

ناہیدطاہر
ریاض ،سعودی عرب
بعدِ قیامت (افسانہ)
بمباری کے قہر تلے وہ بوسیدہ مکان اب محض یادوں کا ملبہ بن چکا تھا۔ دیواروں سے رنگ و روغن یوں جھڑ چکا تھا جیسے وقت نے اس کی روح نوچ لی ہو۔ ایک کونے میں ماں کی پرانی چادر اب بھی رکھی تھی۔۔۔وہی چادر جو کبھی محبت کی پناہ تھی، مگر اب اس میں ماں کی خوشبو کے بجائے کافور اور مٹی کی ملی جلی بُو بس گئی تھی۔
ننھا یوسف لرزتے ہاتھوں سے چادر پر ہاتھ پھیرتا رہا، جیسے ماضی کے پیرہن میں چھپی زندگی کو چھو کر محسوس کر رہا ہو۔ پھر اس نے ایک گہری سانس لی، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پچکے ہوئے رخسار پر پھیل جانے سے روکا اور پژمردہ قدموں کے ساتھ دروازے کی شکستہ چوکھٹ پار کر گیا۔
باہر دھواں تھا، گرد تھی اور کہیں دور بچوں اور خواتین کے رونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
اس نے سنا تھا کہ چوراہے پر کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر اب اس کے اندر امید کی آخری چنگاری بن چکی تھی۔ وہ اپنے کانپتے، نڈھال جسم کو گھسیٹتا ہوا وہاں جا پہنچا۔ ہر قدم کے ساتھ ماں کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی:
“بیٹا… اللہ کرے کہیں سے کچھ کھانے کو مل جائے…”
چوراہے پر شور برپا تھا۔ کھانے کی چاہ میں لوگ ایک دوسرے پر یوں ٹوٹ پڑے تھے جیسے بھوک ان سے انسانیت نوچ رہی ہو۔
یوسف نے بھی ہاتھ بڑھایا۔ کاش وہ ہجوم کا سینہ چیرتا ہوا آگے تک پہنچ پاتا، مگر اس وقت تک دیگ خالی ہو چکی تھی۔
ایک عورت، جو کچھ دیر پہلے روٹیاں بانٹ رہی تھی، اب صرف ایک آخری روٹی کا ٹکڑا لیے کھڑی تھی۔ اس نے وہ ٹکڑا ایک پتھر پر رکھتے ہوئے بلند آواز میں کہا:
“یہ آخری روٹی ہے۔ جس کے مقدر میں ہے، وہی لے جائے!”
فوراً ہجوم روٹی کی طرف لپکا۔۔۔یوں جیسے جنگل میں بھوکے بھیڑیے شکار پر جھپٹتے ہیں۔
لاغر یوسف پیچھے کھڑا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ بہت کمزور ہے، وہاں تک نہیں پہنچ سکے گا۔ پھر بھی اس نے پوری قوت جمع کی، آنکھوں میں ایک ہی امید لیے آگے بڑھا… شاید آج کچھ کھانے کو مل جائے۔
افسوس، وہ روٹی کسی اور کے حصے میں چلی گئی۔
یوسف کے سامنے امید کا آخری دیا بھی بجھ گیا۔
“ماما!”
وہ بلک کر رو پڑا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
ماں کی گود، خون میں لت پت چھوٹی بہن کا جسم اور قطار در قطار مرحوم رشتے دار… سب آنکھوں کے سامنے لہرانے لگے۔
زمین گویا موت کی فصل کاٹتی محسوس ہوتی تھی۔
یوسف نے جلتی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔
دھندلے بادلوں کے پار اسے ماں نظر آئی۔۔۔مسکراتی ہوئی، جیسے بھوک اور جنگ دونوں سے آزاد ہو چکی ہو۔ اس کے ہاتھوں میں ایک روشن پلیٹ تھی، جس میں تازی روٹی کی خوشبو اور ذائقہ دار مچھلی کی بھاپ اٹھتی دکھائی دیتی تھی۔
یوسف کو ماں کی وہ بات یاد آئی جو وہ اکثر کہتی تھی:
“بیٹا… جب قیامت کے دن بندوں سے حساب کتاب مکمل ہوگا، تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنتیوں کے لیے کھانے میں سب سے پہلے مچھلی پیش کی جائے گی۔”
یوسف نے دھیرے سے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔
“ماما… ہماری قیامت تو یہیں پوری ہو گئی تھی… شاید اسی لیے اللہ نے ہم جنتیوں کے حصے کی مچھلی آج ہی بھیج دی ہے…”
اس کے ساتھ ہی یوسف کی سانس نے آخری ہچکی بھری اور اس کی آنکھوں میں جلتا ہوا چراغِ حیات۔۔۔جو اب چراغِ سحر کی لو میں بدل چکا تھا۔۔۔ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔