You are currently viewing غزل

غزل

شوکت محمود شوکت

غزل

دن رات فقط آہیں بھرو گے، یہ کہا تھا

چاہت کا کبھی نام نہ لو گے، یہ کہا تھا

مجنوں کی طرح خوار و زبوں ہو کے وفا میں

بستی میں اکیلے ہی پھرو گے، یہ کہا تھا

کوئی نہ سنے گا دلِ مضطر کی کہانی

تم لاکھ زمانے سے کہو گے، یہ کہا تھا

ہے خوب بہت ترکِ تعلق کا ارادہ

لیکن کفِ افسوس ملو گے، یہ کہا تھا

ہونے نہ کبھی پائے گرفتارِ وفا، جی

آرام سے پھر جی نہ سکو گے، یہ کہا تھا

بھڑکے ہے دل سوختہ ساماں ہیں جو آتش

اس آگ میں اک روز جلو گے ، یہ کہا تھا

محفل میں تمھیں بیٹھنا ہو جائے گا مشکل

میرا جو کبھی ذکر سنو گے، یہ کہا تھا

جب شہر سے گزروں گا ،لیے چاک گریباں

حالت پہ مری تم بھی ہنسو گے، یہ کہا تھا

وحثی ہے، جنوں پیشہ ہے، پاگل ہے، برا ہے

الزام ہر اک مجھ پہ دھرو گے، یہ کہا تھا

بھولے سے کبھی یاد جو آؤں گا سرِ شام

پھر سوئے خرابات چلو گے، یہ کہا تھا

شاعر ہی نہیں صرف وہ ساحر بھی ہے ظالم

شوکت سے ذرا کم ہی ملو گے، یہ کہا تھا

Leave a Reply