You are currently viewing “مشاہیر ادب سے ایک نشست”

“مشاہیر ادب سے ایک نشست”

 افتخار الدین انجم

مدیر اعلیٰ ماہنامہ بزم اردوادب اسلام آباد پاکستان

“مشاہیر ادب سے ایک نشست”

مشاہیر ادب سے ایک نشست میں ہماری آج کی مہمان محترمہ ڈاکٹر رمیشا قمر صاحبہ ہیں آپ کا اصل نام قمرالنساء ہے۔ آپ کا تعلق ریاست کرناٹک کے مشہور و معروف شہر گلبرگہ سے ہے

   ڈاکٹر رمیشا قمر صاحبہ  گلبرگہ یونیورسٹی ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ ہیں اور آپ نے  اپریل 2022 میں گلبرگہ یونیورسٹی سے  پی ایچ ڈی کی۔

   دوران تحقیق رمیشا قمر نے دو اہم کتابیں بھی تحریر کیں۔ پہلی کتاب ان کے تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جو”رفعت قلم،”کے عنوان سے شائع ہوا جس پر کرناٹک راجیہ اتسو پر سارنگا گلبرگہ یونیورسٹی کی جانب سے ایوارڈ بھی ملا۔

      دوسری کتاب “ارژنگ قلم” دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب حیدرآباد کرناٹک کے نسائی ادب پر مشتمل ہے جس میں مصنفہ نے آزادی سے قبل تا عصر حاضر تک کی خواتین قلمکاروں کا احاطہ کیا کیا ہے۔

   رمیشا قمر نے دو مزید کتابیں بھی مرتب کی ہںں جن کا شہرہ دور دور تک ہوا اور جن کی بدولت رمیشا قمرکی خوب پذیرائی ہوئی۔ پہلی کتاب کا نام ہے ” کرناٹک میں اردو ماضی اور حال ” اس کتاب کو رمیشا قمر نے پروفیسر خواجہ اکرام الدین کے ساتھ مل کر ایڈیٹ کیا جس میں کرناٹک کے پورے ادبی منظر نامے کا احاطہ کیا گیا ہے ۔

   دوسری کتاب کا عنوان ہے ۔”آبیاژہ” “آبیاژہ” مشہور ومعروف اور ممتاز ومنفرد فکشن نگار غضنفر کے نو ناولوں کا کلیات ہے۔ یہ کلیات اپنی نوعیت کا پہلا کلیات ہے جسے رمیشا قمر نے بڑی محنت، لگن اور دلجمعی سے مرتب کیا ہے۔ چوںکہ اردو میں ناولوں کا یہ پہلا کلیات ہے اس لیے اس طرح کے کام کی اولیت کا سہراماہرین وناقدین ادب نے رمیشا قمر کے سر باندھاہے۔

    رمیشا قمر تحقیقی وتنقیدی کاموں کے علاوہ تخلیقی ہنرمندیوں کا بھی مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ آپ نے شاعری میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ آپ کی نظموں کا مجموعہ جلد ہی منظر عام پر آنے والا ہے۔

    ” بات کرکے دیکھتے ہیں” کے عنوان سے انھوں نے مشاہیر کے انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے جو کافی مقبول ہو رہا ہے۔

   رمیشا قمر تین بین الاقوامی جریدوں کی ادارت میں بھی مشغول ہیں ۔”رشحات قلم” کی وہ مدیرہ ہیں جوبین الاقوامی ملٹی ڈسپلنری تحقیقی ریسرچ جرنل ہے۔ ترجیحات( دہلی ) کے آڈیٹوریل بورڈ  اور سرائے اردو (سہ ماہی رسالہ)پاکستان کے مشاورتی بورڈ میں شامل ہیں۔

   آپ بزم ادب اردو گلبرگہ یونیورسٹی کی پانچ سال تک صدر بھی رہ چکی ہیں ۔ اور بحیثیت استادشعبہ اردو گلبرگہ یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

قارئین کرام اب آپ کے اور ہماری آج کی مہمان محترمہ ڈاکٹر رمیشا قمر کے درمیان حائل ہوئے بنا آپ کو لیے چلتے ہیں سوالات کے سلسلے کی جانب۔

 سوال : اصل نام / قلمی نام (اگر ہے) مع تاریخ پیدائش؟

جواب : سرکاری ریکارڈ میں قمرالنساء، قلمی نام رمیشاؔقمر۔ تاریخ ولادت 2 اپریل

سوال : تعلیم؟

جواب :ایم اے : اردو (گولڈ میڈلسٹ)، پی ایچ ڈی اردو (گلبرگہ یونیورسٹی)۔

سوال :شہر/ موجودہ سکونت؟

جواب :گلبرگہ، کرناٹک، انڈیا

سوال۔آپ ادب کی طرف کب اور کیسے آئیں؟

جواب : میرا تعلق سرزمینِ خواجہ بندہ نواز گیسودراز سے ہے، ہندوستان کے جنوب میں واقع یہ شہر جہاں آج بھی دکنی زبان بولی جاتی ہےاور یہاں کی سرکاری زبان کنڑی ہے ۔۔۔مگر۔۔۔۔ میرے گھر کا ماحول اردو والا رہا ہے، ویسا ہی جیسا کہ دہلی اور لکھنؤ کے مسلم متمول گھرانوں کا ہوتا ہے، مجھ پر بھی اردو ادب وثقافت کا اثر پڑنا لازمی تھا،(یہ الگ بات ہے کہ میرے خاندان میں کوئی ادیب یا شاعر نہیں رہا) اردو زبان و تہذیب کے اس اثر نے مجھ پر ایسا جادو کیا کہ میں خود بھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے لگی۔ ڈائری میں یادداشتیں محفوظ کرنے کاشوق بھی جاگا۔ ابو کی زبانی سنے گئے دادی جان کے خطوں نے بھی مجھے اردو ادب کی جانب راغب کیا ۔ ایک طرح سےاردو زبان وادب میرا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ پھر موجودہ تعلیمی نصاب، معاشرے کے معاشی رجحانات اور مادہ پرستی کی وجہ سے میں سائنس اور ریاضی سے جا ملی۔ مگر اعلا تعلیم تک آتے آتے میرے اندر کا سویا ہوا شوق پھر سے انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ادب کے تئیں مرجھائی ہوئی میری ساری دلچسپی پھر سے تازہ ہوگئی اور میرے لکھنے کا شوق جلا پاتا چلا گیا۔ میرے مضامین اور افسانے تواتر سے شائع ہونے لگے۔ اور پھر کتابی سلسلہ بھی شروع ہو گیا “رفعت قلم” کے نام سے میرے تنقیدی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ 2019ء میں منظر عام پر آیا اور شعبہ اردو کی تاریخ میں میں ایسی پہلی اسکالر بنی جس کی کتاب دوران ریسرچ شائع ہوئی ۔ اس کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ایس۔ آر۔ نرنجن صاحب نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ میں پوری یونیورسٹی کی پہلی اسکالر ہوں جس کی کتاب ریسرچ سے پہلے شائع ہوگئی۔ اس حوصلہ افزائی کی وجہ سے یہ سلسلہ ایسا زور پکڑا کہ محض تین سالوں میں 6 کتابیں منظر عام پر آگئیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔میری مزید دو کتابیں اشاعت کے مراحل میں ہیں۔

سوال۔ آج کل کن شعبہء زندگی سے منسلک ہیں؟

جواب :خواتین کی زندگی اتنےشعبوں میں بٹی ہوتی ہے کہ کسی ایک کام کی تخصیص مشکل ہو جاتی ہے۔ اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ گھر اور باہر کے سارے کام ہم خواتین کیسے اتنی خوش اسلوبی سے انجام دے پاتی ہیں ۔۔۔ کس کس شعبے کی بات کروں ، گھریلو مصروفیات کے علاوے بھی میں زندگی کے کئی شعبوں سے منسلک ہوں ۔ ایک بین الاقوامی آن لائن رسالے کی ادارت کی ذمے داری ہے مجھ پر ۔ ایک اور رسالے کے ادارتی بورڈ میں شامل ہوں، بلاگر ہوں اور بلاگز لکھتی ہوں ۔ ایک یوٹیوبر کے طور پر اپنے چینل پہ علمی، ادبی وتہذیبی پروگرام پیش کرتی رہتی ہوں۔ مختلف نوعیت کے پروگراموں کی نظامت کی ذمہ داری بھی سر انجام دیتی ہوں ۔ درس وتدریس تو خیر ایک مستقل مشغلہ ہے ہی۔ اسی کے ساتھ تھوڑی بہت خدمت خلق کے کاموں سے بھی وابستہ ہوں ۔

سوال: آپ نے ادب میں اب تک کیا کچھ تخلیق کیا اور کن اصناف میں طبع آزمائی کرتی ہیں ؟

جواب : میں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ نظمیں، غزلیں کہنے کی کوشش ہیں۔ افسانے بھی تحریر کیے ہیں۔ تنقیدی وتحقیقی نوعیت کے کئی مضامین لکھے جو ہند وبیرون ہند کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ حال ہی میں ایک بسیط مقدمے کے ساتھ نوسو دو صفحات پر مشتمل ” آبیاژہ (غضنفر کے ناولوں کا کلیات)” مرتب کیا ہے جسے کئی ماہرین و ناقدین ادب نے کہا ہے کہ “یہ اردو میں ناولوں کا پہلا کلیات ہے”۔ اس کے علاوہ “بات کرکے دیکھتے ہیں” کے عنوان سے مشاہیر کے انٹرویوز کا ایک سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی چند معتبر اردو افسانوں کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

سوال: آپ کی پسندیدہ صنف ادب کیا ہے؟

جواب : جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکی ہوں کہ میں ادب کی کئی اصناف میں دلچسپی رکھتی ہوں، لیکن سب سے زیادہ شاعری سے مجھے شغف ہے۔ شاعری میری روح کی غذا کی طرح معلوم ہوتی ہے ۔

سوال: آپ کی نظر میں اردو زبان وادب کو اس وقت کن مسائل کا سامنا ہے؟

جواب : اس وقت اردو زبان کو کئی سطحوں پرمسائل کا سامنا ہے ۔ اسکول سے لے کر کالج تک، اردو طرح طرح کی مصیبتوں سے گھری ہے۔ قدم قدم پر اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں ۔ پرائے تو پرائے اس کے اپنے بھی اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔اردو زبان کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ موجودہ نسل اردو زبان سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔ کوئی بھی اپنے بچوں کا داخلہ اردو اسکول میں کروانانہیں چاہتا۔ جو محنت کش طبقہ ہے وہ بھی اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلوانا چاہتا ہے۔ جو والدین انگریزی نہیں جانتے وہ اپنے بچوں کی ٹھیک سے رہنمائی نہیں کر سکتے، ان کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح نہیں کر سکتے تو کیا فائدہ ہے ایسی تعلیم کا۔ بچہ جیسے تیسے میٹرک پاس کرلیتا ہے اور پھر تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، نتیجتاً اس کی صلاحیتیں پروان چڑھنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہیں۔۔۔۔ ایسے میں اردوزبان کے فروغ کے لیے جو ادارے بنے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئیں ۔لوگوں کو سمجھائیں۔ انھیں احساس دلائیں کہ اردو ہماری تہذیب اور ہمارے تشخص کی زبان ہے مگر ہمارے ادارے بنیادی کام کرنے کے بجائے مشاعرے، سمینار، ورکشاپ اور ایک دوسرے کو ایوارڈز دینے میں ہی مصروف ہیں ۔صرف حکومت کو دوش دیا جاتا ہے ۔۔۔ کئی سرکاری اسکولز اس لیے بند کئے کر دیے گئے اور کیے جارہے ہیں کہ وہاں بچوں کا داخلہ ہوتا ہی نہیں۔ اس طرح جب اسکول بند ہوتے جائیں گے تو روزگار کے مسائل بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ یعنی آسامیاں، اسکول کے بند ہونے سے ازخود رک جائیں گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جہاں مسلم ادارے انگریزی یا کسی بھی میڈیم کا اسکول چلاتے ہوں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے اسکولوں میں اردو دوسری یا تیسری زبان کے طور پر لازماً پڑھائیں۔ اردو کو کورس کا حصہ بنادیں تاکہ اردو پڑھنا ہر ایک کے لیے نا گزیر ہو جائے۔ ایسے میں کچھ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور بچہ اردو بھی پڑھ سکے گا۔ یہ بنیادی مسائل ہیں لیکن کئی اور مسائل بھی ہیں ۔جیسے کہ قارئین کی ادب میں عدم دلچسپی ، نصاب کی کتابوں کا وقت پر نہ چھپنا۔ اچھے نصابات کی کمی وغیرہ ۔

سوال: اردو ادب کی ترویج کے لیے ہم میں سے ہر شخص انفرادی طور پر کیا کچھ کر سکتا ہے؟

جواب : ابھی اوپر اسی بابت بات ہوئی کہ اگر ہر شخص اپنے حصے کا کام کرے تو اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔۔۔مگر ہماری سوچ یہ ہے کہ کسی ایک کے کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہو یا نہ ہو مگر ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہی چاہیے۔ اس سے مفر سم قاتل ثابت ہوگا۔ اس سوچ کے خاتمے کے لئے ہمیں اپنی اپنی سطح پر یہ کام پہلے خود کرنا ہوگا پھر اس کے لیے اجتماعی کوشش اور منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ بنیادی ذریعہ تعلیم اردو ہو یا پھر ایک لازمی مضمون کے طور پر اردو کی بات ہو۔ یہ کام ہمیں اپنے گھر سے شروع کرنی چاہیے۔ انفرادی طور پر یہ کام تو ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اردو زبان کی طرف راغب کریں اور ان کی اردو تعلیم کا گھر پر انتظام کریں۔ انھیں اس زبان کی خوبصورتی اور قدر وقیمت کا احساس دلائیں۔ انفرادی طور پر یہ بھی کرنا چاہیے کہ امکان کی حد تک زیادہ سے زیادہ ہم اردو رسم الخط کا استعمال کریں اگر کمپیوٹر اور موبائل پر اردو کی بورڈ ہے تو اپنے پیغامات اردو رسم الخط میں ہی ٹائپ کریں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف توجہ دلائیں ۔ یہ چھوٹی چیز نہیں ہے ، اس سے اردو کا مارکیٹ تیار ہوگا اور آپ کو پتہ ہے کہ کوئی بھی سرکار ہو یا کمپنی، وہ مارکیٹ میں آئے ڈیمانڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

سوال: انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں اردو خود کو کیسے پروان چڑھائے ؟

جواب : اردو زبان کو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان سورسز کا بہتر طریقے سے استعمال کرکے، اور نئے راستوں پر چل کر ہی نئی منزلیں طے کی جا سکتی ہیں۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ دنیا آن لائن ہوچکی ہے۔ ہمیں بھی اردوزبان وادب کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کا باقاعدہ استعمال کرناچاہیے ۔ادھر ادھر سے میٹریل سمیٹ کر الٹے سیدھے پروگرامز کی بجائے لرننگ اور ارننگ کے متعلق منظم طریقے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اچھے دماغوں کو تلاش کرکے اس نئے راستے پر لگانا چاہیے تاکہ ہماری زبان بھی نئی روشنی اور نئے رنگ و آہنگ سے ہم آمیز ہو سکے۔

سوال: آپ ادب میں کس شخصیت سے متاثر ہیں؟

جواب :ادب میں کئی شخصیات ایسی ہیں جنھوں نے مجھے متاثر کیا۔ ان میں سرسید احمد خاں اور مولانا آزاد سرفہرست ہیں ۔آج ہمیں ایسے مصلح قوم کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی سے زیادہ اپنی قوم کی فکر کریں۔ ملت کے لیے سوچیں اور اپنی قوم و ملت کی فلاح وبہبود اور بہتر مستقبل کے لیے تن من دھن سے جٹے رہیں ۔میر، غالب اور اقبال کے کلام نے متاثر کیا تو محمد حسین آزاد, مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کی تحریروں نے بھی توجہ کھینچی۔ موجودہ دور میں بھی ایسی کئی شخصیات ہیں جن کے فکر وفن اور اخلاق و اوصاف نے متاثر کیاہے ۔

سوال : کہاجاتا ہے یہ صدی کتابوں کی آخری صدی ہے آپ کیا سمجھتی ہیں؟ کتابوں کے بعد کی صدی کیسی ہوگی ؟

جواب :مجھے نہیں لگتا یہ کتابوں کی آخری صدی ہے ۔ہاں کتاب اور مطالعے کی اہمیت کچھ کم ضرور ہوئی ہے مگر آخری صدی ہرگز نہیں ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ کتاب کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو گی۔ میں خود کتابوں کے مطالعے کی عادی ہوں۔ ای بکز سے وہ سکون نہیں ملتا جو کتاب کی ورق گردانی سےملتا ہے ۔ ای بکز یا پی ڈی ایف سے لگتا ہے کہ ہم قید ہوگئے ہیں جبکہ کتاب کو تھام کر ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی کی انگلی پکڑ کر سفر پر چل پڑے ہیں اور یہ ورق گردانی ہمیں محلہ سے شہر اور شہر سے ملکوں تک کا سفر کروا دیتی ہے۔ لہذا آخری صدی والی بات بالکل غلط اور لغو ہے۔

سوال : نسل نو کو اردو ادب کی طرف کیسے راغب کیا جائے ؟

جواب :اردوزبان کی اہمیت کا احساس دلا یاجائے، کامک بکس، رنگین تصاویر والے کارٹونز اور دیدہ زیب رسالے فراہم کیے جائیں۔ دلچسپ کہانیاں حاصل کرکے انہیں ان کے مطالعے کا حصہ بنایا جائے۔ بچوں اور بڑوں کو بھی اس حقیقت سے روشناس کرایا جائے اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کروائی جائے کہ زبانیں روزگار کا ذریعہ نہیں ہوتیں ، یہ تو ہمیں اخلاق، اقدار، تہذیب، ثقافت اور زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں اور ایک کامیاب زندگی جینے کے لیے راستے ہموار کرتی ہیں ۔ ان لوگوں کی مثالیں سامنے رکھی جائیں جنھوں نے اسی زبان میں تعلیم حاصل کرکے نام، شہرت اور عزت حاصل کی ہے اور اس زبان کی بدولت زندہ ءجاوید بھی ہوئے ۔

سوال: تخلیق کاروں کےلئے کوئی خوبصورت پیغام جو آپ دینا چاہیں گی؟

جواب :کیا کہا جائے اس آن لائن دنیا نے ہر شاعر کو کہنہ مشق اور ہر ادیب کو عظیم بنادیا ہے۔ تعریف اور توصیف کے ہم اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہم لوگ تنقید برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ جب کہ ہمیں تنقید برائے اصلاح کو قبول کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اس سے ہماری اصلاح ہو جاتی ہے ۔ انتظار نعیم صاحب کا ایک شعر ہمیشہ نظروں کے سامنے رکھنا چاہیے کہ:

تنقید سے شاعر کی تقدیر سنورتی ہے

تعریف کے متوالے، تنقید گوارا کر۔

بات صرف شاعری کی نہیں ہے بلکہ تمام ہی شعبہء حیات کی ہے۔ اس لیے اصلاحی تنقید سے سیکھنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے اور اللہ پاک پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے کہ جو ہوگا بہترین ہوگا۔ والدین اور اساتذہ کا ادب واحترام دوست، احباب اور اپنے چھوٹوں کے ساتھ محبت و شفقت اور خلوص سے پیش آئیں ۔ سب سے اہم بات زندگی کے جس شعبے سے بھی وابستہ ہوں وہاں اپنا %100دیں۔ سعی پیہم اور جہد مسلسل سے اپنے کام کیے جائیں ،وقت کا بہترین استعمال کریں، دوسروں کی ہمت افزائی کریں ۔کامیابی یقینا ملے گی۔ محبتیں بانٹیں۔۔۔۔۔ محبتیں وصول کریں ۔ اس دنیا کو جنت بنتے دیر نہیں لگے گی ۔

شاد و آباد رہیں سلامتی کے ساتھ ، بہت ساری دعائیں۔ آمین

***

Leave a Reply