You are currently viewing دیوان غالب کو الہامی کتاب کہنے والا غالب پرست ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری

دیوان غالب کو الہامی کتاب کہنے والا غالب پرست ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری

محی بخش قادری

6/48، ونیت کھنڈ، گومتی نگر،لکھنؤ

دیوان غالب کو الہامی کتاب کہنے والا غالب پرست ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری

          خان بہادر قاضی نورالاسلام سیوہاروی ، ضلع بجنور کے یہاں ۱۰؍ جون ۱۸۸۵؁ء کو پیدا ہونے والے عبدالرحمن نے صرف ۳۳ برس کی عمر پائی اور ۷؍ نومبر ۱۹۱۸؁ء کو مالک حقیقی سے جا ملے۔ لیکن اتنی کم زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ لوگ سو برس کی عمر میں بھی نہیں کر پاتے ہیں۔

          ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کا شمار اردو کے ممتاز ادیب ، ناقد، محقق، مفکر،ماہر تعلیم،ماہر قانون کے طورپر ہوتا ہے۔ وہ  نہ صرف مشرقی ، مغربی ادبیات اور زبانوں سے آگاہ تھے بلکہ فنون لطیفہ ، موسیقی، مصوری، عروض، لسانیات، نفسیات اور دیگر سماجی اور سائنسی علوم سے بھی واقف تھے۔ وہ عربی، فارسی، ترکی انگریزی، فرانسیسی، اطالوی، جرمن زبانیں جانتے تھے۔ عبدالرحمن بجنوری نے محمڈن  اینگلواورینٹل کالج (جو بعد میں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ بنا) سے ۱۹۰۶؁ء میں بی اے،۱۹۰۹؁ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔  اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ’’ علی گڑھ‘‘ میں پوری پوری دلچسپی لی۔ شعیب قریشی، عبدالرحمن سندھی اور ڈاکٹر سید محمود ان کے ساتھی اور ان کے خاص دوستوں میں تھے۔ اس کے بعد وہ انگلستان چلے گئے وہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے جرمنی سے اسلامی تعزیرات پر جرمن زبان میں مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی  ۔ تحصیل علم کے بعد کچھ عرصہ مرادآباد میں وکالت کی اور وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مجوزہ دستور کو بنانے میں بھی کلیدی کردار اداکیا۔

           ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری نے بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تھی۔ترکی ،قسطنطنیہ اور دیگر یورپی ممالک میں وہ برسوں مقیم رہے۔ بقول خورشید الاسلام بجنوری اپنے اوضاع و آداب میں مشرقی تھے۔اپنی ادبی روایت کے ذی ہوش پرستار تھے اور پرانے علوم پر نگاہ رکھتے تھے اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ وہ اپنے تمام معاصرین سے کہیں زیادہ مغرب اور اس کی معاشرت اور اس کی ترقی کے اسباب کو جانتے تھے۔ وہ جدید علوم سے غیر معمولی شغف رکھتے تھے اور ان میں سے چند میں غیر معمولی دستگاہ رکھتے تھے۔

          بھوپال سے ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کا گہرا رشتہ تھا۔وہ عہد سلطان جہاں میں ریاست بھوپال کے مشیرتعلیم کے عہدے پر فائز تھے۔ ۱۹۱۷؁ء میں انہوں نے سلطانیہ کالج کے نام سے تعلیمی منصوبہ بھی پیش کیا تھا۔ اسی عہد میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری کو کلام غالب پر مبسوط مقالہ لکھنے کی ذمہ داری سپرد کی، جو بعد میں محاسن کلام غالب کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہی عہد تھا جب بھوپال میں مرزا سداللہ خان غالب کے غیر مطبوعہ کلام کی ۱۹۱۸؁ء میں نواب فوجدار محمد خان کے کتب خانہ سے دریافت ہوئی تھی۔ بجنوری کالکھا مقدمہ بعد میں نسخہ حمیدیہ کے نام سے غالب کا غیر مطبوعہ کلام شائع کیا گیا تو اس میں شامل کیا گیا تھا۔

          بجنوری جامع الکمالات تھے جنہوںنے مغربی اور مشرقی آرٹ کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ بھی کیا تھا۔جس عبقریت، ذہانت، دراکی اور خلاقی کی ضرورت تنقید کو ہے وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے۔ بجنوری نابغہ تھے اور اپنی عبقریت کی وجہ سے ہی انہیں تنقید کی دنیا میں عظمت و شہرت ملی۔ کمال کی بات ہے کہ ۳۱؍ سال کی عمر میں انہوںنے ایسا معرکۃ الآرا تنقیدی مقالہ ’محاسن کلام غالب‘ تحریر کیا کہ آج بھی دنیا اس مقالے پر عش عش کرتی ہے۔ اتنی کم عمر پانے والے بجنوری صرف ایک فقرے کی وجہ سے اردو تنقید میں زندہ جاوید ہو گئے۔ اس ایک فقرے کو جتنی شہرت و مقبولیت ملی شاید ہی کسی اور کو ملی ہو۔ انہوںنے لکھا تھا  :

          ’’ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ۔ ’مقدس وید‘ اور ’دیوان غالب‘ ۔‘‘

          اس ایک فقرے نے ادبی دنیا میں اتنا تحرک اور تلاطم پیدا کیا کہ آج بھی غالبیات میں اس کو ایک محور اور ایک مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔اس میں ایک جہان فکرو معنی پوشیدہ ہے۔ تنقید جس کشف المحجوب سے عبارت ہے ، اس ایک فقرے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔کلیم الدین احمد ، گیان چند جین ، عطا محمد شعلہ، خلیفہ عبدالحکیم جیسے ناقدین نے اس فقرے کو وفور عقیدت،غیر مدلل مداحی،نثری شعر قصیدہ خوانی اور مبالغہ آمیزی سے تعبیر کیا۔  اس کتاب نے غالب کی شعری جمالیات کی وساطت سے اردو کی تاثراتی تنقید کو ایک رنگ دیا تھا۔

          عبدالرحمن بجنوری نے کلام غالب بطور مشرقی شہ پارہ کی فنی اور فکری عظمت کو ثابت کرنے کے لئے مغربی فنکاروں کا حوالہ دیا اور ان سے موازنہ کرکے یہ ثابت کیا کہ مغربی فنکار نہ معراج فن ہیں اور نہ منتہائے کمال۔ بجنوری غالب کا شیکسپیئر ، ورڈس ورتھ،ٹینی سن، ہائن رش ہائن وغیرہ وغیرہ سے موازنہ کو شاعری اور تنقید پر نادانستہ ظلم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں  ’دنیا میں اگر کسی شاعر سے غالب کا مقابلہ ہوسکتا ہے تو وہ شعراء المانیہ کا سرتاج یوحنا اولف گانگ جان المعروف بہ گو ئٹے  ہے۔

          محاسن کلام غالب کے متعلق عبدالرحمن بجنور ی نے اپنا جو نقطۂ نظر پیش کیا ہے اگر اس سے بعض نقاد فن اختلاف بھی کریں تب بھی وہ بجنوری کی وسعت نظر اور عالمانہ انداز تنقید کا وزن ضرور محسوس کریں گے۔بجنوری نے اگر دیوان غالب کو الہامی کتاب کہا ہے تو بے جانہیں۔  اس لئے کہ ان کا خیال تھا کہ ’’ کیا ہے جو یہاں حاضر نہیں ۔ کون سا نغمہ ہے جو اس زندگی کے تاروں میں بیدار یا خوابیدہ موجود نہیں ہے‘‘۔ اور اسی لئے انہوںنے غالب کو ایک ’’رب النوع‘‘ تسلیم کیا ہے۔

          عبدالرحمن بجنوری نے اپنی تنقید میں بین علومی طریقۂ کا اختیار کیا ہے۔انہوںنے ایک زاویہ سے نہیں بلکہ مختلف زاویوں سے کلام غالب کا جائزہ لیا ہے جن میں نفسیات بھی ہے، لسانیات بھی ہے، فلسفہ بھی ہے، فلکیات بھی ہے، طبیعیات بھی ہے، تاریخ بھی ہے، تصوف بھی ہے اور تہذیب بھی ، مصوری بھی ہے ، موسیقی بھی ہے، عروض بھی ہے، طب اور سائنسی زاویہ نگاہ بھی، گویا تعین قدر کے جتنے زاوئے ہوسکتے ہیں ان تمام زاویوں سے کلام غالب کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی ہے۔خاص طور پر تقابلی تنقید کو انہوںنے ایک نئی جہت عطا کی کہ پہلے یہ صرف عربی اور فارسی شاعری سے موازنہ تک محدود تھی۔ انہوںنے اس میں مغربی زبانوں اور فنکاروں کو بھی شامل کیا۔ ایسا بین علومی نقاد جو غالب کے کلام کا متنوع زاویوں سے جائزہ لے رہا ہوکیا اس کی تنقید کو صرف تاثراتی یا جذباتی کہہ کر مسترد کئے جانے کا جواز ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عبدالرحمن بجنوری نے معروضی اور منطقی انداز میں کلام غالب کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے غالب کی شاعری کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا کو ایک رب النوع تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔غالب نے بز م ہستی میں جو فانوس خیال روشن کیا ہے کون سا پیکر تصویر ہے جو اس کاغذی پیرہن پر منازل زیست قطع کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ دیوان غالب کے تعلق سے ان کا یہ خیال بہت اہم ہے کہ ’’ دیوان غالب یکتا ہے۔ بلاغت یعنی تقلیل الفاظ بلا اختلال معنی اس سے زیادہ محال ہے۔ کہیں کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جسے پُرکُن کہا جائے۔ فصاحت کی یہ کیفیت ہے گویا دریائے لطافت رواں ہے۔

          عبدالرحمن بجنوری نے زبان کی عہد بہ عہد تجدید کی بات کرتے ہوئے زبان کے فلسفۂ ارتقا پرروشنی ڈالی ہے اور مرزا غالب کے تجدد پسند ذہن اور ان کی تجدیدی روش پر گفتگوکی ہے۔ مرزا غالب نے کہنہ اور پارینہ الفاظ و محاورات کے بجائے نئے الفاظ و محاورات تلاش کئے ہیں۔ بجنوری لکھتے ہیں کہ اردو میں اس وقت بہت سے محاورات ہیں جو حقیقت میں الفاظ و فقرات کی ممیاں ہیں۔ مرزا نے اپنے دیوان میں محاورے کی بندش سے اکثر احتراز کیا ہے۔ تمام دیوان میں مشکل سے دس اشعار ایسے ہیں جن میں کوئی محاورہ باندھا ہے۔ مرزا کی شاعری دہلی کی گلیوں یا لکھنؤ کے کوچوں کی پابند نہیںہے بلکہ آزاد اردو زبان ہے۔ جب مرزا نے اپنے فلسفیانہ خیالات کے لئے موزوں الفاظ کی تلاش کی تو اردو کے ذخیرہ الفاظ کو بہت محدود پایا لیکن قاعد ہ ہے کہ جہاں نیا خیال پیدا ہوتا ہے وہاں نیا لفظ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔

          صنائع اور بدائع کے استعمال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طبیعت میں آمد نہیں ہے۔ صنائع اور بدائع کا استعمال کلام کو عام ادبی زندگی سے جدا کردیتا ہے۔ اور جس زمانہ میں صنائع اور بدائع کا عام رواج ہو وہ زمانہ اقوام کے انحطاط اور زوال کا ہونا ہے۔ غالب بہت کم صنائع اور بدائع کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے کلام کے اشکال کا باعث فارسیت کا غلبہ الفاظ کا ادق ہونا اور ترتیب کا پس و پیش ہونا ہے۔ اس میں صنائع اور بدائع کی مشکلات کو ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ لیکن ایک خصوصیت ان کے کلام میں ایسی ہے جس کی مثال کسی دوسرے شاعر کے کلام میں موجود نہیں ہے۔ جس طرح سفید رنگ میں تمام آفتابی الوان مضمر ہیں۔ ان کے بعض اشعار کی سادگی میں عجیب و غریب لطیف معنی پنہاں ہیں۔ جیسے کولمبسؔ نے امریکہ کو دریافت کیا تھا۔ مولانا حالیؔ نے مرزا غالبؔ کے کلام میں اس نئی دنیا کا پتہ لگایا ہے اور حقیقت میں مولانا حالیؔ مرزا غالبؔ سے کچھ کم مستحق داد نہیں ہیں۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یادآیا

          جہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ دشت اس قدر ویران ہے کہ خوف سے گھر یاد آتا ہے وہیں یہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کہ ہم توگھر ہی کو سمجھتے تھے کہ ایسی ویرانی کہیں نہ ہوگی لیکن دشت بھی اتنا ویران ہے کہ اس کے دیکھنے سے گھر کی ویرانی یاد آتی ہے۔

کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق

ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد

          اس شعر کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ میرے مرنے کے بعد شراب عشق کا کوئی خریدار نہیں اور ساقی یعنی معشوق کو بار بار صلا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے لطیف معنی پنہاں ہیں کہ ساقی مصرعہ اولیٰ کو مکرر پڑھتا ہے۔ ایک دفعہ بلانے کے لہجے میں یعنی کوئی ہے جو مے مرد افگن عشق کا حریف ہو۔ پھر جب اس کی آواز پر کوئی نہیں آتا تو اسی مصرعہ کو مایوسی کے ساتھ پڑھتاہے۔ یعنی کوئی نہیں۔

ترے سرو قامت سے اک قد آدم

قیامت کے فتنہ کو کم دیکھتے ہیں

          اس کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ تیرے سروقامت سے فتنۂ قیامت کم ہے اور دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ چونکہ تیرا قد اسی میں سے بنایا گیا ہے اس لئے وہ ایک قد آدم کم ہو گیا ہے۔

سر اُڑانے کے جو وعدہ کو مکرر چاہا

ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو

          اس جملہ کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ تیرے سر کی قسم ہم ضرور سر اُڑائیں گے دوسرے یہ کہ ہم کو تیرے سر کی قسم ہے یعنی ہم تیرا سر کبھی نہ اُڑائیں گے۔

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ

جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو

          اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم جیسے نازک مزاج شہر میں اور ہوں تو شہر کا کیا حال ہو۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب تم کو اپنے عکس کا بھی اپنی مانند ہونا گوارا نہیں تو شہرمیں اگر فی الواقع تم جیسے ایک دو حسین موجود ہوں تو تم کیا قیامت برپا کرو۔

          بعض کا خیال ہے کہ شاعری مصوری ہے۔ اس پہلو سے بھی دیوان غالب عدیم المثال ہے۔ ہر ورق پر ایسے اشعار موجود ہیں جن کو صفحۂ قرطاس سے جامۂ تصویر پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

          حسن و عشق کے تمام معاملات کو مرزا نے اس خوبی سے نظم کیا ہے کہ ہو بہو تصویر نگاہوں میں پھر جاتی ہے۔ اس کے لیے صرف زبان پر قدرت ہونا کافی نہیں بلکہ فطرت کا بڑا نکتہ داں ہونا ضروری ہے۔ کیا خوب زندگی کی روز مرہ تصویریں ہیں مثلاً کہتے ہیں۔

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منھ سے مجھے بتا کہ یوں

          تصویر گوش آشنا ہوتے ہی اول در دنداں اور لب مرجاں کا خاکہ کھنچتا ہے۔ پھر مسّی کی اُواہٹ اور پان کی سرخی سے ان میں تبسم کا رنگ بھرتا ہے۔ پھر رونمائی میں مشغول ہوتا ہے اور سرمہ کی تحریر اور قشقہ کی لکیرتک نہیں بھولتاپھر گردن کے اُتار اور سینہ کے اُبھار کے خطوط کی کشش سے پیکر تیار کرتا ہے اور اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دست حنائی میں جو پردہ ہے وہ بھی اور جس غرفہ میںوہ پردہ آویزاں ہے اس کوبھی دکھلاتا ہے۔

          کہیں کہیں روزمرہ تصاویر کا دوسرا رخ دکھایا ہے۔ یعنی واقعات حقیقت اور قدرت کے مطابق ہیں لیکن امید اور عادت کے خلاف ہیں مثلاً ۔

آئینہ دیکھ اپنا سا منھ لے کے رہ گئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

          وہ صنم جو عشق کو جنون کہتا تھا جو حسن کے اثر کا منکر تھا اور ہر عاشق و معشوق سے رم کرتا تھا اپنے جمال کے ایک جلوہ سے کیا حیران ہے۔ یار کے آئینہ کے جانب بے پروا بشاش بڑھنے اپنی صورت سے دوچار ہونے اور ’’نرگس‘‘ کی طرح تیر عشق کا نشانہ ہو کر بے اختیار پیچھے ہٹنے کاکیا صادق عکس ہے۔

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیںگے کیا

لے تولوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر

ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا

          یار محو خواب ہے او ر عاشق پابوسی کے لیے جھکنا چاہتا ہے لیکن اس خیال سے کہ ممکن الامر اگر معشوق بیدار ہو گیا تو تمام عمر کے لئے اعتبار جاتا رہے گا۔ باز رہتا ہے عقل و شوق، اندیشہ اور آرزو کے کیا متضاد و تقاضات ہیں۔

          عبدالرحمن بجنوری پر اسلوب احمد انصاری، اشفاق احمد، آصف علی، عبدالوحید اعظمی، محمد معین انصاری، عطا محمد شعلہ، محمد عبدالغفار، خلیفہ حکیم، حسن عسکری پلکھنوی، امتیاز علی عرشی، جعفر حسن اثیم ، خورشیدالاسلام، عبدالرحمن، گیان چند جین، محمد سلیمانی، سید محمود، سید عبداللہ، کلیم الدین احمد اور احمد سہیل وغیرہ نے خاصا صراحت سے لکھا ہے۔

          ڈاکٹر بجنوری کے خطوط کے مجموعے ’’باقیات بجنوری‘‘ اور ’’ یادگار بجنوری‘‘ کے نام سے چھپے ہیں۔ جن سے اس دور پرکافی روشنی پڑتی ہے۔ ان دونوں مجموعوں میں مضامین بھی شامل ہیں۔ جو  ان کی جدت طرازی کا نقش ہیں۔

          ’’ محاسن کلام غالب ‘‘میں دریا کو کوزہ میں بندکردیا ہے اورآج بھی غالب پر اتنا کام ہونے کے باوجود اس پائے کا مقالہ نہیں لکھا جاسکا۔

کتابیات

  ۱۔ محاسن کلام غالب، عبدالرحمن بجنوری ، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، دوسرا ایڈیشن ۲۰۰۵

          ۲۔ عبدالرحمن بجنوری کا مقالہ محاسن کلام غالب (غالب تنقید کا ایک نیا دریچہ)۔ حقانی القاسمی (انٹرنیٹ سے ماخوذ)

          ۳۔ویکیپیڈیا (انٹرنیٹ سے ماخوذ)

          ۴۔ ریختہ (انٹرنیٹ سے ماخوذ)

Leave a Reply