You are currently viewing التجا

التجا

یاورؔ حبیب ڈار

بڈکوٹ ہندوارہ راجوار

التجا

پلا جام ایسا مجھے ساقیا

کہ ہو جاؤں میں سر بلند ساقیا

الٰہی مجھے مردِ مومن تو کر

میں تاریک دنیا ہوں روشن تو کر

نگہ مردِ مومن کی تو بخش دے

سرائے جزا جستجو بخش دے

مچلنے لگی جب یقیں کا ثبات

تو گردش میں آنے لگی کائنات

میں صحرا ہوں مجھ کو سمندر بنا

مجھے موجِ مضطر بنا کر اڑا

مجھے طشتِ وحدت میں یا رب اُتار

زمین و زماں سے تُو کر  آشکار

تُو رازِ مقامِ قدس کھول دے

جو مجھ میں عیاں وہ فرس کھول دے

مٹے زندگی جذب صادق ہو  یوں

حیاتِ خضر اور شوارق ہو یوں

عطا مجھ کو تیری ہو نورِ مُبین

وجودِ بہ نفسہ ہو زیرِ نگین

گرفتارِ ہستی ہے مکر و فریب

سرِ در گریباں ہے یاورؔ حبیب

 

Leave a Reply