
ایس معشوق احمد
‘‘رنگ رنگ کے شاعر’’میں طنزومزاح کے رنگ
صنف انشائیہ میری محبوبہ ہے۔جس طرح عاشق محبوبہ کی ناز برداری کرتا ہے اسی طرح میں انشائیہ کےنخرے اٹھاتا ہوں۔انشائیہ عورت کی طرح بڑی بے وفا صنف ہے اور کافرانہ ادائیں رکھتی ہیں۔اس کو اپنا ہم دم اور محبوب بنانے کےلئے بڑی کوفت اٹھانی پڑتی ہے۔کچھ اس کو آسانی سے قابو میں کر لیتے ہیں لیکن کچھ کا عشق اس صنف سے یک طرفہ ہوتا ہے۔یک طرفہ عشق میں خرابی یہ ہے کہ دوسرے کی نیت اور جذبات سے عاشق بے خبر ہوتا ہے اور بعض یک طرفہ عاشق صنف انشائیہ سے بھی بے خبر ہیں۔اس کے اسلوب سے ناواقف سو لکھنے سے قاصر ، میرا معاملہ یہ ہے کہ جب بھی میں انشائیوں کا مجموعہ دیکھتا ہوں تو جس طرح بچہ کھلونوں کے دکان کی طرف للچائے نظروں سے دیکھتا ہے ویسے ہی میں اس کتاب کی طرف دیکھ لیتا ہوں۔دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور افاقہ جب ہی ہوتا ہے جب کتاب کا مطالعہ کر لیتا ہوں۔حال ہی میں ایک کتاب نظر سے گزری جس کا عنوان مقناطیس کی سی کشش رکھتا ہے اور اپنی طرح کھینچنے کی صلاحیت بھی۔میں ساجد جلال پوری کی کتاب ” رنگ رنگ کے شاعر” کی بات کررہا ہوں۔یہ مجموعہ 2020 ء میں شائع ہوا ہے اور اس میں شاعروں کی اقسام پر چھبیس طنزیہ مزاحیہ مضامین اور انشائیے شامل ہیں۔ضروری نہیں ہر مزاحیہ مضمون انشائیہ ہو لیکن انشائیے میں مزاح کی آمیزش ہو تو اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہماری طرح آپ بھی نظم ،غزل، رباعی کے شعراء سے واقف ہوں گے۔ ساجد جلال پوری نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا اور واضح پیغام دیا کہ جناب “رنگ رنگ کے شاعر” ہوتے ہیں اور ان کا کمال یہ ہے کہ رنگ رنگ کے شاعر میں وہ شاعروں کے مختلف اور متنوع رنگ دکھانے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔کہنے لگے میاں تم نے شاعروں کےرنگ نہیں دیکھے، سنو! کچھ استاد الشعراء کہلاتے ہیں اور کچھ شاعر غزل،کچھ اشتہاری شاعر ہیں تو کچھ درباری شاعر ۔۔۔ میاں! خیالی ،خاندانی ، تجارتی،سیاسی کے علاہ بلند پرواز،شاعر زلف دراز، شاعر شراب اور شاعر شباب بھی ہوتے ہیں۔شاعر نصاب اور شاعر خوش خوراک کے بارے میں سنا ہے یا شاعر خوش پوشاک اور مقتول شاعر کی طرح ان کو بھی بھول چکے ہو۔کچھ شاعر خود نوشت اور کچھ ہوتے ہیں شاعر اکھاڑا۔خیر تم ان اقسام کو چھوڑو اور ہوسکے تو استاد الشعراء کے بارے میں پڑھو۔
آئیے تعمیل کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں استاد الشعراء ۔۔
شاعری کا کیڑا کاٹے تو پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ بس شاعر نہیں کہلانا بلکہ استاد الشعراء کہلانا اور بننا ہے۔ممکن ہے بچہ پیدا ہوتے ہی جوانی کے خواب نہ دیکھے البتہ یہ طے ہے کہ شاعر پہلی غزل لکھ کر ہی استاد کی صف میں خود کو دیکھنے کا خواب دیکھ لیتا ہے۔استاد الشعراء میں ساجد جلال پوری نے ان استادوں کی خبر لی ہے جن کا شمار شاگردوں میں بھی کرنا بے ادبی ہوگی۔لکھتے ہیں ۔
“کچھ شعراء استاد کا خطاب پانے کے لئے بیتاب ہی نہیں حد سے گزر جانے کو تیار ہیں۔وہ اتنے اتاولے اور باولے ہیں کہ اگر وہ روپئے پیسے میں ملے تو منہ مانگی قیمیت دیں۔یہ وہ تجار ہیں جو دن رات استاد بننے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ان کو ہر جگہ استاد ہی استاد نظر آتا ہے۔ ان پر یہ بھوت اتنی شدت سے سوار ہوتا ہے کہ ان کو کالجوں کا ” جلسہ تقسیم اسناد ” بھی ” جلسہ تقسیم استاد ” نظر آتا ہے۔اس لئے وہ ان جلسوں میں بھی بغیر دعوت کے پہنچ جاتے ہیں اور استادی کا سرٹیفکیٹ مانگنے لگتے ہیں۔”
طنز نگار جب طنز کے تیر چلاتا ہے تو اس کی کامیاب اس میں ہے کہ تیر بہدف لگے۔ساجد جلال پوری کامیاب ہوئے ہیں اور بات قلم سے نکل کر ذہن میں بیٹھ گئی ہے کہ کسی فن کا استاد مہارت سے بن سکتے ہیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے نہیں۔صرف استاد الشعراء میں ہی طنز و مزاح کی رنگا رنگی دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ اس کتاب میں جگہ جگہ ساجد جلال پوری نے طنز ومزاح سے رنگ بھر دیا ہے۔اشتہار فقط اشیاء کی خرید فروخت کے لئے نہیں دئیے جاتے بلکہ اب شاعر بھی اپنی غزلیں بیچنے اور نام کمانے کے لئے اشتہار دے کر اشتہاری شاعر کہلاتے ہیں۔ہمیں ہرگز اعتراض نہیں شاعر اپنی غزلیں مارکیٹ میں بیچ کر کچھ کمائے لیکن قلم بیچنے میں احتیاط سے کام لے تو بہتر۔اشتہاری شاعر میں ساجد جلال پوری نے ان شاعروں پر چوٹ کی ہے جو ہر پوسٹر،ہر مشاعرے اور ہر محفل میں فقط اپنا نام دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کو اس سے کیا ہوتا ہے ملاحظہ ہو ساجد کی زبانی۔۔۔۔
” شعراء اشتہار میں اپنا نام دیکھ کر نہایت خوشی محسوس کرتے ہیں۔بلفظ اختصار ،اشتہار کا انتظار کسی تیوہار سے کم نہیں ہوتا۔اسی لئے اس میں شامل ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے تو لگاسکتے ہیں۔کسی مخالف کو راستے سے ہٹانا پڑے تو ہٹا سکتے ہیں کیونکہ آگے بڑھنے کے لئے نہ صرف کچھ کرنا پڑسکتا ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کی طرز پر خون خرابہ بھی کرنا پڑسکتا ہے۔”
جو مخالف کو راستے سے ہٹائے اور خون خرابے پر اتر آئے وہ” اشتہاری شاعر “نہیں “قاتل شاعر “کہلانے کا مستحق ہے۔رب کا فضل ہے ہم نے آج تک ایسے شاعر نہیں دیکھےجو اپنے ہم عصر کو راستے سے ہٹائے اور خون خرابہ پر اتر آئے۔
پیٹرول کے بغیر گاڑی نہیں چلتی اور خوراک کے بغیر انسان۔آدمی کے پیٹ میں بھوک نے آگ دہکائی ہو اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وہ ہر شئے کھا سکتا ہے۔پانی کا ایک گھونٹ پینے والے صابر اب کہاں رہے اب تو پیٹ بھر جائے تو بھی کھانے والے ہاتھ روکتے نہیں بلکہ جب تک پیٹ لٹک نہ جائے کھاتے رہتے ہیں۔کھانے سے یاد آیا کچھ لوگ ہی نہیں شاعر بھی خوش خوراک ہوتے ہیں ۔ساجد نے خوش خوراک شاعر میں اسی لئے لکھاہے کہ۔۔۔
“پوری دنیا کھانے کی لذتوں سے لطف اندوز ہورہی ہے تو شعراء کرام بھی اس کا ذائقہ لے رہے ہیں،اس میں کون سی نئی بات ہے لیکن شاعروں کے متعلق کچھ نہ کچھ بات تو ہے ہی۔ظاہر سی بات ہے کہ محترم شعرائے کرام اتنی محنتیں کرتے ہیں تو تھکان کا احساس ہوگا ہی، بھوک پیاس زیادہ لگے گی، اس لئے یہ مختلف قسم کے خمیرے،ٹانکیں،معجون،دماغین،حیاتین،خواتین استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔بعض شعراء تو اس میں نئے نئے تجربے کرکے خود حکیم بھی بن جاتے ہیں اور بعض ترقی کرکے حکیم الامت تک پہنچ جاتے ہیں۔”
خوش خوراک شاعر پر ہی کیا موقوف آپ خوش پوشاک شاعر سے لے کر شاعر احساس کمتری یا شاعر احساس برتری پڑھ لیجیے آپ کو مایوسی نہیں ہوگی بلکہ مزاحیہ انداز کے ساتھ ساتھ طنزیہ جملے بھی ملیں گے جو سوچنے پر مجبور کردیں گے کہ واقعی ایسے شاعر موجود ہیں یا ساجد نے مبالغے سے کام لیا ہے۔ہم تو مشاعروں میں جاتے نہیں اس لئے یہ آپ پر چھوڑ رہے ہیں کہ آپ کتاب کو پڑھ کر ہمیں بھی مطلع فرمائیں کہ آیا ایسے شاعر ہوتے ہیں یا نہیں۔رنگ رنگ کے شاعر پڑھنے سے آپ کا فائدہ ضرور ہوگا کیونکہ ساجد نے شاعروں کی طبیعت، نیت، عادات و اطوار، ان کی خصلت، ان کی خواہشات، شاعروں کے ارمان اور ان کے ایمان سے لے کر ان کی چال ڈھال، رنگ ڈھنگ کو طنز ومزاح کے مختلف رنگوں میں بیان کیا ہے۔یہ کتاب لائق مطالعہ ہے لیکن پروف کی غلطیاں بعض جگہ کھٹکتی ہیں اور رموز اوقاف کا خیال نہ رکھ کر بات کا بتنگڑ بننے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔امید ہے اگلے ایڈیشن میں اس طرف ساجد دھیان دے گا۔