You are currently viewing ترقی پسند ی اور اُردو غزل

ترقی پسند ی اور اُردو غزل

محفوظ الرحمان

ریسرچ اسکالر جواہر لعل  نہر ویونیورسٹی ، نئی دہلی

ترقی پسند ی اور اُردو غزل

ترقی پسند اردوغزل ترقی پسند تحریک سے ہی عبارت ہے ترقی پسند غزل کی تشکیل کے لئے قدیم اور معاصر شاعری کے سرمایے سے مثبت عناصر کی قبولیت ضروری تھی ۔حالی نے غزل میں نئے امکان پیدا کرنے کے لئے نہ صرف غزل کے مضامین کو وسعت دینے کی بات کی بلکہ روایتی انداز و موضوع میں تبدیلی کے علاوہ نئے الفاظ و تراکیب کے استعمال پر بھی زور دیا۔حالیؔمقدمہ میں رقمطرازہیں  :

’’میری رائے یہ ہے کہ غزل میں جو عشقیہ مضامین باندھے جائیں وہ ایسے جامع الفاظ میں ادا کئے جائیںجو دوستی اور محبت کی تمام انواع و اقسام اور تمام جسمانی و روحانی تعلقات پر حاوی ہوں‘‘۔

                                          (مقدمہ شعر و شعری ، الناظرپریس لکھنؤ،ص۔ ۱۰۵)

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے ربع اول میں مختلف شعراء نے عصری مسائل وموضوعات کو غزل میں برتاان میں حالیؔ، چکبستؔ، اکبرؔ، اقبالؔ،حسرتؔ،یاسؔ،شادعارفیؔ،فراقؔاور اقبال سہیلؔ وغیرہ ہیں۔ان لوگوں نے ملک کے سماجی ،سیاسی اور عصری مسائل کو غزل کے موضوعات میں نمایاں طور پر جگہ دی ۔ اسی لئے یہ تمام عوامل بھی ترقی پسند غزل کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے۔

ان شعراء کے بعد ترقی پسندوں نے غزل کی افادیت پر بہت زور دیا اور مزدوروں کے استحصال ، سرمایہ دارانہ نظام کی ظلم و زیادتی کی مخالفت کرتے ہوئے عام زندگی کے مسائل کو ادب کا موضوع بنایا۔ترقی پسند غزل گو شعراء نے اپنے نقطۂ نظر سے مطابقت رکھنے والے قدیم اور معاصر غزل گو شعراء کے موضوعات و اسالیب کے مثبت عناصر سے باغیانہ لب و لہجہ ، بلند آہنگی ،سیاسی و سماجی اور عصری و عوامی مسائل کی حد تک استفادہ کرتے ہوئے آسان ، سادہ و سلیس اور وعوامی زبان میں غزل کہنے کی کوشش کی ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر محمد صادق لکھتے ہیں  :

’’اس طرح سوداؔ کی خارجیت اور رنگارنگی ،غالبؔ کے فکری اور نشاطیہ عنصر،حالیؔ کی مقصدیت پسندی اور اقبالؔ کی بلندآہنگی اور خطیبانہ لب ولہجہ کاایک مجموعہ ترقی پسند غزل کے لئے مرتب ہوا۔ترقی پسندشعراء نے مواد اور موضوع کے تحت تو اپنے خیالات تبدیل کرلئے ،لیکن غزل کواس کی قدیم ہیئت میںہی برقراررکھا۔‘‘

              (ترقی پسند اردو غزل آغاز و ارتقا، ڈاکٹر محمد صادق ،ایس۔ایچ۔آفسیٹ پرنٹرس،۶دہلی،۲۰۱۲؁ء،ص۔۷۷)

ترقی پسند تحریک سے پہلے اردو شاعری میں رومانیت کا چلن عام تھا ۔ اس وجہ سے ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے شعراء میں سے اکثر نے اپنی شاعری کی ابتداء رومانیت سے متأثر ہوکر کی تھی ۔ چنانچہ ان کی غزلوں میں رومانی خیالات کی کثرت دکھائی دیتی ہے لیکن پھر بدلتے ہوئے حالات اور سیاسی کشمکش نے ترقی پسند غزل گو شعراء کے ذہن کو تبدیل کر دیا اور وہ دھیرے دھیرے عوامی مسائل فرقہ وارانہ فسادات ، بھوک و افلاس، سرمایہ داری ، مزدور و کسان ، ساہوکار اور نچلے طبقے کو پیش آنے والے مشکلات سے متأثرہوکر شاعری میں اس کا ذکر کرنے لگے ۔

ترقی پسند ادب افادیت پر زور دیتا تھا اس لئے غزل میں بھی ان لوگوں نے یہی رویہ اپنایا اور ترقی پسند منشور کے تحت عصری مسائل اور عوامی پریشانیوں کو موضوع بنانے کی کوشش کی یہی وہ رجحانات تھے جن کو ترقی پسندوں نے غزلوں میں اپنا موضوع بنایا اور روایتی غزل سے پرانے استعارات و تشبیہات اور الفاظ و تراکیب سے استفادہ کرتے ہوئے نئے معنی و مفہوم پیش کئے۔

ترقی پسند غزل گو شعراء  :

فیض احمد فیضؔ :  فیض احمد فیضؔابتداء سے ہی اس تحریک سے وابستہ رہے اسی لئے انہیں ترقی پسند تحریک کا سب سے بڑا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ فیض کی طبیعت میں انقلاب اور مزاج میں رومان تھا ۔ انہیں دونوں کیفیات کے امتزاج نے ان کی شاعری کو ایک نیا رنگ عطا کیا ، ان کے لہجے میں غنائیت ہے جو ان کی غزلوں اور نظموں میں یکساں طور پرظاہر ہوتی ہے۔ اور کلاسیکی لہجہ کا رچاؤعام طور سے دکھائی دیتا ہے۔ فیض کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے غزل کی غنائیت اور جدید حیات کی تلخیوں کو یکجا کر دیا لیکن غزل کے ڈکشن کو تبدیل نہیں کیا بلکہ کلاسیکی شاعری کے الفاظ و استعارات کو اپنی قوت اجہتاد اور فنی چابکدستی سے نئے نئے معنی پہنائے۔

فیض وہ ترقی پسند شاعرہیں جنہوں نے غزل کی مخالفت کا جواب اپنی غزلوں سے دے کر نعرے بازی اور کھوکھلے پن کا بھرم کھول کر رکھ دیا اور غزل کے فن کو اس کی تما م روایات کے ساتھ نہ صرف برتا بلکہ اس میں پاکیزگی قائم کر کے زندگی کی بدلتی ہوئی شکلوں کو صفائی کے ساتھ ڈھالا ہے۔ ان کی غزلیں جدید اردو غزل کی ایک نکھری ہوئی صورت کو سامنے لاتی ہیں۔ ان کی شاعرانہ تشبیہات زندگی کے خارجی پہلو سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور ان کے استعاروں کی سحر کاری شاعر کے جذبے کا اتنا ساتھ دیتی ہے کہ خارجی اور داخلی احساس ایک ہوجاتے ہیں ۔ فطرت اور انسان میں ایک حقیقی ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں  :

’’غزلوں میں انہوں نے ایمائی اظہار کا وہی طریقہ اختیار کیا جو عصری حقائق کے ادرا ک کی تخلیقی تعمیم کے کلاسیکی تصور کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ معروضی حقائق کو اپنی ذات کے حوالے سے واردات بناکر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ عصر حاضر کی بعض دھندلی سچائیاں بھی روشن نظرآنے لگتی ہیں۔‘‘

                            (تعبیر و تحلیل، ڈاکٹر قمر رئیس،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۹۶؁ء، ص۔ ۱۸۶)

مذکورہ باتوں کے حوالے کے طور پر فیض کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں   ؎

درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے

تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں

نہ پوچھ جب سے ترا انتظار کتنا ہے

کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں

اسرار الحق مجاز ؔ : مجاز ؔبنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے ان کی غزلوں میں کلاسیکی طرز بیان اور لفظیات کی پابندی ملتی ہے۔ انہوں نے زبان کی صفائی ، لہجے کی شستگی و شگفتگی اور ترنم کی طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کی استعمال کی ہوئی تشبیہات و استعارات ایک نئے دور کی شناخت کرواتے ہیں ۔ مجازؔنے نظموں کی طرح اپنی غزلوں کوبھی نوجوانوں میں بیداری لانے، جرأت و حوصلہ پیداکرنے اور ان کے عشق کو مقصدیت کی طرف موڑ نے کے لئے استعمال کیا ہے۔

ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود ان کی غزلوں میں رومانیت کا بہت گہرا رچا ؤ ہے اور یہی ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔ بلکہ وہ اس معاملے میں اختر شیرانی سے بھی آگے نکل جاتے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اختر صرف محبوب کے آغوش میں مرنے کو عرفان ِ محبت سمجھتے ہیں اور مجازؔ کے یہاں اس نغمے میں انقلاب کی لَے متواتر طور پر جاری ہے۔ سردار جعفری لکھتے ہیں  :

’’ہم اس شاعر کو رومانی کہہ کر اس کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتے ۔ یہ انقلابی مزاج کا رومان تھا۔ ‘‘

                            (مجاز شخص اور شاعر،مغیرہ عثمانی، دیباچہ:علی سردار جعفری،ص۔۲تا۳)

غرض یہ کہ مجازؔنے عوامی مسائل اور عصری حسیت کو غزلوں میں پیش کرتے ہوئے حسن و عشق کی اعلیٰ اقدار کا لحاظ رکھا ہے۔ ان کی غزلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی بات کہنے کے لئے جس اسلوب سے کام لیا ہے اس میں الفاظ نگینے کی طرح جڑ جاتے ہیں ۔ ان کی غزلوں میں جوش، اُمنگ اور محبت کے ساتھ ساتھ حالات کے جبر سے ایک طرح کی کڑھن پائی جاتی ہے۔

مجروح سلطان پوری : جب اردو غزل کو یہ کہہ کر مسترد کیا جا رہا تھا کہ یہ عصری تقاضوں کی تکمیل اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس وقت مجروح نے غزل کی شاعری میں اپنی فکر کو عصری مسائل سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ترقی پسندانہ غزلیں کہیں ۔ مجروح نے شاعری اور عاشقی کی قدیم روایت کے ساتھ ساتھ ترقی پسندانہ روایت کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کی غزلوںمیں نغمگی ، موسیقی اور مرقع سازی پائی جاتی ہے۔ وہ روایتی غزل کے سبھی حربوں سے استفادہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی غزل کلاسیکی آئین و آداب کامرقع بننے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کوبھی پورا کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں ، دل کی دھڑکن، جوش، جنون ، حوصلہ و اُمنگ اور انسان دوستی نمایاں ہیں۔شعرملاحظہ فرمائیں   ؎

غمِ حیات نے آوارہ کر دیا تھا ورنہ

تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

دیکھ زنداں سے پرے ، رنگ چمن ، جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

معین احسن جذبیؔ : جذبیؔ کو ترقی پسند اردو غزل گو شعراء میں اپنی انفرادیت کی وجہ سے ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ان کے ابتدائی کلام سے کلاسیکی لب ولہجہ، روایتی انداز اور فنی رکھ رکھاؤ ظاہر ہے انہوں نے کلاسیکی فنی لوازمات کو اہمیت دیتے ہوئے ترقی پسند غزل میں اپنی انفرادیت پیدا کی۔

ترقی پسند تحریک میں شامل ہونے کے بعد ان کا روایتی اور کلاسیکی رنگ آہستہ آہستہ ماند ہوتا گیا لیکن انہوں نے عام ترقی پسند موضوعات کو اپنی شاعری میں جگہ نہیں دی بلکہ اپنے احساسات و جذبات کو ہی اپنی غزلوں میں پیش کرتے رہے جس کی وجہ سے انہیں غیر ترقی پسند ہونے کا الزام بھی سہنا پڑا۔

جذبیؔکو غزل سے ہمیشہ دلی لگاؤرہا انہوں نے غزل کا دامن کبھی نہیں چھوڑا ان کے دل میں غم ذات کے ساتھ ساتھ غم کائنات کا بہت گہرا درد و کرب دکھائی دیتا ہے   ؎

شریک محفل دار و رسن کچھ اور بھی ہیں

ستم گرو ابھی اہل کفن کچھ اور بھی ہیں

مرنے کی دعائیں  کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے

یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی

اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

کیفی اعظمی :  کیفی کی غزلوں کا سرمایہ اگرچہ قلیل ہے لیکن ان کی شاعری کا یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ ان کی غزلوں میں ترقی پسند عناصر کے رجحانات صاف صاف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے غزل کے مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے فن کو بڑی دلکشی کے ساتھ پیش کیا ہے اور اشتراکی و رومانی موضوعات کے تحت اپنے خیالات و جذبات اور احساسات کا اظہار غزلوں میں کیا ہے۔ شعر  ؎

یہ کہہ کے ٹوٹ گیا شاخِ گل سے آخری پھول

اب اور دیر ہے کتنی بہار آنے میں

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

نئی زمیں نیا آسماں نہیں ملتا

مذکورہ شعراء کے علاوہ اور بھی سینکڑوں ترقی پسند غزل گو شعراء گزرے ہیں۔ ان تمام کا یہاں احاطہ ممکن نہیں اس لئے ان کا صرف شمار کر دیتا ہوں۔جن میں مخدومؔ،پرویز شاہدیؔ، سردار جعفریؔ، غلامی ربانی تاباںؔ،اخترؔانصاری،وامقؔ جونپوری، جاں نثار اخترؔ، احمد ندیم قاسمیؔ اور قتیل شفائیؔ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

غرض یہ کہ بہ نظر غائر اگر دیکھا جائے تو سماجی بہتری کے معیار کے پیش نظر غزل پر اعتراضات کا جو سلسلہ علی گڑھ تحریک کے دور میں شروع ہوا تھاترقی پسند تحریک کے دور میں آکر شدید مخالفت کی صورت اختیار کر گیا۔لہٰذا ترقی پسندوں کے نزدیک غزل اس طرح معتوب صنفِ سخن ٹھہری کے ترقی پسند شعراء کے غزل کی طرف مائل ہونے کو رَجعت پسندانہ اقدام قرار دیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر شعراء جو کسی نہ کسی صورت میں غزل کہتے رہے پارٹی کے نقطۂ نظر کی ترویج کے جذبے کے تحت غزل پر تبلیغ و تلقین کا بار ڈالتے رہے اور اسے غیر تخلیقی شاعری کا نمونہ بناتے رہے۔اور جن چند شعراء نے غزل کے اصل مزاج کو برقرار رکھنے کی سعی کی وہ ترقی پسند ناقدین کے ہاتھوں غیر ترقی پسند شاعری کا الزام اپنے سر لیتے رہے ۔ چنانچہ اس پل صراط سے گزر کر غزل کے اشعار کا بہت کم سرمایہ بچتا ہے جو ترقی پسندی اور ادبی جمالیات دونوں معیاروں پر پورا اتر تا ہے۔

MAHFOOZUR RAHMAN

Research Scholar

Centre of Indian Languages

Jawaharlal Nehru University

New Delhi- 110067

Mob.- 99584 30182

mahfoozk764@gmail.com

Leave a Reply