غزل:اردو شاعری کا معیار سخن

قمرالنساء (رمیشا قمر)

ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو و فارسی،

گلبرگہ یونیورسٹی کلبرگی کرناٹک

غزل:اردو شاعری کا معیار سخن

غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی

ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے

سرور !اسکے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں

غزل میں جوہر ِارباب ِفن کی آزمائش ہے

(آل حمد سرورؔ)

غزل اردو ادب کی معرکتہ الآرا صنف سخن ہے ۔غزل ادب بھی ہے اسٹیج بھی ،جذبات و احساسات کا سمندر بھی ،قوموں ،ملکوں اور سرحدوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ۔شاعری کا نام لیا جائے تو عام آدمی کا خیا ل فوراًغزل کی طرف جاتا ہے اردوشاعری کا دارومدار ہی جیسے غزل پر ہے تمام اصناف شاعری میں غزل حسین و جمیل  ،نرم ونازک اور دلربا ودلنشین صنف سخن ہے بلکہ اسکو “bride of poetry “کہا گیا ہے یہ عروس ِشاعری ہے جو بام عروج پر ہے۔ غزل نام ہے تکمیلیت کا دو مصرعوں میں پوری بات کہنے کا ،فن کے اظہار کا،اور زندگی جینے کا۔

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

مختلف ناقدین نے غزل کے تعلق سے مختلف آراء پیش کی ہیں ۔

محمد حسین آزاد۔۔۔۔۔’’غزل کو ادبی مینا کاری کہا ۔‘‘

رشید احمد صدیقی ۔۔۔’’اردو شاعری کی آبرو ‘‘قرار دیا۔

نیاز فتحپوری ۔۔۔۔’’ شاعر ی کی روح‘‘کہا۔

پروفیسر اختر اورینوی ۔۔۔’’مختصر تصویروں کا نگار خانہ ہے‘‘۔

یوسف حسین ۔۔۔۔’’موسیقی کا رس ‘‘ہے۔

ڈاکٹر شکیل الرحمنٰ کی۔۔۔’’غزل وادی خیال ‘‘ہے۔

فراق گورکھپوری ۔۔۔۔’’اردو شاعری کا عطر غزل ہے‘‘۔

آل احمد سرور۔۔۔’’غزل اگرچہ مسلسل اشعار کا مجموعہ نہیں متفرق اشعار کا گلدستہ ہے‘‘۔

اور جگت موہن لال رواں کے جذبات غزل کے لئے اسطرح امڈ آئے ہیں

اللہ اللہ یہ وسعت ِدامان ِغزل

بلبل و گل پہ ہی موقوف نہیں شانِ غزل

ختم پنہائے دو عالم پہ ہے پایان ِغزل

پوچھئے حافظ ِشیراز سے امکانِ غزل

اسطرح غزل اردو شاعری کی آبرو ،سر کا تاج ،وادی ٔ خیال ،عطر شاعری اور عروس سخن بن گئی اور اس نے ہر خاص وعام کے دل میں جگہ بنا لی۔

غزل عربی زبان کا لفظ ہے اسکے لغوی معنی عورتوں سے گفتگو کرنا یا عورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہے غزل ہرن کی آواز کو بھی کہتے ہیں جو شکار کے وقت اسکے منہ سے  نکلتی ہے۔ان دونوں میں قدرے مشترک یہ ھیکہ صنف غزل اسوقت ہوتی ہے جب دل ناداں کسی شکاری کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے اور ایسے پردرد فضا ء  میں جو الفاظ نکلتے ہیں وہ پر اثر ہوتے ہیں ۔

اصطلاح میں غزل شاعری کی ایک صنف  ہے یعنی شاعری اگر جسم ہے تو غزل روح ، اور اگر دل ہے تو غزل دھڑکن ۔ یہ ایک ایسی صنف ہے جو چند اشعار پر بھی مشتمل ہوسکتی ہے۔ پہلا شعر جسکے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع کہلاتا ہے جبکہ آخری شعر میںشاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے وہ مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی ہوتا ہے ایجاز واختصار اسکی سب سے اہم خصوصیت ہے جس کی  وجہہ سے وہ منفرد مقام رکھتا ہے یعنی بہت کم الفاظ میں بڑی سے بڑی بات کہنا ۔مطلب یہ ایسی صنف ہے جو کوزے کودریا میں بند کرتی ہے ۔ جسمیں معنی کا سمندر موجزن ہے۔

بقول شاعر:

ضبط ہے آئینہ رازِحقیقت اسمیں

یہ کوزہ ہے کہ دریا کی ہے وسعت اسمیں

دریا کو کوزے میں بند کرنا تبھی ممکن ہے جب شاعر کلام پر قدرت رکھتا ہو اسکے لئے شاعر علامتوں ،کنایوں ،استعاروں اور صنائع بدائع کا استعمال کثرت سے کرتا ہے اور انکے استعمال سے کلام نفاست میں شائستگی اور حسن پیدا ہوتا ہے ایک طرح سے وہ آرائش و زیبائش کا کام انجام دیتے ہیں اور یہ اسکی خوبصورتی میں اور بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔

بشیر بدر کے اشعار دیکھئے:

وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل  سے ہے

انسان کی لازوال محبت غزل سے ہے

لفظوں کے میل جول سے کیا قربتیں بڑھیں

لہجوں میں نرم نرم شرافت غزل سے ہے

اظہار کے لئے اسلوب دے دیئے

تحریر و گفتگو میں نفاست غزل سے ہے

یہ سادگی یہ نغمگی دل کی زبان میں

وابستہ فکر و فن کی زیارت غزل سے ہے

(بشیر بدر)

غزل سے مراد صنف نازک سے لطف اندوز ہونا اسکے حسن و جمال کی تعریف کرنا اس سے عشق ومحبت کا اظہار کرنا اور اسی طرح کے حسین جذبات اور واردات غزل کہلاتی ہے۔یعنی جسمیں حسن و عشق یا محب و محبوب سے متعلق مضامین شامل ہوں۔

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی

رہی نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی

صنف ِغزل کا بنیادی موضوع معاملا ت ِعشق کی ترجمانی ہے ایک زمانے تک اسکے موضوعات عشقیہ تھے ۔معاملات حسن وعشق  سے والہانہ وابستگی نے غزل میں ایک ایسی فضاء پیدا کی جوحسن و عشق کی فضاء ہے ۔رنگینی و رعنائی ،رندی و مستی کی فضاء ہے اور اسکا اثر بھی ایسا ہوا کی اسی کی تلاش غزل میں ہونے لگی شاید اسی سبب غزل کا مفہوم ہی عشقیہ حالات کی ترجمانی اور عکاسی قرار پایا اور غزل گویا عشقیہ معاملات میں ڈوب گئی ۔

مختلف ناقدین نے مختلف طریقوں سے اسے سراہا اور مختلف ناموں سے بھی یاد کیا۔ جیسے عورتوں سے باتیں کرنا،غزال،ریختی،دردوالم وغیرہ وغیرہ ۔

بے درد سنی تو چل،کہنا ہے کیا اچھی غزل

عاشق ترا ،رسوا ترا۔شاعر ترا،انشا ء ترا

(ابن انشاء)

اب ترا ذکر بھی شاید غزل میں آئے

اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

( احمد فراز)

غزل میں ہوگیا خون جگر صرف

کہاں کی لوح کیسی روشنائی

غزل کے تمام شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضرورکی ہے۔غزل میں دل کے جذبات کا اظہار بھی ہوتا ہے اور ہجر و وصل کی کیفیات بھی بیان کی جاتی ہے اس دردوالم کی عمدہ مثالیں میرؔاور فانیؔکی شاعری میں ملتی ہے۔

ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری

خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری

کربلا دشت محبت کو بنا رکھا ہے

کیا غزل گوئی ہے کیامرثیہ خوانی میری

اور بہت سے شعراء نے غمِ جاناں کو غم ِ دوراں بنا دیا ایسا لگتا ہے شاعر وہی بیان کررہا ہے جو ہم پر گزر رہی ہے ۔سیماب اکبرآبادی نے غلط نہیں کہا ہے۔

کہانی میری روداد ِجہاں معلوم ہوتی ہے

جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

غزل دراصل ارتقائی منازل طئے کرتے ہوئے کئی راستوں سے گزری ہے کئی مشکلات کو جھیلا ، زمانہ کے نشیب وفراز سے دوچار ہوئی اور یہ صنف قصیدہ سے عرب میں  پیدا ہوئی اوربڑے شاہانہ انداز میں جاہ وجلال کے ساتھ ایران پہنچی۔ ایران کے شعراء نے قصیدے  کے جز تشبیب کو الگ کرکے اسکا نام غزل رکھا اور ایرانی شعراء نے ہی اسکو پروان چڑھایا اور سب کا محبوب بنا دیا اور اپنے عنفوان شباب کو پہنچ کر جب یہ ہندوستان آئی تواردو کا جامہ پہن کر عروس ِنو بہار بن گئی۔

بقول اختر انصاری:

’’غزل کی صنف جو ایران کی شاعری سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچی تھی ایک زندہ صنف ہے اور زندگی کے احکامات سے بھر پور اور کہنے کی بات یہ ھیکہ ہم نے نہ صرف اسکی زندگی کو برقرار رکھا اسکو نئے مقامات اور نئی منزل سے گزرا بلکہ ہم نے ایک غیر ممالک اور اجنبی صنف سخن کو پوری طرح اپنا لیا اور اپنے ذوق شعر اور احساس حسن کے ساتھ پورے طور پر ہم آہنگ کرلیا۔‘‘

اپنی ان ہی خصوصیات کی بناء پر اس نے سب کے دلوں پر راج کیا ولیؔ، میرؔ، دردؔ، سوداؔ، مظہرؔجانجاناں،مصحفیؔ، غالبؔ، مومنؔ، شیفتہؔ،حالیؔاور داغؔوغیرہ نے غزل کو ایک نئی زندگی بخشی۔اور غزل نے انکو خود زندہ جاوید بنا دیا۔یہ شعراء اردو غزل کے معمار ہیں غزل کا شمار ان اصناف شاعری میں ہوتا ہے جس نے ترقی کی منزلیں طئے کرتے ہوئے حالات سے چشم پوشی نہیں کی بلکہ ہمیشہ بدلتے ہوئے حالات کا ساتھ دیا اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ غزل کی ترقی کاراز حالات سے اسی مطابقت میں مضمر ہے غز ل کا کینوس وسیع ہوتا گیا او ر بدلتے  حالات اور واردات کو اس نے اپنے دامن میں سمیٹا ۔کم الفاظ میں بہت کچھ کہنے کا ہنر پالیا۔

بقول بہادر شاہ ظفر:

ظفر شعر وسخن سے رازِدل کیوں کر نہ ہو ظاہر

کہ یہ مضمون سارے دل کے اندر سے نکلتے ہیں

ابتداء میں غزل کا موضوع عشق مجازی ہوتا تھا  پھر عشق حقیقی نے جگہ لے لی۔ اور وہ تصوف کا دور تھا اور شاعری بھی متصوفانہ رنگ میں رچ بس گئی تھی اور عشق حقیقی نے بھی غزل کے دامن کو وسیع کرنے میں اپنا رول ادا کیا ۔

شعروں میں صوفیوں کی طریقت کا نور ہے

اردو زباںمیں اتنی طہارت غزل سے ہے

غزل مختلف اصلاحی تحریکوں سے گزری مختلف مرحلوں سے نبرد آزما ہوتی ہوئی آج اس مقام پر ہے ۔ وصل سے ہجر کی طرف،محبوب سے رقیب کی طرف ،ماورائیت سے ارضیت کی طرف،ابہام سے وضاحت کی طرف،ایمائیت سے روشن خیالی کی طرف ،خارج سے باطن کی طرف ،مجاز سے حقیقت کی طرف اور الفاظ سے معنویت کی طرف لے جانے کا نام غزل ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

غزل کو دعا بنا رہا ہوں

اک رستہ نیا بنا رہا ہوں

سب اپنی ہوا بنا رہے ہیں

میں سب کی فضاء بنا رہا ہوں

غزل کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے یہ مشترکہ کلچر کی حفاظت میں بھی اپنا رول ادا کررہی ہے اردو زبان ہماری تہذیب کی آئینہ دار ہے ہماری تہذیب ہماری شاعری میں اور خاص کر غزل میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے ۔

بقول رشید احمد صدیقی :

’’ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب  کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے اور دونوں کو ایکدوسرے سے رنگ وآہنگ سمت ورفتار اور وزن ووقار ملا ہے ۔‘‘

دونوں کو الگ کرنا محال ہے غزل میں ہماری تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے اس سلسلے میں فراقؔگورکھپوری کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔

’’اردو غزل کا عاشق اپنے محبوب کو اپنی آنکھوں سے نہیں اپنی تہذیب کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔‘‘

اس سلسلے کو ندیم احمد قاسمی کے ایک شعر سے جوڑا جاسکتا ہے۔

غزل کے روپ میں تہذیب گارہی ہے ندیمؔ

مرا کمال مرے فن کے اس رچائو میں تھا

غزل ہندوستانی تہذیب کی ایک جلوئہ صد رنگ ہے چنانچہ اسمیں لوک گیتوں کی روایت، ہندوستان کے موسم ،تیوہار ،رسم ورواج ،مجلسی اور تمدنی زندگی کے کتنے ہی نقوش محفوظ ہوگئے ہیں۔

اردو زبان ہماری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور ہمارا ادبی سرمایہ اسکی بہترین مثال ہے ۔جہاں تک غزل کا تعلق ہے وہ ہماری تہذیب کااٹوٹ حصہ ہے اسی بات کے تناظر میں ایک اور اقتباس صادق آتا ہے تاریخ ادب اردو جلد پنجم کے مرتبین پروفیسر سیدہ جعفر اور پروفیسر گیان چند جین نے لکھا ہے۔

’’غزل کی جڑیں ہماری تہذیب اور سماجی زندگی میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ سینکڑوں سال سے اردو شاعری کی روح میں سمائی ہوئی ہے فکر واحساس غزل کے سانچے میں صدیوں سے ڈھلتے آئے ہیں ہر دور میں اس صنف نے ہماری جذباتی ،ذہنی اور سماجی تقاضوں کی بھر پور اور سچی عکاسی کی ہے۔‘‘

غزل ہر دور میں ہر دلعزیز صنف رہی ہے اسکا استعمال قلمکار ،نغمہ نگار ،گلوکار کے علاوہ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے علاوہ تصوف ،عقائد اور مابعد اطبعیاتی مسائل کے اظہار کے لئے غزل کا استعمال کیا گیا ہے۔ع

ہوتی ہے یہاں دل کی ہر ایک بات غزل میں

بشیر بدر نے اپنے مجموعے کلام ’’آمد‘‘کے ابتدائیہ میں شعر کے فن پر اظہار خیال کیا ہے جس سے غزل کے فن کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

’’غزل چاند کی انگلیوں سے پھول کی پتی پر شبنم لکھنے کا فن ہے اور غزل دھوپ کی آنگن بن کر پتھروں پر وقت کی داستان بھی لکھتی رہی اردو کا کوئی لفظ غزل بنے بغیر اردو میں وقار نہیں پاسکتا۔‘‘

غزل کا چرچا ہر زمانے میں خاص و عام رہا ہے جس نے لفظوںمیں دریا کی سی روانی اور معنوں میں سمندروں کی طغیانی لیکر اپنی کیف ومستی سے ہوائوں کو معطر اور فضائوں کو رنگین کیاہے روحوں کو گرمایا اور مردہ دلوں کو بیدار کیا ہے ۔

بقول شاعر:

غزل میں صرف بندش الفاظ ہی نہیں کافی

جگر کا کچھ خون بھی چاہئے اثر کے لئے

غزل کا فن اپنے آپ میں ایک خوبصورت اور دلکش انداز بیان ہے یہ خود مکمل ادب ہے اسی لئے شاید رشید احمد صدیقی نے کہا ھیکہ ۔

’’ غزل حقیقتاً اردو شاعری کی آبرو ہے غزل صنف سخن ہی نہیں معیار سخن بھی ہے۔‘‘

غرض کہ اسکی شہرت کو بقائے دوام حاصل ہوچکی ہے اسکی تابناکی بڑھتی جارہی ہے یہ غم جاناں اور غم ِ دوراں کوتخلیقی اظہار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا ہے

چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

غزل ہماری ادبی تاریخ کے نوواردات سے مزین ایسا عظیم خزینہ ہے جسکے ایک ایک چمکتے گوہر کے بطن میں زندگی اور انسانی شعور کے لازوال نقوش پوشیدہ ہیں غزل کی جان تغزل ہے اگرغزل جسم ہے تو تغزل اسکی روح ۔تغزل ہی سے گویا اسکی موجِ زندگی رونما ہوتی ہے ۔

بقول اصغر:

اصغر ؔ غزل میں چاہئے وہ موج زندگی

جو حسن ہے بتوں میں جو مستی شراب میں

غزل ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے قوموں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے اس مضمون کا لب لباب یا نتیجہ اس اقتباس میں پوشیدہ ہے۔

ڈاکٹر کامل قریشی اردو غزل کے مقدمے میں رقمطراز ہیں۔

غزل اردو شاعری کا سرتاج رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے دلوں کو برمایا ،دماغوں کو جھنجھنایا اور روحوں کو گرمایا ہے ۔۔۔اس نے بہاروں کوہساروںکو رنگ دیا ہے تو پت جھڑوں میں پھول کھلائے ہیں اس نے اپنی خوشبو سے اگر ہوائوں کو معطر کیا ہے تو فضائوں میں نغمے بکھیرے ہیںکیف وسرورومستی لئے ہوئے  جب یہ موج میں آئی تو ایک طرف اگر روحیں جسموں سے نکلنے کے لئے بیتاب ہوگئیں ہیں تو دوسر ی طرف مردہ تنوں میں جان پڑگئی ہے۔کبھی کسی مغنی نے اسے اپنے لحن خاص میں چھیڑ دیا ہے اور کسی نے مطرب سے ساز اٹھالیا ہے تو کسی فنکار کی عمر رفتہ کوآواز دینے کا سامان پیدا کیا ہے کہیں کسی شاعر نے فراق بن کر راتوں کی اداسی دور کرنے کئے لئے اسکے ساز اٹھا لئے ہیں غزل اپنی دلربائی ودلکشی ،سج دھج اور حسن جمال سے آراستہ پیراستہ ہوکر ہر دور میں اپنہ ہر دلعزیزی و محبوبیت کا سکہ اپنے عاشقوں کے دلوں پر چلاتی رہی ہے۔‘‘

***

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *