
ڈاکٹر تہمینہ عباس
اردو ناول میں کراچی کا تہذیبی و معاشرتی منظرنامہ
قیام پاکستان کے بعد کراچی دارالحکومت بنا، ہجرت کا مرکز ٹھہرا اور مہاجر کیمپوں کے قیام سے آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس نے شہر کی سماجی اور ادبی فضا کو بدل دیا۔ اس دور میں مہاجرین کے مسائل اور نئے سماجی حالات کا اظہار زیادہ تر ناول کی سطح پر ہوا، مثلا کراچی کی بھر پور عکاسی قدرت اللہ شہاب کے ناولٹ” یا خدا ”میں نظر آتی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں مہاجرین کی آباد کاری، نو دولتے طبقے کا ابھار، کلیم کی جعلسازی اور سیاسی رویوں کی عکاسی ملتی ہے، جو اس عہد کے کراچی کی سماجی و سیاسی حقیقتوں کا ادبی اظہار ہے۔ قرة العین حیدر کا ناولٹ ”ہاؤسنگ سوسائٹی ”کراچی کے بارے میں پہلا باقا عدہ ادبی اظہار ہے۔ ان کا ناول ”آگ کا دریا ”پورے ہندوستان کو سمو لیتا ہے لیکن اختتام کراچی میں ہوتا ہے، جس سے اردو ناول میں کراچی کی عکاسی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے کراچی کی پارسی اور عامل کالونی اور پرانے باسیوں کو ناولٹ ”ہاؤسنگ سوسائٹی ”میں پیش کیا، جو مہاجرین کے لیے کھلے بازوؤں والا شہر ہےاور قدیم پارسی آبادی کی تصویر دکھاتا ہے۔ یہ ناولٹ شہر کی تعمیراتی سرگرمیوں اور مستقبل کی پیش بینی بھی کرتا ہے۔ قرة العین حیدر نے ابتدائی پاکستان میں کراچی کے نقشے اور مناظر سے ناول کا بنیادی ڈھانچہ بنایا، اور اپنی آپ بیتی ”کار جہاں دراز ہے ” میں شہر کے ادیب و شعراء کی ادبی اہمیت بھی بیان کی ہے۔
ناول کی سطح پر کراچی شہر کی سب سے اہم سماجی عکاسی شوکت صدیقی کے ناول “خدا کی بستی ” میں نظر آتی ہے۔ ”خدا کی بستی ”شہر کے آباد ہونے سے لے کر اس کے زوال تک کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ اس ناول کو ادبی اور سماجی دستاویز کی حیثیت
حاصل ہے۔ اسے ڈرامائی شکل میں بھی پیش کیا گیا۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ “God’s Own World” کے نام سے ہوا۔ ناول” خدا کی بستی ”میں شوکت صدیقی نے کراچی کی شہری سماجیات کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ناول اشرافیہ کے بجائے متوسط اور نچلے طبقے کے مسائل کی ترجمانی کرتا ہے۔ شوکت صدیقی کا ناول”خدا کی بستی “شہر کے تضادات اور جرائم کی دنیا کا ابتدائی نقشہ پیش کرتا ہے۔
رضیہ فصیح احمد کے پہلے ناول “آبلہ پا” نے بے حد مقبولیت حاصل کی ۔ ان کے ناول میں کردار نگاری میں انسانی نفسیات تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان کے دیگر ناول بھی اپنا موضوعاتی پس منظر رکھتے ہیں۔ مثلاً ناول ،انتظار موسم گل ،متاع درد ، زخم تنہائی، میں انھوں نے عورت سے متعلق مختلف مسائل کی عکاسی کی ہے۔
انتظار حسین کے ناول “آگے سمند رہے ” میں بھی کراچی شہر کی عکاسی ملتی ہے۔ اس ناول کا ہر کردار شہر کی ثقافت اور زبان سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ ناول میں کراچی کی بدامنی، گمشدگیوں، قتل و غارت گری اور عدم تحفظ کی فضا نمایاں ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کی زندہ دلی بھی دکھائی گئی ہے۔ کرفیو اور دہشت گردی کے باوجود ادبی محفلیں جاری رہتی ہیں اس ناول میں مقامی عناصر، افراد اور حالات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اسے مارشل لا حکومت کے خلاف پہلی ادبی دستاویز بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں شہر پر خوف کے سائے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کراچی اب اپنے باسیوں کے لیے محفوظ نہیں رہا۔
اسّی کی دہائی کے بیشتر ناولوں میں کراچی کا ذکر موجود ہے، جن میں مستنصر حسین تارڑ کا ناول” راکھ ” بھی شامل ہے۔ ناول “راکھ ”مجموعی طور پر پاکستان کے سماجی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مٹتی ہوئی تہذیب اور نئی اقدار کا شعوری بیان ملتا ہے۔ تاہم کراچی کو اس میں کرفیو، مارشل لا، اداسی، تنہائی اور عزیزوں کے قتل کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناول کراچی کی تاریخ کے ایک الم ناک دور کی نمائندگی کرتا ہے۔
نجم الحسن رضوی کے ناول ” مادری اور مر جینا” اور “مٹی کا درخت ” علامتی انداز میں مارشل لا کی پابندیوں، بدامنی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ نجم الحسن رضوی کا “مٹی کا درخت ” اورنگی ٹاؤن کی کچی آبادی اور محروم طبقات کی زندگی کو دکھاتا ہے۔ امین الدین کا ناول ” کراچی والے ” شہر کی بدامنی، سیاسی جماعتوں، نوجوانوں کے تشدد اور حکومت کی کمزوری کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ اکیسویں صدی کے کراچی پر لکھے گئے یہ ناول موضوع اورہیئت دونوں سطحوں پر اُردو ادب میں اہم اضافہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان ناولوں میں سید کاشف رضا کا ”چار درویش اور ایک کچھوا”، اقبال خورشید کا “گرد کا طوفان ” اور حسن جاوید کا ”شہر بے مہر ”شامل ہیں، جو اُس نسل کی اجتماعی یادداشت ہیں۔ جس نے 1985 کے لسانی فسادات اور 1992 کے آپریشن کلین اپ کے حالات بالواسطہ طور پر دیکھے اور سنے۔ ان ناولوں کے ذریعے کراچی کی بدامنی کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کے مصنف بنیادی طور پر صحافی ہیں اس لیے کردار نگاری میں عینی شاہد کا رنگ نمایاں ہے۔شیر شاہ سید کے ناول “غبار ” میں بھی کراچی اور میڈیکل سے متعلق جرائم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کراچی میں مہاجرت کی بڑی لہریں انتظار حسین کے ناول” آگے سمندر رہے ” اور مستنصر حسین تارڑ کےناول ” بہاؤ ”میں نظر آتی ہیں۔لسانی فسادات اور سماجی کشمکش شوکت صدیقی ، شیر شاہ سید اور آصف فرخی کی تخلیقات میں بھی نمایاں ہیں۔
کشور ناہید کا ناول ”میں اور موسیٰ ”نئی بستیوں، بچوں کے کھیلوں کے ختم ہونے اور بے ہنگم تعمیرات کی منظر کشی کرتا ہے، جس میں دو بچوں کی جدائی شہر کے سماجی المیے کی علامت بنتی ہے۔ صحافی ناول نگار ، جیسے رضیہ بھٹی ، احمد علی، اشرف شاد، نجم الحسن رضوی اور دیگر ، نے سیاسی بے چینی، تشدد اور استحصالی نظام کو اپنے ناولوں میں اجاگر کیا۔ کاملا شمسی کا انگریزی ناول ”کارٹو گرافی” سن 2000 میں منظر عام پر آیا۔ یہ ناول کراچی کی زندگی اور دوستی کے گرد گھومتا ہے۔۔ عمر شاہد حامد انگریزی زبان میں لکھنے والے پاکستان کے ممتاز ناول نگار اور پولیس آفیسر ہیں، جو کراچی کے عسکریت پسندی اور جرائم کے پس منظر میں کہانیوں کے لیے مشہور ہیں۔ The Prisoner ان کا انگریزی ناول ہے جو کراچی پولیس کے گرد گھومتا ہے۔ The Party Worker کراچی کی سیاست اور عسکریت پسندی پر مبنی ناول ہے۔ عمر شاہد حامد کے ناولوں میں سیاسی فادات ، لیاری گینگ وار اور دیگر اہم واقعات شامل ہیں ۔ سبا امتیاز کا انگریزی ناول کراچی یو آر کلنگ می، کراچی کی ایک صحافی عائشہ خان کی زندگی پر لکھا گیا ہے۔
محمد حنیف کا ناول ”اوور لیڈی آف ایلس بھٹی ”میں کراچی کے ہسپتال کی ایک نرس کی کہانی بیان کی گئی ہے۔۔کراچی میں اُردو فکشن نگاروں کی ایک کھیپ تو وہ تھی جو قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کے ادبی منظر نامے پر نمایاں تھی جن میں شوکت صدیقی، انور احسن صدیقی، اخلاق دہلوی، شاہد احمد دہلوی، قرة العین حیدر اور نصر اللہ خاں کے نام نمایاں ہیں۔ مگر اس کے بعد کراچی میں ہی پیدا ہونے والے یا ہجرت کر کے آنے والے فکشن نگاروں کی تعداد اس لیے اہم ہے کہ اس نے ہجرت کے تجربے کو ایک اجتماعی یاد داشت سمجھ کر قبول کیا۔حیران کن طور پر انتظار حسین اور انور سن رائے کے ناول ”چیخ ”کے علاوہ کراچی کی عکاسی اردو ناول میں بالعموم نہیں ملتی۔ البتہ مستنصر حسین تارڑ کا ناول “راکھ “ملکی المیے کے ساتھ کراچی کے المیے کو بھی پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ محمود شام کا ناول ” انجام بخیر ” بھی کراچی کے صحافیوں کی مشکلات کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔
یہاں جن ناولوں کے حوالے سے بات کی گئی ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ کسی نہ کسی سطح پر یہ کراچی کی بدلتی سماجیات اور موازنے سے جڑے ہوئے تھے ، گو کہ ان میں سے چند کا بنیادی موضوع کراچی کے المیے کی عکاسی نہیں تھا مگر پھر بھی یہ فکشن کی سطح پر کراچی کے ادب کا اہم حصہ کہے جا سکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملکی ادیبوں میں انتظار حسین اور مستنصر حسین تارڈ کے علاوہ دیگر ادیبوں نے کراچی کے المیے کو اپنے ناولوں میں جگہ نہیں دی۔
اہم بات یہ ہے کہ کراچی کے ماضی و حال کی آویزش کا یہ منظر نامہ ناول میں پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اُردو کے نمائندہ فکشن کا دامن کراچی کے عصری موضوعات کی پیش کش کے حوالے سے وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں کراچی کے ان ناول نگاروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا جن کے سلسلے وار ناول مختلف ماہناموں اور ہفت وار رسالوں میں قسط وار شائع ہوا کرتے تھے ان کی مقبولیت کا گراف اپنے دور میں بہت اونچا رہا۔ یہاں کراچی کے ناول نگاروں سے زیادہ کراچی کے پس منظر میں لکھے گئے ناولوں کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شہر کراچی، اس کا منظر نامہ ، اس سے جڑی کہانیاں اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتی ہیں۔ صرف کراچی کے پس منظر میں لکھے گئے ناولوں پر ہی کوئی تحقیقی مقالہ لکھا جائے تو اس میں بھی ہمیں منتخب ناولوں کا انتخاب کرنا پڑے گا۔یہاں شعبۂ ارود ، جامعہ کراچی کے ایم فل کے تحقیقی مقالے کا تذکرہ یقینا اہم ہے جس کا عنوان ہے ”منتخب پاکستانی اردو ناول:کراچی کے بدلتے سماج کی پیشکش کا تحقیقی مطالعہ”مقالہ نگار منیب الحسن ہیں اور یہ مقالہ سن 2023میں پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔کراچی علمی ، ادبی، ثقافتی، لسانی، تجارتی، صنعتی، ہر حوالے سے ایک اہم شہر ہے یہی وجہ ہے کہ اردو ناولوں، افسانوں، ڈراموں، اور فلموں اور اب تو وی لاگز اور ریلز میں بھی اس شہر کی بھرپور عکاسی نظر آتی ہے۔اس لیے صرف شہرِ کراچی کے حوالے سے کسی ایک موضوع پر ایم فل یا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنا یا تحقیق کرنا کو ئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔