You are currently viewing یونانی طب میں تاریخ قربادین نویسی:ایک علمی جائزہ

یونانی طب میں تاریخ قربادین نویسی:ایک علمی جائزہ

 

 

حکیم محمد خالد صدیقی

سکریٹری جنرل آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس

یونانی طب میں تاریخ قربادین نویسی:ایک علمی جائزہ

یونانی طب میں تاریخ قربادین نویسی‘ کے مصنف حکیم فخرعالم ہیں،جو طبی تاریخ کے مطالعہ کا ایک منفردمجتہدانہ مزاج رکھتے ہیں۔ان کی ہر تصنیف موضوع اور مشمولات کا ایک انوکھا انداز لے کر سامنے آتی ہے، زیر نظر کتاب ’یونانی طب میں تاریخ قربادین نویسی‘ کوبھی انہوں نے ایک نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب دراصل یونانی طب کے تجرباتی ادب کو منضبط کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کا محض ایک حصہ ہے،باقی حصوں میں بیاض نویسی ،مجربات نویسی اور مطب و معمولات نویسی کی روایتوں کا جائزہ شامل ہے،اس طرح ان چاروں کتابوں کے ذریعہ انہوں نے یونانی طب میں دواسازی کی اختراعات اور صدیوں پر محیط اطباء کے کلینیکی تجربات و مشاہدات کے طویل ترین سفر کی گویاروداد بیان کردی ہے ۔انہوں نے ان چاروں مجموعوں میں تقریباً ایک ہزار کتابوں اور ان کے مصنفین و مترجمین کا تعارف پیش کیا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ اس تاریخ ساز کام کی اشاعت آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے ذریعہ عمل میں آرہی ہے،سر دست اس منصوبے کے ابتدائی دو حصے جن میں قرابادینوں اور طبی بیاضوں کا احاطہ ہے، پیش کیے جا رہے ہیں،جلد ہی باقی دوحصوںکوبھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔اس سے پہلے 2017میںآل انڈیا یونانی طبی کانفرنس حکیم فخرعالم کی دو کتابیں ’اردو طبی مترجمین ‘ اور ’ہندوستان کی طبی درس گاہیں‘شائع کرچکی ہے۔

طبی تاریخ نگاری کے میدان میں اب حکیم فخرعالم کی شخصیت کسی تعریف اور تعارف سے اوپر اُٹھ چکی ہے، وہ اس وقت وزارتِ آیوش حکومتِ ہند کی سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن میں خدمت انجام دے رہے ہیں ،یہ بات میرے لیے طمانیت اور مسرت کا باعث ہے کہ2006 میںاس کونسل سے ان کی وابستگی میری ہی ڈائرکٹرشپ کے زمانے میں ہوئی تھی۔

          زیر تبصرہ کتاب’یونانی طب میں تاریخ قرابادین نویسی‘مقدمہ سے شروع ہوتی ہے،جسے فاضل مصنف نے ’خود کلامی‘کا عنوان دیا ہے۔یہ عنوان دراصل اس جنونی کیفیت کا ایک خوب صورت استعارہ ہے جس کے بغیریہ علمی شاہکار وجود میں نہیں آسکتا تھا۔مصنف کی ’خود کلامی‘علم و ادب کے ایسے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے جس کا ہر لفظ ایک با ذوق قاری کو اسیر بنا لیتاہے۔مقدمہ کے بعد کتاب کے محتویات کا ایک جامع اور مبسوط تعارف شامل ہے جس میں موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے،اس میں قرابادین اور اس کے دوسرے مترادف ناموں کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ و مفہوم اور فنی دائروں کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے تدریجی ارتقاء کو اس طرح مربوط کیا ہے کہ ہزاروں برس پر محیط قرابادین نویسی کی روایت نے کلاسیکیت سے جدیدیت تک کے سفرکو کس طرح طے کیا ہے،یہ پورا منظر بیک نظر قاری کے سامنے آجاتاہے ۔اس طویل ترین دور میں قرابادین نویسی کا عمل مختلف ناموں سے انجام پایاہے ،کبھی اس کی ایک سادہ تعبیر ’کتاب المرکبات‘کے نام سے کی گئی تو ایک دور میں ’کناش‘جیسے تکنیکی لفظ سے اس کے فنی ابعاد کو اجاگر کیاگیاہے،پھر ماڈرن میڈیکل سائنس کے اثرات نے اس کو’ فارما کوپیا‘ کا نام دیا۔ان سارے ناموں سے موسوم مختلف ادوار کے قرابادینی سرمایہ کو حکیم فخرعالم نے اپنی کتاب میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے،جس کی طویل ترین فہرست جو تقریباً تین سو کتابوں پر مشتمل ہے ،یہ وسعت بتاتی ہے کہ شاید ہی کوئی قابل ذکر کام اس احاطہ سے باہر رہ سکا ہوگا۔اس جامعیت کی روشنی میں اس کتاب کو ’قرابادینی انسائیکلوپیڈیا‘کا نام دے کر بہتر انداز میں اس کی ہمہ گیری کو بیان کیا جاسکتا ہے۔حکیم فخرعالم نے اس کے تعارف میں ان تمام سوالوں کا جواب پیش کردیاہے جو قاری کے ذہن میں اُٹھ سکتے ہیں، تعارف پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب ماضی کے تذکرہ کے ساتھ حال کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے،یعنی عصری حسیت کا پہلوبھی رکھتی ہے۔

          Bibliographyکسی کتاب کا اسٹینڈرڈ متعین کرنے کا ایک اہم پیمانہ ہے جو نہ صرف اسے معیاری اور مستند بنانے کے لیے ضروری ہے،بلکہ اس کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ مزید تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں۔حکیم فخرعالم کی زیر نظر کتاب میں مآخذ کی یہ فہرست تقریباً دو سو کتابوں پر مشتمل ہے،جو مصنف کی تگ و دو اور تلاش و تحقیق کے حیران کن سفر کی کہانی پیش کرتی ہے۔مآخذ کی اس فہرست میں طب کی مستند حوالہ جاتی کتابوں کے علاوہ تاریخ و تذکرے،سوانح و سیر ،ادبیات و مذہبیات کے ناموں نے اسے نہ صرف متنوع بنادیاہے،بلکہ ا نہیں دیکھ کر مصنف کے علمی کینوس کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

           ہندوستان میں1947کے بعد سیاسی اور معاشرتی انقلاب کے تحت نئے ملکی حالات میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس اور انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹری آف میڈیسن اینڈ میڈیکل ریسرچ(IHMMR) کے نام سے دو ایسے ادارے سامنے آئے جو اپنے تعمیری اور ترقیاتی کردار کے تناظر میں طبی تاریخ کے اندر ہمیشہ یادگار رہیں گے ۔خاص طور پر آئی ایچ ایم ایم آر جس نے اب وسعت اختیار کرکے جامعہ ہمدرد کی شکل اختیار کر لی ہے،اس کے قیام کے پیچھے حکیم صاحب کی گہری فکری بصیرت چھپی ہوئی ہے۔وہ یونانی طب کی بقا،سائنسی شناخت ،نئے حالات سے ہم آہنگی اور مستقبل کی تعمیر نو کے لیے تاریخی جڑوں سے اس کے رشتوں کی استواری کو ضروری سمجھتے تھے،ان کا فلسفہ تھا کہ ماضی کے شعور کے بغیر کوئی ترقیاتی منصوبہ کارآمدنہیں بن سکتا ،اس لیے کہ تاریخ سے آگہی کے بغیر نہ تو ماضی کی فروگزاشتوں کو سمجھا جاسکتا ہے اورمستقبل میں کن پہلوؤں پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے،نہ ہی اس کادراک ہوسکتا ہے۔گویایونانی طب کی تعمیر اور نئی سمتوں کے تعین کے لیے تاریخ ہی ہمیں روشنی فراہم کرسکتی ہے۔

          حکیم عبدالحمید صاحب نے انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹری آف میڈیسن اینڈ میڈیکل ریسرچ کے ذریعہ تاریخ نویسی کا جو راستہ دکھایا ہے ،اسی پرحکیم فخرعالم چلتے نظر آرہے ہیں اور اس وقت ’حمیدی دبستان ِ فکر‘ کے وہ ایک معتبر مبلغ اور نقیب ہیں،ان کی زیر تبصرہ کتاب’یونانی طب میں تاریخ قرابادین نویسی‘اور اس کی دوسری کڑی’یونانی طب میں بیاض نویسی کی روایت‘جس کا تعارف انشاء اللہ جلد ہی پیش کروں گا،یہ دونوں کتابیں ’حمیدی فکر‘ کی ترجمان ہیں۔چونکہ یہ کتابیں ایک طرح سے حکیم عبد الحمید صاحب کے فکری چراغوں کو روشنی عطا کر رہی ہیں ،اس لیے آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس سے ان کتابوں کی اشاعت کو کانفرنس سے ان کے فکری تعلق کا ایک بامعنیٰ اظہار کہاسکتاہے۔

          حکیم فخرعالم نے ان کاموں کے ذریعہ یونانی طب میں تاریخ نویسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا ہے،جہاں شخصیت کے بجائے اس کے کام کو اولیت دی گئی ہے،اسی لیے پہلے وہ کتاب کا تذکرہ کرتے ہیں ،پھر صاحبِ کتاب کا تعارف لکھتے ہیں۔یہ اسلوب ان کی اختراع کہا جاسکتاہے،اس لیے کہ روایتی تاریخ نویسی میں شخصیات ہمیشہ مقدم رہی ہیں،ان کے ذیل میں برائے نا م ان کے علمی کاموں کا تذکرہ ہوجاتاہے۔

          تاریخ نویسی میں یہ اسلوب بہت اہم خیال کیاجاتاہے کہ اس کا بیانیہ صرف ماضی کی روداد بن کر نہ رہ جائے ،بلکہ اپنے دور کی ضرورتوں کا حل بھی پیش کرے اور مستقبل کے لیے مشعلِ راہ بھی ہو۔مجھے یہ تینوں خوبیاں زیر نظر کتاب میں محسوس ہورہی ہیں۔ میں اس کے لیے حکیم فخرعالم کو تہنیت اور نیک خواہشات پیش کرتاہوں۔مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اطباء اور محققین کے درمیان قبولیت اور خاطر خواہ پذیرائی حاصل کرے گی۔

Leave a Reply