You are currently viewing ماں

ماں

ڈاکٹر ناصر الدین قمرالدین نؔاصر

ملکاپور بلڈانہ مہاراشٹر

ماں

دلِ ویراں کو بخشے جو ،وہ ساری روشنی تم ہو

وہ  آوازِ  ترنم ہو ، دلوں کی راگنی تم ہو

انہی قدموں کے نیچے تو محبت کے وہ جھرنے ہیں

کہیں ممتا کا پیکر ہو کہیں پر دامنی تم ہو

ملا رتبہ جو قرؒنی کو وہ دستِ جاویداں تم ہو

سراپا ایک عظمت ہو ، نشانِ  گامنی  تم ہو

وہ  ایثارِ محبت ہو،وہ ممتا کا نشاں تم ہو

حیاتِ جاوداں میں بھی انوکھی خامنی تم ہو

ہر اک ظلمت ہٹا کر جو ،  منور آپ کو کردے

خدا  کا اک مظہر’’ماں‘‘،جہاں کی روشنی تم ہو

Leave a Reply