You are currently viewing راحت اندوری ،سماج اور ہم سب

راحت اندوری ،سماج اور ہم سب

زبیر عالم

گنیش شنکر ودیارتھی انٹر کالج ،ہتھگائوں، فتح پور

اترپردیش۔212652

راحت اندوری ،سماج اور ہم سب

         بلا شبہ راحت اندوری ہمارے دور کے مقبول شاعروں میںسے ہیں ۔بہ حیثیت استاد اپنے سفر کا آغاز کرنے والے راحت اندوری نے بہت کم عرصے میں پاپولر شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ راحت اندوری نے درس وتدریس سے نکل کر اپنے آپ کو صرف مشاعروں کے لیے وقف کر دیا۔یوں تو راحت اندوری صحت مند معلوم ہوتے تھے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج  وہ کل  ہماری  باری ہے

         یوں تو یہ آسان معلوم ہوتاہے کہ انہیں پاپولر شاعربتایا جائے اور اس طرح سرسری انداز میں گفتگو کرتے ہوئے بات ختم کر دی جائے ۔تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے کہ مذکورہ شاعرکے کلام میں کیا ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو اسے تا دیر ادبی منظر نامے پرباقی رہنے دیں ۔اسی پس منظر میںآج ہم  راحت اندوری کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کرنے جا رہے ہیں۔

         مشرقی معاشرے میں ابتدا سے ہی چند ایسی خوبیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جن کا سیدھے طور پر واسطہ زندگی کرنے کے عمل سے تھا۔ صدیوں سے رواں دواں انسانی زندگی میں سماج کے مختلف طبقوں کے مابین ایک طرح کا باہمی اشتراک تھا کہ معاشرے میںوہ کیارہنما اصول ہوں جن کی مدد سے سماجی تانے بانے کوحسن و خوبی کے ساتھ چلایا جاسکے۔صدیوں کے تجربے نے ہمیںکچھ مشترک بنیادیں فراہم کیں اور جس کی بنا پر آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں کہ کچھ استثنائی صورتوں کو چھوڑ کرہماری زندگی پرسکون ہے۔

          مجھے دیگر باتوں سے اس وقت بہت زیادہ سروکار نہیں ہے۔میری گفتگو صرف ان امور تک محدود ہے جس میں پرانی نسل اور نئی نسل کے درمیان کابعدنمایاں ہوتاہے۔ نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان یہ لا تعلقی کا احساس کیوں ہے؟  اس کے اسباب کیا ہیں؟ لوگ اس ضمن میں مختلف خیموں میں تقسیم نظر آتے ہیں ۔کچھ کا کہناہے کہ نئی نسل چونکہ پہلے کی نسل کی بہ نسبت زیادہ بے دارہے ۔مختلف قسم کی سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف اپنے آس پاس سے بہتر طور پر واقف ہے بلکہ عالمی پیمانے پررونما ہونے والے حادثات و واقعات سے بھی آشنا ہے ۔اس لیے نئی نسل اورپرانی نسل کے درمیان فرق کا پایا جاناکوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔

         اس کے بر عکس دوسرے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ نئی نسل کے درمیان سے وہ احساس غائب ہوتا جا رہا ہے جس کی مدد سے بزرگ اپنے چھوٹوں کی تربیت کرتے تھے۔پرانی اقدارسے نئی نسل متعارف نہیں ہوتی ہے ۔جس کا نتیجہ بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ یہی وجوہ ہی صرف اس صورت حال کی ذمے دار ہیں۔راقم کے نزدیک اور بھی مسائل ہیں جن کی تلاش و تفتیش سے مذکور ہ مسئلے کی تفہیم آسان ہو سکتی ہے۔مثال کے طور بدلے ہوئے تناظر میں وقت کے مختلف موڑ پر نئی نسل اور پرانی نسل کے مابین اشیاء کو دیکھنے کے نظریے کا تجزیہ کیا جائے تو مطلع بہت حد تک صاف ہو جائے گا۔ ان خیالات میں کون صحیح ہے اور کون غلط فی الوقت اس سے کوئی بحث نہیں ہے۔راحت اندوری ان دونوں گروہ میں کس جانب کھڑے نظر آتے ہیں اس کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین راحت اندوری کے تعلق سے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

          ایسا کہا جاتا تھاکہ دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب بنیادی طور پر انسان کو نیک بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ تاہم کچھ دہائیوں سے مسلسل ہو رہی شورش ہمارا ذہن اس جانب بھی منتقل کرتی ہے کہ اب نظام زنگ آلود ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی رہنما بھی اب مشکوک سمجھے جانے لگے ہیں۔جن پر سماج اور معاشرے کی ذہن سازی کا انحصار تھا ان کی صفوں میں وہ عناصر بھی پناہ لیے ہوئے ہیں جن کو صرف موقع کی تلاش ہوتی ہے۔تھوڑاسا ماحول نے کروٹ لی کہ ایسے لوگ نفرت کو ہوا دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں پھر نتیجہ کیا بر آمد ہوتا ہے اس سے ہم آپ سب واقف ہیں۔ آج کا شاعر ان طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کو بہتر طور پر سمجھتا ہے :

سب کو  رسوا باری  باری کیا کرو

ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو

جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں

لیکن  باتیں پیاری  پیاری کیا  کرو

وہ دیکھ مے کدے کے راستے میں

کوئی  اللہ  والا  جا  ر ہا  ہے

عبادتوں کا تحفظ بھی اب ان کے ذمے ہے

جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں

یہاں  لچھمن کی ریکھا ہے  نہ سیتا ہے  مگر پھر بھی

بہت پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے

         مذکورہ تمام اشعار مذہبی طبقے کے نمائندہ سمجھے جانے والے افراد کے بدلتے کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ اس طبقے نے کس طرح پرانے دنوں کی چمک کو اپنے عمل کے ذریعے سیاہ کیا ہے۔

         راحت اندوری کو اپنے معاشرے سے یہ شکایت ہے کہ اب وہ فرشتہ صفت لوگ نہیں رہے جن کی مدد سے ان کی دنیا،دنیا کی طرح تھی۔وہ لوگ جو اپنے چھوٹوں کی کوتاہی پرشفقت کے ساتھ تنبیہ کرتے تھے اور اس کے پس پشت کا فرما مقاصد سے بھی آشنا کراتے تھے۔ سماج کے ڈھونگیوں کو ان کے منھ پر ہی دو بات کہہ دینا ایسے لوگوں کی راست گوئی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا ۔آج وقت نے ایسے دن بھی دکھائے ہیں کہ ڈھونگ ہمارے دور کا سب سے بڑا سچ اور کامیابی کا نسخہ ہے۔اس قسم کی سرگرمیوں کے طفیل جاہ و جلال حاصل کرنے والے افرادسماج کے ان لوگوں پر حاوی ہو رہے ہیں جن کی صداقت شعاری کبھی بطور مثال پیش کی جاتی تھی۔راحت اندوری نے اس صورت حال پر نظر کی ہے اور متعدد اشعار کے ذریعے اپنے خیالات کو سامعین تک پہنچایا ہے:

اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو تھے ہم

زمیں آئینہ خانہ تھی چار سو  ہم تھے

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے

چراغ  ہاتھ  اٹھا  کر  دعائیں  کرنے  لگے

ترقی  کر  گئے  بیما ریوں  کے  سوداگر

یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے

عجیب رنگ تھا  مجلس کا خوب  محفل تھی

سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے

میں ثابت کس طرح کرتا کہ ہر آئینہ جھوٹا ہے

کئی کم ظرف چہروں کو اتر جانے کی جلدی تھی

         مٹتی قدریں ہر دور کے تخلیق کار کے لیے مسئلہ تھیں اور آج بھی سچا تخلیق کار اس مسئلے سے دوچار ہے۔پریشانی یہ ہے کہ ان قدروں کو کس طرح نشان زد کیا جائے۔ زمانے کی کروٹوں کے ساتھ بہت سی باتیں ہمارے شعور کا حصہ بنیں تو بہت سی باتوں کو ہم نے نظر انداز کر دیا۔آج کا فن کار اس صورت حال سے دو چار ہے کہ وہ کس بات کو بہتر جانے اور کس کو نہیں۔اس ضمن میں بیشتر فن کاروں کے کلام میں ایک طرح کے موازنے کا عمل موجود ہے۔اشیا اور اس سے متعلق امور کے موازنے سے وہ صورتیں ابھرتی ہیں کہ سامعین حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے خیالات کی مدد سے شاعر اپنے قارئین کو صرف حیرت زدہ کرنا چاہتاہے توایسی صورت حال کو مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔اس کے بر عکس کوئی تخلیق کار اپنے خیالات کی ادائیگی میں حیرت کاری کے ساتھ بصیرت کا پہلو بھی ر کھتا ہے تو اس کی تحسین بجاہے۔راحت اندوری کے کلام میں اس طرح کے اشعار جا بجا ملتے ہیں جو اپنے اندر احساس کی سطح پر نیا پن رکھنے کے ساتھ ساتھ دیرپائی کے عناصر سے بھی مزین ہیں:

میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے

میرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

ہوائیں  باز کہاں  آتی ہیں شرارت سے

سروں پہ ہاتھ نہ رکھیں تو پگڑیا ں اڑ جائیں

اس بستی کے لوگوں سے جب باتیں کیں تو یہ جانا

دنیا بھر کے جوڑنے والے اندر اندر بکھرے ہیں

خود کو  پتھر سا بنا رکھا ہے  کچھ لوگوں نے

بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں

تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے

شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے

         سطور بالا میں پیش کیے گئے اشعار اس بات پر صداقت کی مہر لگاتے ہیں کہ اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا ۔حساس انسان کے لیے یہ لازم سا ہو گیا ہے کہ وہ فن کاروں کے مانند ہی مقابلے اور موازنے کے عمل میں مصروف رہے۔راحت اندوری کی شاعری قارئین کو ہمارے دور کی اس حقیقت سے آشنا کراتی ہے جس میں ہم صورت حال سے واقف ہونے کے بعدبھی خاموش ہیں یا معاملات کی شدت کو محسوس ہی نہیں کر پاتے۔

***

Leave a Reply