You are currently viewing جونؔ ایلیا کی شاعری میں تلمیحات

جونؔ ایلیا کی شاعری میں تلمیحات

 

 

شیریں فاطمہ¹، پروفیسر شیویہ ٹرپاٹھی²

¹ ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، بریلی کالج بریلی، ایم جے پی روہیلکھنڈ یونیورسیٹی، بریلی

² پروفیسر، شعبہ اردو، بریلی کالج بریلی، ایم جے پی روہیلکھنڈ یونیورسیٹی، بریلی

جونؔ ایلیا کی شاعری میں تلمیحات

بیسویں صدی کے نصف آخر کے انتشار آمیز دور کے شعرا میں جونؔ ایلیا کا شمار صف اوّل میں ہوتا ہے۔ یہ عہد ایک انقلاب انگیز عہد تھا جس میں سیاسی، سماجی، فکری اور معاشی اعتبار سے بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے لیے صدائیں بلند کی گئیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے وسیع پیمانے پر اپنے اثرات ثبت کیے۔ ہندوستانیوں میں خود اعتمادی اور آزادی کا شعور بڑھتا گیا اور ایک مدت کی جد و جہد کے بعد نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہو گیا اور ہندوستان آزاد ہو گیا۔ آزادی وطن کے ساتھ ہی ہندوستان دو ممالک میں تقسیم ہو گیا۔ یہ محض ایک جغرافیائی تقسیمی عمل نہیں تھا۔ نہ جانے کتنے گھرانے اس سانحے کا شکار ہوئے۔ سیاسی و سماجی اعتبار سے بہت ساری انقلابی تبدیلیاں آئیں ساتھ ہی ادب نے بھی کئی کروٹیں بدلیں۔ ترقی پسند تحریک وجود میں آئی تو ادب برائے  زندگی کا رجحان بڑھا۔ روایتی طرز سے ہٹ کر  ہر میدان میں جدت پسندی کو اپنایا گیا۔ سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات کے ساتھ ساتھ فرد کی اہمیت، خودی، تنہائی، نفسیاتی پیچیدگیوں جیسے موضوعات کو بھی خوب برتا گیا۔  اسی دور میں جونؔ ایلیا  ممتاز شاعر، انشائیہ نگار، مرثیہ گو، صحافی، مفکر و مترجم کی حیثیت سے ابھرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس موجودہ دور میں جون ایلیا کو سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر کا شرف حاصل ہے۔ جونؔ ایلیا نثر اور شاعری دونوں میں ہی کمال رکھتے تھے۔ ان کے چھ شعری مجموعے منظر عام پر ا چکے ہیں۔ جن کے نام اس طرح ہیں: ”شاید”( ۱۹۹۱)، ”یعنی”(۲۰۰۳؁ء)، ”گمان”(۲۰۰۴؁ء)، ”لیکن”(۲۰۰۶؁ء)، ”گویا” (۲۰۰۸؁ء)اور ”کیوں”(۲۰۲۴؁ء)۔ فلسفہ اور تاریخ سے جونؔ ایلیا کو بہت شغف تھا۔ ان کے وسیع مطالعے کی جھلکیاں  ان کے کلام میں جا بہ جا دیکھی جا سکتی ہیں جو جونؔ ایلیا کے تاریخی شعور کی ترجمانی کرتی ہیں۔ یہ تاریخی شعور ان کی شاعری میں کہیں اساطیر بن کر ابھرتا ہے تو کہیں تلمیح یا علامت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ میرا یہ مضمون جونؔ ایلیا  کی شعری تلمیحات کا احاطہ کرتا ہے۔

تلمیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی ہے معنی ہے ”سبک نگاہ ڈالنا”، ”کسی چیز پر اچٹتی نگاہ ڈالنا”، ”اشارہ کرنا”۔ تلمیح کو انگریزی میں Allusion اور ہندی میں انترکتھا، سنکیت اور سندربھ کہتے ہیں۔ اصطلاح میں تلمیح صنائع بدائع کے صنائے معنوی کی ذیل میں آنے والی وہ صنعت ہے جس میں کسی مشہور و معروف قصے، واقعے، قول، آیات قرآن اور حدیث نبوی کو شعر میں باحسن خوبی اس طرح لایا جاتا ہے کہ جس کے جانے بغیر شعر کا مطلب واضح نہ ہو۔ محمود نیازی تلمیح کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:

”اہل ادب کی اصطلاح میں تلمیح اس سنعت کا نام ہے جس سے نظم یا نثر میں اشارے کے طور پر کسی افسانے، قصے، واقع اور احادیث و آیات کا اجمالاً اس طرح ذکر کیا جائے کہ بغیر اس کے جانے ہوئے کلام کا لطف نہ حاصل ہو سکے۔ کلام میں مختصراً دو ایک لفظ کسی واقع یا قصے کی طرف اشارے کے لیے رکھ دیے جاتے ہیں۔ جس سے فوری طور پر کل یا جزو واقعہ کی طرف ذہن دوڑ جاتا ہے۔ اس لیے اس کا نام تلمیح رکھا گیا ہے۔”   ۱؎

تلمیح قدیم تاریخ، تمدن و معاشرت، رسومات اور آبا و اجداد کے ان کارناموں کا خزینہ ہے جن کا ماخذ دیو مالہ و اساطیر، مذہبی کتب، مذہبی قصے اور تاریخی واقعات وغیرہ ہیں۔ بلاغت کا تقاضا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں بات کو پر اثر انداز میں بیان کیا جائے اور تلمیح اس تقاضے کو پورا کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ تلمیح کے ایک یا دو لفظ اتنے طویل قصے کو آنکھوں کے سامنے لا دیتے ہیں جنہیں اگر پورا لکھا جائے تو کئی صفحات میں بیان ہوں۔ تلمیح کا ایجاز اور اختصار شعر کو بلیغ اور پراثر بناتا ہے۔ جونؔ ایلیا نے اپنے کلام میں اسلامی، تاریخی اور دیو مالائی تلمیحات کو خوب برتا ہے۔ جونؔ ایلیا کے کلام میں اسلامی تلمیحات پر نظر کی جائے تو آدم علیہ السلام، خلد گمگشتہ، قرآنی آیات، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام و بلقیس، عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی تلمیحات کا استعمال قابل ذکر ہے۔ مثلاً

؎حادثہ زندگی ہے آدم کی

ساتھ دے گی بھلا خوشی کب تک  ۲؎

          اس شعر میں جونؔ ایلیا نے خوشی کی کیفیت کے دائمی نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کی دلیل یوں دیتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر دنیا میں بھیجا گیا اور دنیا میں ان کی زندگی کا آغازہی آزمائشوں سے ہوا۔اسی تلمیح کی ایک اور مثال پیش کی جاتی ہے :

؎افسوس دل بھی دام میں دنیا کے آ گیا

اس مرد کو کرے گی یہ عورت بہت خراب ۳؎

اس شعر میں جون روحانی زوال اور دنیاوی لذتوں کے جال میں پھنسنے کے موضوع کواس طرح نظم کرتے ہیں کہ مصرعِ ثانی سے ہمارا ذہن اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر پہلے بی بی حوا نے گندم کھایا اور پھران کے کہنے پر آدم علیہ السلام سے یہ گناہ سرزد ہوا۔جونؔ ایلیا یہاں دنیا کو عورت کا استعارہ دیتے ہیں کیونکہ دونوں کی خصلت میں نفس پروری داخل مانی جاتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہندوستانی کلچر میں بھی دنیا اور عورت دونوں کو مایا ہی کہا گیا ہے۔جونؔ ایلیا اپنی نظم ‘بہت دور کہیں’ میں خلد گم گشتہ کی تلمیح لاتے ہیں:

؎خلد گم گشتہ کا موضوع نہ چھیڑو کہ مجھے

اپنے خوں گشتہ خیالوں سے حجاب آتا ہے

یادِ ماضی سے میرے ذہن کو محفوظ رکھو

یاد ماضی نہیں آتی ہے عذاب آتا ہے

( بہت دور کہیں )  ۴؎

          نظم ”بہت دور کہیں” کے مندرجہ بالہ اشعار میں جونؔ روحانی سکون اور ماضی کے خوشگوار لمحات کے کھو جانے کے لیے خلد گمگشتہ کی تلمیح لاے ہیں۔ خلد گمگشتہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے بہشت سے نکالے جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ مغربی ادب میںبھی ‘Paradise Lost’ سترویں صدی کے مشہور شاعر جون ملٹن کی رزمیہ نظم بھی ہے جس میں شیطان کی بغاوت آدم و حوا کے گناہ کر بیٹھنے اور جنت سے نکالے جانے کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جونؔ ایلیا نے اپنی شاعری میں قرآنی تلمیحات بھی استعمال کی ہیں۔ مثلاً:

؎تُجھ سے نہیں رہا ہے کوئی نامہ و پیام

عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں

تُجھ کو یقین نہ آئے یہ اور بات

میں تُجھ سے دور رہ کر بھی تیرے ہی پاس ہوں

ممکن کہاں ہے تجھ سے جدائی متاع جاں

تو ہے میرا لباس، میں تیرا لباس ہوں

(لباس)    ۵؎

قرآن شریف میں سورہ البقرہ کی آیت (۷۸۱) ہے:- ”ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ”۔ جس کا ترجمہ ہے:- ”وہ عورتیں لباس ہیں تمہارے لیے اور تم مرد لباس ہو ان کے لیے۔” جونؔ ایلیا نے اپنی مندرجہ بالہ نظم ”لباس” میںاس تلمیح کے ذریعہ معشوق سے جسمانی جدائی کے بعد بھی  روحانی و قلبی قربت کا اظہار کیا ہے۔ ایک اور مثال ملاحظہ ہو:

لمحہ لمحہ پڑھا کرے انسان

نوحہ کل من علیہا فانٍ

(ہاے جمال احسانی)   ۶؎

جونؔ ایلیا نے  مندرجہ بالہ جمال احسانی کے شخصی مرثیے میں سورہ الرحمن کی آیت نمبر ۸۲ کوتلمیح کے طور پر نظم کیا ہے جس کا ترجمہ ہے:- ”روے زمین پر جو کچھ بھی ہے سب فانی ہے۔”

          یوسف علیہ السلام اور ان سے جڑے واقعات اور افراد اردو شاعری کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی تلمیحات میں سے ایک ہیں۔ جونؔ ایلیا نے اس تلمیح کو خوب استعمال کیا ہے مثلاً:

؎مصرِ لطف و کرم میں بھی اے جونؔ

یادِ کنعاں ہے، کیا کیا جائے ۷؎

 مندرجہ بالا شعر میں جونؔ ایلیا بتاتے ہیں کہ مصر کے بادشاہ بن جانے کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے وطن کنعان کی یاد ستاتی رہتی ہے حالانکہ ان پر وہاں بہت مظالم گزرے تھے۔

؎پسند آتا ہے دل سے یوسف کو

وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں ۸؎

اس شعر میں جونؔ کہتے ہیں کہ بھائیوں کے تمام مظالم کے بعد بھی حضرت یوسف علیہ السلام جو انہیں ناپسند نہیں کرتے اس کا سبب یا تو خون کے رشتے ہیں یا حضرت یوسف علیہ السلام کے مزاج میں داخل صبر و تحمل۔

؎عہدِ رفتہ کی متاعِ کارواں گم ہو گئی

آہ بوئے یوسف کنعانِ جاں گم ہو گئی۹؎

اس شعر میں یعقوب علیہ السلام کے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کی خوشبو کو دور سے ہی محسوس کر لینے کی تلمیح کو برتا گیا ہے مگر اس جدید المیہ کے ساتھ کہ گزرے ہوئے زمانے کا تمام قیمتی اثاثہ اس طرح سے مٹتا جا رہا ہے کہ اب اس کی بو تک باقی نہ رہی۔

اردو ادب میں یوسف علیہ السلام کی تلمیح کے مانند حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی تلمیحات بھی بکثرت استعمال کی گئی ہیں۔ جونؔ ایلیا کے کلام سے اس کی مثالیں ملاحظہ ہوں:

؎صلیبِ وقت پر میں نے پکارا تھا محبت کو

مری آواز جس نے بھی سنی ہوگی، ہنسا ہوگا  ۱۰؎

اس شعر میں جونؔ نے انسانی بے حسی کی تصویر کھینچی ہے ۔ صلیب کی تلمیح سے حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے کی طرف ذہن مبذول ہو جاتا ہے۔

           موسیٰ علیہ السلام کی تلمیح کو وہ اس طرح نظم کرتے ہیں:

؎جون یوں ہے کے آج کے موسیٰ

آگ بس آگ لائے جائیں گے ۱۱؎

اس شعر میں جونؔ حضرت  موسیٰ علیہ السلام اور آتش سینا کے واقعے کو ایک نئے انداز میں نظم کرتے ہوئے حال کے رہنماؤں کی تباہ کار ارادوں پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ جون ایلیا فرعون و شداد کی تلمیح کو اس طرح برتتے ہیں :

خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں

جاناں جان! ترے درباں تو فرعون و شدّاد ہوئے ۱۲؎

          اس شعر میں فرعون و شداد جو کہ ظلم نخوت و غرور کی علامت ہیں ان کو درباں کا استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جون نے اس شعر میں طبقاتی تفاوت کے موضوع کو نہایت چابک دستی سے بیان کیا ہے۔اک شعر میں وہ ثمود و عاد کی تلمیحات لاتے ہیں:

اب مشیت بھی تمہارے ساتھ ہے

اے ثمود و عاد جو چاہو کرو ۱۳؎

ثمود عرب کے شام میں بسنے والی قوم تھی جس کی ہدایت کے لیے حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ اس قوم نے انہیں جھٹلایا اور اسی سبب سے عذاب الہی سے ہلاک ہوئے۔ عاد بھی ایک قوم تھی جس کی ہدایت کے لیے ہود علیہ السلام بھیجے گئے اس قوم نے ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور طوفانِ باد سے تباہ ہوگئے ۔ ان تلمیحات کو لاتے ہوئے جونؔ دور حاضر کے جہالت، ظلم و فریب کا نقشہ کیھنچتے ہیں۔ جونؔ نے اسلامی تلمیحات کو فکری اور علامتی طور پر استعمال کرتے ہوئے پیرایہ بیان کو نئی جہت عطا کی ہے اور جدید انسان اور اس کے عہد کی عکاسی کی ہے۔

جونؔ ایلیا نے دیومالائی اساتیری تلمیحات کو بھی خوب استعمال کیا ہے۔ ان کی شاعری میں زیوس، پھینکس، ایزد و اہرمن، مینار بابل وغیرہ اساطیری کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ یونانی اساطیر کا شمار دنیا کی سب سے قدیم اساطیر میں ہوتا ہے۔ جون ایلیا کی شاعری میں اگر یونانی اساطیر پر غور کریں تو سب سے پہلی نظر zeus پر پڑتی ہے۔مثلاً:

؎تھیوفانیس راوی ہے کہ اس شب اور وہ شب

دیوتا زیوس کی سوگند، ایک عجب شب تھی

مجھے ایتھینز کے محتاط لیکن خوش زباں، شیوا بیاں

اور طیلسانی اہل دانش نے بتایا ہے

کہ سارے شہر کا سر تیز تر لڑکا

خیال انگیز تر لڑکا جو سوزش تھا مثانوں کی

بڑا ہو کر جو دستاویز ٹھہرا آسمانوں کی

(کرشمہ ساز تر لونڈا)   ۱۴؎

           زیوس zeus جو دیوتاؤں کا دیوتا مانا جاتا ہے اور روحانی اقدار کی علامت ہے اس کا ذکر افلاطون پر لکھی گئی  جون کی نظم ‘کرشمہ ساز تر لونڈا’ میں ملتا ہے۔ جون فینکس کی تلمیح کو بھی اپنی نطم میں علامتی طور پر برتتے ہیں :

؎آل ققنس میں فونیس کا کوئی ثانی نہ تھا

اور الحق کہ یہ قول حق ہے جو ہے

امر تاریخ و انساب جو ہے وہ ہے

ہشت سو سال تک اس نے دلی میں

لاہور میں، اور ازاں بعد طرس و بخارا میں

طرطوس میں اور حلب میں علوم و فنون قدیمہ

کے فاضل ترین اہل دانش کی صحبت سے

دانش فزا استفادہ کیا تھا

وہ طائر عجب دانش افروز تھا

بینش آموز تھا

(فونیس)   ۱۵؎

فینکس(فونیس) ایک  پرندہ ہے جو اپنی ہی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور اسی راکھ سے پھر سے جنم لیتا ہے۔یہ پرندہ امید، تجدید اور لازوال زندگی کی علامت مانا جاتا ہے۔ جون ایلیا کی ایک مکمل علامتی نظم ‘فونیس’  اس دیو مالائی پرندے کے وجود پر مشتعمل ہے جس میں انہوں نے اپنے خانوادے کی تاریخ علامتی انداز میں نظم کی ہے۔  بابلی اساطیر کے حوالے سے جون ایلیا کی نظم ‘ برج بابل ‘ قابل ذکر ہے جس میں بابلی روشن مینار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

؎برج بابل کے بارے میں تو نے سنا؟

برج کی سب سے اوپر کی منزل کے بارے میں تو نے سنا؟

” مجھ سے کلدانیوں کاہنوں  نے کہا

برج کی سب سے اوپر کی منزل میں

اک تخت خوابِ قداست ہے

جس پر خداوند آرام فرما رہا ہے

خداوند ان کا خدا

حضرت اقدس کبریا

اور سر تا سرِ ارضِ بابل میں یعقوب کے مردوزن

جاں کنی کی اذیت میں

زندہ رکھے جا رہے ہیں

یہی ان کا مقسوم تھا

اور ازل سے خداوند آسودہ ہے

( برج بابل)   ۱۶؎

اہل بابل نے ایک سات منزلہ مینار تعمیر کیا تھا۔ اس مینار کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ خدا سے باتیں کریں گے اور آسمان کو چھو لیں گے۔ اس تکبّر کی سزا اُنہیں یوں دی گئی کے اُنہیں خدا نے مالگ الگ زبانیں بولنا سکھا دیں اور اہل بابل ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے اور مینار کی تعمیر پوری نہ کر سکے۔ یہ برج بابل انسان کے تکبّر کی علامت ہے۔جون ایلیا یزداں و اہرمن کے دیومالایٔ کرداروں کو اس طرح نظم کرتے ہیں :

؎انکار ہے تو قیمت انکار کچھ بھی ہو

یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی ۱۷؎

؎ایزد و اہرمن تو ہیں لمحہ بہ لمحہ کینہ جو

بود کی جیب میں ہے چاک یار کوئی رفو کرو ۱۸؎

          ایرانی اساطیر میں آہور امزد یا یزداں روشنی کا دیوتا ہے اور اہرمن تاریکی، جھوٹ، مکر و فریب کی علامت ہے۔

ان مثالوں کے بعدہم کہ سکتے ہیں کہ جون ایلیا کے فکری کینوس میں متعدد تہذیبوں کے رنگ جذب تھے۔ جون کی فنکاری کا کمال یہ ہے کہ وہ اساطیر کو ان کے محدود معنی میں نہیں برتتے بلکہ اس طرح برتتے ہیں کہ معنی و مفہوم کے کئی پہلو تلاشنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اساطیر کسی مخصوص معاشرے اور اوقات کے ترجمان ہوتے ہوئے بھی اپنے علامتی پہلو کے سبب لازماں اور وقت سے ماورا ہوتے ہیں۔ اس کی رمزیت و معنویت اسے زندہ جاوید رکھتی ہے نیز اپنے انہیں اوصاف کے سبب پیرایہ بیان کو موثر اور تہ دار بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جدید مسائل کی عکاسی میں جون ایلیا نے اساطیر کا استعمال کر کے جس طرح اپنے اشعار میں جمالیات اور معنی خیزی پیدا کی ہے وہ واقعی  قابل تحسین ہے۔

          ایرانی تلمیحات میں جونؔ ایلیا رستم کی تلمیح کو بکثرت استعمال کرتے ہیں مثلا :

؎صد یاد یاد جونؔ وہ ہنگام دل کہ جب ہم

ایک گام کے نہ تھے پر ہفت خواں کے تھے  ۱۹؎

؎اپنی منزل نہیں کوئی فریاد

رخش بھی اپنا بد رکاب نہیں  ۲۰؎

؎سنو کہ فردوسیِ زمانہ پرکھ چکا ظرفِ غزنوی کو

جو فکر و فن کو ذلیل کر کے عزیز رکھتا تھا اشرفی کو

تقدسِ بت شکن میں دیکھا تکلفِ ذوقِ بت گری کو

اب ایک ہجوِ جدید لکھنی ہے عصرِ حاضر کی شاعری کو

(دوآوازیں) ۲۱؎

؎لازم ہے خون کا حزر کوئی بہائے یا بہے

رستم و ذال ہیں ملال یعنی کہ سام رنج ہے۲۲؎

ہفت خواں، رخش، فردوسی و غزنوی، رستم، ذال اور سام یہ ساری تلمیحات رستم کی تلمیح کی مختلف شکلیں ہیں۔ رستم کا کردار تاریخی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ فردوسی کے شاہ نامہ فردوسی کا ہیرو بھی ہے۔ فردوسی نے شاہنامہ کو غزنوی کے دربار میں پیش کیا تھا۔ غزنوی نے متعینہ انعام میں کٹوتی کر کے دی تو فردوسی نے اس رقم کو ٹھکرا دیا تھا۔ رستم کے والد کا نام ذال اور دادا کا نام سام تھا یہ دونوں بھی بہادری اور پہلوانی کے لیے مشہور ہیں۔ سہراب رستم کا بیٹا تھا جس سے ناگہاں اس کی جنگ ہوئی اور سہراب رستم کے ہاتھوں اس جنگ میں مارا گیا۔رستم نے قیقاؤس کو مازندان کے بادشاہ سے چھڑانے کے لیے سات خطرناک منزلوں کو طے کیا جسے ہفت خواں کہتے ہیں۔ رخش رستم کے گھوڑے کا نام ہے جو اپنی بہادری کے لیے مقبول ہے۔ درج بالا اشعار میں رستم کی تلمیحات کو نئی معنویت عطا کی گئی ہے۔

جونؔ ایلیا کے کلام میں عشقیہ اشعار کی تعداد کافی زیادہ ہے جنہیں نظم کرنے میں وہ عشقیہ تلمیحی کرداروں جیسے لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، شیری فرہاد کو لاتے ہیں اور موضوع کو مزید دلکش اور دل آویز پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔  جونؔ ایلیا شیریں فرہاد کی تلمیح کا استعمال اپنے فکری اظہار کے لیے بہت دلکشی سے کرتے ہیں۔مثلاً:

؎اس طرف کوہ کن ادھر شیریں

اور دونوں کے درمیاں خوں ہے ۲۳؎

؎ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو

گلگوں اب تک کتنے تیشے بے خون فرہاد ہوئے۲۴؎

؎تھی کبھی کوہ کن میری شیریں

اب تو آداب برتے جاتے ہیں۲۵؎

؎فقط ایک کوہ کن رہنا ہے مجھ کو

غرورِ خسروی لوٹا رہا ہوں۲۶؎

مندرجہ بالہ پہلے شعر میں جدوجہد کے بعد بھی ناکامی اور قربانی کا مضمون بہت پراثر انداز میں پیش کیا ہے۔ دوسرا شعر اس صداقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کتنے ہی عشاق عشق میں قربان ہو جاتے ہیں لیکن ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو شہرت نہیں ملتی۔اس شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ گلگُوں لایا گیا ہے جس کے لفظی معنی سرخ کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ خون کی سرخی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تلمیحی اعتبار سے گلگوں شیریں کے گھوڑے کا بھی نام تھا۔ تیسرا شعر انسانی جذبات کے خلوص کے زوال کی داستان بیان کرتا ہے کہ وہی شیریں جو میرے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھی اب مجھ میں اور اس میں قلبی اپنائیت کی وہ روِش باقی نہیں رہ گئی ہے۔ چوتھے شعر میں جونؔ ایلیا نے اقتدار اور غرور اور تکبر کی جگہ سادگی عشق اور جدوجہد جیسی قدر و ںکو فوقیت دی ہے۔

          جونؔ ایلیا کے کلام میں لیلیٰ مجنوں کی تلمیح سے کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:-

؎شہر لے جا رہے ہیں مجنوں کو

آج سے ہو رہا ہے بن تنہا۲۷؎

؎ٹکٹکی باندھ دیکھتا ہے مجھے

قیس ایک ہونہار کے مانند ۲۸؎

؎دشتِ گماں میں ناقہ لیلیٰ تھا گرم خیز

شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا۲۹؎

؎مہمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر

وہ بات شہر میں تو نہیں جو بن میں تھی۳۰؎

مندرجہ بالہ اشعار میں جونؔ ایلیا نے پہلے شعر میں سماج کے جابرانہ قید و قوانین کے موضوع کو مجنوں کی تلمیح کے حوالے سے واضح کرتے ہوئے جدت پیدا کی ہے۔ دوسرے شعر میں اپنے عشق و جنون کی شدت بیان کرنے کے لیے قیس کے ساتھ لفظ ہونہار لائے ہیں۔ ان کی کیفیت ایسی دیدنی ہے کہ مجنون قیس بھی ان سے سیکھنے کا طلبگار نظر آتا ہے۔  تیسرے شعر میں شہری زندگی میں انسان کی الجھنوں کی طرف اشارہ گیا ہے۔ جونؔ نے ناقہ لیلیٰ کو ذہنی اضطراب کا استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔ چوتھے شعر میں اس دور کے عشق کے جذبے میں کمی کو موضوع بنایا ہے۔

          ہیر و رانجھا کی تلمیح سے ایک مثال ملاحظہ ہو:

؎کوئی شام و سحر کے کوچے کوچے میں

فغاں بر لب تپش در دل

یہ شور سینہ عشقِ ہمیشہ طرح کر سکتا

کے تو میری ہے، میری ہیر! رانجھے کی نہیں ہے

اور میں بیگانگی انجام، وارث شاہ ہوں تیرا

ندائے آتشِ دل ہے صدر آتش جاں ہے

(ندائے آتش دل)   ۳۱؎

مندرجہ بالہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جون ؔ ایلیا نے مختلف قسم کی اسلامی، غیر اسلامی ، تمدنی اساطیری اور عشقیہ تلمیحات کو کس خوش اسلوبی سے برتا ہے۔ تلمیحی کردار و واقعات کو وہ کبھی تشبیہ کی شکل میں لاتے ہیں کبھی استعارے اور علامت کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں تلمیحات کے بکثرت استعمال سے رمزیت اور تہداری کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے۔جدید دور کے سیاق و سباق میں ان تلمیحات کا استعمال اُن کی شاعری کو کثیرالجہت بناتا ہے اور جونؔ ایلیا کا مطالعہ اور تاریخی شعوران اشعار اور نظموں میں برتے گئے موضوعات کو معنوی وسعت عطا کرتا ہے۔

حوالہ جات

۱؎  ص۴۱، خزانہء تلمیحات، محمود نیازی ، ملک بک ڈپو لاہور

۲؎  ص ۲۴۶، کلیات جون ایلیا، جون ایلیا، مرتبہ فاروق ارگلی،فرید بک ڈپو،۲۰۲۲؁

۳؎  ص۱۹۳، کیوں ،  جون ایلیا،عبارت پبلیکیشنز ، ۲۰۲۴؁ء

۴  ؎ ص ۲۷۰، ایضاً

۵؎  ص ۱۹۴،کلیات جون ایلیا، جون ایلیا، مرتبہ فاروق ارگلی،فرید بک ڈپو،۲۰۲۲؁ء

۶؎  ص۳۰۸، ایضاً

۷؎ ص ۳۱۹،  ایضاً

۸؎  ص ۲۴۴،  ایضاً

۹؎  ص ۳۸۳ ،  ایضاً

۱۰؎ ص ۱۴۱،  ایضاً

۱۱ ؎ ص۱۵۸،  ایضاً

۱۲؎  ص۲۵۳،  ایضاً

۱۳؎  ص ۱۲۵،کیوں ،  جون ایلیا،عبارت پبلیکیشنز ، ۲۰۲۴؁ء

۱۴؎ ص ۲۷۹،ایضاً

۱۵؎  ص ۲۹۱،کلیات جون ایلیا، جون ایلیا، مرتبہ فاروق ارگلی،فرید بک ڈپو،۲۰۲۲؁ء

۱۶؎  ص ۶۱،ایضاً

۱۷؎  ص ۸۵، ایضاً

۱۸؎ ص۳۵۵،ایضاً

۱۹؎ ص۱۷۸،ایضاً

۲۰؎ ص۲۴۰،ایضاً

۲۱؎ ص ۱۲۲،ایضاً

۲۲؎ ص ۴۰۷،ایضاً

۲۳؎ ص ۹۹،ایضاً

۲۴؎ ص ۲۵۲،ایضاً

۲۵؎ ص۱۴۰،ایضاً

۲۶؎ ص۱۲۸،ایضاً

۲۷؎ص۳۴۰،ایضاً

۲۸؎ص۳۳۰،ایضاً

۲۹؎ص۷۹،ایضاً

۳۰؎ص۸۴،ایضاً

۳۱؎ص۳۰۰، کیوں ،  جون ایلیا،عبارت پبلیکیشنز ، ۲۰۲۴؁ء

Leave a Reply