
وجئے کمار
غزل
بڑی رونق ہے مئے خانے میں، سب تیار بیٹھے ہیں
صراحی، جام، لا ساقی، یہاں مئے خوار بیٹھے ہیں
غمِ بہار و غمِ یار اور غمِ جہاں سے ہیں بے نیاز
بڑی خاصیت ہے رندوں میں،سب پر اسرار بیٹھے ہیں
بڑی شدت سے ذہن و قلب پر، عشق ہوا وارد
بڑھی بےچینیاں جب سے، کیے اظہار بیٹھے ہیں
محبت جذبہ ہے ایسا، ہوا جن کو بھی شدت سے
وہ کاسہ عشق کا لے کر، سر بازار بیٹھے ہیں
وہ میرا اور میں اس کا، ہوئے ہم کب نہیں معلوم
مگر ایک ساتھ جینے کا، کیے اقرار بیٹھے ہیں
آئی ہے فصل گل پھر سے، پرندوں لوٹ آجاؤں
سجا ہے گلستان پھر سے، چلو سب یار بیٹھے ہیں
وجے اب کے بہاروں میں، وہ تم سے آکے مل لے گا
اسی امید پر وہ بھی ، وہاں تیار بیٹھے ہیں
***