
عشرت معین سیما
برلن، جرمنی
اردو ناول میں علاقائی رنگ
(برصغیر سے یورپ تک)
اگرچہ ادیب و شاعر کے لیے اپنا فن تراشنا زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ادب کو جب تاریخ اور ثقافت کے ساتھ جوڑا جائے تو دنیا کے ہر خطے کا ادب اپنے عہد کا ترجمان اور خطے کی تاریخ کا نشان بن جاتا ہے۔
اردو ناول نگاری میں بھی ’’علاقائی رنگ‘‘یا مصنف کی تشکیل کردہ’’مقامی فضا ‘‘ ایک اہم فنی عنصرمانا جاتاہے۔ اسی عنصر کے تحت کسی بھی خطے کے مخصوص تمدنی، معاشرتی، ثقافتی اور لسانی پہلوؤں کی عکاسی ہمیں ادب کے پس منظر میں دکھائی دیتی ہے جو افسانہ یا ناول کی جزیات کا اہم حصہ ہے ۔ یہ جزیات میں ملفوف علاقائی رنگ ناول کو نہ صرف ایک مخصوص جغرافیہ سے جوڑتے ہیں بلکہ کرداروں، زبان، رسوم و رواج، رہن سہن، اور فضا میں ایک ایسی گہرائی پیدا بھی کرتے ہیں جو قاری کو کہانی کے ماحول کی مکمل اور واضح تصویربھی پیش کرتے ہیں۔
اردو ناول اور افسانے میں اپنے خطے کے علاقائی رنگ اور مقامی تہذیب و ثقافت کی عکاسی ہمیں اکثر معروف ناولوں میں دکھائی دیتی ہے۔ وہاں پر ناول کی تکنیک کو پر اثر بنانے کے لیے کرداروں کے زریعے مخصوص علاقے کی تہذیب و روایات پیش کرنے کے موثر طریقہ کار کا خیال رکھا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ کرداروں اور مناظر کےحوالے سےجملوں اور مکالموں میں بھی علاقے کی انفرادیت پیش کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اردو ناولوں کے اکثر کردار اپنے علاقے و تہذیب کے حوالے سے فطری سطح پر تراشے جاتے ہیں۔ کرداروں کی زبان اور لہجہ و مکالمے ناول میں پیش کردہ ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جو ناول کو حقیقت سے قریب تر لے جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ ان عناصر کے تحت کبھی کبھی اسی خطے میں بسنے والے قارئین اُن ناولوں اور اُن کے کرداروں سے اپنی جذباتی وابستگی بھی محسوس کرتے ہیں۔ جس کی عمدہ مثال منشی پریم چند کے ناول ’’ گئو دان ‘‘ اور ’’ میدان عمل‘‘ہیں۔ جن میں اودھ کے دہی علاقوں کا رنگ ناول کے پس منظر میں نمایاں ہے اور ساتھ ہی کرداروں کا دیہاتی لہجہ و زبان، سماجی سطح پر زمینداری کے نظام اور طریقہ کار کو حقیقت سے بہت قریب محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح قرۃالعین حیدر اور عبدالحلیم شرر بھی علاقائی رنگ میں پیش کئے گئے ناول کے حوالے سے اپنی معروف پہچان رکھتے ہیں۔ قرۃ العین کا معرکہ العراء ناول ” آگ کا دریا ” اس کی بہترین مثال ہے جہاں ہندوستان کی کئی علاقائی تہذیب اپنے ادوار میں تاریخی سطح پر نمایاں ہیں۔ چاہے وہاں بات لکھنؤ کی معروف تہذیب کی ہو یا دہلی کی بنتی بگڑتی ثقافت کی یا بنگال کی فضا کی ۔یہاں یہ ثقافت نمایاں ہوکر قاری کو اُن علاقوں اور عہد کی بھی سیر کروادیتی ہے جہاں حقیقی طور پر اس نے قدم نہ رکھے ہوں ۔اسی طرح عبدالحلیم شرر اپنے ناول میں تاریخی سطح پر ہندوستان کا وہ نقشہ پیش کرتے ہیں کہ اُن کا قاری خود کو بذریعہ ناول اس عہد میں اور اس ماحول میں سانس لیتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں شائع ہونے والے آج یا آج سے چند سال قبل لکھے جانے جانے والے بلوچی، سرائیکی، پشتو اور پنجابی زبان کے علاقائی ناول کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی علاقائی ادب سے متاثر اردو ناول اور کہانیاں بھی منظرِ عام پر نظر آتی ہیں۔ جن میں مقامی زبانوں، تہذیبی حالات، روایات اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے جو ہمارے خطے میں لکھے جانے والے ادب کو اپنے عہد کے ساتھ جوڑتا ہوا تاریخ کا ایک حصہ بھی بن گیا ہے۔ اس لیے یہ بات عہد حاضر میں لکھے جانے والے ادب اور خاص طور پر صنف ناول میں نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ علاقائی رنگ اردو ناول نگاری میں فطری اور حقیقت پسند فضاکو نمایاں کریں بلکہ مختلف علاقوں کے مسائل، سوچ، اور ثقافت کو بھی ادب کا حصہ بنائیں ہے۔ تاکہ اردو ناول ہمہ جہت ہو کر ایک قومی بیانیہ پیش کرنے کے قابل بھی سمجھا جائے۔
اردو ناول میں گرچہ برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں کی تہذیب اور زبان و ثقافت خطے کے عہد کی ترجمان ہے اور کئی سماجی مسائل کی آئینہ دار بھی لیکن اس باوجود اردو زبان کی وسعت ہمیں برصغیر پاک و ہند سے آگے نئی بستیوں کے مسائل اور زندگی کی جھلک بھی اپنے ادب میں دکھلاتی ہے۔ چونکہ یہاں ذکر اردو ناول کا ہورہا ہے لہذا اگر سماجی سطح پر اردو ناول میں علاقائی و تہذیبی رنگ برصغیر پاک و ہند سے آکے دیکھے جائیں تو ہمیں یہاں بھی اردو ناول میں علاقی سطح پر ایشیاء سے لے کر یورپ و امریکہ و افریقہ کی زندگی بھی تلاش کرنے سے مل جاتی ہے۔ زیادہ تر بیرونِ پاک و ہند ہمیں یہ جھلک مغربی اور دیگر غیر زبان تراجم کی صورت میں شائع کئے گئے ناول اور افسانوں میں ملتی ہے لیکن اردو افسانہ اور ناول نگاروں نے بھی اپنے فن تحریر میں اُن علاقوں کی تاریخ اور سماجی مسائل کو اردو کی نئی بستیوں کے حوالے سے موضوع بنایا ہے۔ جہاں تک بات اردو ناول نگاری میں یورپ اور جرمنی کے علاقائی رنگ کی ہے تو اس سلسلے میں مغرب کے دیگر حصوں کی فضا اور ماحول کی عکس بندی نسبتاً کم ہے مگر اس حوالے سے جتنا بھی ادب اور خاص طور پر ناول تحریر کیا گیا ہے وہ نہایت اہم اور گہرے ادبی انداز میں رقم کیا گیا۔ اُن ناولوں میں علاقائی عکس بندی زیادہ تر اُن مصنفین کے ہاں نظر آتی ہے جو خود یورپ میں مقیم رہے یا جنہوں نے مغربی دنیا کے تمدن، فکر، اور تضادات کو قریب سے دیکھا۔ اس فضا کی جھلک زیادہ تر تہذیبی ، فکری اور سماجی سطح پر نظر آتی ہے لیکن جغرافیائی یا تاریخی سطح پر اُن پیش کردہ ادب میں خطے سے مربوط مناظر اور کردار بہت کم ہیں۔اگر ہم یہاں قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا اور چاندنی بیگم کا حوالہ یورپ کی زندگی یا لندن و پیرس کے ساتھ ساتھ دیگر یورپی شہروں کے شب و روز کے ساتھ پیش کریں تو انہوں نے بھی اُن تمام شہروں اور علاقوں کو محض ان کے ماحول اور جگہ کے طور پر برتنے کے بجائے تہذیبی و فکری تضاد کے استعارے کے طور پر پیش کیا ہے۔
قرۃ العین حیدر نے یورپ، خاص طور پر لندن، پیرس اور دیگر مغربی شہروں کے ماحول کو محض جگہوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی و فکری تضاد کے استعارے کے طور پر برتا۔ ان کے مغربی دنیا میں رہنے یا ہجرت کرنے والے کردار، وہاں کے انفرادی مزاج، تنہائی کے مثبت اثرات، سائنسی ترقی، اور روحانی خلا کو محسوس کرتے ہیں لیکن بھرپور انداز میں بیان کرنے سے قاصر ہیں اسی طرح انتظار حسین کے ناول ” آگے سمندر ہے” میں ناول کی مرکزی فضا تو کراچی ہی ہے، لیکن اس میں مہاجرت، ثقافتی تصادم، اور مغربی تہذیب کے اثرات کے تناظر میں یورپ اور مغرب کا تاثر شامل ہے۔ انتظار حسین کے افسانوں میں بھی کبھی کبھار یورپی فضا کے ٹکڑے جزوی طور ملتے ہیں، خاص طور پر جب تہذیبوں کے زوال و تغیر کی بات ہوتی ہے لیکن اُن کی جانب سے بھی مکمل سطح پر مغربی معاشرے کی ثقافت یا تہذیب کو بنیاد بنا کر کہانی تحریر نہیں کی گئی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی اردو کے معروف ناول نگار ہیں۔ فاروقی صاحب کے ناول کئی چاند تھے سر آسماں میں اگرچہ براہِ راست یورپ یا جرمنی کی فضا پیش نہیں کی گئی ہے لیکن مغرب کے فلسفہ، لسانیات اور تہذیبی اثرات کا یہاں گہرا مطالعہ موجود ہے۔ البتہ ان کے تنقیدی مضامین میں مغربی ادب اور ماحول پر بات ملتی ہے۔ لیکن وہ تخلیقی ادب سے ذرا ہٹ کر ہے۔حالیہ دور میں کئی ادیبوں اور شاعروں نے مغرب میں مقیم ہندوستانیوں و پاکستانیوں کی زندگی کو موضوع بنایا۔ ان کے ہاں جرمنی، ناروے، ہالینڈ اور برطانیہ جیسے ممالک کی فضا بالخصوص تارکین وطن کی تنہائی، شناخت کا بحران، اور ثقافتی دوہریت کو مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جرمنی کے حوالے سے بات کی جائے، تو اس کی عکس بندی محدود ہے، مگر کچھ اردو سفرناموں اور افسانوں میں جرمن معاشرت، نظم و ضبط، صنعتی ترقی، اور مابعد جنگی ماحول پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
نان فکشن لٹریچر میں سفرناموں میں یورپ، خاص طور پر جرمنی کے شہروں، تاریخی پس منظر، اور فکری ماحول کی جھلکیاں ابن انشا، یا مستنصر حسین تارڑ اور کچھ نئے لکھنے والوں کے یہاں موجود ہیں اور جرمن معاشرے کو کہیں طنزیہ اور کہیں تاریخی سطح پر سنجیدہ انداز میں رقم کیا گیا ہے لیکن اردو ناول میں یورپ اور جرمنی کی فضا کا استعمال زیادہ تر یہاں بسنے والے لوگوں کی ذہنی کیفیات، ثقافتی تصادم یا تہذیبی و سماجی مکالموں کی صورت میں ناپید دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت جرمنی اور یورپ کے دیگر اردو ناول نگاروں کی جانب سے معاشرتی عکس بندی اور کرداروں کی تشکیل کے لیے اردو ادب منتظر ہے تاکہ برصغیر پاک و ہند سے آگے بسی نئی اردو کی بستیاں خود کو اس معاشرے میں بین القوامی سطح پر نمایاں محسوس کروا سکے اور سماج سے مربوط زندگی کی متعلقہ فکری وسعت بیان کر سکے۔
یورپ اور امریکہ و کینڈا میں بسے ناول نگاروں کی یہ کوشش جاری ہے کہ اردو ناول نگاری کے زریعے وہ اس نئی بستی میں نمایاں ہوں تاکہ یہاں کا مقامی قاری بھی خود کو کیفیتِ اظہار اور معاشرے میں انضمام کے لیے اپنی راہ تلاش کا تعین کر سکے۔