیان کی خصوصیات نمایاں ہیں، جہاں حالات و واقعات کی تلخی اور زندگی کی سرگرمیوں کا ذکر مہذب انداز میں کیا جاتا ہے۔ وہ الفاظ کے ساتھ کھیلنے میں ماہر ہیں، کہیں سادہ اور عام فہم اسلوب میں تراکیب، استعاروں اور کنایوں کا استعمال کرتے ہیں تو کہیں ابہام و ایہام گوئی اور محاوروں کو نئے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے فکری سطح پر ایک نیا افق قائم کرتے ہوئے اردو شاعری کے لفظوں، استعاروں اور رموز کا متوازن استعمال کیا ہے، جس سے اردو شاعری میں نئے معنی پیدا ہوئے ہیں اور ذہنی تصورات اور تخیلات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اگرچہ وہ کچھ حد تک روایتی شاعری کی پیروی کرتے ہیں، مگر انہوں نے روایت سے ہٹ کر نئے خیالات کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ وہ ماضی کی قدروں کے شیدائی ہیں اور ساتھ ہی موجودہ زندگی کی مشکلات و تنازعات کے عکاس بھی۔دیدہ وری ناشرؔ نقوی کے جدید مرثیوں کا مجموعہ ہے۔اس مجموعہ کلام میں ناشر نقوی نے کل ملا کر چھ مرثیے شامل کیے ہیں جن میں سر چشمہ افکار،دیداوری،ادراک وفا احساس اور عباس،قلم کی شہادت اور وقت شامل ہیں۔اس مجموعہ میں جو پہلا مرثیہ شامل کیا ہے اس کا عنوان سر چشمہ افکار ہے جو کل ملا کر اکہتر بند پر مشتمل ہے۔مرثیہ کی شروعات میں ناشر نقوی نے جو بند تحریر کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

جانِ جانانِ محبت تذکرہ شبیر کا

جان ہے افکار کی ہر تجزیہ شبیر کا

جاں نثاروں کی کہانی حوصلہ شبیر کا

جانِ اصنافِ سخن ہے مرثیہ شبیر کا

میر و غالب نا خدایانِ سخن کی جان ہے

مرثیہ وہ فن ہے جس پر شاعری قربان ہے

         اسی مرثیے میں آگے چل کر ناشرؔ نقوی لکھنؤ شہر کا تذکرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور لکھنؤ کے مشہور شعراء کے بارے میں بھی لکھا ہے۔اس حوالے سے ناشر نقوی کے تحریر کردہ یہ دو بند دیکھیں:

لکھنؤ شہر مہذب،شاعری جس کا خمیر

ہر زمانے میں دبستان ادب اور فکر گیر

اوج و ثاقب کا اثر شاعر ہوئے ہر دل عزیز

فضل و انور اور تعشق،شاہ کے غم کے خبیر

کیسے کیسے ذاخر فن مونس اور دلگیر تھے

عہد سازان ادب تھے عاشق شبیر تھے

مرثیہ جان تخیل مرثیہ جان سخن

یعنی اک تحریک ہستی کی بہ عنوان سخن

ضامن حسن بیاں شہر نگارانِ سخن

فاتح افکار ندرت،مرد میدان سخن

انسیت پائی انیسِ کربلا کے ذکر سے

دبدبہ اس کو ملا اک دبیر فکر سے

         دیداوری عنوان کے ساتھ ناشرؔ نقوی نے شاندار مرثیہ تخلیق کیا اور اپنے ایک مجموعہ کا نام بھی دیداوری رکھا۔اس مرثیہ کی ایک الگ قسم کی شناخت ہے اور الگ قسم کی اہمیت بھی ہے۔اس مرثیہ میں ڈاکٹر ناشر نقوی نے آنکھ کو موضوع بنا کر اپنی فکر پیش کر کے ایک الگ ہی انداز کا مرثیہ تحریر کیا ہے جسے ناقدین نے انتہائی کامیاب اور اچھوتا مرثیہ قرار دیا ہے۔اس مرثیے کو ناشر نقوی نے ساٹھ بند میں سمیٹا ہے۔پورے مرثیے کے دوران آنکھ کے ایسے ایسے پوشیدہ گوشے وا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں تک عام انسان کا تصور بھی نہیں جا سکتا ہے۔شروعاتی بند ملاحظہ فرمائیں:

لکھ رہا ہوں مرثیہ عنوان بنا کر آنکھ کو

دور رس افکار سے کرنا ہے خوگر آنکھ کو

فکر ہے کیسے بناؤں گا سمندر آنکھ کو

کچھ اچھوتے کچھ نئے دینے ہیں منظر آنکھ کو

پئے بہ پئے پردے ہیں ان پردوں کے اندر سوچیے

آنکھ کی گہرائیوں کو زندگی بھر سوچیے

         اب اس کے بعد یہ بند بھی دیکھیں اور اس شاعر کی قادر الکلامی کا اندازہ لگائیے:

آنکھ لگنا نیند کا آنا بھی ہے قربت بھی ہے

آنکھ پھرنا بے مروت ہونا بھی ہے نفرت بھی ہے

آنکھ پھرنا موت بھی ہے دہر سے ہجرت بھی ہے

آنکھ کھلنا ہوش میں آنا بھی ہے عبرت بھی ہے

نور آنکھوں سے ہے ہستی کی جیا آنکھوں سے ہے

آدمی کی عزت و شرم وحیاء آنکھوں سے ہے

         ناشر نقوی نے مرثیہ نگاری میں جدت لانے کی کامیاب کوشش کی ہے اور اس دور کے مرثیے کو اس دور کے تقاضوں سے روشناس کراتے ہوئے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔پروفیسر ناشر نقوی کی کتاب ’ناشر نقوی مرثیہ اور مرثیے ‘  میں ایک تبصرہ جو ناشر نقوی کی مرثیہ نگاری کی خصوصیات پر مبنی ہے،میں پروفیسر وسیمؔ بریلوی یوں رقمطراز ہیں:

’’لطف کی بات یہ ہے کہ ناشرؔ نقوی کے جدید مرثیے حسن عقیدت کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ آج کی روشن خیالی کو بھی تعمیری جہتوں سے روشناس کراتے ہیں۔ان میں نہ روایتی سراپا ہے،نہ چہرہ،نہ منظر نگاری نہ جذبات۔۔۔یہ نیا مرثیہ ہے۔ان میں شہید کربلا حضرت امام حسین،حضرت عباس،حضرت علی اکبر اور حضرت علی اصغر جیسے اہم کرداروں کے وہ روشن پہلو پیش ہوئے ہیں جو انسان کو جینے کی ہمت اور صبر آزما حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔منتخبہ بارہ مرثیوں میں پہلا مرثیہ ارتقائے مرثیہ کے عنوان سے ہے جو مرثیے کی تاریخ ہے۔دوسرا مرثیہ خاصانِ خدا کے عنوان سے کربلا کے بہّتر شہیدوں کے ان کارناموں کے ساتھ تعارف ہے جو یقیناً مرثیہ نگاری میں ایک نیا پہلو ہے۔بنیادی طور پر اس مرثیہ کا موضوع کربلا کا ننھا شہید ہے جو بے زبان بھی ہے اور بے ہتھیار بھی لیکن بہتر بند کے اس مرثیے میں ناشرؔ نقوی نے جو انسان کے نفسیاتی پہلو اس میں نظم کیے ہیں وہ اچھوتے ہیں۔‘‘2

         ناشرؔ نقوی ایک قادرالکلام مرثیہ نگار ہیں جن کے ہاں فکری توانائی اور تخلیقی ہنرمندی نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔ ان کا کلام روایت سے جڑا ہونے کے ساتھ ساتھ عصری شعور کا آئینہ دار بھی ہے۔ وہ مرثیے میں محض واقعہ نگاری پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ فکر، احساس اور علامت کے ذریعے قاری اور سامع کو فکری سطح پر متحرک کرتے ہیں۔ ان کی زبان میں سلاست، بیان میں تاثیر اور خیال میں گہرائی پائی جاتی ہے۔ کردار نگاری، منظر کشی اور جذباتی آہنگ ان کے فن کو وقار بخشتے ہیں۔ یہی خصوصیات ناشرؔ نقوی کو معاصر مرثیہ نگاروں میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔مثال کے طور پر یہ بند ملاحظہ فرمائیں:

آنکھ لگنا نیند کا آنا بھی ہے قربت بھی ہے

آنکھ پھرنا بے مروت ہونا بھی نفرت بھی ہے

آنکھ کُھلنا،ہوش میں آنا بھی ہے عبرت بھی ہے

آنکھ میچنا موت بھی ہے دہر سے ہجرت بھی ہے

اس کا اک ادنیٰ اشارہ قسمتوں کا پھیر ہے

یہ جو پھر جائے کسی سے زندگی اندھیر ہے

         ناشرؔ نقوی کے ہاں کلاسیکی اسلوب کی لطافت اور فکری جدت کا امتزاج ان کی تحریر کو منفرد وقار عطا کرتا ہے۔ وہ روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے زبان کی شستگی، تشبیہات کی نزاکت اور بیان کی متانت کو برقرار رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی عصری شعور اور جدید فکری سوالات کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ ان کا اسلوب ماضی کی خوشبو لیے ہوئے حال کے مسائل سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہی توازن ان کی تحریر کو نہ صرف دلنشیں بناتا ہے بلکہ قاری کو فکری سطح پر متحرک بھی کرتا ہے۔ ناشر ؔنقوی کا فن اس بات کا ثبوت ہے کہ روایت اور جدت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ باہم تکمیل ہیں۔بقول پروفیسر حسین اختر نقوی:

’’ان کے (ناشرؔ نقوی) کے ہاں کلاسیکی اسلوب کی لطافت اور فکری جدت کا ایک متوازن امتزاج دکھائی دیتا ہے،جو نہ صرف ان کے فنی شعور کی دلیل ہے بلکہ مرثیے کو موجودہ عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی۔ناشر نقوی صرف مرثیہ کے شاعر ہی نہیں بلکہ مرثیے کے ناقد بھی ہیں۔‘‘3

          ناشر ؔنقوی کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے مرثیہ نگاری کو صرف غم و الم کے اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری اور اصلاحی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مراثی میں کردار اس لیے اہم ہے کہ وہ انسان کو اعلیٰ اخلاقی اقدار، حق پسندی اور قربانی کا درس دیتا ہے، جبکہ علم انسان میں شعور، آگاہی اور سمجھ بوجھ پیدا کرتا ہے۔ ناشر نقوؔی کے نزدیک یہی دو عناصر کسی بھی قوم کی فکری تعمیر میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کردار مضبوط اور علم وسیع ہو تو ذہنی جمود کے تالے خود بخود کھلنے لگتے ہیں اور سماج ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ ان کی مرثیہ نگاری نہ صرف مذہبی و تاریخی شعور کو اجاگر کرتی ہے بلکہ قاری کو عمل، فکر اور اصلاحِ نفس کی دعوت بھی دیتی ہے۔ایک مرثیے کا یہ بند ملاحظہ فرمائیں:

میں غریب الفکر ہوں تو ہے امیرِ کائنات

اپنے مدحت خواں کی جانب اک نگاہِ التفات

ماورا میرے خیالوں سے ہے تیرا حسن ذات

مجھ کو دے دے میرے مولا ساغر علمِ حیات

وارثِ نہج البلاغہ،مصحفِ ناطق عدد

اے حسین ابن علی اے فاقہ کش رازق مدد

         مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر ناشرؔ نقوی معاصر اردو ادب، خصوصاً مرثیہ نگاری، میں ایک ہمہ جہت، صاحبِ اسلوب اور صاحبِ فکر شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی مرثیہ نگاری محض روایت کی تقلید نہیں بلکہ روایت کی توسیع اور عصری تقاضوں کے ساتھ اس کی تخلیقی ہم آہنگی کا نام ہے۔ انہوں نے مرثیے کو صرف واقعہ کربلا کے غم انگیز بیان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری، اخلاقی اور تہذیبی شعور کا مؤثر ذریعہ بنا دیا ہے۔ ان کے مراثی میں عقیدت کی حرارت، فکر کی گہرائی، علامت کی ندرت اور اسلوب کی تازگی یکجا ہو کر ایک نئے مرثیے کی تشکیل کرتی ہیں۔ناشرؔ نقوی کے ہاں کلاسیکی مرثیہ نگاری کی روایت، انیس و دبیر کی فنی عظمت اور لکھنؤ کے دبستان کی تہذیبی لطافت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ جدید حسیت، علامتی اظہار اور عصری شعور بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ ان کے مراثی، خصوصاً دیداوری جیسے تخلیقی تجربات، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مرثیے کو موضوع، فکر اور علامت کے اعتبار سے نئے زاویے عطا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آنکھ جیسے مجرد اور علامتی موضوع کو مرثیے کا مرکز بنا کر انہوں نے اردو مرثیہ نگاری میں جدت کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔مزید یہ کہ ناشر نقوی کی مرثیہ نگاری اصلاحِ نفس، انسانی اقدار، کردار سازی اور شعور کی بیداری کا پیغام دیتی ہے۔ ان کے نزدیک مرثیہ صرف سوگ کا اظہار نہیں بلکہ حیاتِ انسانی کے لیے رہنمائی کا منشور ہے۔ یہی فکری وسعت، فنی پختگی اور تخلیقی صداقت انہیں معاصر مرثیہ نگاروں میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کرتی ہے۔ بلاشبہ ناشر نقوی کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے مرثیہ نگاری کو نئی معنویت، نئی جہت اور نئی زندگی بخشی۔

حوالہ جات

1    ڈاکٹر ناشر نقوی،وجود کا محاصرہ (مشمولہ:پرواز ادب کا خصوصی شمارہ،ناشر نقوی نمبر) جولائی اگست 2009، ص 21

2     ناشر نقوی،مرثیہ اور مرثیے،(مشمولہ: پروفیسر وسیم بریلوی)،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی،2025، ص 25

 3    ناشر نقوی،مرثیہ اور مرثیے،(مشمولہ: پروفیسر حسین اختر نقوی)،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی،2025، ص 77

Leave a Reply