
مبصر:ڈاکٹر محمد یاسین گنائی
ہماری دنیا
مصنفین:ڈاکٹر عتیق الرحمٰن و ناظم پونچھی
صنف:افسانہ
اشاعت:2025
ضخامت:64
ناشر:ایم۔ای۔پریس علی گڑھ
ہماری دنیا”جی ہاں! ہماری دنیا یعنی ڈاکٹر عتیق الرحمن اور ناظم پونچھی کی افسانوی دنیا سے قارئین کو روشناس کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ کتاب 2025 میں منظر عام پر آئی ہے اور یہ کل23 افسانوں کا مجموعہ ہے۔ عصر حاضر میں مطالعہ کا شوق کم ہونے اور موبائل پر وقت ضائع کرنے کے رجحان کے عین مطابق اس کی ضخامت صرف 64 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ ایم۔ ای۔ پریس علی گڑھ سے شائع ہوا ہے۔اس مجموعہ کے بارے میں ایک عجیب سی بات یہ ہے کہ دو قلمکاروں نے مل جل کراسے تخلیق کیا ہے۔اور یہ روش ”انگارے“ کے مصنفین کے مقابلے میں محمد عمر نور الٰہی سے ملتی جلتی ہے، حالانکہ ایسی مثالیں درجنوں میں ہوسکتی ہیں لیکن افسانے کے حوالے سے ”انگارے“ اور جموں و کشمیر کے حوالے سے” محمد عمر نور الٰہی “جیسی مثال ملنا مشکل ہی ہے۔ بہرحال عالمی شہرت یافتہ اور متنازعہ افسانوی مجموعہ ”انگارے“میں کل دس افسانے ہیں جن میں پانچ سجاد ظہیر، دو احمد علی، دورشید جہاں اور ایک محمود الظفر کا ہے، جبکہ ”ہماری دنیا“ میں کہیں بھی کوئی ذکر نہیں ملتا ہے کہ کون سا افسانہ کس مصنف کا ہے۔ یوں ان دونوں صاحبان ِ فکشن نے محمد عمر نور الٰہی کی روش کو اپناتے ہوئے ادبی دنیا میں قدم رکھاہے۔ محمد عمر نور الٰہی نے مشہور زماں کتاب ”ناٹک ساگر“ کے علاوہ”چند ڈرامے“ جیسی متعدد کتابیں مشترکہ نام سے رقم کی ہیں۔ بہرحال یہ روش بھی ایک اچھی چیز ہے اور اس ضمن میں مصنفین نے دیپاچہ میں یوں وضاحت پیش کی ہے:
”چنانچہ ہم دونوں کا مل کر یہ کام انجام دینا کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ ادبی ذوق و شوق کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس مختصر مجموعے میں انسانی زندگی کے اتار چڑاو، فطری تقاضے، سماجی بندھن اور مسائل و مشکلات کو کہانی کے روپ میں پیش کرکے ان کا حل تلاش کرنے کی ذہنی مشق کی گئی ہے۔ “(ہماری دنیا، ص: 7)
زیر نظر مجموعے میں کچھ افسانوں کے عنوان سے ہی واضح ہوتا ہے کہ کہانی کس چیز کے بارے میں ہے، جیسے” رزقِ حلال “حلال رزق میں برکت اور عزت کے حوالے سے ہے جبکہ”مجھے دیر ہوگئی“ میں وقت کی رفتار کو اور زندگی کی تلخیوں اور انسانی عجلت کو ہر موڑ پر دیر ہونے کے حوالے سے واضع کیا ہے۔ اسی طرح”شادی کا قرضہ“میں دُلہے کو قرضہ اُتارنے کی کشمکش میں مبتلا دکھایا گیا ہے، ”آگ کا طوفان“ میں آگ لگنے پر لوگوں کا ہاتھ بٹاکر آگ بُجھانے کے بجائے تماشائی بن کر فوٹو گرافی کرکے جلے پر نمک چھڑکنے کے کام کرنے کے ساتھ ساتھ سُست روی اور کاہل سماج کی عکاسی پیش کی گئی ہے،” غریب کی افطاری“ میں ایک غریب اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے مزدور کی لاچارگی اور بدحالی کی کہانی پیش کی گئی ہے،” ضدی لوگ“میں اکرم چاچا اور رشید کے ضدی پن کو موضوع بنایا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ درخت کاٹ کر راستہ نکالنے پر کیسے دونوں آپے سے باہر ہوتے ہیں،” حقیقی قیدی“ میں ایک عمدہ نسل کے کتے ”پپی “کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل میں حقیقی قیدی جانور یا پرندہ نہیں بلکہ وہی ہے جو دھن دولت اور عیش و آرام کے سبب بیرونی دنیا کی فضا اور خوبصورتی سے محروم رہتا ہے،” خواہشات کی دنیا” ایک خوبصورت افسانہ ہے جس میں اریبہ کی ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتی ہیں اور خواہشات کو ہر لحاظ سے قابو میں رکھنا چاہیے اور اصل مزہ محنت و مشقت سے حاصل کی گئی خوشی اور سکون میں ہے اور” راتوں رات امیر ہونا“ میں دو دوستوں ”ارمان اور فیضان“ کی دوستی کے ذریعے عصرِ حاضر کے سب سے تباہ کن اور سنجیدہ مسئلہ ”نشہ ایک لعنت“کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کس طرح آج کل کے نوجوان راتوں رات امیر ہونے اور پیسہ کمانے کی دوڑ میں نشہ جیسی لعنت میں گرفتار ہوتے ہیں اور انجام ”ارمان“ کی طرح جیل کی چار دیواری میں طے ہوتا ہے۔ یوں مصنفین نے ان افسانوی میں زیادہ تر عصری مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔”ہماری دنیا“کے افسانوں کے موضوعات کے ضمن میں جہانگیر بھائی اصغر کی یہ بات سچ نظر آتی ہے :
”ان کہانیوں میں سے ہر ایک قاری کو اپنی زندگی کے کچھ حصے، کچھ یادیں اور شاید کچھ سوالات بھی نظر آئیں گے جو کہ کبھی اس کے ذہن میں اُبھرے ہوں گے۔ زندگی کے یہ افسانے حقیقت کے آئینے میں دکھائی دینے والے تصورات ہیں، جو ہر کسی کے دل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔“(تقریظ،ص:9)
جہاں تک ان افسانوں کی کردار نگاری کی بات ہے تو زیادہ تر کردار گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور تمام کردار مسلمان ہیں، کچھ خواتین کردار بھی ہیں لیکن متحرک اور اپنی چھاپ چھوڑنے والے کرداروں میں صرف شبیر(رزق حلال)، ماسٹر بشیر (میلا رومال)، شکیل( مجھے دیر ہوگئی)، عادل(وادی کا خزانہ)،ماہِ نور( گمشدہ لمحے)، سجاد(سجاد کا خواب)، برکت حسین (غریب کی افطاری)، اکرم چاچا(ضدی لوگ)، زینت(روشنی کا راز)، اریبہ(خواہشات کی دنیا)، امین(امین کی تجارت) اور ارمان(راتوں رات امیر ہونا) شامل ہیں۔ مصنفین نے تمام افسانوں میں کرداروں کی تعداد کم از کم رکھنے کی کوشش کی ہے ،جومختصر افسانے کے حوالے سے ایک مثبت چیز مانی جاتی ہے۔ایسا بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ مرکزی کردار بے جان سے نظر آتے ہیں جب کہ چند ضمنی کردار اپنادیرپا اثر چھوڑنے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔جیسے” گمشدہ لمحے“ کی دادی،” روشنی کا راز“ کی دادی اور” خواہشات کی دنیا “کی پری وغیرہ۔مرکزی کردار کا بے جان ہونا اور ضمنی کردار کا متحرک ہونا اردو ادب میں ایک قدیم روایت رہی ہے اور اس کی زندہ مثال مثنوی”سحرالبیان“کی”نجم النسائ“ کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔بہرحال کردار نگاری میں مصنفین کی کوشش وکاوش کامیاب نظر آتی ہے اور مکالمہ نگاری بھی معیاری اور ادبی لحاظ سے نفس نفیس نظر آتی ہے۔ محمد حمید شاہد نے افسانوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رجحانات کا ذکر یوں کیا ہے:
”ادب کی تخلیق کا معاملہ کسی بھی سماج کی خارجی کروٹوں سے کہیں زیادہ اس کے اندر ہی اندر رواں تہذیبی لہروں سے جُڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تو مانا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سماج میں آنے والی ثقافتی تبدیلیاں کسی کی ہیت کو تبدیل کر دیتی ہیں۔“ (محمد حمید شاہد، اردو افسانہ اور افسانے کی تنقید )
چونکہ مصنفین کا تعلق پونچھ جیسے خوبصورت پہاڑی علاقے سے ہے، لہٰذا منظر نگاری کے دلکش اور متاثر کُن نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔شہر کے مقابلے میں متعدد افسانے گاوں اور پہاڑوں کے پسِ منظر میں لکھے گئے ہیں اور کچھ افسانوں میں پہاڑی علاقہ، پونچھ، پونچھ کا نشان پوراور سرحد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ منظر نگاری کی چند اہم مثالیں یوں ملتی ہیں :
”برف کی چادر پر چلتے چلتے تھوڑا آگے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ درختوں کی ٹہنیاں رکوع کر رہی ہیں اور پودے سر بسجود تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ کوئی پودا سجدے سے سر اُٹھاتا یا کوئی شاخ رکوع سے اُٹھتی تو ماسٹر جی کے کپڑوں پر عطر چھڑکنے کا کام کرتی۔ “(میلا رومال، ص:14)
”پونچھ کا قصبہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں زمین اور آسمان ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ سرسبز وادیوں، بلند پہاڑوں اور نیلے آسمان کے درمیان یہ جگہ ایک جنت سی محسوس ہوتی ہے۔“ (سرحد کی سرگوشی، ص:16)
”رمضان کا مہینہ تھا۔ دن بھر کی تپتی دھوپ اور مشقّت کے بعد، جب سورج ڈھلنے لگا تو پورا شہر روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ بڑی بڑی عمارتوں میں سجے دسترخوان، خوشبو بکھیرتے کھانے اور بازاروں میں چہل پہل دیکھ کر لگتا تھا جیسے ہر کوئی اس با برکت مہینے میں نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے۔“(غریب کی افطاری، ص: 48)
افسانے کی روایت ہمارے یہاں بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی ملتی ہے اور جدید دور کے افسانہ نگاروں پر نہ صرف کلاسیکی فکشن نگاروں بلکہ دیگر اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے تخلیق نگاروں کا بھی اثر نظر آتا ہے۔ اس مجموعہ میں شامل افسانہ” خواہشات کی دنیا “پرمحمد عمر نورالہٰی کے ڈراما” بور کے لڈو“ کے اثرات نظر آتے ہیں.۔وہاں ڈرامے میںہریاول کے بادشاہ کے حکم سے بوڑھا لکڑہارے کی تین مرادیںپوری کرتا ہے جبکہ یہاں زینب کی ہر مراد پری کی وساطت سے پوری ہوتی ہے، وہاں آخری مراد سے ناک پر چمٹے لڈو کو ہٹانے کے واسطے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں آخری خواہش اپنی حقیقی دنیا میں واپس لوٹنے کے لیے مانگی جاتی ہے۔یوں ان دونوں کہانیوں میں بہت کچھ ملتا جلتا ہے۔ افسانے میں جذبات نگاری کا بھی عمل دخل ہوتا ہے اور جذبات کو عین مطابق استعمال کرنے میں ہی افسانہ اور افسانہ نگار کی کامیابی ہوتی ہے۔” شادی کا قرضہ“ میں دو قسم کے جذبات ایک ہی کردار سے ادا کیے گئے ہیں۔ شادی کے لیے بیٹے کے واسطے والدین کا قرض لینا بیٹے کے دل میں والدین کے تئین محبت و عزت پیدا کرتا ہے لیکن جب شادی کے چھ ماہ بعد ہی والد صاحب حساب کتاب کی کاپی بیٹے کے حوالے یہ کہہ کر کرتا ہے کہ مجھے باقی بچوں کی شادی بھی کرنی ہے تم اپنی شادی کے چار لاکھ کا قرضہ خود ہی اتارنا ۔تو دونوں جذبات میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ یہی حال افسانہ”غریب کی موت“میں نظر آتا ہے جہاں ایک کم عمر بیٹے” زبیر“ کو والد عبداللہ کے انتقال کے بعد چالیسویں کی رسومات کے لیے قرضہ اور سودی رقم لینے کی بھی نوبت آتی ہے۔ یوں مصنفین نے ان افسانوی میں سماج میں پلنے والے چند ناسور اور بدعات کا بھی پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ غریب کی مزدوری پر ہنسنا، بہن کی پڑھائی کے لیے استاد کے سامنے گڑگڑانا، دلہن اور دلہے کو شادی کا قرضہ اتارنے پر مجبور کرنا ، آگ لگنے پر تماشائی بننا ، میت کے گھر میں ایسے کھانا جیسے شادی ہو، سرحد پار جانے والوں یا سرحد کے اردگرد بٹنے والے کنبوں کی غمزدہ داستان ہو، ایمانداری ہو یا نشے کی لت ہو یا پھر پڑھائی کے بجائے موبائل کی پوجا کرنی ہو، یہ سب بدعات نہیں تو کیا ہیں؟
ان افسانوی میں حقیقت نگاری کی بھی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔” میلا رومال“ میںبرف یا بارش کے سبب طالب علموں کو اسکول سے کچھ دنوں کے لئے چھٹی دی جاتی ہے جبکہ اساتذہ کواسکول میں حاضر رہنے کا حکم دیا جاتا ہے،کئی سالوں سے یہی بحث چھڑی ہے کہ طالب علموں کے بغیر اساتذہ اسکول میں کیا کریں گے۔۔۔۔! سرحد کے آرپار بسنے والے رشتہ دار اسی آس میں مرجاتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی ملاقات تو ہوگی مگر اسی انتظار میں ستر سال گزر گئے؟۔۔۔” مجھے دیر ہوگئی“ میں ہر بار ہر کام میں دیر ہونا اور ہر جگہ پہنچنے میں دیر ہونا،اسکول جانے، کالج جانے، دفتر جانے، بس میں جانے اور اپنی ذاتی گاڑی میں سفر کرنے پر بھی مجھے دیر ہوگئی۔۔۔” گمشدہ لمحے“ میں کتاب کی جگہ موبائل نے لی ہے اور بچوں کو موبائل کا عادی کون بناتا ہے، اس کے ذمہ دار والدین، سرکار اور اساتذہ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال نہ کرنے کا ڈھنگ بھی ہے! دانش کی پڑھائی میں کیسے والدین کا لاڈ پیار بچے کی زندگی تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔۔۔ ایسا عموماً امیر گھرانے کے بچوں ، لاڈلے اور اکلوتے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔ ”آگ کا طوفان “ہو یا” بدلتے لوگ“ یا” آخری اُمید “یا پھر” حقیقی قیدی “ان میں بھی حقیقت نگاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
یوں اس مختصر سے افسانوی مجموعہ کی اشاعت پر مصنفین مبارکبادی کے مستحق ہیں اور ادبی،تہذیبی،ثقافتی اورسماجی بندھنوں کے لحاظ سے یہ ایک بہترین مجموعہ ہے۔ان افسانوں میں تقسیم ہند کا قرب بھی ہے اور تہذیبی بحران بھی۔یہاں جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے اور کچھ غیر ضروری سرکاری حکم ناموں کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ہے۔یہاں بہن بھائی کا عظیم رشتہ بھی ہے اور طالب علم واستاد کا پاک رشتہ بھی اپنے حُسن کے ساتھ نظر آتا ہے۔یہاں خیالی دنیا کی باتیں بھی ہیں اور حقیقی دنیا کے قرب وجوارداستان بھی۔گویا ہماری دنیا کی کون سی چیزیں ہیں جن کا ذکر”ہماری دنیا“ کے مصنفین نے نہیں کیا ہے۔افسانوں اور افسانوی مجموعہ کی ضخامت کے ساتھ ساتھ تمام افسانوں کا عصر حاضر کے مسائل کو سمیٹنا اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اُمید ہے اس افسانوی مجموعہ پر مثبت سوچ کے تحت حوصلہ افزاءتاثرات ملنے پر مصنفین اپنا تخلیقی سفر جاری وساری رکھیں گے اور بہت جلد ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ بھی منظر عام پر آنے کی اُمید ہے۔