You are currently viewing نعت

نعت

میمونہ تحسین محمد اسماعیل

ریسرچ اسکالر ڈاکٹر بامو اورنگ آباد

نعت

ایک مدت سے یہی آس لیے بیٹھے ہیں

ہم مدینے کی بجھی پیاس لیے بیٹھے ہیں

راہ میں دل مرا رویا کہ کوئی کہہ نہ سکا

بزم ہے دل کی، لو ہم باس لیے بیٹھے ہیں

دیکھ منظر یہاں طاری ہوئی ہے لرزش کیوں

فرش پر عرش کی ہم چاس لیے بیٹھے ہیں

یہ مدینے کی وہ گلیاں جو مقدر جانے

ہم تو جینے کی یہی آس لیے بیٹھے ہیں

وہ ہرا رنگ کہ جس پر ہے زمانے کی نظر

دل میں اک دید کا احساس لیے بیٹھے ہیں

ہوئی تحسین کہ مقدر نے کیا تھا جو کرم

اسی اک آس کا ہم واس لیے بیٹھے ہیں

 

غزل

ہمارے دشمنوں کی انجمن میں وہ بھی آتے ہیں

ہمیں برباد کرنے کی وہی سازش رچاتے ہیں

جسے دل سے لگاتے ہیں دغا وہ دے ہی جاتے ہیں

وہی بنتے ہیں درد دل جنہیں مرہم لگاتے ہیں

ہزاروں زخم دے کر پوچھتے ہیں حال کیسا ہے

سنائیں جب وہ سن کر بھی ہمی پر مسکراتے ہیں

لڑائی کی زمانے سے وہی تو بے وفا نکلے

وہ اب ہنس کر ہمارے آشیانے کو گراتے ہیں

خطوطِ عشق بھی رہتے ہیں اکثر کوسوں دوری پر

انہیں معلوم ہے ان کو ہوا میں ہم اڑاتے ہیں

ہزاروں ظلم آندھی کو خوشی سے ہم بھی سہہ لیتے

ہمیں ایسے بھنور میں چھوڑ کر تنہا وہ جاتے ہیں

بھروسہ کس پہ ہو ہم نے جہاں میں بارہا دیکھا

جسے ہمدم سمجھتے ہیں وہی خنجر چلاتے ہیں

زمانہ بھول جائے پھر بھی اپنی داستانیں غم

سکونِ قلب ملت ہے اسے جب بھی سناتے ہیں

یہی تحسینِ الفت ہے یہ کیسی بے وفا رسمیں

جنہیں دل میں بٹھاتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں

Leave a Reply