
محمد ارشد خاں رضوی فیروزآبادی
ریسرچ اسکالر ،برکت اللہ یونیورسٹی،بھوپال
سید شفیق احمد اشرفی کی شخصیت اور ادبی خدمات :ایک جائزہ
سید شفیق احمد اشرفی کا سلسلۂ نسب حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی سے ملتا ہے ، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی عمر کے اوائل میں ہی ایران چھوڑ کر ہندوستان آگئے ۔ یہ ایران کے ایک نہایت ہی قدیم شہر ’سمنان‘کے رہنے والے تھے اشرف سلسلہ سمنان میں آج بھی موجود ہے ۔شفیق احمد اشرفی کے سلسلۂ نسب کے متعلق ان کے عزیز دار سید وحید اشرف اپنی کتاب ’’رباعی ‘‘ کے دیباچہ میں یوں رقم طرا ز ہیں۔
’’حضرت سید اشرف جہانگیر قدس سرہ عالم اسلامی کا سفر کرکے جب دوسری بار ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ خالائی بھانجے سید عبد الرزاق کو ساتھ لائے ۔ جن کا سلسلۂ نسب پیر دستگیر سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے آپ ان کو اپنی آنکھوں کا نور کہا کرتے تھے اس لئے و ہ نورالعین کے لقب سے مشہور ہوئے انھیں سے کچھوچھہ شریف میں خاندانِ سادات کا سلسلہ پھیلا ۔راقم بھی اسی خاندان کا ایک فرد ہے‘‘۔۱؎
سید شفیق احمد اشرفی کی ولادت یکم ؍ جون 1962ء کو کچھوچھہ شریف ضلع امبیڈکر نگر (یوپی) میں ہوئی۔ محکمہ سے دستیاب دستاویزوں سے بھی اسی تاریخ کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان کی پیدائش ۱؍جون 1962ء ہی ہے۔ ان کا تعلق آٹھویں صدی ہجری کے بزرگ حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی سے ہے۔ آپ کے دادا ،دادی ،والد اور ان کے بھائیوںنے بھی جنگ آزادی میں حصہ لیا اور فاعل رہے۔ والد منظور احمد اشرفی تین بھائی امتیاز احمد اشرفی علیگ، منظور احمد اشرفی اور چچا خلیل احمد اشرفی تھے۔ شفیق احمد اشرفی چار بھائی بہن تھے ان میں بڑی سب سے بہن تھی۔ شفیق احمد اشرفی سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ ابتدائی تعلیم جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم اسی مدرسہ سے حاصل کی ، آپ نے کچھو چھہ کے انٹر کالج سے ہائی اسکول اور پھر انٹر کی تعلیم حاصل کی ۔ بی-اے فرسٹ ڈویژن انہوں نے 1982ء میں لکھنٔو یونیورسٹی سے کیا اور ایم-اے (اردو) بھی فرسٹ ڈویژن 1984ء میں لکھنٔو یونیورسٹی سے کیا ۔اس کے بعد پی ایچ-ڈی انہوںنے محمود الحسن صاحب کی نگرانی میں 1990ء میں لکھنٔو سے ہی کیا ۔
سید شفیق احمد اشرفی نے اپنی زندگی کاایک طویل حصہ لکھنٔو میں بسر کیا جبکہ ملازمت ان کو آگرہ کے سینٹ جانس ڈگری کالج میں ملی۔ یہاں انہوں نے تقریباً22سال کی ملازمت کرنے کے بعد پروفیسر شپ جوائن کرتے ہوئے لکھنٔوسکونت اختیار کیا۔ فی الحال آپ خواجہ معین الدین سے 2024ء میں سبکدوش ہوئے ہیںاور لکھنٔو ہی کو مستقل مسکن بنا لیا ہے۔
پروفیسرشفیق احمد اشرفی ایک کامیاب اور بہت ہی محبوب استاد تھے۔کلاس اور پورے کیمپس میں وہ ہمیشہ طلباء سے دوستانہ ماحول میں گفتگو کرتے۔آپ غیر ضروری رعب اور دبدبہ پیدا کرنے کی کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ آپ کا مزاج ان لوگوں سے بہت مختلف تھا جو اپنے آگے دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ آپ ایک نہایت شفیق استاد ہیں ، ادنیٰ سے ادنیٰ طالب علم کے لئے بھی آپ تک رسائی حاصل کرنا مشکل نہ تھا۔اردو کے علاوہ انگریزی،فارسی اور ہندی پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔طلباء کے سوالوں کا جواب بڑے سلیقے سے دیتے تھے۔اردو نثر ہو یا نظم، قواعد ،لغت ،تحقیق وتنقید سبھی موضوعات آپ بہت ہی خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں۔آپ کے اندر سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ خاص طور پر اپنے چھوٹوں کو کبھی ٹوکتے یا جھڑکتے اس انداز سے نہیں تھے کہ وہ شرمندگی محسوس کرے۔پروفیسر صغیر افراہیم ایک انٹرویو میں سید شفیق احمد اشرفی ادب سے متعلق معلومات کے سلسلے میں ذکر کرتے ہیں:
’’ نثرہو یا نظم ،اسی طرح تنقید ،تحقیق،افسانہ ، ناول،قصدہ یا غزل کا یاکسی اور بھی قواعد کا سمجھنا ہو، وہ بہت خوبی سے سمجھاتے تھے۔ وہ ہر صنف کے اجزائے ترکیبی اور اس کے لوازمات سے اچھی طرح واقف ہیںاور دوسرا، وہ تلفظ پر بہت زور دیا کرتے ہیں۔سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی تھی کہ وہ خاص طور سے اپنے چھوٹوں کو کبھی ٹوکتے اس انداز سے نہیں تھے کہ انھیں شرمندگی محسوس ہو۔کبھی بھی ان کا رویہ حقارت آمیز نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ سمجھاتے تھے ،پہلے تو وہ خود اس کی تکرار کرتے تھے تاکہStudent خود سمجھ جائے کہ اس کا صحیح تلفظ کیا ہے ورنہ پھر وہ کوشش کرتے تھے چاہے و ہ انگریزی کا ہو ، اردو کا ہو، یا وہ فارسی کا لفظ ہو،اس کی صحیح ادائیگی کیسے ہوگی۔‘‘۲؎
اپنے خاندانی ماحول اور موزوں مزا ج کے سبب پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی بچپن سے ہی ادبی تحریریںلکھنے لگے تھے۔ کم عمر سے ہی ان کی تحریریںمختلف رسائل و جرائد کی زینت بننے لگیں یہاں تک کہ جب وہ محض طالب علم ہی تھے۔
اساتذہ کی فرمائش پر آپ نے کلاسیکیت سے جدیدیت تک کے مصنفین پر تنقیدی مضامین اور نظموں اور غزلوں کا تجزیہ لکھا۔ ا ن کے یہ تجزیہ رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہے۔ ان کے یہ تجزیے ترقی پسند ی کے عمدہ نمونے ہیں جن سے ا ن کی تنقیدی بصیرت اور اردو شاعری کی ارتقاء کا بخوبی اندازہ ہو جاتاہے۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین نیا دور (کراچی)آجکل (دہلی)جیسے رسالوں میں بھی چھپتے رہے ہیں جو کافی مقبول خاص وعام ہیں۔
پروفیسر اشرفی کو ان کی علمی و ادبی اورسماجی خدمات کے اعتراف میں ہندوستان کی مختلف اداروں اور اکادمیوں نے اعزازات و اکرامات سے نوازا گیا۔آپ کو پروفیسر احتشام حسین گولڈ میڈل تنقید پر دیا گیا جو کہ گورنر کے ذریعے اترپردیش کے راجبھون میں 1994ء میں نوازا گیا۔آپ کی کتاب’’فیض افکار و اقدار ‘‘ پر وزیر اعلیٰ ایوارڈ سے 1994ء میں نوازا گیا۔اس کے علاوہ بھی بہت سے اعزازات و اکرامات سے سرفرازکیا گیا۔
پروفیسر سید شفیق احمداشرفی کا شمار اردو کے نامور ناقد ، مرتب اور محقق میں ہوتا ہے ۔اردو ادب سے گہری دلچسپی ہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو ادب کے میدان میں بہت مختصر وقت میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ سید شفیق احمد اشرفی نے متعدد فنون اوراہم شخصیات پر بے شمار کتابیں تصنیف ، تالیف اور ترتیب دیں جو ان کی تحقیقی و تخلیقی اور تنقیدی کاوش کا نتیجہ ہیں۔ان تصانیف کے نام اور ان کے سن ِ اشاعت اس طرح ہیں۔’’مطالعہ مومن ایک گم شدہ حوالہ‘‘۲۰۰۵ء ، ’’فیض احمد فیض ایک خصوصی مطالعہ‘‘2012ء، ’’میر شناسی کے دوسو سال‘‘2013ء ، ’’افکارِ فیض‘‘ 2015ء ، ’’ترقی پسند تنقید کی بازیافت‘‘ 2016ء، ’’تصوف شناسی ‘‘ 2016ء ، ’’نول کشور شناسی‘‘2017ء ، ’’منشی نول کشور (نسل نو کی نظر میں )2017ء ، ’’کرشن چندر شناسی (ناولوں اور دیگر تحریروں کی روشنی میں)‘‘2018ء ، ’’جذبی شناسی‘‘2019ء ’’لندن کی ایک رات (تنقید و تخلیق)‘‘2020ء اور ’’یاد گار افسانے(ترتیب وتجزیہ)‘‘2021ء تقریباً ان بارہ کتابوںکو انہوں نے بغور مطالعہ کے بعد بڑے فنکارانہ اندازمیں پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ وہ کتابیںجو مجھ کو مل نہ سکی وہ اس طرح ہیںکرشن چند رکی ترقی پسندی، (1987ء)، فیض افکار و اقدار (1993ء)،فیض احمد فیض بحیثیت نقاد (1993ء)،قابوس نامہ (ترجمہ ، 1994ء)، فیض شناسی کے جدید زاویے(سن ندارد)،وغیرہ ہیں۔اس کے علاوہ آپ کے سامنے سید شفیق احمد اشرفی کی تحریر کی چند سطریں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوںتاکہ آپ کو ان کی علم دانی کا احساس ہو سکے۔ شفیق احمد اشرفی نے’’مطالعہ مومن ایک گمشدہ حوالہ ‘‘ کی تقدیم میں تحریر فرماتے ہیں جو قابل قدر ہے۔
’’مومن کے تئیں ہمیشہ ناانصافی روا رکھی گئی یہاں تک کہ مولانا محمد حسین آزاد نے آب حیات (سنہ تصنیف دسمبر ۱۸۸۰ء) کی اشاعت اول میں حکیم مومن خاں کو شامل نہ کرنے کی شعوری کوشش کی ۔علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے شمار ہ فروری ۱۸۸۱ء میں منشی ذکاء اللہ کا آب حیات پر تبصرہ چھپا تھا ۔
منشی ذکاء اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد حسین آزاد کو اس تسامح کی طرف متوجہ کیا بعدہ انہوںنے آب حیات کے دوسرے ایڈیشن میں حکیم مومن خاں کو شامل کیا‘‘۳؎
یہ تو سید شفیق احمد اشرفی کے’’مطالعہ مومن ایک گمشدہ حوالہ ‘‘کے مقدمہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ اب راقم الحروف قارئین کے سامنے ان کی تحریر کردہ کتاب ’’یاد گار افسانے(ترتیب و تجزیہ)‘‘کی چند سطریں پیش کی جارہی ہیں ملاحظہ ہو:
’’کفن پریم چند کا ایک شاہکار افسانہ ہے ۔یہ افسانہ حقیقت نگاری، نفسیاتی پہلوؤں ،فلسفیانہ افکار، طنزکے نشتر اورتہداریوں سے روشن ہے۔ یہ اپنے اندر موضوع اور ضمنی موضوعات بھی رکھتا ہے ۔اس کا پس منظر دیہی ضرور ہے لیکن اس کے رنگ حقیقت نے اس کو زمان و مکان کے قیود سے بلند کر دیا ہے۔ یہ ہر اس سماج کی حقیقت ہے جہاںدولت مند طبقہ اپنے نیچے کے طبقات کا استحصال کررہاہے۔‘‘ ۴؎
اس اقتباس کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر وں میں کچھ نیا پن جھلکتا ہے جو دوسرے تمام ناقدین اور قلم کاروں سے آپ کو ممتاز یا منفرد کرتا ہے۔
حواشی
۱۔ پیش گفتار ’’رُباعی ‘‘ سید وحید اشرف ،صفحہ ۱۱-۱۰
: ۲۔راقم کے ذریعہ لئے گئے انٹرویو سے ماخوذ۔’’پروفیسر صغیر افراہیم‘‘،بوقت شام ۵۰:۶ بجے، بروز جمعہ ، بمقام ’گل افراہیم‘علی گڑھ ،بتاریخ ۲۰۲۲۔۷۔۲۲
۳۔ مطالعۂ مومن ایک گمشدہ حوالہ،ڈاکٹر سید شفیق احمد اشرفی۔ص ۳ ایجوکیشنل بُک ہاؤس۔علی گڑھ۔۲۰۰۵
۴۔یادگار افسانے ،ترتیب و تجزیہ سید شفیق احمد اشرفی ،ص۱۶۔ایم ۔آر پبلیکیشنز ،دہلی۔۲۰۲۱ء