
صوفی سمیرا
ریسرچ اسکالر،کشمیر یونیورسیٹی
مجاز کی نظم ‘‘ نوجوان سے ’’ اور اقبال کی نظم ‘‘ جاوید کے نام ’’ میں فکری یگانگت
اسرار الحق مجاز اردو کے معروف ترقی پسند شاعر تھے جو رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور ہیں ۔اسرارالحق مجاز مختصر زندگی لے کر آئے تھے اور اس مختصر سی زندگی میں بھی غموں اور پریشانیوں نے ان کے دامن کو گھیرے رکھا ۔نروس بریک ڈاؤن کے حملوں نےاس ابھرتے شاعر کی چمک کو مانند کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی انہوں نے اس میدان میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ فیض،سردار جعفری،مخدوم ،ساحر اور جذبی جیسے ہم عصرشعرا کا ان کے سامنے چراغ نہ جل سکا۔ان کی کامیابی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ شراب نوشی نے پیدا کی جس نے ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے نہ دیا یہی وجہ تھی کہ جوش بھی اس بات کا گلہ کرنے لگے کہ مجاز صرف اپنی ایک چوتھائی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے ۔مجاز کو زندگی کے اہم مقامات پر نا کامیوں کا سامنا رہا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو کھوتے رہے۔ان کی شاعری کے قلیل سرمائے میں موضوعات کا تنوّع بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی فکرکس حد تک زندگی کے باریک اور نازک مسائل کا احاطہ کیے ہوئے تھی ۔زندگی بھر ناکامیوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی ان کی شاعری میں ناامیدی کی ایک جھلک بھی محسوس نہیں کی جاسکتی ۔انہیں اپنے راستو میں درپیش مسائل و مشکلات کا بخوبی اندازہ تھا لیکن پھربھی وہ امید سے بھر پور نغمے گاتے رہے:
‘‘ افق پر زندگی کے لشکر ِظلمت کا ڈیرا ہے
حوادث کے قیامت خیز طوفانوں نے گھیرا ہے
جہاں تک دیکھ سکتا ہوں اندھیرا ہی اندھیرا ہے
مگرمیں اپنی منزل کی طرف برھتا ہی جاتا ہوں
( اندھیرا رات کا مسافر)
مجاز کی شاعری کا ایک اہم موضوع انقلاب کی حمایت ہے ۔وہ اس موقع پر ایک پیامی اور مقصدی شاعر ہونے کا رول ادا کرتے ہیں ۔وہ اپنے دور کے حالات و واقعات سے باخبر تھے اور تمام موضوعات کو بخوبی اپنی نظموں کا موضوع بنایا ۔ترقی پسند تحریک جو اس دور کی ایک فعال تحریک تھی مجاز نے بھی اس دور میں ایک حقیقت نگار شاعر ہونے کا حق ادا کیا اور ایسی نظمیں لکھیں جو نوجوان نسل میں جوش و ولولہ پیدا کرنے میں اہم ثابت ہوئی۔مجاز کی ایسی نظموں میں انقلابی لے شدید نظر آتی ہے ۔‘‘سرمایہ داری ’’،‘‘نوجوان سے ’’،‘‘نوجوان خاتون سے ’’ ،‘‘ ہمارا جھنڈا’’
،‘‘ایک جلاوطن کی واپسی ’’،‘‘مزدوروں کا گیت ’’وغیرہ اسی قبیل کی نظمیں ہیں ۔ اس حوالے سے شارب ردولوی رقم طراز ہیں :
‘‘مجاز انقلاب کے حامی ہیں اور وہی ان کا نظریہ ہے جو اس وقت کا رائج اور مقبول نظریہ تھا۔جنگ کی شکل میں دشمن سے لڑنے کے کیا حربے ہو سکتے ہیں اور جنگ عظیم کی غارت گری نے کیا صورت پیدا کر رکھی تھی اس کی ایک تصویر مجاز کی شاعری میں نظر آتی ہے۔مجاز قتل و خون اور غارت گری کے ہم نوا نہیں تھےلیکن حریت ،آزادی اور مسرت کے خواب ضرور دیکھتے تھے۔اس کے لیے ان کے یہاں عملی جدو جہد بھی ہے اور پر مسرت زندگی کے لیےجذبۂ تعمیر بھی۔1
واضح ہوا کہ مجاز اپنی شاعری میں نوجوانوں میں عملی جدوجہدکا جذبہ بیدار کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ظلم و زیادتی کے خلاف صف آرا ہو سکے ۔ وہ انہیں انقلاب کے لیے آمادہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک بہتر زندگی کی طرف ایک جذبۂ تعمیر ان میں پیدا ہو سکے۔‘‘ نوجوان سے’’ مجاز کی اسی قبیل کی ایک نظم ہے جس میں وہ نوجون نسل کو انقلاب کی طرف آمادہ کرتے نظر آتے ہیں ۔اس نظم کا لہجہ اقبال کی نظم ‘‘جاوید کے نام ’’ سے ملتا جلتا ہے ۔دونوں نظموں کے اسی آہنگ نے مجھے ان دونوں نظموں کے فکری پہلو کا تقابل کرنے پر اکسایا ۔اس تحقیقی مقالے میں دونوں نظموں کے فکری پہلوں میں یگانگت کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
اردو شاعری کی تاریخ میں علامہ اقبال ایک اعلیٰ فکرکے ساتھ ایک وسیع فلسفہ کے حامل شاعر تھے ۔ان کا نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام تھا جو ان کے فکر و فلسفہ کے مختلف گوشوں میں پھیلا ہوا ہے ۔خودی ،مردمومن ،شاہین کی مثالیں انسان کو اپنی سوچ کی پرواز کواپنی سطح سے اونچا رکھنے کی ترغیب دیتی ہے جہاں سے ظاہر سے باطن کا سفر شروع ہوتا ہے ۔اقبال کی نظم ‘‘جاوید کے نام ’’ میں اقبال نےپوری نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام بھیجا ہے ۔ اقبال نے یہ نظم تب لکھی جب ان کے بیٹے جاوید اقبال نے ان سے گراموفون لانے کو کہا ۔اقبال اس وقت لندن میں تھے ۔اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے اقبال نے اس نظم میں پوری نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام دیا ہے۔اقبال کی فکر کا مشاہدہ کرتے ہوئے بخوبی اندزہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مشرقی تہذیب کے دلدادہ تھے اسی لیے اپنے بیٹے کو اس نظم میں تلقین کرتے ہیں :
’’اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر‘‘
اقبال بلا شبہ اس نظم میں نوجوان نسل کو مغربی تہذیب کی چکا چوند سے مرغوب نہ ہوکر اپنی تہذیب کو پہچاننے کی تلقین کرتے ہیں ۔اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب محض سائنسی ترقی یا مادی آسائش کا نام نہیں ،بلکہ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو روحانی اقدار سے کٹ کر صرف عقل ،طاقت اور مادّے پر اعتماد کرتی ہے۔اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب اپنی مادی ترقی کے باوجود روحانی افلاس کا شکار ہے۔اگر انسان صرف عقل اور مادے پر بھروسہ کرے اور دل کی روشنی کھو دے تو ایسی تہذیب دیر پا نہیں ہوتی ۔اقبال ایک ایسی تہذیب کے خواہاں ہیں جس میں علم اور ایمان ،عقل اور عشق ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو ۔جیسا کہ لکھتے ہیں :
‘‘مغربی تہذیب و تمدن کے کارہائے نمایاں کا اقبال منکر نہیں ۔لیکن وہ اس ترقی کویک طرفہ ترقی سمجھتا ہے۔گزشتہ تین سو سال میں مغرب نے مسلسل مادیت کے نقطہ نظر کو استوار کیا ہے۔طبیعی سائنس کا تعلق ایک جزوی حقیقت سے ہے۔لیکن رفتہ رفتہ مغرب کے دل و دماغ پر یہ خیال مسلط ہو گیا ہے کہ زندگی محض مادیت اور محسوسات کا نام ہے وہ اس راز سے بیگانہ ہوگیا کہ حاضر کے مقابلے میں غیب لامتناہی ہے اور جسم اور مادہ ھیات لامتناہی کے عارضی اور ادنٰی پہلو ہیں ۔اسی لیے مغرب کی حکمت وہ حکمت نہ رہی جسے قران خیر کثیر کہتا ہے۔’’2
واضح ہوتا ہے کہ اقبال مغرب کی مادیت پرستی کے سخت مخالف تھے ۔وہ اس نظام کے خلاف تھے جس نے انسان کو صرف ایک معاشی اکائی بنا دیا تھا ۔اسی لئے وہ اپنی قوم کے لوگوں اس تہذیب کی اندھی تقلید سے روکتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کے لوگ مغرب سے علم وسائنس لیں ،مگر اپنی تہذیبی شناخت اورروحانی بنیادوں کو برقرار رکھیں ۔
اقبال اور مجاز دونوں شاعروں کے مخاطب ایک ہی قوم کی نوجون نسل ہے ۔دونوں شعرا نوجون نسل کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کی تلقین کرتے ہیں ۔اقبال اس طرح نظم کی شروعات کرتے ہیں :
‘‘ دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مجاز نے نظم کی شروعات اس طرح کی ہے :
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر
دونوں نظموں میں نوجوان نسل کو دنیا میں ایک بلند مقام اور مرتبہ حاصل کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔اقبال نوجوان نسل سےدنیا میں نیا زمانہ اور نئے صبح شام پیدا کرانا چاہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں ایسی قوت پیدا ہو کہ وہ دنیا کا رخ بدل سکے اور اس میں انقلاب پیدا کر سکے ۔ان کی زندگی میں جو تاریکی ہے اس کوعلم کی روشنی سے دور کر سکے ۔جہاں اقبام دیار عشق میں مقام کے خواہاں ہے وہی مجاز نوجونوں کو اپنے اندر ایسی قوتیں پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں جن میں آگ کا سا جلال اور بجلی کی سی کڑک ہو ۔مجاز نوجونوں کو اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننے کی تلقین کرتے ہیں جن کے ظہور سے اجل بھی کانپ جائے ۔
اقبال نےنظم کو اس طرح آگے بڑھایا ہے:
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
اقبال نوجوان نسل کو دنیا اور مغربی تہذیب کے شور شرابے ،ظاہری حسن اور چمک سے نکل کے فطرت کے سکون میں غور و فکر کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ نئی نسل مغربی تہذیب سے مغلوب ہو کر قدرت کے فطری حسن سے دوری اختیار نہ کرے ۔وہ نئی نسل کو اپنے تہذیبی سرمائے سے جوڑے رکھنا چاہتے تھے ۔مجاز نظم کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں :
ترے خرام میں ہےزلزلوں کا راز پنہاں
ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر
صدائے تیشہ ٔ مزدور ہے تیرا تغمہ
تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر
تیرے قدم پہ نظر آئے محفل انجم
وہ بانکپن وہ اچھوتا شباب پیدا کر
ترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی
تو خارزار جہاں میں گلاب پیدا کر
سکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کا
تو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کر
مجاز اس نظم کے ذریعے نوجوانوں کو ان میں نہاں ایسی قوتوں کا پتا دینا چاہتے ہیں جن میں زلزلوں جیسی توانائی ہے۔جن کے استعمال سے وہ زندگی کے ہر موڑ پر انقلاب پیدا کر سکتے ہیں ۔وہ انہیں سنگ و خشت سے ایسے چنگ ورباب پیدا کرنے لی تلقین کرتے ہیں جس پر وہ مزدوروں کا گیت گا سکے ۔وہ نوجوانوں کی صلاحیتوں ،عزم ، قوتوںاور ذہنی صلاحیتوں کو محکومی کی نظر کرنے کے بجائے انہیں پوری قوم کی امانت قرار دیتے ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ نوجونوں کو اپنی جوانی کی قوتوں کا استعمال اس طرح کرنا چاہئے کہ وہ خارزار کو بھی گلشن میں تبدیل کر سکے ۔خار زار ناانصافیوں،استحصال اور جبرکی علامت ہے جن کی شکار آج کی پوری نوجون نسل ہے جس کے خلاف انہیں آواز بلند کرنی ہوگی ۔انہیں ایسا راستہ اپنانا ہوگا کہ وہ اپنی تمام تونائیاں کام میں لا کر قوم کے دکھوں کا مداوا کر سکے اور اس کو خوشحالی اور امن سے ہم کنار کر سکے۔اس کے لیے ان میں قربانی کا جذبہ بیدار ہونا چاہئے اسی لیے مجاز کہتے ہیں کہ سکون ،چین اور آرام کمزور اور ضعیفی کی علامت ہے جب کہ نوجون مضطرب ہوتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ کرنے کی چاہت ہوتی ہیں ۔یہی اضطراب اسے انقلاب برپا کرنے کے لیے اکساتا ہے ۔
نظم کے آخری دو شعر میں اقبال کے فلسفۂ خودی کا ذکر ہیں :
میں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کر
مرا طریقہ امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اقبال خود کو شاخ ِتاک اور اپنے پیغام ،اپنی شاعری کو ثمر قرار دیتے ہیں جو پھیلتی جا رہی ہیں اب یہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شاخ پر اگے پھل سے فیض اٹھا سکے ۔گویا کہ اقبال کے پیغام کو سمجھ سکے اور اس کو اپنی زندگی میں بروئے کار لاسکے۔ساتھ ہی نوجوانوں سے تاکید بھی کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کا مدعا و مقصد دولت کی فراوانی کو نہ بناؤ بلکہ ایسی زندگی گزارو کہ تمہیں اپنی خودی سے ساتھ سودا نہ کرنا پڑے ۔خودی کو بیچ کر انسان کو شہرت تو مل سکتی ہے لیکن دنیا میں اصل شہرت انسان کی خودداری ہے جہاں وہ غریبی میں ہی اپنا نام پیدا کرتا ہے۔اقبال کی نظم کا مرکزی خیال نئی نسل کے لیے ایک فکری ،اخلاقی اور روحانی پیغام ہے۔اقبال کا مقصد نوجوانوں میں ایسا کردار پیدا کرنا ہے جو خودی سے آشنا ہو ،اعلیٰ اقدار کا حامل ہو اور اپنی قوم کی سربلندی کے لیے اہم رول ادا کریں ۔اقبال نظم سے ذریعے عمل ،جدوجہد اور مسلسل حرکت کو کامیابی کی کنجی قرار دیتا ہے ۔
مجاز کی نظم کے آخری اشعار اس طرح نوجونوں میں جوش پیدا کرتے ہیں :
ترے جلو میں نئی جنتیں ،نئے دوزخ
نئی جزائیں ،انوکھے عذاب پیدا کر
شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خون سے
تو اب امیر کے خون سے شراب پیدا کر
مجاز ساری ذمہ داری نوجونوں پر عایئد کرتے ہیں ۔وہ انہیں احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان وہ کیا کیا کر سکتے ہیں ۔وہ انہیں بیدار ہونے ،ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہونے اور سماج میں تبدیلی لانے لے لیے تیار رہنے کا پیغام دیتے ہیں ۔ اقبال کی طرح امیری کے خلاف غریبوں کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا پیغام دیتے ہیں ۔امیری سرمایہ داری ہے جہاں غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے ۔اپنے لیے حسین جنت تیار کی جاتی ہیں اور دوسروں کی حق تلفی کی جاتی ہے ۔اقبال امیری کو اپنا طرز نہیں سمجھتے اور مجاز بھی سرمایہ داروں کی خون سے غریبوں کو ان کا حق دلانے کے خواہاں ہے ۔
جو ہو سکے تو ہمیں پامال کر کے آگے بڑھ
نہ ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کر
بہے زمیں پہ جو میرا لہو غم مت کر
اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
اقبال نےخود کو شاخ تاک کہا اور نوجوانوں کو تاکید کی کہ وہ اس کے پیغام کو سمجھےاور اس سے فیض اٹھائے اسی طرح مجاز بھی نوجوانوں میں جوش و ولولہ پیدا کرنا چاہتا ہے ۔اسی لیے انہیں آگے بڑھنے کی تاکید کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے قوم سے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں اور اپنے راہ نماؤں کا جواب بن سکے ۔ان کےاندر وہ حوصلہ پیدا کرسکے کہ کوئی بھی شے ان کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے ۔اس راستے میں اگر ان کا خون بھی بہے تو پیچھے مڑ کر نہ دیکھے ۔مجاز نوجوانوں میں جذبہ بیدار کرنے کے لیے صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ اے نوجونوں تم انقلاب کی آمد کا انتظار مت کرو بلکہ خود انقلاب کو برپا کرو۔مجاز کا پیغام نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کا ادراک کریانا ہے اور انہیں مثبت سمت میں استعمال کرانا چاہتے ہیں تاکہ معاشرے میں تبدیلی ممکن ہو سکے یہ نظم دراصل ایک خطاب ہے نوجوان نسل سے جس میں شاعر انہیں خوابوں کی دنیا سے نکل کرعمل کی دنیا میں قدم رکھنے کی تلقین کرتا ہے ۔نوجوانوں کے لیے ان کی ایک قیمتی دولت ان کی جوانی ہے اسی لیے شاعر تلقین کرتا ہے کہ اسے صرف عیش و عشرت میں ضائع نہ کرے بلکہ اسے انقلاب ،تعبیر اور بیداری کے لیے استعمال کریں ۔
دونوں نظموں میں نوجونوں کے لیے بیداری کا پیغام دیا گیا ہے ۔اقبال اس نظم میں نہ صرف اپنے بیٹے کو بلکہ نئی نسل کو ایک پیغام دے رہے ہیں کہ وہ محض مادی ترقی سے مغلوب نہ ہو بلکہ روحانی ،فکری ،اخلاقی ترقی کی طرف بھی توجہ دیں ۔اقبال اس نظم کے ذریعے خودی کا درس دیتے ہیں جو ان کی شاعری کامرکزی تصور ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ نئی نسل سچائی ،دیانت داری،ہمت اور حوصلہ کا راستہ اپنائے ۔مجاز بھی اپنی نظم میں نوجوانوں کو غفلت سے جگا نا چاہتے ہیں ۔اقبال جہاں نئی نسل کی روحانی تربیت پر زور دیتے ہیں وہی مجاز بھی نئی نسل کو اپنے اندر چھپی ہوئے قوتوں کو بروئے کار لا کر ایسا کردار اپنانے کی تاکید کرتے ہیں جہاں وہ غریبوں کو ان کا حق دلا سکے ،ظلم و استحصال کے خلاف لڑ سکے ،اپنی قوم کے لیے امن ،سکون ،آزادی کا پیغام لا سکے۔
حوالہ جات :
۱۔ٍشارب ردولوی،ہندوستان کے معمار اسرار الحق مجاز ،ساہتہ اکادمی،دہلی،۲۰۰۹،۱۹۷۷،ص ۹۰
۲۔ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم ،فکر اقبال ،ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ،ص ۱۱۸