You are currently viewing بیسویں صدی کے شعرا میں ایک تابندہ نام شباہت مرشد آبادی

بیسویں صدی کے شعرا میں ایک تابندہ نام شباہت مرشد آبادی

ڈاکٹرعرشیہ اقبال

مرشدآباد، مغربی بنگال

بیسویں صدی کے شعرا میں ایک تابندہ نام شباہت مرشد آبادی

         شباہت علی میرزا شباہت مرشدآبادی دبستان مرشدآباد کے تابندہ اور ہر دل عزیز شاعر گزرے ہیں۔ان کی ادبی صلاحیت اور ادبی خدمات کا تفصیلی مطالعہ کرنے سے قبل میں مرشدآباد کی تاریخی و ادبی حیثیت پر ایک طاعرانہ نظر ڈالنے کی خواہشمند ہوں جو موصوف کی شاعرانہ عظمت کو سمجھنے میں کافی معاون ثابت ہوگی۔تاریخی شہر مرشدآباد کا جائیزہ لیا جائے تو سب سے پہلے ہماری نظر شہر کے محل وقوع پر پڑھتی ہے ۔

ہندوستان کے مشرق میں 23°43′ سے 24°50′ شمالی عرض البلد اور 87°49′ سے 88°46′ مشرقی طول البلد میں واقع شہر مرشد آباد ایک قدیم تاریخی شہر ہے جس کے سینے میں ہزاروں راز پوشیدہ ہیں۔ اس شہر کی چوحدی 5341 اسکوائر کیلو میٹر ہے اور اس شہر کی کُل آبادی 71,02,430 ہے۔ گھنی آبادی کے لحاظ سے یہ ہندوستان کا نواں ضلع ہے ، جو 1334 افراد فی کیلومیٹر پر مبنی ہے۔ مرشد آباد صرف ایک قدیم تاریخی شہر ہی نہیں بلکہ تہذیبی، ثقافتی، سیاسی، علمی اور ادبی گہوارہ بھی رہا ہے۔ اس شہر کو کسی زمانے میں ہندوستان کے دارالخلافہ کی حیثیت بھی حاصل تھی اور تجارتی اعتبار سے بھی اس شہر کی خاص اہمیت رہی ہے۔

         دریائے بھاگیرتی جو گنگا کی ایک شاخ ہے ، اس کے ایک کنارے مقصود آباد (مرشد آباد) اور دوسری جانب منصورد نگر بسا ہوا تھا۔ منصود نگر کی بھی تاریخ بڑی قدیم ہے۔ اس شہر کوعلی وردی خان نے سراج الدولہ یعنی اپنے نواسے کے لئے بسایا تھا اور یہاں ایک عالیشان محل بھی بنوایا تھا جس کا نام ’منصور گنج پیلس ‘ تھا۔ اس شہر اور محل کانام سراج الدولہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ سراج کا اصل نام ’میرزا محمد منصور علی خان‘ تھا۔ سراج الدولہ کی موت کے بعد آہستہ آہستہ یہ شہر تاریکیوں میں کہیں گم ہوگیا۔ وہیں مقصود آباد نے بڑی ترقی کی۔ مرشد قلی خان کا تعلق دکن کے ایک برہمن خاندان سے رہاہے لیکن پانچ برس کی عمر میں انہیں حاجی صفی اصفہانی جو بہت بڑے تاجر تھے، جنوبی ہند کے کسی بازار سے خرید کر اپنے ساتھ ایران کے شہر اصفہان لے گئے۔ حاجی اصفہانی کو کوئی اولادنہیں تھی ۔ انہوں نے اس یتیم بچے کو اپنی اولادکی طرح پالا اور اسے ایک خوبصورت نام عطا کیا ’محمد ہادی‘۔ یہی محمد ہادی جب ہندوستان مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دربار میں پہنچے تو بادشاہ وقت نے انہیں مرشد قلی خان کا تاریخی نام عطا کیا اور 1704ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کی اجازت سے مرشد قلی خان نے مقصود آباد کانام بدل کر مرشد آباد رکھ دیا۔

         مرشد قلی خان کی آمد سے مرشد آباد شہر کو خوب ترقی ملی۔وہ بڑے تعلیم یافتہ اور مذہبی شخص تھے۔ علم و ادب کا اچھا ذوق رکھتے تھے اور اہل علم کی قدردانی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ مرشد قلی خان نے اس شہر کے تہذیبی، ثقافتی، علمی اور تاریخی عوامل میں کلیدی رول ادا کیا ہے اور جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ بیرونی علاقوں سے شعرأ و ادبأ یہاں آنے لگے اور یہاں کی وادیٔ ادب کو سیراب کرتے رہے۔ صرف مرشد قلی خان ہی نہیںبلکہ جتنے بھی نواب ناظمِ بنگالہ ہوئے، سب نے اپنے اپنے دور حکومت میں بیرونی ریاست سے اہل علم کو یہاں آنے کی دعوت دی اور یہاں بسنے کے لئے مدعو کیا۔ مرشد قلی خان ۱۷۱۷ء سے ۱۷۲۷ء تک مرشد آباد کے ناظم رہے اور ان کے بعد ان کی نسل سے یہ سلسلۂ ناظمانِ بنگالہ چلتا رہا۔ مرشد قلی خان کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی، اس لئے ان کے بعد ان کے داماد شجاع الدین کو نواب ناظم بنگالہ مقرر کیا گیا۔ان کے بعد مرشد قلی خان کے نواسہ سرفراز خان کو تخت نشین کروایا گیا۔ ان کے بعد علی وردی خان بنگال کے ناظم بنے۔ پھر سراج الدولہ نواب ناظم بنگال، بہار، اُڑیسہ ہوئے۔ ا ن کے بعد میر جعفر علی خان کو نوابیت کا تاج ملا۔ ان کے بعد میر قاسم اور پھر میرجعفر کو تخت پر بٹھایا گیا۔ تاریخ نوابین میں یہ پہلی اور آخری مرتبہ ہوا کہ ایک ہی شخص کو دوبار نواب بنایا گیا۔ ان کے بعد نجم الدولہ اور پھر سیّد آصف الدولہ بنگال کے نواب قرار پائے۔ ان دونوں کی والدہ منی بیگم کی عظمت یہ رہی کہ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے انہیں’’Mother of East India Company‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ نجم الدولہ اور سیف الدولہ کے دور میں وبا پھیلی تھی اور سیف الدولہ اس کے شکار ہو کر وفات پاگئے۔ سید مبارک الدولہ جو سیّد سیف الدولہ کے بھائی تھے، از بطن ببو بیگم نواب ناظم بنگال، بہاڑ، اُڑیسہ بنے۔ ان کے بعد ان کے فرزند سید ببر علی نواب ہوئے ۔ ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے اعلیٰ جاہ اور ان کے بعد والا جاہ نواب ہوئے۔ والاجاہ کے فرزند سیّد مبارک علی خان عرف ہمایوں جاہ نواب ناظم بنگالہ ہوئے اور ان کے بعد آخری نواب ناظم بنگالہ سیّدمنصور علی خاں عرف فریدوں جاہ ہوئے اور یہیں پر نواب ناظمیت دور کا خاتمہ ہوا۔ ان کے بعد نواب بہادری کا دور شروع ہوتا ہے اور اس سلسلے میں پہلے نواب بہادر سیّد حسن علی میرزا ہوئے اور ان کے بعد ان کے فرزند سیّد واصف علی میرزا جو اس دور میں انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے، جو کنگ جارج پنجم کے ہم جماعت بھی تھے۔ ان کے بعد سیّد وارث علی میرزا نواب بہادر بنے اور ان کے بعد اب تک نواب بہادری کا خطاب کسی کو عطا نہیں ہوا ہے۔

         مرشد آباد میں ہر نواب ناظم بنگالہ کے عہد میں بیرونی علاقوں سے شعرأ و ادبأ یہاں تشریف لاتے رہے اور بہتوں نے تو مستقل طور پر قیام پذیری اختیار کی۔ ان کے قیام سے ایک نیا ادبی ماحول پیدا ہوا۔ ان کے کلام اور یہاں کے مقامی شعرا کے میل جول سے ایک نئی اور جاذب نظر ادبی تہذیب نے جنم لیا۔

         نواب مرشد قلی خان سے نواب میر قاسم تک مرشد آباد میں دہلی، عظیم آباد اور لکھنؤ سے کافی تعداد میں اہل علم اور اہل قلم حضرات یہاں تشریف لاتے رہے، جن میں قدرتؔ، درد مند فقیہؔ، امانیؔ، داناؔ، ندیمؔ، ولیؔ، فغانؔ، ہمدمؔ، نداؔ،ماشاءؔ اللہ خاں مصدرؔ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان شعرأ و ادبأ نے یہاں علم کے چراغ جلائے اور ایک نئی تہذیب کا سلسلہ جاری کیا۔ ان کے کلام کی روشنی سے مقامی لکھنے والوں کو جلا ملی اور وہ بڑی سرعت سے شعر و سخن کی جانب راغب ہوئے۔

         بقول ڈاکٹر رضا علی خان:

’’ نواب علی وردی خان کے بڑے داماد نوازش محمد خان کو بھی جو بنگال کے دیوان تھے، شعر و ادب کا شستہ مذاق تھا۔ انہوں نے مرزا ظہور علی خلیقؔ کو بادشاہ محمد شاہ کے عہد حکومت میں دہلی سے مرشدآباد بلا لیا تھا۔مرزا ظہور علی اس عہد کے مشہور مرثیہ گو اور مرثیہ خواں گذرے ہیں۔ نواب سراج الدولہ ، نواب میرجعفر اور نواب میر قاسم کے عہد حکومت میں مرشدآباد ثقافت و ادب کا مشہور مرکز بن گیا تھا۔‘‘

(مرشد آباد: اردو کا ایک قدیم مرکز، ڈاکٹرسیّد رضا علی خان، ۲۰۰۷ء، ص:۲۸-۲۹)

         مرشدآباد میں ادب و ثقافت کو فروغ دینے میں سیّد واصف علی میرزا کا بڑا ہاتھ رہا۔ وہ شہ اثنا عشری سے تعلق رکھتے تھے لیکن قومی یکجہتی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ناسازگار ماحول کو بھی سازگار بنائے رکھا۔ جہاں ملک بھر میں افراتفری کا بازار گرم تھا،و ہیں نواب واصف علی میرزا مرشدآباد میں امن و امان قائم کئے ہوئے تھے۔ بقول اصغر انیس:

’’نواب بہادرمرشد آباد واصف علی میرزا نے خود کو ہمیشہ متحرک رکھا۔ ان کی نوابی کا دور ہندوستان کی تحریک آزادی کا بڑا نازک اور سنگین دور تھا۔ مسلم لیگ اور ہندومہا سبھا کے قیام اور ان کے تنگ مذہبی نظریات کی تشہیر سے ملک کی سا  لمیت اور یکجہتی کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ ایسے بحرانی دور میںا پنے محدود وسائل کو بروئے کار لاکر نواب ایک طرف مسلمانوں کو مسلم لیگ کے خطرناک نظرئیے سے آگاہ کررہے تھے تو دوسری جانب ہندوئوں کو بھی ہندو مہا سبھا جیسے فرقہ پرست عناصر کے تخریب کارانہ افکار سے آشنا کر رہے تھے ۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ملک میں گنگاجمنی تہذیب کی دیرینہ روایت برقرار رہے۔ ان کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ضلع مرشد آباد مملکت ہند کا ایک اٹوٹ گوشہ ہے۔‘‘

(مغربی بنگال میں اردو کا ایک اہم مرکز: مرشدآباد، اصغر انیس، ۲۰۱۷ء، ص: ۲۵)

         مرشد آباد میں نوابین کا ایک سنہرا دور گزرا ہے۔ شہر میں ہر چیز کی فراوانی تھی ۔ دولت کی کمی نہ تھی۔ ادبی سطح پر بھی ایک صحت مند اور خوشگوار ماحول چھایا تھا۔ آئے دن شعر وسخن کی محفلیں آراستہ ہوا کرتی تھیں اور مقامی اور غیر مقامی شعرا و ادبا و روئوسا ان میں شرکت فرما تے تھے۔ اس زمانے میں جتنے بھی نواب ناظم بنگالہ ہوئے، سب کے سب دربار کا ایک خاص درباری شاعر ہوا کرتا تھا جو اپنے بادشاہ کی طبیعت کے مطابق کلام تحریر کرتا اور ان کی فرمائش پر شعر و شاعری کی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ ایک طویل عرصے تک مرشدآباد میں خوشگوار ادبی ماحول برقرار رہا لیکن مرشدآباد میں ایساوقت بھی آیا،جب شہر خالی ہونے لگا۔ لوگ یہاں سے اپنی جان بچا کر دوسرے شہروں کا رُخ کرنے لگے۔ نواب نجم الدولہ اور نواب سیف الدولہ کے دور حکومت میں مرشد آباد میں وباپھیلی تھی جس کے سبب شہر بالکل خالی سا ہوگیا تھا۔ اس دور کے گزر جانے کے عرصہ بعد شہر پھر سے آباد ہونا شروع ہوا اور نوابین کا دور حکومت جاری رہا لیکن جب ملک تقسیم ہوا تو ایک بار پھر گرم ہواپھیلی۔ لوگ افرا تفری کے عالم میں اِدھر اُدھر پناہ لینے لگے۔ کچھ ہندوستان میں رہے اور کچھ نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ ان عوام و خواص میں ادبا، شعرا اور روئوسا بھی تھے۔ ملک کی تقسیم نے مرشد آباد کے ادبی ماحول کو بھی مکدر بناڈالا۔ اچھے اور اعلیٰ پائے کے شعرا کرام بھی یہاں سے کوچ کر گئے اور پاکستان کو اپنا مسکن بنایا جس سے ادبی زمین بنجر سی ہوگئی اور دبستان مرشد آباد کا بھاری نقصان ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ ٹھہرا کہ اب شعرو شاعری کی صورت میں بڑی تبدیلی آئی ۔ موضوعات میں اضافہ ہوا۔ نوابین کا دور جاتا رہا۔ دولت کی فراوانی بھی اب پہلے جیسی نہ رہی۔ لکھنے والوں کے مزاج میں ماحول کا بڑا گہرا اثر پیدا ہوا۔ شعر و شاعری کے موضوعات میں بڑی تبدیلی آئی۔اس سے قبل  شاعری صرف بادشاہوںا ور شہنشاہوں کی خوشنودی کے لئے کی جاتی تھی لیکن اب اس کے اسالیب اور موضوعات بالکل بدل چکے تھے۔ شہر کا اُجڑنا، ادبی ماحول کا بکھر جانا، شعرا و ادبا کا کوچ کرنا، بے روزگاری کا مسئلہ، ماحول کی کشیدگی، دل آزاری اور حرماں نصیبی شعرمیں جگہ پانے لگی۔ اگر یہ کہاجائے کہ لوگ حدیثِ دل کی شاعری کررہے تھے توشاید بے جا نہ ہوگا۔

         ایک طویل عرصے تک ادبی ماحول بالکل ماند سا پڑگیا لیکن اس سکوت میں بھی لوگ شاعری کررہے تھے۔ اپنے ماحول کی عکاسی کررہے تھے۔ان ہی میں کچھ پُرانے اور کچھ نئے لکھنے والوں نے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ادب کو پھر سے ایک سازگار ماحول دینے کا خواب دیکھا۔ مرشد آباد کے ادبی ماحول میں جو خاموشی چھا گئی تھی، اسے گویائی بخشنے میں جن لوگوں کا احسان رہا، ان میں ایک روشن و منور نام سیّد شباہت علی میرزا المعروف بہ شباہت مرشدآبادی کاآتا ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصے تک اردو شاعری کی شانہ کشی کی۔ اپنے کلامِ بلاغت سے دبستان مرشدآباد کو پھرسے مالا مال کیا ہے۔ شباہت مرشد آبادی کا ذکر پہلی بار ڈاکٹر سیّد رضا علی خان کی کتاب ’’مرشد آباد : اردو کا ایک قدیم مرکز‘‘ میں کیا  لیکن ڈاکٹر موصوف نے اجمالی طور پر ان کی تعریف و توصیف کی ہے اور شباہت صاحب کے چند ہی کلام اپنی کتاب میںنقل کئے ہیںجبکہ حق تو یہ ہے کہ شباہت علی میرزا کی شخصیت اور کارنامے کو ہم یونہی سرسری طور پر بیان کرکے گزر نہیں سکتے بلکہ اس قادرالکلام شاعر کیشخصیت اور ادبی خدمات پر ایک مفصل محاکمہ لازمی ہے۔

         شباہت علی میرزا شعر و سخن کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت تو ایسی ہمہ گیر ہے کہ ایک مکمل تصنیف حیات و خدمات پر تحریر کی جاسکتی ہے۔

         شباہت صاحب ان شاعروں میں تھے، جنہوں نے اپنی شخصیت کو اُجالنے کے لئے ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ خود کو پروموٹ کرنے کے لئے کسی بیساکھی کا سہارا ہی لیا بلکہ وہ کسی صلہ و ستائش کی تمنا کے بغیر کام کرتے رہے۔ ان کے کلام کی شہرت دور دور تک تھی بالخصوص مرشد آباد کے  لوگ ہر محفل و مجلس میں ان کا کلام پڑھتے اور سماعت فرماتے لیکن لوگ ان کی شخصیت سے ناآشنا تھے۔اس کتاب میں موصوف کی شخصیت کو سمیٹنے کی میں نے ایک مختصر کوشش کی ہے۔ اُمید کرتی ہوں کہ موصوف کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی عظمت سے بھی لوگ آشنا ہوجائیں گے۔ ان کے اشعار کی طرح ان کی شخصیت بھی طرح دارہے۔ میں نے لفظ ’ہے ‘ کا استعمال کیا ہے ۔ چونکہ شاعر کبھی مرتانہیں ، وہ اپنے کلام میں زندہ ہوتا ہے اور بیشک موصوف بھی زندہ ہیں۔ اپنے کلام میں، اپنے اشعار میں اور بالخصوص مرشد آباد کے اردو ادب میں۔ موصوف کے تعارف سے قبل ان کی شاعری کا مختصر جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ ان کی شخصیت اور مزاج کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ موصوف نے بیشتر اصناف سخن میں طبع آزمائی کی اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ موصوف نے ۱۲۲؍ سے زائد غزلیں تحریر کی ہیں اور ہر غزل میں اشعار کی تعداد کم از کم ۱۰؍ اور زیادہ سے زیادہ ۶۹-۷۰؍ ہے۔ قصائد کی کل تعداد ۶۰، نظمیں ۵۰، رباعیات ۴۰، قطعات ۴۵ ، گیت ۳۵ ، سہرا ۲۶، سلام ۱۰-۱۲، نوحہ ۲۰- ۲۵ ، ماتم ۱۱-۱۲ ۔

         مرشد آباد کی جدید شاعری کے اُفق پر ایک روشن و تابندہ نام سیّد شباہت علی میرزا کا نظر آتا ہے۔ دبستان مرشد آباد کے بڑے اہم اور اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے۔ ا ن کا پورا نام سیّد شباہت علی میرزا عرف ’شبو‘ تھا اور تخلص شباہتؔ رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش ۵؍ ستمبر ۱۹۲۸ء مطابق ۱۹؍ ربیع الاول ۱۳۴۷ھ بمقام موتی جھیل (مرشد آباد) میں ہوئی۔ پیدائش کے وقت ان کا جسم لمبائی کے اعتبار سے زیادہ تھا۔ اس لئے انہیں ’سوا ہاتھ‘ کے نام سے پکارا جانے لگالیکن قرآن پاک سے جو نام برآمد ہوا، وہ نام ’سیّد جعفر علی‘ تھا لیکن ایسے کون سے حالات ٹھہرے جس کے تحت ان کانام شباہت قرار پایا۔ شباہت علی میرزا کو لوگ ’شبو ‘عرفیت سے ہی پہچانتے تھے ۔ گھر اورپڑوس میں ہی نہیں بلکہ پورے شہر میں آپ کو لوگ شبو کے نام سے جانتے تھے۔

         شباہت صاحب بچپن ہی سے بڑے دین دار اور خدا پرست تھے۔ ان کے بچپن کے دو واقعات ایسے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں۔ جب شباہت علی میرزا پیدا ہوئے تو ان کے پیٹ پر پانچ انگلیوں کے نشان موجود تھے جو قدرت نے بطور تحفہ انہیں عطا کیا تھا۔ بلوغت کے بعد آہستہ آہستہ یہ نشان مٹ گیا۔ شیعہ اثنا عشری میں اس نشان کی بڑی قدرو منزلت ہے۔ یہ نشان پنجتن پاک سے مراد ہے اور اس معصوم بچے کا اس نشان کے ساتھ تولد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر ہمیشہ پنجتن کا سایہ بنا رہے اور خدا پرستی اس کے اندر ہمیشہ قائم و دائم رہے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ شباہت صاحب بڑے متقی پرہیزگار قسم کے انسان تھے۔

         دوسرا واقعہ کچھ یوں پیش آیا: جب وہ عہد طفلی میں گھٹنوں کے بل چلتے تھے تو ایک دن اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھ کر پیالے میں دودھ اور موڑھی اپنی والدہ کے ہاتھو ں سے کھا رہے تھے۔ کسی ضرورت سے ان کی والدہ ماجدہ گھر کے اندر کمرے میں گئیں اور جب آنگن میں واپس آئیں تو چیخنے لگیں اور بار بار کہنے لگیں: ’’ہائے میرا بچہ! ، ہائے میرا بچہ!‘‘ گھر کے سارے افراد اور نوکر چاکر سب دوڑتے چلے آئے لیکن اتفاق سے ان کے نانا گھر آئے ہوئے تھے اور سب گھر والوں کے پہنچنے سے پہلے وہ آن پہنچے اور انہوں نے سب گھر والوں کو اشارے سے خامو ش رہنے کو کہا۔ ماجرہ یہ تھا کہ شباہت علی میرزا نے ایک خطرناک کھریس ، گومناسانپ کی گردن پکڑ لی اور اسے زبردستی دودھ موڑھی کے پیالے میں ڈبو کر گویا اس کو کھلانے کی کوشش کررہے تھے۔ سانپ کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ چھونے یا پکڑنے سے پھن مارتا ہے لیکن خدا کی قدرت تھی کہ سانپ نے انہیں ایک کھروچ تک نہ پہنچایا۔ گویا پہلا واقعہ دوسرے کی تعبیر ہے جس کے جسم پر خود پنجتن کا نشان موجود تھا، بھلا کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ ان کے نانا نے ایک شخص کو ایک لال پھول لانے کا حکم دیا۔چنانچہجب پھول آیا تو نانا نے شباہت علی میرزا کو وہ لال پھول دکھا کر اپنی جانب متوجہ کیا اور بچے کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ نئی چیز کو پاکر پُرانی کو بھول جاتا ہے اور وہی ہوا بھی۔انہوں نے سانپ کی گردن چھوڑ دی اور لال پھول لینے کے لئے گھٹنوں پر چل کر نانا کے پاس آپہنچے، سانپ خود بخود ایک طرف کو نکل گیا۔

         شباہت علی میرزا کا تعلق نواب خاندان سے تھا۔ ان کے والد کانام سیّد صادق علی میرزا عرف مکّھو نواب تھا۔ ان کے دادا سیّد حسین علی میرزا جو شاعری کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ سیّد حسن علی میرزا کے والد سیّد حسین علی میرزا عرف والا قدر عرف منجھلے حضور بڑے بلند پایہ کے شاعر گزرے ہیں۔ وہصاحب دیوان شاعر تھے ۔ ان کا دیوان آج بھی مرشد آباد میں شباہت صاحب کی رہائش گاہ میں موجود ہے۔ سیّد حسین علی میرزا ’سلیمان‘ تخلص رکھتے تھے اور سلمان مرشدآبادی کے نام سے مشہور تھے۔

         شباہت علی میرزا کا خاندانی سلسلۂ حضرت سیّد حسین نجفی جو حضرت امام حسین کے صاحبزادے حسن مثنّی اور حضرت امام حسین کی صاحبزادی فاطمہ صغریٰ کی کتخدائی کے سلسلہ اولاد میں ۲۸؍ ویںپشت پر تھے، سیّد حسین نجفی، حضرت علی ؓ کے روضہ کے خدام اعلیٰ نجف اور کلید بردار تھے جو شہنشاہ اورنگ زیب کی دعوت پر ہندوستان تشریف لائے تھے اور ۱۰۸۷ھ بمطابق ۱۶۷۷ء شہنشاہ کی طرف سے سلطنت مغلیہ کے قاضی القضاۃ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ ان کے صاحب زادے احمد نجفی کی شادی اورنگ زیب کے بڑے بھائی داراشکوہ کی صاحبزادی  نجم النساء سے ہوئی۔ ان سے سیّد جعفر علی (میر جعفر علی خان) تو لد ہوئے۔ انہیں سے بنگال میں سرفراز خان کے علی وردی خان کے ہاتھوں قتل کے بعد ناظمی دور شروع ہوا۔پہلی بار خاندان مغلیہ کا صوبہ دار بنگال، بہار، اُڑیسہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت مغلیہ سلطنت پر عالمگیر شاہ ثانی تخت نشیں تھے اور انہوں نے یہ عہدہ انہیں تفویض کیا تھا۔ آپ امام حسن اور حسین کی ۲۹؍ ویں پشت تھے۔ سیّد حسین نجفی کی نسل سے بنگال میں یکے بعد دیگرے نو صوبہ دار بنے۔ آخری ناظم بنگالہ سیّد منصور علی خاں فریدوں جاہ تھے۔ ان کے بعد نواب بہادری کا دور شروع ہوگیا۔ منصور علی کے بڑے صاحبزادے سیّد حسن علی میرزا عرف اعلیٰ جاہ پہلے نواب بہادر ہوئے۔

         شباہت علی میرزا کا تعلق نواب خاندان سے تھا، اس لئے ان کی پرورش بھی بڑے ناز و نعم سے ہوئی۔ ان کی پرورش ان کی دادی نے شہزادوں کی طرح کی۔ تعلیم کا سلسلہ گھر سے شروع ہوا۔بچپن سے ہی مذہبی تعلیم پر زیادہ زور دیا گیا اور کم عمری میں شباہت علی میرزا مذہبی تعلیم سے آراستہ ہوگئے۔ اپنے بزرگوں سے اخلاقی و تہذیبی تعلیم سیکھی۔ گھر کا ماحول بڑا سخت تھا۔ حکم تھا کہ صبح سویرے سبھوں کو یہاں تک کہ نوکروں کو بھی سلام کرنے میں پہل برتی جائے۔ جب غالباً چار پانچ برس کے ہوئے تو مہدی حسین کو اتالیق مقرر کیا گیا۔ وہ اردو اور علم ریاضی کی تعلیم دینے گھر پر ہی آیا کرتے تھے۔ انگریزی کی پڑھائی کا وقت شام کو مقرر تھا اور اس کے لئے بھی ایک خصوصی ٹیچر (حضور میرزا) کو رکھا گیا تھا جو خاص انگریزی کی تعلیم کے لئے آیا کرتے تھے۔ اسکول کی تمام کتابیں جو چھٹی جماعت تک کی تھیں، سب چھ برسوں میں مکمل کروا دی گئیں اور نواب بہادرس انسٹی ٹیوشن میں ۱۹۴۰ء یا ۱۹۴۱ء میں درجہ ششم میں داخل کروایا گیا۔ان کی پڑھائی بڑے اچھے ڈھنگ سے ہونے لگی۔ ۱۹۴۴ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہیں انگریزی اور علم ریاضی سے بڑی دلچسپی تھی اور آئندہ بھی وہ اس پر مزید تعلیم پانا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے سائنس اسٹریم کو چنا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد برہم پور کے کرشنا ناتھ کالج سے آئی-ایس- سی کی ڈگری لی۔  شباہت علی میرزا کو علم کی تشنگی اس قدر تھی کہ اتنی ساری اسناد حاصل کرنے کے باوجود ان کی علمی پیاس نہ بجھی اور انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم شروع کردی۔ ۱۹۷۱ء میں چنڈی گڑھ سے پریمیر ہومیو میڈیکل سے  D.Sc.H,اور M.Sc.H. کی ڈگری ۱۹۷۳ء میں حاصل کی۔

         تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ کتب بینی اور کتب خانہ میں کتابیں یکجا کرنے کا بڑا شوق تھا۔ آج بھی ان کے گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری موجود ہے جس میں قدیم اور ضخیم کلیات اور قلمی نسخے موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ علم نباتات پر بہت ساری کتابیںہیں۔

         علم نباتات میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ وہ پیڑ پودوں کے معاملے میں اتنے دانا تھے کہ پتوں کو دیکھ کر درخت کا پتہ بتا دیا کرتے تھے اور وہ درخت کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اس کا سائنٹفک نام کیا ہے، سب کی جانکاری ان کو تھی۔ان کی رہائش گاہ میں آج بھی کئی انمول درخت اور پودے ہیں ۔ ایک بیر کا ایک ایسا انوکھا درخت ہے جس کی جڑ تو ایک ہے مگر اس میں چار الگ الگ قسم کے بیر پھلتے ہیں۔موصوف کو یہ ہنر آتا تھا کہ کس طرح درخت کی ایک شاخ کو تراش کر دوسرے کی شاخ میں فٹ کرنا ہے اور کیسے اس کی نشوونما کی جائے گی۔

         ان کی رہائش گاہ پرنسیز کوارٹر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ پیڑ پودے ان کی جان تھے جو آج ان کے گھر کی شان ہیں۔ چند برس قبل ان کی رہائش گاہ پر ایک فلم کی شوٹنگ بھی ہوئی تھی۔ فلم کا نام تھا ’لے گئے لادیں‘ ان کی ذہانت اور دانش مندی کا ایک واقعہ یادآتا ہے۔ ایک دفعہ برہم پور میں آم کامیلہ لگا ہوا تھا۔ سب آم کے تاجر اپنے اپنے درختوں کے آم لے کر آئے تھے۔ پتوںکے ساتھ آم کی نمائش ہورہی تھی۔ اتفاقاً موصوف کا بھی وہاں گزر ہوا۔ بہت سے غیر ملکی سیاح بھی اس میلے کی سیر کو آئے تھے اور بیرونی ریاست کے لوگ بھی اپنے پھل لے کر اس نمائش میں موجود تھے۔ تب ہی اچانک موصوف کی نظر ایک شخص کے آم کی تشت پر پڑی اور ان کے قدم وہیں جم گئے۔ ان کی حیرت انگیز نگاہوں نے سامنے کھڑے شخص کو روبرو دیکھا اور بے اختیار کہہ اُٹھے: ’’جناب! یہ پتے اس آم کے ہرگز نہیں ہیں یا پھر یہ آم اس پتوں والے درخت کا بالکل بھی نہیں ہوسکتا۔ ‘‘یہ سن کر وہ شخص جس کی پلیٹ پر موصوف کی نظر تھی، حواس باختہ ہوگیا اور وہ شخص گھبراہٹ میں ان سے تکرار کرنے لگا۔ یہ آواز جب دوسروں کے کانوں تک پہنچی تو سبھی ایک بڑا غول بنا کر کھڑے ہوگئے اور دریافت کرنے لگے کہ ماجرا کیا ہے ۔ ماہرین باغات جو بیرونی شہروں سے آئے تھے، وہ بھی یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔ جب واقعہ معلوم ہوا تو ایک ماہر باغات نے ان سے کہا کہ: ’’آپ کی ذہانت اور دانش مندی کا جواب نہیں۔ آپ نے بالکل درست پرکھ کی ہے۔ ہمارے مطابق بھی یہ آم ان پتوں سے ہرگز تعلق نہیں رکھتا اور اس دلیل کے بعد لوگوں نے ان کی دانائی اور پرکھ پر واہ واہ کی ۔ ایک ماہر جو حیدر آباد سے تشریف لائے تھے،ا نہوں نے موصوف کو اپنے شہر میں آم کی جانچ و پرکھ کے لئے ملازمت کی درخواست کی لیکن شباہت صاحب نے اپنی جائے پیدائش کو نہ چھوڑنے کامصمم فیصلہ کر رکھا تھا۔موصوف نے مرشد آباد کو فوقیت دی اور ملازمت کے خط کو اپنی فائل میں ہمیشہ کے لئے دبا دیا، جو یادگار ہے۔ راقمہ الحروف نے وہ خط اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پڑھا ہے۔

         شباہت صاحب نے مرشد آباد میں کوئی خاص ملازمت نہیں کی تھی۔ خاندان نظامت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے خطیر املاک کے مالک تھے اور ان ہی سے ان کا اور ان کے خاندان کی کفالت ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ رئیس باغ کی دیکھ بھال کرناان کی ذمہ داری تھی۔ گھر میں دو وقت مقررتھا۔ ایک صبح اور دوسرے شام کو کثیر تعداد میں بچے قرآن مجید کی تعلیم کے لئے آیا کرتے تھے ۔ صرف بچے ہی نہیں بلکہ بڑی عمر کی عورتیں اور مرد بھی ان سے قرآن سیکھنے آیا کرتے تھے۔موصوف کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے آج تک اس کام کے لئے کوئی اُجرت نہیںلی بلکہ مفت میں قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے رہے اور علم و ہنر کی باتیں سکھاتے رہے۔ مذہبی مسئلہ و مسائل بھی لوگ ان سے پوچھنے آیا کرتے تھے۔ بچوں کو تعویذ اور گنڈے نقش کرکے بھی دیا کرتے تھے۔ موصوف کے تلامذہ کا ایک بڑا حلقہ آج بھی مرشدآباد میں موجود ہے۔ ان کی نگاہ میں کوئی چھوٹا بڑا، اعلیٰ ادنیٰ نہیں تھا۔ سب کو ایک نگاہ سے دیکھنا پسند کرتے تھے۔ مذہبی ہونے کے باوجود غیر مسلم لوگوں کو تعویذ وگنڈے بچوں کے لئے اور دعائوں سے سحر کو دور کرنے کا عمل بھی جانتے تھے۔ یہ تمام کارخیر میں شمار تھا جو ان کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔

         موصوف کی جملہ خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی اہم تھی کہ وہ گھریلو نسخے خوب جانتے تھے۔ کس پھل پھول یا بیج سے یا علاج ہوتا ہے، بخوبی واقف تھے۔ جب کبھی کوئی شخص کسی بیماری کا ذکر چھیڑ دیتا تو ایسے گھریلو نسخوں سے علاج بتائے بغیر جانے نہ دیتے تھے۔ اپنے بچوں اور زوجہ کو بھی گھریلو نسخوں کا عمل دے کر گئے ہیں جو آج بھی وہ استعمال کرتے ہیں۔

         ازدواجی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا نکاح کم عمری میں ہوگیا تھا۔ان کی شادی سیّدہ چمن آرا بیگم دختر نواب سیّد پیکر حسین ابن سیّد مظفر علی خان (راجا بازار) سے ہوئی تھی۔ ازدواجی زندگی بڑی خوش حال رہی۔ کبھی کسی چیز کی کمی نظر نہیں آئی۔ وہ اپنی شریک حیات سے بیحد محبت کرتے تھے۔ ان سے اپنی زندگی اور شاعری میں حوصلہ پاتے تھے۔ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ان کی زوجہ نے ان کا خوب ساتھ نبھایا ۔ان کی زوجہ سے جب میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے اظہار غم کیا اور کہا کہ اپنے شریک حیات کو کھوکر وہ اب تنہا ہوچکی ہیں ۔ بس ان کی یادیں ہی ان کا سہارا ہیں۔ آج بھی اپنے شوہر کے قبر کے سکون کی دعائیں مانگا کرتی ہیں اور ان سے جلداز جلد ملنے کی تمنا رکھتی ہیں۔ موصوف انہیں ’روحی‘ کہتے تھے۔ زندگی میں نوک جھونک کہاں نہیں ہوتی لیکن اس نوک جھونک کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ محبت میں اور زیادہ پختگی اور مضبوطی آجاتی ہے۔ دل کا غبار نکل جانے کے بعد محبت کے دیے جل اُٹھتے ہیں، جن کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی۔ موصوف کے کلام میں بار بار روحی کا لفظ آیا جو ان کی بے پناہ محبت کا اشاریہ ہے۔

         شباہت علی میرزا کی زندگی جن نشیب و فراز سے گزری، ان کا شکوہ کبھی ان کے لب پر نہ آیا۔ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ یہ تو زندگی کا حصہ ہے۔ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ موصوف نے ہر حال میں خدا کاشکر ادا کیا اوراس کی بندگی میں مصروف رہے۔ قرآن کی تلاوت تو اس قدر خوب صورت لحن میں کرتے تھے کہ ان کی آواز آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونجتی ہے۔ ہر سال روز عاشورہ شام غریباں میں سوزوسلام صرف ان کی آواز میں ہوتی تھی۔ جب تک باحیات رہے ، اس کام کے لئے وقف تھے۔

         موصوف کی کل چار اولادیں ہوئیں، جن میں تین پسر اور ایک دختر، جن کے نام ان کے خاندانی شجرہ میں درج ہیں۔ ان کے سب سے بڑے صاحب زادے سید سلامت علی میرزا کلکتہ کے روزنامہ ’اخبار مشرق‘ میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے فائز ہیں۔ اس کے علاوہ سیّد شرافت علی مرزا اورسیّد سخاوت علی میرزا کا اپنا اپنا گیسٹ ہائوس ہے اور یہی ان کاذریعۂ معاش بھی ہے۔ان کی دختر سیّدہ تارت بیگم سرکاری عہدے پر فائزہیں۔ مرشد آباد اسٹیٹ میں ملازمت کرتی ہیں۔موصوف کے تینوں فرزندوں کی شادی ہوچکی ہے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی میں شاداں و فرحاں ہیں۔ یہ تمام لوگ آج بھی ایک ہی رہائش گاہ میں مل جل کر زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ میل ملاپ، شفقت ومحبت موصوف کی تربیت کی دین ہے۔

         موصوف کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگاکہ شاعری ان کو ورثے میں ملی تھی۔ کم سنی میں چھپ چھپ کر شاعری کیا کرتے تھے لیکن وہ شروع کے تمام کلام انہوں نے ضائع کردئیے۔ باضابطہ شاعری کا آغاز قصیدوں سے کیا۔ ۱۹۴۶ء کے آس پاس جو کلام باقاعدگی سے تحریر کئے، وہ ان کی ڈائری میں محفوظ ہیں اور باضابطہ طور پر استاد سے اصلاح بھی لینے لگے۔ اس زمانے میں مشہور و معروف اور مستند استاد مولانا سیّد سبط محمد ہادی المعروف بہ مولانا کلن صاحب قبلہ مرشدا ٓباد میں مقیم تھے۔ بڑے اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے۔ موصوف نے ان کی شاگردی اختیار کی اور اپنے کلام پر اصلاح لیتے رہے۔

         شباہت علی میرزا کے دادا اور پَردادا بڑے اعلیٰ درجہ کے شاعر گزرے ہیں۔ ان کے پَر دادا سیّد سلمان مرشد آبادی عرف منجھلے حضور صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کا دیوان موصوف کی رہائش گاہ میں محفوظ ہے۔موصوف کو شعر و سخن کا شوق بچپن سے تھا۔ باقاعدہ اپنے والد کے ساتھ شعر وشاعری کی محفلوں میں شرکت کرتے۔ جب بڑے ہوئے تو مشاعروں میں کثرت سے شرکت کرنے لگے۔ اس معاملے میں ان کا نام سرفہرست آتا تھا۔ کوئی بھی محفل ان سے خالی نہ تھی اور ہر مشاعرے میں اپنے کلام سے لوگوں کا دل موہ لیا کرتے تھے۔ان کے کلام میں رنگینی بھی ہے اور ظرافت بھی۔ شوخی و حقیقی درد آمیزی بھی، کشاکشِ حیات اور محبوب حقیقی کی تعریف اور عشق ومحبت کی داستان بھی موجود ہے۔ ان کا بیشتر کلام ان کی آپ بیتی پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ قصائد و مناقب محبوب حقیقی اور امام کی شان میں لکھے گئے ہیں۔موصوف نے شعر و شاعری کا آغاز قصیدوں ، منقبت اور تہنیت نامہ سے کیا۔ ۱۹۴۶ء سے ان کی شاعری کا دور شروع ہوتا ہے ۔ جب تک مولانا کلن صاحب قبلہ باحیات رہے، موصوف صرف صوفیانہ اور مذہبی کلام ہی کہتے رہے۔ حمد و ثنا اور عشق حقیقی کے محور پر ان کی شاعری رقص کرتی رہی لیکن جب مولانا کلن صاحب قبلہ اس دار فانی سے رحلت کرگئے تو موصوف نے غزل کی جانب رجوع کیا اور اس قدر بلیغ غزلیں کہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ موصوف خالص غزل کے ہی شاعر تھے۔ان کی غزلوں میں کم از کم دس اور زیادہ سے زیادہ ۵۹؍ اشعار موجود ہیں۔ غزل کے علاوہ نظمیں، رباعیات، قطعات، گیت اور نوحہ و ماتم بھی لکھے۔ موصوف نے غزلیں اور نظمیں ۱۹۵۰ء سے لکھنا شروع کیں اور غالباً ۱۹۷۱ء یا ۱۹۷۲ء تک کثرت سے غزلیں، نظمیں، گیت، قطعات اور رباعیات لکھتے رہے۔ اس کے بعد کا زمانہ ان کی زندگی میں ایک الگ رنگ و روپ میں پیش آیا۔ انہوں نے ۱۹۷۵ء کے بعد غزلیں کہنا بالکل موقوف کردیا تھا اور اپنی طبیعت میں بزرگی کا رنگ اختیار کرلیا ۔ اس دور میں موصوف صرف نوحہ، ماتم،سلام، سوز، سہرا وغیرہ پر ہی طبع آزمائی کرتے رہے۔ واقعات کربلا پر انہوں نے لاتعداد کلام تصنیف کئے ہیں جو آج بھی محرم کے ایام میں امام باڑوں کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ لوگ ان کے نوحے اور سلام کو بڑی رقت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ موصوف کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے کلام کے لئے ترنم اور لے خود تیار کرتے تھے۔ کون سا کلام کس انداز سے ادا ہونا چاہیے اور اس کی دھن کیا ہوگی، وہ خود اس کا انتخاب کرتے تھے۔ اگر کبھی کوئی سوز خواں یا نوحہ خواں ان سے ان کا کلام طلب کرکے پڑھنے کے لئے جاتا تو اس کو تنبیہ کردیتے اور اپنی دھن سے آگاہ کردیتے کہ یہ اسی لَے میں پڑھنا ہوگا لیکن اگر وہ ان کی دھن سے باہر جاتا یا غلطی سے کسی اور لَے میں پڑھنے لگتا تو بڑے برہم ہوتے اور کہتے کہ آئندہ اس کو پڑھنے کے لئے کلام نہیں دیاجائے گا۔

         شباہت صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے سماج کے تقریباً ہر پہلو کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔ان کا کلام زندگی کا آئینہ دار ہے اور ان کی آپ بیتی بھی۔موصوف کی طبیعت میں یہ خوبی بھی شامل تھی کہ اگران کے گردو پیش میں کوئی حادثہ یا واقعہ پیش آتا تو اس سے اپنے آپ کو دور نہیں رکھ پاتے اور بے اختیار قلم اُٹھا کر پورے چشم دید گواہ بن کر اپنی شاعری میں ادا کردیتے۔ موصوف نے ایک ایسی نظم تحریر کی ہے جو ایک معصوم جوان لڑکی کی موت پر مبنی ہے جس سے موصوف حددرجہ متاثر تھے ۔ چند دنوں کے بعد اس لڑکی کی شادی ہونے والی تھی مگر خدا کو یہ منظور نہ تھا اور اچانک اس کی موت واقع ہوگئی اور شباہت صاحب کو اس جوان بچی کی موت کا بڑا گہرا صدمہ ہوا اور انہوں نے ایک پُرتاثیر نظم لکھ ڈالی۔ اس نظم کا ایک بند یوں ہے:

اکلوتی وہ بیٹی تھی پڑوسن کی تمناؔ

وہ حسن میں عفت میں شرافت میں تھی یکتا

محتاجوں کی خدمت میں بڑا نام تھا اس کا

ہر ادنیٰ و اعلیٰ کے دلوں کی تھی دلاسا

شادی کے لئے اس کی تھی تیاریاں کامل

لیکن نہ خبر تھی کہ اجل بھی ہے مقابل

         اس کے علاوہ ایک دفعہ موصوف کا پاکستان جانے کا ارادہ ہوا جو کسی وجہ سے ملتوی ہوگیا۔ اس موضوع پر بھی ان کی ایک نظم موجود ہے جو ۱۹۵۰ء میں لکھی گئی۔ اس نظم کے چند اشعار یوں ہیں:

اے شہر مرشد آباد اب لو سلام میرا

میں تم سے چھوٹ کر اب مجبور جا رہا ہوں

اے جان قلب ناشاد اب لو سلام میرا

پیارے وطن میں تم سے اب دور جا رہا ہوں

         موصوف کے اشعار سے اس بات کی بھی آشنائی ہوتی ہے کہ وہ اپنی جائے پیدائش مرشد آباد سے بے حد محبت کرتے تھے اور اپنے ملک عزیز سے بھی۔وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک محب وطن شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملک ہندوستان کی تعریف میں ایک خوبصورت نظم تحریر کی ہے جس کو پڑھ کر اپنے وطن سے والہانہ لگائو صاف ظاہر ہوتا ہے۔ شعر ملاحظہ ہوں:

وہی ہندوستاں ہے دیس پیارا

وہی ہاں ہاں وہی بھارت ہمارا

وہی جو روح و جان ایشیا ہے

وہی جو گلستان ایسا ہے

         صرف یہی نہیں بلکہ تقسیم ہندو پاک پر بھی ان کی نظم موجود ہے۔ ملک تقسیم ہونے کا انہیں غم تھا اور اپنے دل پر ہونے والے درد کا اظہار انہوں نے صفحۂ قرطاس پر بکھیر دیا۔ علاوہ ازیں رمضان، عید، برسات، مرشد آباد: ایک شہر، نواب واصف علی میرزا، رابندر ناتھ ٹیگور، مولانا آقا آیت اللہ روح اللہ مولوی خمینی پر بھی نظم لکھی ہے۔ مذہب وملت کے بھی بڑے پرستار تھے۔ سیکولرازم بھی ان کے اندرموجود تھی۔ کسی بھی دوسرے مذہب پر انہوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا اور ہر مذہب کے لوگوں کو محبت کا پیغام دیا۔ انہوں نے ایک نظم ’بھگوان رام جی ‘ کے عنوان سے لکھی ہے جو رام جی کی عظمت اور بڑائی کو ظاہر کرتی ہے۔ بچوں کے لئے انہوں نے ’ننھا فرشتہ‘ کے عنوان سے ایک پیاری سی سبق آموز نظم تحریر کی ہے جس میں انہوں نے بچوں کو درس دیا ہے اور خدا کی عبادت کی تبلیغ بھی کی ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:

ننھا فرشتہ آیا ہے

حکم خدا کا لایا ہے

اُٹھو بچو رات گئی

وقت اذاں ہے صبح ہوئی

         موصوف کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کا ہر شعر تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہوں نے تقریباً ہر ایک بحر میں نظمیں اور غزلیں تحریر کی ہیں۔ شعر میں وزن برقرار رکھنے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہیں الفاظ پر قدرت حاصل تھی اور اپنے کلام میں صرف اردو ہی نہیں بلکہ فارسی اور ہندی کے الفاظ کو جگہ دے کر اپنے کینوس کو اور زیادہ وسیع و بلیغ کردیا ہے۔ حقیقت نگاری اور سادگی ان کے کلام کا وصف خاص ہے۔ بات سے بات پیدا کرنا اوراشارے کنائے میںکوئی بڑی بات یا کوئی بڑا پیغام دینے کا ہنر بخوبی جانتے تھے۔ ان کے کلام کو پڑھ کر درد مند دل سہارا پاتا ہے۔ کمزور قوت محسوس کرتا ہے اور وقت کا مارا اپنے دن پھرنے کی اُمید کرتا ہے۔ موصوف اپنے کلام کے ذریعہ دل سوزی کاکام بھی انجام دے رہے تھے۔ علم و ہنرکا درس، عشق کا پیغام، دل دہی کرنا اور رہبری کرنا بھی انہیں خوب آتا ہے۔ موصوف کے کلام کو پڑھ کر دل میں مایوسی نہیں بلکہ ایک نئی اُمنگ اور حوصلہ ملتا ہے۔

         موصوف کی غزلیں بھی ہر دل عزیز ہیں۔انہوں نے اس قدر طویل غزلیں تحریر کی ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ وہ خالص غزل کے شاعر تھے لیکن مرشد آباد میں وہ بالخصوص قصیدہ گو شعرا کی صف میں گنے جاتے ہیں اور لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ قصیدہ اور منقبت کے خاص شاعر تھے لیکن جب انکی غزلوں کا مطالعہ میں نے کیا  تو معلوم ہوا کہ غزل بھی خوب کہی ہے۔ سو سے زائد غزلیں میری نظروں سے گزری ہیں ۔ کچھ تو کافی طویل ہیں ۔ موصوف کے کلام کا خاص وصف شوخی، ظرافت، خیالات کی فراوانی، تجربۂ حیات اور مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ ان کے کلام تو ایسے جاذب نظر ہیں کہ پڑھنے والا اس میں ڈوب سا جاتاہے۔ گویا اپنے کلام میں وہ ایک سماں باندھتے ہیں اور صاحب ذوق کو اس میں غرق کردیتے ہیں۔ غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

چل دئیے لوٹ کے وہ گلشن ارماں اپنا

دل یہ اب ہو گیا وحشت کا بیاباں اپنا

————

عشوئوں نے ان کے ایسا بیہوش کر دیا تھا

کھو بیٹھے دل ہی اپنا ہم ان سے دل لگی میں

————

کچھ لطف شادمانی ہوتا نہ آدمی کو

ہوتا نہ غم ذرا بھی شامل اگر خوشی میں

اور یہ شعر ملاحظہ ہو جو خالص محبوب حقیقی پر مبنی ہے:

جھکتا ہے تیرے آگے سجدہ کو خود بخود سر

کچھ کیفیت ہے ایسی اللہ کی بندگی میں

         موصوف کا ہر شعر پُرمعنی اور پُراثر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شعر کے دو مصرعوں میں شاعر نے اپنا دل رکھ دیا ہے۔ دل کی الجھن، کیفیت، خوشی و غم کا احساس، زندگی کی نشیب و فراز سے دوچار ہونا اور وقت کے اوصاف کو ہوبہو بیان کردیا ہے۔ تصنع ان کے یہاں ناپید ہے۔ سادہ اور سہل لب و لہجہ ان کے کلام کا ایک خاص امتیاز ہے۔ تصوف کا رنگ بھی ان کے یہاںموجود ہے۔ مبالغہ آرائی ان کے کلام میں نہیں ملتی۔ بالکل حقیقی اور موصوف کی زندگی کے تجربے پر یہ شعر بالکل صادق آتا ہے:

عزیز و اغیار تھے سبھی تو مگر کوئی بھی ہوا نہ ساتھی

غریب تھا کیسا مرنے والا گیا اکیلا بھرے جہاں سے

         موصوف صرف ایک علیٰ پایہ کے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک مفکر، دانش ور، خداپرست، سماجیخدمت گار، چشم بصیرت رکھنے والا، ہمدرد، انسان دوست، محترم استاد اور ایک شفیق باپ بھی تھے۔ موصوف نے ہر منزل پر کامیابی حاصل کی ہے۔ زندگی کے ہر پیکر میں اپنے کردار کو ڈھالا ہے۔ شاعری کی تو قلم کے ساتھ انصاف کیا۔ سادگی و پُرکاری ان کے کلام کی جان ہے۔مخلصی ان کے یہاں بکھری پڑی ہے۔ مخلصانہ زندگی میسر رہی لیکن شکوہِ خدا لب تک نہ آیا۔ حرص و لالچ ان کی طبیعت کا وصف نہیں۔ اگر طمعِ زر ہوتا تو آج ان کے یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے ہمیشہ آخرت کو سنوارا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کی ہے۔

         میری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ میں  نے شباہت صاحب کو نہیں دیکھا۔ لیکن ان کے کلام میں انہیں بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کلام ان کی زندگی کا آئینہ دار ہے اور ان کا عکس بھی۔میرے مرشد آباد میں قیام کرنے سے چند سال قبل وہ اس دار فانی کو خیر باد کہہ گئے اور اپنے پیچھے یہ خزائن ادب چھوڑ گئے ۔ پہلی بار میں نے موصوف کے کلام اور ان کی مختصراً سوانح حیات کو ڈاکٹر رضا علی خان کی کتاب ’مرشدآباد : اردو کا ایک قدیم مرکز‘ میں دیکھا اور پڑھا ۔ پڑھ کر دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ صرف ایک معمولی شاعر ہی نہیں بلکہ درد آشنا اور سماج کا گہرا نباض بھی ہے۔ پھر میں نے ان کے کلام کی تلاش شروع کی۔

         شباہت صاحب نے جو کلام اہل ادب کو دیا ہے، وہ صرف ادب تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر خاص و عام میں اس کا چرچا رہا اور رہے گا۔ چونکہ موصوف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ رفیق دوست اور ہمدرد انسان بھی تھے۔ انہیں ہر دل عزیز شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کی نظموں کے موضوعات کی بنا پر اگر انہیں مرشد آباد کا نظیر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ان کے اندر بہت سے شعراکی صفات موجود تھیں۔ درد کی طرح تصوف سے پُر کلام، سودا کے قصیدوں جیسے پُراثر قصیدے کا رس اورمیر کا درد بھی ان کے کلام میں موجود ہے۔ آتش کا رنگ بھی جھلکتا ہے۔جوش و چکبست کی سی حب الوطنی نظم بھی دکھائی دیتی ہے۔ انشاء کی سی رنگینی اور سرمستی والی شاعری بھی ان کے یہاں ملتی ہے۔

         جدید شاعری میں شباہت علی میرزا ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اپنے لاثانی و لافانی کلام کی بدولت اہل بنگالہ میں صف اول کے شعرا میں شمار کئے جانے کے مستحق ہیں۔ راقمہ الحروف کی اس تصنیف کے بعد شباہت علی میرزا صرف مرشد آباد تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر ان کے نام اور کلام کی پذیرائی ہوگی، یہ میرا ایقان ہے۔

دبستان مرشدآباد میں انشاء، مخلص، قدرت، طپش، فغان، الم، عظیم، ثریا، فضل ربی، سلمان، دائود، شمس، مبارک، بیدل اور ضو جیسے صاحب طرز شعرا گزرے ہیں ۔ ان میں سلمان، دائود ، بیدل، ثریا صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ ان میں شباہت علی میرزا بھی اپنا ایک رتبہ رکھتے ہیں۔حالاں کہ لوگ ان کے کلام کو پڑھتے ہیں لیکن ان کی شخصیت سے آشنا نہیں ہیں۔ موصوف کی بدقسمتی تو یہ رہی کہ ان کا کلام کسی نے اپنے تخلص کے ساتھ کسی محفل میں پڑھ ڈالااور واہ واہی لوٹ لی۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ۔ ان کے کلام کو لوگ ان کے ہی تخلص سے پڑھا کریں گے:

رہنے والا ہوں اس باغ سخن کا میں بھی

لوگ کہتے ہیں شباہتؔ جسے مرشد آباد

         شباہت علی میرزا نے صرف دو مصرعے مرشدآباد کی شان میں نہیں کہے بلکہ ایک پوری نظم تحریر کی ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔ دو شعر دیکھئے:

تھا فراموش شدہ شہر یہ مرشدآباد

آج پھر اہلِ سخن نے ہے کیا اس کو یاد

تو کبھی صوبۂ بنگال کا مرکز تھا رہا

باب تاریخ میں تھا تیرا بھی اک نام بڑا

جب لٹی دہلی اور اُجڑی یہ اودھ کی شاہی

ظالم انگریزوں کے ہاتھوں سے تباہی آئی

         اس کے علاوہ موصوف کاایک نایاب کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے زور قلم سے گیت نما نظم بھی تحریر کی ہے ۔یہ۱۹۵۱ء میں لکھی گئی جس میں اشعار کی تعداد ۱۰؍ ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

چاند ستارے بکھرے بادل رات سہانی

سونا جنگل ٹھنڈی ہوا یہ بہتا پانی

یاد کسی کی لائے اے دل آج تو رو لے

رو لے رولے رو لے رو لے رو لے

مل نہیں سکتے دنیا نے مجبور کیا ہے

ان کو ہم سے اور ہمیں اُن سے دور کیا ہے

اب ہے شباہتؔ جینا مشکل آج تو رو لے

رو لے رو لے درد بھرے دل آج تو رو لے

ایک اور گیت نما نظم جو ۱۹۵۰ء میں لکھی گئی،جس کی تعداد اشعار ۹؍ ہے۔ نظم بحر متقارب مثمن مزاحف فعلن فعلن فعلن فعلن میں ہے۔ شعرملاحظہ ہو:

جگہ جگہ ہیں کانٹے پتھر چلنا پیتم سنبھل سنبھل کر

لگے نہ تم کو کہیں یہ ٹھوکر چلنا پیتم سنبھل سنبھل کر

پیتم تم پردیس چلے ہو

دل میں لگا کر ٹھیس چلے ہو

بدل کے اپنا بھیس چلے لو

بھول نا جانا دیکھو مجھ کو

جیسے ابھی ہو ویسے ہی رہنا

گیت مرا تم گاتے ہی رہنا

بھول نہ جانا دیکھو مجھ کو

         موصوف نے جو شاعری اردو ادب کو دی ہے، وہ نایاب ہے۔ موصوف نے تقریباً ہر شعری صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ غزل، قصیدہ، نظم، گیت، قطعہ، رباعی، بچوں کے لئے خاص نظم، گیت نما نظم ۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ موصوف نے ۱۹۸۲ء سے جو شاعری کی ہے، ان میں سہرا، سلام، نوحہ، ماتم کثیر تعداد میں موجود ہے۔ انہوں نے زندگی کے اس موڑ پر پہنچ کر شاعری ترک نہیں کی بلکہ اپنے موضوعات کے کینوس کومزید اضافہ کیا اور خدمت خلق کی خاطر شاعری کی۔ ان کے تحریر شدہ نوحے و سلام آج بھی امام باڑوں کی شان ہیں۔ ان کے فرزند اور پوتے ان کی لحن میں ان کے کلام کو پڑھ کر موصوف کو زندہ رکھا ہے۔ ایک نوحہ پیش خدمت ہے جو مولا امام حسین علیہ السلام کی شان میں تحریر کیا گیا ہے:

اب چھوڑ کر مدینہ شبیر جا رہا ہے

ہے وقت امتحاں کا کوفہ بلا رہا ہے

عباس کی رگوں میں خوں مچلا جا رہا ہے

اک رنگ جا رہا ہے اک رنگ آ رہا ہے

گر کر سنبھل رہا ہے ٹھوکر بھی کھا رہا ہے

شبیر لاش دل بر خود لے کے آ رہا ہے

یہ ہے قرآن ناطق یہ مصطفی کا دل ہے

نوکِ ثنا یہ خوبی جو سر اُٹھا رہا ہے

شبیر کی لحد پر پانی کہاں سے لائے

پیاسا ہے باپ خود ہی آنسو بہا رہا ہے

ہے شور بیبیوں میں بچّے بلک رہے ہیں

شمرؔ ستم گر آ کے خیمہ جلا رہا ہے

حد ہوگئی ستم کی صحرا میں تین دن تک

بے گور مصطفی کا پیارا پڑا رہا ہے

پیروں سے خود لپٹ کر زنجیر رو رہی ہے

اس طرح بے کسی سے بیمار جا رہا ہے

احمد نے جس گلے کو چوما تھا بچپنے میں

کیوں شمر اس گلے پر خنجر چلا رہا ہے

قاسم کے بعد کیونکر بہلائے دل کو کبریٰ

سہرے کا پھول بھی اب مرجھایا جا رہا ہے

اس سخت امتحان کی ہر کامیابیوں پر

شبیر زیر خنجر اب مسکرا رہا ہے

اسلام ہے شباہتؔ احسان مند ان کا

وللہ حسینی ہی سے نامِ خدا رہا ہے

         شباہت صاحب کے کلام کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے پورے کربلا کے واقعات کو ہماری نگاہوں میں پھرا دیا ہے۔ ہر ایک منظر کو کس خوبصورتی سے دو مصرعوں میں پیش کیا ہے۔ ایک نوحے میں موصوف نے کربلا کے شہیدوں کی کہانی پرو دی ہے اور ہر ایک کے حالات و جزئیات کو پیش کردیا ہے۔

         موصوف کا ایک اور کامیاب اور دل فریب کلام جو سلام کی صورت میں پیش ہے، ملاحظہ ہوں اس کے چند اشعار:

کیا ستم نازاں یزیدی شام کا دربار تھا

اور قیدی خاندانِ احمد مختار تھا

ہو کے قرباں خود بچایا دین کو تو لاچار تھا

یہ حسینؑ ابن علی کی ذات کا ایثار تھا

اس طرف باطل کی بیعت کے لئے اصرار تھا

اس طرف حق کے لئے شبیر کا انکار تھا

صبر و قربانی یہ غربت کربلا کی بھوک و پیاس

عزم شبیری نہ تھا ایمان کا اظہار تھا

جس کی سقالی پہ صدقے کل امکانِ وفا

کون جو عباس ابن حیدر کرار تھا

بے ردائی اور اسیری بے دیاری اے یزید

ہر ستم آلِ نبی کی شان کی دستار تھا

آگ خیموں میں لگائی لاشیں کر دیں پائمال

یہ محمدؐ سے عداوت کا کھلا اظہار تھا

اے شباہتؔ ہیچ ہے اس نے یہ بیعت کا سوال

جو امام و انبیاء کا وارثِ مختار تھا

         موصوف کا ہر شعر ایک الگ رنگ اور کیفیت میں ڈوبا ہے۔ کبھی غم کے بادل ہیں تو کہیں خوشی کی چمکتی دھوپ۔کہیں شکوۂ دہر ہے تو کہیںحمد باری تعالیٰ، کہیں اضطراب قلب ہے تو کہیں مسرت کی لہر۔ یہ موصوف کی دانائی اور اعلیٰ ذہنیت کا ثبوت ہے کہ ہر موضوع و موقع پر قلم اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

         موصوف کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ غزل ہویا کوئی اور صنف شاعری، ختم کرنے کے بعد آخر میں ایک خوبصورت پھول اور پتیوں والی یا پھر کوئی اور نقش کھینچ دیا کرتے تھے۔ ان کے تمام تر کلام میں کوئی نہ کوئی نقش ضرور دیکھنے کو ملتا ہے اور خوبی تو یہ ہے کہ ہر نقش الگ ہے ، جو ان کیجمالیاتی حس کا آئینہ دار ہے۔

         شباہت صاحب جب تک زندہ رہے، ادب کی خدمت انجام دیتے رہے۔ عمر کے آخری ایام میں بھی خود کو مصروف رکھا۔ ان کا آخری کارنامہ ایک خوبصورت قصیدہ ہے جو مولیٰ حضرت عباس علیہ السلام کی شان میں تحریر کردہ ہے۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

حسینؑ ابن علی کی مدعا معلوم ہوتا ہے

یہ ہے عباس بھائی آپ کا معلوم ہوتا ہے

وہ جس کو دیکھ کر فوج یزیدی کانپ اُٹھتی ہے

علم بردارِ کربلا معلوم ہوتا ہے

سکینہ کا چچا ہے ناصر شبیرؑ ہے عباسؑ

یہ بھائی زینب و کلثوم کا معلوم ہوتا ہے

غلام اپنے کو آقا بھائی کو عباس کہتے تھے

یہ سچ ہے وہ وفائوں کا خدا معلوم ہوتا ہے

         اس قصیدے کو موصوف نے خود اپنی مترنم آواز میں ولادت مولیٰ عباس میں امام باڑے میں پڑھا تھا۔ ان کی آواز بڑی جادو بھری اور پیاری تھی۔ ۱۹۸۵ء میں انجمن محافظ اردو کے زیر اہتمام مرشد آباد میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔اس مشاعرے میں شباہت صاحب نے پہلے تو شرکت سے انکار کیا لیکن جب لوگوں نے اصرار کیا تو وہ شریک ہوئے اور مذکورہ بالا قصیدہ پڑھا ، جسے سن کر محفل گونج اُٹھی اور لوگوں نے خوب داد دی۔ آج بھی لوگ اس تاریخی مشاعرے کو یاد کرتے ہیں۔

ٍ       موصوف کی شاعری پر ایک بات بڑی گہری اور یادگار ہے کہ انہوں نے قصیدے سے اپنی شاعری کا آغاز کیا اور شاعری کا انجام بھی قصیدہ پر ہی ہوا۔ اس سے شباہت صاحب کی گہری انسیت کی دلیل ملتی ہے لیکن وقتِ آخر ان کے دماغ نے ہی ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور پھر موت نے اپنی آغوش میں ہمیشہ کے لئے لے لیا۔ ۲۰۰۸ء کے ستمبر(ماہ رمضان) مہینے کی غالباً ۵ یا ۶؍ تاریخ کو موصوف شام کے وقت رفع حاجت کے لئے گئے اور باتھ روم کی فرش پر گر پڑے۔ ان کے گرنے کی آواز سن کر ان کے اہلِ خانہ جب باتھ روم کی طرف گئے تو انہیں بیہوش پایا اور فوراً ہی لال باغسپتال میں انہیں داخل کیا گیا ، جہاں کچھ خاص افاقہ نہیں ہوا۔ ان کے جسم کے دیگر اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا ، صرف ایک دل ہی تھا جو دھڑک رہا تھا۔ اسپتال سے گھر آنے کے بعد چند روز ہی باحیات رہے اور شوال کے مہینے میں بروز سوموار ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔  انا لِلّٰہ واِنا الیہ راجعون!ان کی وفات سے پورا مرشد آباد غم میں ڈوب گیا۔ ان کے جنازے کی نما ز چوک شاہی مسجد میں ادا کی گئی جس میں ان کے تلامذہ، رشتہ دار، دوست احباب کی کثیر تعداد تھی اور سبھوں نے پُرنم آنکھوں سے شباہتؔ صاحب کو مرشد آباد کے تاریخی قبرستان جعفرا گنج میں سپرد خاک کیا۔

         شباہت صاحب نے شعر و شاعری کی جو شمع روشن کی تھی، اس سے لوگ آج بھی روشنی حاصل کررہے ہیں ۔ ان کی زندگی کے آخری چار مصرعے پر اپنی بات ختم کرتی ہوں:

خدا کا ماننے والا تھا سیّد تھا وہ انساں تھا

وہ جو مذہب ہے شیعوں کا اسی پر اس کا ایماں تھا

مجھے دفنانے والو تم مری تربت پہ لکھ دینا

خدا بخشے شباہتؔ کو علی والا مسلماں تھا

***

Leave a Reply