
مریم سلطانہ
خواب در خواب
رات کا آخری پہر تھا۔اس کی نیند ٹوٹ رہی تھی۔ وہ خوابوں کی دنیا میں کہیں دور چلی جا رہی تھی اور بار بار نیند ٹوٹ رہی تھی اور وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ یہ کیا کوئی خواب ہے یا کوئی حقیقت یاپھر میرے اندر کی کوئی آواز جو مجھے صدا دے کر بار بار اس گہری نیند سے جگا رہی ہے۔ شاید یہ کوئی خواب ہی ہے،ہاں خواب ہی ہے وہ اپنے خواب میں بس چلتی جا رہی تھی اور اسے کوئی راہ نظر نہیں آرہی چاروں سمت تاریکی ہی تاریکی چھائی ہوئی ہے اور وہ اضطراب میں بس تیزی تیزی سے قدم بڑا رہی تھی اتنے میں دور سے کچھ عجیب سے آواز سنی جب دھیرے دھیرے اس آواز کے قریب پہنچی تو ایک پرچھائی اس کے نزدیک آرہی تھی۔ وہ آواز اس پرچھائی کی ہی تھی،اور وہ پرچھائی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔وہ آواز کہنے لگی کہ کب سے میں تمہارا انتظا کر رہی تھی۔ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ کیا تم میری بات کو دوسروں تک پہنچا سکتی ہو؟ کیا تم میرا یہ کام کرو گی اور کیا میرے چند سوالوں کا جواب دے سکتی ہو؟ میں ان سوالوں کو کئی برسوں سے ڈھونڈ رہی ہوں کہیں اس کا جواب نظر نہیں آ رہا۔
صائمہ پہلے تو اس عجیب و اچانک پیش آنے والے حادثے سے بھی تھوڑا تعجب کرتی ہے۔پھر کہتی ہے تم کون ہو؟ کیا تم میرے اندر کی آواز ہو یا کوئی اور تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟ تم مجھ سے کیوں پوچھنا چاہتی ہو دنیا میں بہت سے لوگ ہیں شاید وہ تمہارے سوالوں کا جواب دیں تم نے مجھے ہی کیوں چنا؟ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا ہاں بتاؤ تمہیں کیا سوال کرنا ہے۔
وہ آواز کہنے لگی میں سمجھ سکتی ہوں تمہارے اندر بہت سے سوال ہیں اور تمہارا پوچھنا بھی ٹھیک ہے لیکن جب تم میری بات غور سے سنو گی اور جب میرے سوالوں کا جواب دو گی تو تم خود سمجھ جاؤ گی کہ میں کون ہوں اور میں تم سے کیا کہنا چاہتی ہوں۔ اب میں تمہیں اپنا درد کیسے بتاؤں میں تم سے کیا کہوں میں اپنے آپ سے تھک گئی ہوں کیونکہ لوگ میرا ایسا استعمال کرتے ہیں کہ میں خود کبھی کبھی دنگ رہ جاتی ہوں کہ میں آخر چیز کیا ہوں اور کبھی کبھی کسی نے مجھ سے انصاف کی بھی بات کروائی ہے اور جب جب ایسا ہوتا ہے تو مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے اور جب جب میں خود خاموش رہنے کی کتنی بھی کوشش کر لوں پر لوگ مجھے آخر کار بولنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور کبھی خود پر خوش بھی ہوتی ہوں تو کبھی روتی بھی ہوں۔ اچھا ایک بات بتاؤ میں خود حیران ہوں کہ کیا میں ہنس سکتی ہوں یا رو سکتی ہوں کیا مجھے ہنسنے اور رونے کا حق دیا گیا ہے بتاؤ مجھے؟
ہاں کیوں نہیں دنیا میں ہر کسی کو اپنا حق حاصل ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل انسان ہر کیسی کا حق مارے معاشرے میں بڑی شان سے پھرتا ہے۔تم ہنس سکتی ہو ایسا سوال کیوں پوچھ رہی ہو لیکن روتی کیوں ہو دنیا میں لوگوں کا کام ہی ہے ہر کسی کو برا بھلا کہنا تم ان کی باتوں پر زیادہ توجہ نہ دو لیکن ہاں پر خود کو کبھی غلط استعمال کرنے مت دینا تم اس پر تھوڑا احتیاط کرنا سمجھ گئی۔
وہ آواز کہنے لگی مجھے یہ بات سن کر تھوڑا عجیب لگ رہا ہے کہ تم مجھے غلط استعمال سے بچنے کے لیے کہہ رہی ہو۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ تم انسان ہی مجھے اپنی مرضی کے مطابق جب، جیسے، جہاں چاہے استعمال کرتے ہو یہی تو مجھے تم سے شکایت ہے کہ آخر میں مجرم بھی میں ہی ہوتی ہوں اور الزام بھی مجھے پر لگایا جاتا ہے اور ساری خطائیں بھی مجھ سے ہی ہوتی ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے بھلا۔مجھے خود سے ہی کبھی کبھی ڈر سب محسوس ہوتا ہے کہ میرے کہنے سے کسی کی زندگی نہ اجڑ جائے۔پر حیرت ہے کہ یہ بات انسان کیوں نہیں سوچتا جو مجھ کو استعمال کرتا ہے ویسے بھی میں بھلا یہ سب کیوں سونچوں سوچنے کا کام تو صرف انسان کو ہی حاصل ہے،لیکن اس کے باوجود بھی پتہ نہیں میرے پاس سوال کیوں آتے ہیں۔
تو کیا تم انسان نہیں ہو؟ یہ سب کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔ تم۔۔۔۔ تم آخر ہو کون؟ آواز کہنے لگی ہاں تم صحیح سمجھ رہی ہو میں کوئی انسان نہیں جب کہ سوال کرنے اور پوچھنے کا حق تو صرف انسانوں کو سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تم ہی بتاؤ مجھے استعمال تو کرتے ہیں لیکن اپنی مرضی کے مطابق اور مجھ سے میری مرضی ایک بار بھی نہیں پوچھی جاتی کہ میں استعمال ہونا چاہتی ہوں یا پھر نہیں۔آخر نے بد نام بھی مجھے کیا جاتا ہے اور برا بھی مجھے ہی بولا جاتا ہے یہ بول بولنا بھی کیا میرا حق نہیں ہے تم ہی بتاؤ میں مظلوم ہوں یا ظالم؟
ظالم و مظلوم یہ تم کیسے ہو سکتی ہو؟جب تم کہہ رہے رہی ہو کہ تم انسان ہی نہیں ہو تو تمہارے ساتھ کوئی کیا ظلم کر سکتا ہے۔جب کہ لوگ اکثر کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم تو صرف انسان ہی ہے۔ جب کہ در حقیقت انسان خود سب سے زیادہ ظلم کرتا ہے۔دراصل انسان خود کو طاقتور سمجھ کر دوسروں کو کمزور جانتے ہوئے ظلم کرتا ہے جبکے اصل طاقتور تو وہ ہے جو ظلم سہہ کر بھی خاموش کا مظاہرہ کرے۔
آواز کہنے لگی ہاں تم ٹھیک کہتی ہو میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ انسان کچھ مجھے استعمال کرنے سے پہلے بہتر ہے تھوڑا عقل کا ہی استعمال کرے اور کسی کے یہاں تو مجھے قید میں رکھا گیا ہے جیسے جرم کرنے پر مجرم کو ایک اندھیری کوٹھری میں رکھا جاتا ہے،اور کیسی کیا یہاں غلام ہو جو حکم ہوتا ہے چپ چاپ کر دیتی ہوں۔ شاید میں ان غلامی کی زنجیروں سے کبھی آزاد نہیں ہوسکوں گئی۔
یہ کیا کہہ رہی ہو۔ تم قید بھی ہو سکتی ہو۔بھلا تمہیں کون اور کیوں قید کرے گا؟ کیا تمہیں قید بھی کیا جا سکتا ہے؟ تم تو ایک لچکدار چیز معلوم ہوتی جو اپنی لچک سے کسی کو گرا سکتی ہے اور منٹوں میں کسی کی دنیا بدل سکتی ہے بھلا تمہیں کون قید کرے گا۔
آواز کہنے لگی بعض انسان تو ایسے ہیں جن کے پاس تو میں ہوں اس کے باوجود وہ ساری زندگی میری مدد کے بغیر ہی گزار لیتے ہیں اورمیں بہت تحیر سے اس شخص کو دیکھتی ہوں کہ انسان میرے بغیر بھی زندگی گزر، بسر کر سکتا ہے تو میں اس کی زندگی میں آخر کس لیے ہوں جبکہ میرے بغیر بھی وہ زندہ ہے اور اپنے ہر کام کو بخوبی نبھا رہا ہے۔ تو بھلا میری کیا ضرورت تھی شاید اس کی طرح ہی پورے انسان بھی میرے بغیر رہ سکتے تھے تو آخر میرا وجود کیوں ہوا ہوگا؟ کبھی کبھی اللہ سے بھی کہتی ہوں کہ مجھے انسان کے ساتھ کیوں جوڑ دیا یہ میرا بہت غلط استعمال کرتا ہے پھر شاید یہ سوچ کر خاموش ہو جاتی ہوں بروز قیامت حشر کے میدان میں جب سب جمع ہوں گے تو اس وقت مجھ پر تالا ضرور لگا دیا جائیگا لیکن انسان کے جسم کے ہر حصہ سے مجھے جوڑ دیا جا? گا۔۔۔
اچھا تو تہمارا ہمارے ساتھ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیا ہم سے کوئی بھی انسان کو تم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا؟
آواز نے کہا نہیں نہیں دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو میرے استعمال کے ذریعے کئی زندگیوں کو سب وہ ہرا بھرا کرتے ہیں، انصاف دلاتے ہیں اور میں ہی ہوں جس کے ذریعے انسان اپنے کلام کا معاملہ آسانی کے ساتھ کرتا ہے اور تمہیں کیا بتاؤں میرا سب سے غلط و لاشعوری استعمال عورتیں کرتی ہیں اگر یہ بات کہوں تو شاید غلط نہ ہوگا کیونکہ وہ سوچتی ہی نہیں بس شروع ہو جاتی ہے اور بغیر سوچے سمجھے کئی لوگوں کا دل اس قدر درد میں چھوڑتی ہے جیسے دل میں کوئی تیر پیوست ہوا ہو وہ بھی نیم نہ کہ پورا جس کی چبن پورے تیر سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ خیر میرے پاس اور بھی کئی سوال ہیں لیکن آئیندہ جب ملوں گی تب کچھ بتاؤں گی اس بار بس اتنا ہی۔۔۔۔
اچھا سنو تو تم کہہ رہی تھی کہ انسان جھوٹا ہے اور غلط بات کرتا ہے تمہیں کیا شکایت ہے ہم انسانوں سے مجھے بتاؤ تا کہ میں شاید تہمارا یہ پیغام دوسروں تک لے جاسکوں ۔ آواز کہنے لگی میرے اندر جو سچ کے لذت ہے اسے انسان کڑوی، کوئی نیچی چیز سمجھتا ہے اورجھوٹے شرین لفظوں سے لطف اندوز ہوتا ہے اور ایسے اپنا سرتاج بناتا ہے۔ وہ فریب جسکی کوئی منزل نہیں۔۔
اس آواز کی باتیں سن کہ صائمہ نے کہا تم آخر کہنا کیا چاہتی ہو میں تمہاری باتوں کو سمجھ نہیں پارہی۔
جانے دو تم میری بات نہیں سمجھو گی ۔ اگر تمہارے اندر کوئی احساس ہوتا تو شاید تم میری بات سمجھ پاتی لیکن میں ہی غلط تھی جو اپنے جذبات کو تمہارے سامنے رکھا اور اپنا درد بانٹا۔۔
یہ سب سن کہ صائمہ کو ایک عجیب کیفیت نے قید کر لیا اس نے اس بولنے والی چیز سے کہا کہ دیکھو تم انسان نہیں ہو اس کے باوجود
کیسے کسی چیز کے احساس، جذبات کو محسوس کرنے کا کہہ سکتی ہو۔جبکہ میں سمجھتی ہوں کہ صرف انسان ہی واحد مخلوق ہے شاید جو جذبات واحساسات کو سمجھ سکے۔
اس کی بات پر وہ آواز ہنسنے لگی اور کہا کاش جو تم کہتی ویسے ہوتا تو میں یہاں یوں تمہارے سامنے ہم کلام نہ ہوتی اور خود کی صفائی میں یا خود کی بہتری سمجھوں تم سے آکر نہ کہتی:
کیا تم نہیں جانتی کہ میرے بارے میں کئی بڑے
بڑی شخصیات نے ذکر کیا ہے دانا حکیم کا وہ واقعہ نہیں سنا جو اپنے خانساماں سے کہتے ہیں کہ جاؤ آج میرے لیے کھانے میں سب سے اچھی چیز پکا کر لاؤ تو اس نے مجھے پکایا پھر دوسرے دن خانساماں سے کہا گیا کہ آج کھانے میں سب سے بری چیز پکا کر لاؤ تو پھر سے مجھے پکایا گیا۔اس پر سوال ہوا کہ دونوں وقت یہی کیوں بنایا توکہا کہ سب اچھی چیز بھی میں ہے اور سب سے بری بھی۔