
فیضان بریلوی
غزل
کوئی ایسے اکیلا رہ گیا ہے
گلوں میں جیسے کانٹا رہ گیا ہے
ہم اپنی نیند سے جاگے تو جانا
ابھی سپنا ادھورا رہ گیا ہے
حقیقت کی اب اتنی ہے حقیقت
حقیقت کا دکھاوا رہ گیا ہے
کسے آواز دیں كس کو پکاریں
کوئی اپنا ہمارا رہ گیا ہے ؟
ہمارا چاہنے والا ہے کوئی
حقیقت تھا، فسانہ ره گیا ہے
بھروسہ کیجئے گا کیوں کسی پر
بھروسے کا زمانہ رہ گیا ہے ؟
غبار رہ گزر کو سب خبر ہے
سفر میں کون کتنا رہ گیا ہے
سوال درد کس سے کیجئے گا
جوابوں پر بھروسہ رہ گیا ہے ؟
نئی تعمیر تو کرتا میں لیکن
پرانے گھر کا نقشہ رہا گیا ہے
مجھے یوں بے حیا کہیے نہ صاحب
ابھی کھڑکی پہ پردہ رہ گیا ہے
ہجوم شہر کو بتلائے کوئی
یہاں اک شخص تنہا رہ گیا ہے
علاج آبلہ پائی ہے آگے
ابھی کانٹوں کا رستہ رہ گیا ہے
ابھی باقی ہے رسم و راہ فیضان
ضرورت کا تقاضا رہ گیا ہے