
مبصر: کومل شہزادی
’’انا کے دستانے‘‘وجودی فکر کا آئینہ
رشید سندیلوی اردو ادب کا وہ منفرد نام ہے جو محض ایک افسانہ نگار یا مضمون نویس نہیں بلکہ ایک فکری مجاہد کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ ان کی تخلیقات میں موضوعات کا تنوع اور فکری جہات کا گہراؤ قاری کو خود احتسابی کی راہ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ ان کی کتاب “انا کے دستانے”، جسے ضمیر قیس نے نہایت سلیقے اور سنجیدگی سے مرتب کیا ہے، صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ ایک وجودی فکر کا آئینہ بھی ہے۔ انسانی شعور کی تہہ در تہہ پرتوں کو کھولنے کی کاوش۔
’’انا کے دستانے‘‘ کا عنوان بظاہر سادہ لگتا ہےمگر اس میں ایک گہری معنویت اور تمثیلی جہت پوشیدہ ہے۔ ’’انا‘‘ انسان کا وہ داخلی پہلو ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے مگر یہی ’’انا‘‘ اگر حد سے بڑھے تو غرور، خود فریبی اور بے نیازی کا روپ دھار لیتی ہے۔ رشید سندیلوی اس انا کو ’’دستانے‘‘ کے روپ میں پیش کرتے ہیں ۔ ایک ایسا لباس جو ہاتھ کو سردی سے تو بچاتا ہے، مگر اس کا لمس کھو دیتا ہے۔ یوں وہ بتاتے ہیں کہ انا انسان کو تحفظ تو دیتی ہے، مگر رشتوں اور جذبوں سے دور بھی کر دیتی ہے۔
’’انا کے دستانے‘‘ فرد کی باطنی خلوت میں جھانکتی غزلوں کا فکری سفرہے۔یہ عنوان کتاب کو محض غزلوں کے مجموعے کے طور پر نہیں، بلکہ انسانی خودی، احساسِ وجود، باطنی تنہائی، اور شعوری مکالمے کی ایک تخلیقی پیشکش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس میں “دستانے” کو ایک علامتی پردہ، ایک تہذیبی آڑ، یا خود سے بچاؤ کے شعوری ہتھیار کے طور پر دیکھا گیا ہے — اور غزل کو اس پردے کے پیچھے جھانکنے والی ایک خاموش مگر گونج دار آواز کے طور پر۔
ضمیر قیس کا کردار محض مرتب کا نہیں بلکہ فکری ترجمان ہے انہوں نے اس کتاب کو ترتیب دے کر رشید سندیلوی کے فکری سفر کو ایک ترتیب دی ہے۔ مقدمے میں انہوں نے نہ صرف مصنف کے اسلوب اور موضوعات کا بھرپور جائزہ پیش کیا بلکہ قاری کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دی کہ ’’انا‘‘ جیسے پیچیدہ تصور کو رشید نے کیسے انسان کے روزمرہ شعور سے جوڑا ہے۔’’انا کے دستانے‘‘ میں درج ذیل موضوعات نمایاں ہیں:انسانی انا اور اس کی نفسیاتی پرتیں،رشتوں میں فاصلوں کی وجوہات،تنہائی اور انفرادیت کا کرب،معاشرتی جبر اور فرد کی بغاوت،ادب اور فکر کے باہمی رشتےیہ تمام موضوعات نہ صرف ہمارے سماجی تجربات کا حصہ ہیں بلکہ اس دور کے انسان کی سب سے بڑی سچائی بھی۔
’’انا کے دستانے‘‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ غزلیں قاری کو چبھتے سوالات سے دوچار کرتی ہے:
کیا میری انا میرا تحفظ ہے یا میری تنہائی کی جڑ؟
کیا میں خود کو جانتا ہوں یا صرف دوسروں کا تعارف بن کر جیتا ہوں؟
کیا ادب کا مقصد محض تفریح ہے یا ذہنی بیداری بھی؟
رشید سندیلوی ان سوالوں کے جوابات نہیں دیتے بلکہ ان پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ یہی ایک سچے ادیب کی پہچان ہے۔
رشید سندیلوی کی ’’انا کے دستانے‘‘ ادبی دنیا میں ایک فکری دستاویز کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ضمیر قیس نے اسے مرتب کرکے اردو ادب پر ایک بڑا احسان کیا ہے، کہ ایک ایسے مصنف کی فکر کو محفوظ کر دیا جو خاموشی سے ادب کا وہ چہرہ تراش رہا تھا جو آنکھوں کے بجائے دل سے دیکھا جاتا ہے۔یہ کتاب اُن تمام قارئین کے لیے ہے جو ادب کو صرف ’’کہانی‘‘ نہیں بلکہ زندگی کا آئینہ سمجھتے ہیں۔