غزل
فیضان بریلوی غزل ہر کوئی لوٹ کے آتا ہو ضروری تو نہیں بہتے دریا کا کنارہ ہو ضروری تو نہیں کوئی جگنو بھی چمکتا ہوا ہو سکتا ہے آسماں کا…
World Urdu Research & Publication (Tarjihaat / ترجیحات )
فیضان بریلوی غزل ہر کوئی لوٹ کے آتا ہو ضروری تو نہیں بہتے دریا کا کنارہ ہو ضروری تو نہیں کوئی جگنو بھی چمکتا ہوا ہو سکتا ہے آسماں کا…
فیضان بریلوی غزل کیسے تھے اور کیسے مرے یار ہو گئے بارش میں بے وفائی کی بیمار ہو گئے نکلے تھے ہم تو سوئے گلستان ہی مگر کانٹوں کے جانیں…
فیضان بریلوی غزل اب تو ہر بات پہ اس درجہ خوشی ہوتی ہے جب بھی ہنستے ہیں تو آنکھوں میں نمی ہوتی ہے سوچتے ہیں جو کبھی اپنے حسیں ماضی…
فیضان بریلوی غزل ہمارے ہاتھ کی زنجیر ٹوٹے کبھی تو ظلم کی جاگیر ٹوٹے کروں تعمیر خود کو از سر نو …
فیضان بریلوی غزل مسئلہ اس کا نہیں ہے مسئلہ ہے یاد کا یعنی میری زندگی کے آخری صیّاد کا مل گیا کتنوں کو بن مانگے تری دہلیز سے اور کوئی…
فیضان بریلوی غزل جستجو تھی پھول کی خاروں کو اپنا کر لیا مل گیا قسمت سے جو اس پر گزارا کر لیا ایک تو پہلے غم دوراں سے ہم تھے…
فیضان بریلوی غزل اس کو چاہا عذاب ہونے تک یعنی خانہ خراب ہونے تک ختم ہوتی نہیں کبھی خوشبو گل کی گل سے گل آب ہونے تک رفتہ رَفتہ ہی…
فیضان بریلوی غزل جن کو نہ قدر وقت کی انکو گھڑی ملی اندھوں کا یہ ہوا کہ انہیں روشنی ملی چاہی تھی زندگی سے حقیقی ہر ایک چیز لیکن یہ …