You are currently viewing شعر و ادب میں مشاعروں کی اہمیت و افادیت

شعر و ادب میں مشاعروں کی اہمیت و افادیت

یاور حبیب ڈار

شعر و ادب میں مشاعروں کی اہمیت و افادیت

تمہید:

شعر و ادب کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت، فکری بالیدگی اور جمالیاتی ذوق کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ جس معاشرے میں شعر و ادب کی روایت مضبوط ہو، وہاں زبان نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ اس میں ہر عہد کے تقاضوں کے مطابق نئے امکانات بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں اگر کسی روایت نے شاعری کو عوامی زندگی سے جوڑنے، زبان کو فروغ دینے اور اہلِ قلم کو عوام سے قریب کرنے میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا ہے تو وہ مشاعرہ ہے۔

مشاعرہ محض شعری نشست یا تفریحی اجتماع کا نام نہیں، بلکہ یہ تہذیب، شائستگی، ادبی شعور، علمی تبادلے اور فکری تربیت کا ایک عظیم ادارہ ہے۔ برصغیر کی ادبی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اردو زبان کے فروغ میں جتنا کردار بڑے شاعروں، نقادوں اور ادیبوں نے ادا کیا، اتنا ہی حصہ مشاعروں نے بھی لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مشاعرے کو اردو تہذیب کی روح اور ادبی زندگی کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔

مشاعرے کی تاریخی حیثیت:

برصغیر میں مشاعروں کی روایت مغلیہ دور میں منظم صورت اختیار کرتی ہے۔ ابتدا میں یہ ادبی نشستیں شاہی درباروں، رئیسوں کی حویلیوں اور اہلِ علم کی محفلوں تک محدود تھیں، مگر رفتہ رفتہ ان کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ دہلی اور لکھنؤ نے اس روایت کو جِلا بخشی، جبکہ بعد ازاں لاہور، حیدرآباد، علی گڑھ، رام پور، پٹنہ، بھوپال، امرتسر، کراچی، ڈھاکہ اور کشمیر سمیت برصغیر کے تقریباً ہر شہر میں مشاعرے ادبی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ مشاعرے درباروں سے نکل کر عوام تک پہنچے اور عوامی ادب کی ایک مضبوط روایت بن گئے۔

مشاعرہ: زبان و ادب کا محافظ:                               

مشاعروں نے اردو زبان کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے عوام کے دلوں تک پہنچایا۔ شاعر جب اپنا کلام سامعین کے سامنے پیش کرتا ہے تو زبان کی لطافت، تلفظ کی درستی، محاورے کی صحت اور بیان کی خوبصورتی ایک عملی نمونے کے طور پر سامنے آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو کی تہذیبی زبان کو محفوظ رکھنے میں مشاعروں نے بنیادی کردار ادا کیا۔

نئے شاعروں کی تربیت:

ہر بڑے شاعر نے اپنی ادبی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں مشاعرے سے فیض حاصل کیا۔ مشاعرے نئے شاعروں کے لیے تربیت گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں وہ اپنے کلام پر اہلِ علم کی آراء حاصل کرتے ہیں، خامیوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور اپنی فنی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔استاد اور شاگرد کی روایت کو مضبوط بنانے میں بھی مشاعروں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

تنقیدی شعور کی آبیاری:

اچھا مشاعرہ صرف داد و تحسین کا نام نہیں بلکہ تنقیدی بصیرت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ سامعین کی پسند و ناپسند، اہلِ فن کی رائے اور ادبی گفتگو شاعر کو اپنے فن کا احتساب کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔یوں مشاعرہ تخلیق اور تنقید کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتا ہے۔

قومی یکجہتی اور تہذیبی ہم آہنگی:

برصغیر کے مشاعرے ہمیشہ مذہبی، لسانی اور علاقائی تفریق سے بالاتر رہے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شعراء نے ایک ہی اسٹیج پر اپنا کلام پیش کیا اور محبت، اخوت اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا۔یہی وجہ ہے کہ مشاعرے قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کی بہترین مثال سمجھے جاتے ہیں۔

برصغیر کے شہروں میں مشاعروں کی روایت:

دہلی اردو مشاعروں کا تاریخی مرکز رہا، جہاں کلاسیکی شعرا نے زبان و ادب کی بنیادیں استوار کیں۔

لکھنؤ نے مشاعروں کو تہذیب، شائستگی، نزاکت اور شعری لطافت عطا کی۔لاہور نے ترقی پسند تحریک اور جدید اردو شاعری کو عوامی سطح پر فروغ دیا۔حیدرآباد دکن نے دکنی ادب اور اردو شاعری کی آبیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔

علی گڑھ، رام پور، بھوپال، پٹنہ، میرٹھ، سہارنپور، کانپور، اعظم گڑھ، مراد آباد، گورکھپور، امرتسر، ملتان، فیصل آباد، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ڈھاکہ، چٹاگانگ، سرینگر، جموں، بارہمولہ، اننت ناگ، کپواڑہ، ہندواڑہ اور برصغیر کے بے شمار قصبوں اور دیہات میں مشاعرے آج بھی ادبی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ برصغیر کا شاید ہی کوئی ایسا شہر یا گاؤں ہو جہاں کبھی نہ کبھی مشاعرے کی محفل نہ سجی ہو۔

مشاعرے اور عوام:

مشاعرہ ادب کو کتابوں کی الماریوں سے نکال کر عوامی زندگی میں لے آتا ہے۔ ایک کامیاب مشاعرہ ہزاروں افراد کو شعر سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔اسی روایت نے شعر کو عوامی حافظے کا حصہ بنایا۔ بہت سے اشعار کتابوں سے پہلے مشاعروں کے ذریعے زبان زدِ عام ہوئے۔

عصرِ حاضر میں مشاعروں کی اہمیت:

ڈیجیٹل دور میں اگرچہ ذرائع ابلاغ بدل چکے ہیں، مگر مشاعرے کی افادیت کم نہیں ہوئی۔ اب آن لائن مشاعرے، عالمی ادبی کانفرنسیں اور سوشل میڈیا نے اردو شاعری کو نئی وسعت عطا کی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم اردو داں حضرات آج بھی مشاعروں کے ذریعے اپنی زبان اور ثقافت سے وابستہ ہیں۔

موجودہ دور کے تقاضے:

ضرورت اس امر کی ہے کہ مشاعروں کو محض تفریح یا ظاہری داد و تحسین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان میں معیاری شاعری، علمی مباحث، تنقیدی نشستیں، نوجوان شعرا کی تربیت اور زبان و ادب کے فروغ کو ترجیح دی جائے۔

تعلیمی اداروں، جامعات، ادبی انجمنوں اور سرکاری ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ مشاعروں کی سرپرستی کریں تاکہ نئی نسل اردو ادب سے مضبوط تعلق قائم رکھ سکے۔

برصغیر میں مشاعروں کے فروغ میں ادبی تنظیموں کا کردار:

اردو مشاعروں کی بقا، ارتقا اور عوامی مقبولیت میں مختلف ادبی، سماجی اور ثقافتی تنظیموں کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ اگر یہ ادارے مشاعروں کی سرپرستی نہ کرتے تو شاید اردو کی یہ عظیم روایت اتنی وسعت اختیار نہ کر پاتی۔ برصغیر کے مختلف ممالک، ریاستوں، شہروں اور قصبات میں بے شمار ادبی انجمنیں گزشتہ ایک صدی سے اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہی ہیں۔

ہندوستان میں انجمن ترقیِ اردو (ہند)، اردو اکادمی دہلی، اتر پردیش اردو اکادمی، بہار اردو اکادمی، مغربی بنگال اردو اکادمی، جموں و کشمیر اردو اکادمی، ساہتیہ اکادمی، آل انڈیا مشاعرہ کمیٹی، بزمِ ادب، بزمِ اردو، ادبی مرکز کمربارہ، دہلی، انجمنِ فروغِ اردو، مجلسِ فروغِ ادب اور متعدد علاقائی ادبی انجمنیں مسلسل قومی و بین الاقوامی مشاعروں کا انعقاد کرتی رہی ہیں۔

پاکستان میں اکادمی ادبیاتِ پاکستان، حلقۂ اربابِ ذوق، پاکستان رائٹرز گلڈ، مجلسِ فروغِ ادب لاہور، اردو سائنس بورڈ، کراچی آرٹس کونسل، لاہور آرٹس کونسل (الحمرا)، بزمِ اقبال، بزمِ اردو پاکستان اور مختلف جامعات کی ادبی سوسائٹیاں اردو مشاعروں کی سرپرستی کرتی رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش اردو ادبی سوسائٹی، ڈھاکہ اردو مرکز اور دیگر ادبی تنظیمیں اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جہاں آج بھی مشاعروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ریاست جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر اردو اکادمی، کلچرل اکیڈمی، ریختہ کشمیر چیپٹر، مختلف ضلعی ادبی انجمنیں، کالجوں اور جامعات کی ادبی سوسائٹیاں، نیز مقامی بزمِ ادب اور بزمِ شعر و سخن جیسی انجمنیں وقتاً فوقتاً مشاعروں کا انعقاد کرکے اردو کی ادبی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اسی طرح بیرونِ ممالک میں انجمن ترقی اردو برطانیہ، اردو مارک سینٹر لندن، بازمِ اردو شمالی امریکہ، اردو ایسوسی ایشن آف کینیڈا، دبئی اردو فورم، قطر اردو فورم، بزمِ اردو سعودی عرب، عمان اردو مجلس اور دیگر ادبی تنظیمیں عالمی مشاعروں کے ذریعے اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دے رہی ہیں۔

ادبی تنظیموں کی خدمات:

یہ تنظیمیں صرف مشاعرے منعقد نہیں کرتیں بلکہ:

– نئے شعراء کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

– طرحی اور غیر طرحی مشاعروں کا اہتمام کرتی ہیں۔

– مشاعروں کی روداد اور شعری مجموعے شائع کرتی ہیں۔

– نوجوان نسل میں اردو زبان و ادب کا ذوق پیدا کرتی ہیں۔

– قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور ادبی مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔

– بین الاقوامی سطح پر اردو شاعری کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اختتامیہ:

یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اردو مشاعروں کی تاریخ دراصل ان ادبی انجمنوں اور تنظیموں کی بے لوث خدمات کی تاریخ بھی ہے۔ ان اداروں نے صرف محفلیں نہیں سجائیں بلکہ اردو زبان، تہذیب اور شعری روایت کو نسل در نسل منتقل کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ اگر مستقبل میں بھی ان تنظیموں کی سرپرستی، حکومتی تعاون اور اہلِ ادب کی وابستگی برقرار رہی تو مشاعرے اسی طرح اردو تہذیب کی شناخت اور ادبی وقار کی علامت بنے رہیں گے۔

نتیجہ:

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ مشاعرہ اردو تہذیب کی وہ روشن روایت ہے جس نے صدیوں سے زبان، ادب، ثقافت اور انسانی اقدار کی حفاظت کی ہے۔ یہ صرف شعر سنانے کی محفل نہیں بلکہ فکر و احساس، تہذیب و شائستگی، روایت و جدت اور علم و فن کا حسین سنگم ہے۔

برصغیر کی ادبی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب تک مشاعروں کی شمع روشن رہے گی، اردو شاعری کی خوشبو نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔ مشاعرے زبان کو زندگی دیتے ہیں، شاعر کو شناخت عطا کرتے ہیں، سامع کو ذوق بخشتے ہیں اور معاشرے کو حسنِ فکر اور حسنِ اظہار سے آشنا کرتے ہیں۔ اسی لیے مشاعرہ اردو ادب کا ایک ایسا زندہ اور تابندہ ادارہ ہے جس کی اہمیت ہر عہد میں مسلم رہی ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گی۔

ی***

Leave a Reply