You are currently viewing “ممتاز مفتی کے افسانوں میں  نفسیات” ایک جائزہ

“ممتاز مفتی کے افسانوں میں  نفسیات” ایک جائزہ

فاطمہ محمود

ریسرچ اسکالر(جی سی ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ)

سی۔ ٹی ۔آئی فیکلٹی شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج  ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ

 

“ممتاز مفتی کے افسانوں میں  نفسیات” ایک جائزہ

افسانہ ادب کی نثری صنف ہے۔ لغت کے اعتبار سے افسانہ جھوٹی کہانی کو کہتے ہیں ۔لیکن ادبی اصطلاح میں یہ لوک کہانی کی ہی ایک قسم ہے۔ ناول زندگی کا کُل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے۔ جب کہ ناول اور افسانے میں طوالت کا فرق بھی ہے اور وحدت تاثر کا بھی۔ افسانہ کو کہانی بھی کہا گیا ہے۔ لیکن موجودہ ادبی تناظر میں افسانے سے مقصود مختصر افسانہ ہے ۔جو کم سے کم آدھے گھنٹے میں یا آدھی نشست میں پڑھا جاسکے ۔ افسانہ دراصل ایک ایسا قصہ ہے ،جس میں کسی ایک واقعہ یا زندگی کے کسی اہم پہلو کو اختصاراً اور دلچسپی سے تحریر کیا جاتا ہے ۔اس کی ترتیب میں اجزائے ترکیبی کا بہت زیادہ عمل دخل رہتا ہے اور ان میں سے وحدت تاثر کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔لغت میں افسانے کےمعنی کچھ یوں ہیں۔ بے اصل بات،جھوٹی بات،حال احوال، طولانی بات یا معاملہ وغیرہ۔  ڈاکٹر انور جمال لکھتے ہیں کہ:

” حقیقت کا نقیض،جھوٹ،جھوٹی کہانی ،بات کو زیب داستاں کے لیے بڑھانا۔ ۔  ۔ افسانہ زندگی کے کسی ایک واقعے یا پہلو کی وہ خلّاقانہ اور فنی پیش کش ہے ۔جو عموماً کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ ایسی تحریر جس میں اختصار اور ایجاز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔وحدتِ تاثر اس کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔” 1

  (انور جمال، ادبی اصطلاحات،ص25)

جدیداُردو افسانے میں بہت سے تجربات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔کچھ تجربات اُردو افسانے میں خاص مقبول ہوئے اورکچھ تجربات نے صنفِ افسانہ کو ہی مسخ کیا۔ بہر حال یہ تجربات کا دور تھا ۔ نئے نئے تجربات سے جدید افسانہ  میں کئی سنجیدہ مسائل بھی پیدا ہو ٰئے۔جدید افسانہ نگاروں نےافسانے کے بنیادی عنصر کہانی پن سے انحراف کیا ۔جس کے نتیجے میں ’’اینٹی اسٹوری‘‘ کارواج عمل میں آیا ۔خصوصاً 1960 کے بعد اُردو میں زیادہ تر ایسی کہانیاں لکھی گئیں ،جن میں کہانی پن کا فقدان یا ان کا عدم وجود نظر آتاہے ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ جدید افسانہ نگاروں نے واقعات کے بجائے خیالات کی ترجمانی کا تجربہ کیا۔ ذہن کے پوشیدہ گوشوں ،  لاشعور اور تحت الشعور کی ترجمانی کی طرف قدم بڑھایا ۔ جس میں افسانے کا پلاٹ سے محروم ہونا لازمی تھا۔ کیوں کہ خارجی دنیا میں  وقت کی نوعیت تاریخی ہوتی ہے۔ جب کہ داخل میں وقت کاتاریخی تصور برقرار نہیں رہ پاتا اور ماضی ، حال ، مستقبل تینوں زمانے آپس میں ضم ہوجاتے ہیں ۔اس قسم کے افسانوں میں ’’شعورکی رو‘‘ کا سہارا لیا گیا۔ جدید افسانے میں کردار کے حوالے سے ایک تبدیلی یہ بھی ہوئی کہ جیتی جاگتی شکل میں نظرآنے والے کرداروں کی جگہ پرچھائیاں نظر آنے لگیں ۔

کردار نگاری کے اس طریقہ کار سے متعلق پر فیسر طارق چھتا ری نے لکھاہے  کہ:

’’کردار جسم اورپرچھائیں دونوں پر جدید اُردو افسانے میں توجہ دی گئی ۔مگر ہوا یوں کہ1960ء کے بعد یہ رحجان عام ہوا اور پھر اس میں شدت آگئی کہ اب افسانوں سے جسم غائب ہوگئے او رمحض پرچھائیاں ہی باقی رہ گئیں۔لہٰذا کرداروں نے اپنا وجود کھودیا اور چندہیولے ہی نظر آنے لگے‘‘ ۔   2

(طارق چھتاری، جدید اردو افسانہ،ص78)

جدید اردو افسانہ تجربات کا مرکز نظرآرہا ہے ۔اس میں افسانے کے موضوع ، ہیٔت ، فن ، تکنیک ، اسلوب اور زبان کی سطح پر جونت نئے تجربے ہوئے ۔انہوں نے اُردو کے افسانوی ادب میں وُسعت ، عمیق نظری ، تہہ داری اور تنوع پیدا کیا۔ موضوع، پلاٹ اور کرداروں میں نئے نئے تجربات کیے گئے۔ موضوع ، پلاٹ اور کردار کے علاو ہ احساس و تخیّل کو بھی افسانہ میں بنیادی حیثیت دی  گئی۔ افسانوی ادب کو فنی وجمالیاتی اقدار سے سرافراز  کیا گیا، فکر کی گہرائی،نفسیاتی اور فلسفیانہ جہات سے روشناس اورساتھ ہی اسے تحقیقی نہج عطا  کی گئی۔ایسا ہی ایک تجربہ کار افسانہ نگار ممتا ز مفتی بھی تھا۔

ممتاز حسین  12 ستمبر 1905ء کو بٹالہ  ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام مفتی محمد حسین تھا۔ ممتاز مفتی نے اپنی تعلیم مختلف شہروں میں مکمل کی۔  میٹرک کا امتحان 1921ء میں ڈیرہ غازی خان سے پاس کیا۔انٹرمیڈیٹ کا امتحان 1927ء میں امرتسر سے اور بی۔اے کا امتحان 1929ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے پاس کیا۔آپ اپنی تعلیم کے بعد 1932ء میں  شعبہ تدریس سے منسلک ہو گئے۔ پھر 1945ء میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔1947ء میں پاکستان آگئے اور یہاں پر اخبارات اور ریڈیو میں خدمات انجام دیں۔آخر وقت تک گھر کا خرچ انھی اخبارات میں لکھنے سے چلاتے رہے ۔1951ء میں حکومت پاکستان کے محکمہ اطلاعات سے وابستہ ہوئے۔اس ملازمت کے کئی مدارج طے کرنے کے بعد 1966ء میں ریٹائر ہوئے۔آپ نے 12 اکتوبر 1995ء کو اسلام آباد میں وفات پائی۔ممتاز مفتی نے آٹھ افسانوی مجموعے لکھے۔ اس کے علاوہ دیگر تحاریر میں ناول،سفر نامہ اور نامور شخصیات کے خاکے بھی شامل ہیں۔ ان کی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔

  • ان کہی
  • گہما گہمی
  • چپ
  • اسمارائیں
  • گڑیا گھر
  • روغنی پتلے
  • سمے کا بندھن
  • کہی نہ جائے
  • پیاز کے چھلکے
  • اوکھے لوگ
  • لبیک
  • ہندیاترا
  • علی پور کا ایلی
  • الکھ نگری

نفسیات انسان کی اندرونی کیفیات،ذہنی واردات اور اس کے خارجی اعمال و افعال کا بلا واسطہ اور بالواسطہ مطالعہ کرتی ہے۔کائنات کا اصل مرکز اور دلچسپی کا محور انسان اور اس کی ذات ہے۔چناں چہ نفسیات انسان اور اس کے کردار کو موضوع بناتی ہےجو ایک جاندار کی حیثیت سے اس تغیر پذیر دنیا میں عمل پیرا ہوتا ہے۔اور ہر آن بدلتے ہوئے مظاہر اور واقعات کا جوابی عمل/ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ نفس انسانی کے مطالعے کو عقل اور اس کے مظاہر کے دائرے تک محدود رکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی محرکات کا پہلو نظر سے اوجھل رہا۔انسانی علم کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس سے کہیں زیادہ طاقتور وہ محرکات ہیں جو ہیجانات اور جذبات کی صورت میں کبھی شعوری سطح پر تو کبھی لاشعوری سطح پر اپنا کام کرجاتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی کردار کے لاشعوری محرکات کو دریافت کیا۔انا انسانی ذہن کا وہ حصہ ہے جس کے تحت ایک شخص معقول طور پر سوچتا ہے۔یعنی کہ انا خارجی حقیقت سے دوچار ہونے کا ذہنی وسیلہ ہے جس کے ذریعے ماحول اور خواہشات سے مفاہمت کی جاتی ہے۔انا انسان کی جبلی خواہشات اور خارجی دنیا کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرتی ہے۔ایڈلر کا خیال ہے کہ معاشرے کی ساری برائیاں جرائم،خودکشی،بےراہ روی،نفسیاتی امراض وغیرہ معاشرتی احساس کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔مثلا ایک ذہنی مریض کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنے آپ میں گم رہتا ہے۔اور دوسروں میں دلچسپی نہیں لیتا۔اگر ایک شخص دوسرے کے معاملات میں خوب دلچسپی لےتو نہ تو وہ احساس کمتری کا شکار ہوسکتا ہے اور نہ ہی ذہنی مریض بن سکتا ہے۔لاشعور کی دریافت نے انسانی شخصیت کی ایک بالکل نئی اور منفرد جہت کو سامنے لا کر انسانی ذہن اور شخصیت کے قدیم تصور کو بدل دیااور انسانی زندگی کے مبہم گوشوں کو منور کرکے شعر و ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔اس تصور نے شعور سے زیادہ لا شعوری محرکات کو اہم قرار دیااور عقل پر جبلتوں کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لاشعور دراصل ان خواہشوں،آرزوؤں اور تمناؤں کا مسکن ہےجو سماجی دباؤ اور معاشرتی رکاوٹوں کے سبب لاشعور میں رہائش پذیر ہو جاتی ہیں۔ممتاز مفتی کے ہاں نفسیاتی تناظر میں کھوئے ہوئے افراد کی تلاش اور گمشدہ تشخص کی بازیافت کا واضح رجحان ملتا ہے۔داخلی اور خارجی جبر کی مختلف صورتیں اردو افسانے کا موضوع بنتی ہیں تو پھر پیش منظر سے پس منظر اور معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کے ایک سفر کا آغاز ہوتا ہے۔اس لیے اس سفر کی کئی ایک جہتیں ہیں۔یہ سفر زمان و مکان کے اندر رہ کر بھی طے ہوتا ہےاور انسان کے نفس لاشعور کا سفر اور کبھی شعورسے لاشعور کا سفر،ہجوم میں کھوئے ہوئے انسان کی تلاش کا سفر یا پھر اپنی ذات کے گنبد میں اسیر انسان کی رہائی کا سفر۔ممتاز مفتی کے افسانوں میں بھی اور ان کی سوانح میں بھی ہمیں اس تلاش کے واضح اور بلیغ اشارے ملتے ہیں۔عکسی مفتی ابدال بیلا کی کتاب “مفتی جی” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ:

’’ ممتاز مفتی شروع ہی سے کسی تلاش میں تھا۔جیسے بھرے چوک میں اس کی کوئی اٹھنی گرگئی ہو۔اور اسے ممتاز مفتی کو ڈھونڈنا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی کسی تلاش میں ہے۔کسی کو ڈھونڈ رہا ہے۔‘‘ 3 (ابدال بیلا،مفتی جی،ص13)

ممتاز مفتی کی 1935ء کی لکھی ہوئی ڈائری میں عورت سے منسلک ان کی نفسیات کا یوں سراغ ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میری شخصیت پر عورت کا عنصر وضاحت کے ساتھ غالب ہے۔میں خدا سے ڈرتا ہوںاور اسی لیے اس کی شان میں گستاخی کرنے سے مجھے تسکین ملتی ہے۔عورت سے ڈرتا ہوں اسی لیے کہ اس کی جانب کھنچا چلا جاتا ہوں۔میری محبت کی گاڑی شک اور کمتری کے پہیوں پر چلتی ہے۔میری طبیعت میں بنیادی طور پر جو جذبہ کار فرما ہےوہ جھجک اور کمتری ہے۔احسان اکبر اس حوالے سے ممتاز مفتی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’ان حوالوں سے بنی شخصیت اگر یونگ،فرائڈ اور ایڈگر میں دلچسپی نہ لیتی تو حیرت ہوتی۔‘‘4 (احسان اکبر،چھڈ یار،مشمولہ:مفتی جی،ص196)

ممتاز مفتی کو نفسیات سے بہت گہرا تعلق تھا۔نہ صرف عورت بلکہ مردوں،بچوں،جوانوں،بوڑھوں اور نوعمروں سبھی کے نفسیاتی مسائل کو کامیابی سے اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ابن انشا نے تو اپنے ایک مضمون میں ممتاز مفتی کو بے رحم نفسیات کا مالک تک کہہ ڈالاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کردار کی نفسیات کا بڑی باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا ایک بڑا موضوع نفسیات ہے۔نصرت منیر شیخ اپنے مضمون “مفتی کے افسانے” میں لکھتے ہیں کہ:

’’ وہ اپنی کہانی میں قاری کو بڑی تیزی سے متوجہ کرنا جانتا ہے۔اس نے انسانی نفسیات کو اندر سے نکال کر سڑک پر لانے کا کام اردو افسانے میں اس دور میں شروع کیا جب اردو میں لکھنے والے انسانی لا شعور کی پیچ در پیچ گتھیوں کی طرف ابھی متوجہ نہیں ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جنس اور نفسیات دراصل یہی دو موضوع مفتی کے موضوع ہیں۔‘‘  5نصرت منیر شیخ،مفتی کے افسانے،مشمولہ:مفتی جی،ص575)

سگمنڈ فرائیڈ ایڈلر اور یونگ کی نفسیات نے ممتاز مفتی کو بہت متاثر کیا۔اتنا کہ بعض ناقدین ان کے افسانوں پر کیس ہسٹری کا الزام لگاتے ہیں۔ ممتاز مفتی کے افسانوں کا موضوع متوسط طبقے کے زندگی ہے۔ان کے افسانوں میں متوسط طبقے کے مسائل،ان کے معاملات کی گھٹی گھٹی فضا، مختلف انسانی رشتوں کے دبے دبے کرب،سماجی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور اخلاقی بے چینی کو جس خوبصورتی کے ساتھ سمجھا اور پیش کیا گیا ہےاس کی روشنی میں ان کو نفسیاتی ادب کا پیش رو کہا جاسکتا ہے۔ممتاز مفتی کے ہاں تخلیقی عمل کی فضا اور ہوا نفسیاتی کیف و کم اور واقعات و جزئیات اس طرح گندھے ہوئے ہیں کہ ان میں سے اگر ایک بھی لفظ ادھر ادھر کردیا جائےتو بات کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ان کے چند ایک افسانوں کا  نفسیاتی پہلو  سے جائزہ درج ذیل ہے۔

ان کے سب سے پہلے افسانے جھکی جھکی آنکھیں کا بنیادی موضوع ایک ایسی عورت عذرا ہےجس کی سب سے ذیادہ کشش اس کی موٹی موٹی خوبصورت آنکھوں میں ہے،جنھیں وہ محبوب سلیم کی یادوں اور محبت کو راز رکھنے کی خاطر جھکائے رکھتی ہےتاکہ یہ راز کسی دوسرے پر عیاں نہ ہوپائے۔کیوں کہ اس محبت کی گواہ صرف وہ آنکھیں ہی ہیں۔اس کے علاوہ ایک طوطا اس کا رازداں ہےجو خود قید میں ہےاور پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔ عذرا کا شوہر اس کے لیے ایک نئی ساڑی خریدنے کے لیے دن رات کام کرنے کے باعث بیمار ہو جاتا ہےاور نیم بےہوشی  میں بھی بس عذرا کو ہی پکارتا ہے۔اس محبت کے سامنے عذرا کو اس کے محبوب سلیم کی محبت پھیکی پھیکی لگنے لگتی ہےتو وہ محبوب کی محبت کے حصار کو توڑ کر شوہر کی محبت میں اپنے آپ کو مدغم کرلیتی ہے۔

ممتاز مفتی نے عورت کو ہر روپ میں اپنے افسانوں کی زینت بنایا ہے۔افسانہ حقیقت میں ممتاز مفتی پورینما کو ایک مثالی بیوی کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو اپنے خبیث اور بدصورت شوہر کے مرنے کے بعد اپنے سابق محبوب کی جانب مائل ہونے کے بجائے اسی کم بخت مرحوم شوہر کا بت پوجنے لگتی ہے۔ممتاز مفتی کے افسانوں میں مشرقی عورت اپنا مشرقی پن اور وفاشعاری ہمیشہ تھامے رکھتی ہیں۔

افسانہ ماتھے کا تل میں ایک دیور کی بھابھی سے لاشعوری محبت کو موضوع بنایا گیا ہے۔جسے شعور کی سطح پر تو بھابھی کے تقدس اور احترام کا خیال ہے۔لیکن لاشعوری طور پر وہ بھابھی کے عشق میں مبتلا ہے۔اس افسانے میں نفسیات کا وہ جانا پہچانا رنگ بھی ملتا ہے جسے ایڈی پس کمپلیکس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اور یہ ممتاز مفتی کی ذات میں بھی بہت نمایاں ہےاور اس کا واضح حوالہ علی پور کا ایلی میں ملتا ہے۔اس افسانے کی کہانی یہ ہے کہ سعید کی ماں مر جاتی ہےاور اسے شروع سے ہی اس کی بھابھی پالتی ہے۔ جس کی موٹی موٹی آنکھیں ،کشادہ پیشانی اور بھنووں کے درمیان ایک واضح تل ہے۔سعید اپنی خالہ زاد تسلیم کو پسند کرتا ہےاور پسند کرنے کی وجہ اس کا بھابھی سے مشابہ ہونا ہے۔لیکن اس کے ماتھے پر تل نہیں ہوتا تو سعید شادی کے بعد توے کی سیاہی سے تسلیم کے ماتھے پر تل بنادیتا ہےجس سے مشابہت مکمل ہوجاتی ہے۔اس طرح سعید کی نفسیات میں سکون اترتا ہے۔یہ ممتاز مفتی کا فن ہے۔اس حوالے سے منشا یاد لکھتے ہیں کہ:

’’مفتی کا فن کردار کے نفسیاتی مطالعےاوراس کی تحلیل نفسی کے ذریعے سچ کی دریافت کرتا ہے۔‘‘ 6 (ابدال بیلا، مفتی جی،ص548)

ممتاز مفتی عام انسانی رویوں اور روزمرہ کے معمولات میں ہلکی سی تبدیلی سے محبت کی شدت،گہرائی اور تپش کو سامنے لاتے ہیں۔افسانہ نیلی اس کی بہترین مثال ہے۔اس افسانے میں عام گھریلو ماحول میں معمولی شکل و صورت کا حامل جلیل دکھائی دیتا ہے۔اس کی بیوی ایک ایسے بچے کو جنم دیتی ہےجو نیلی نیلی کانچ سی آنکھوں، زعفرانی رنگت اور سنہری بالوں والا ہوتا ہے۔حالاں کہ خاندان میں دور دور تک ایسا حسن موجود نہیں۔ ہر ایک کے ذہن میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ بچہ ایسا حسن کہاں سے چرالایا۔افسانہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حسن تو دراصل جمیل کی محبوبہ نیلی کا حسن ہے۔جس سے شادی نہ کرنے کی وجہ نیلی کی جلیل کو عیسائیت اپنانے کی شرط تھی۔ یہ انکار بظاہر تو تعلق کو ختم کر دیتا ہے۔ لیکن نامحسوس گہرائی اور شدت جلیل کے بچے کی صورت میں مجسم ہوجاتی ہےاور آخر میں ایک عورت جو بچے کو دیکھتی ہے تو اسے غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ شاید یہ بچہ جلیل کی ہمسائی نیلی کا ہے۔وہ کہتی ہے کہ مرد کی آنکھ میں دلہن کی جو تصویر بن جائےوہ کبھی نہیں مٹتی۔ اس طرح یہ افسانہ انسان کے لاشعور کو احاطہ تحریر میں لاتا ہے۔

افسانہ سمےکا بندھن میں ممتاز مفتی کی صناعی اور جادوگری کھل کر سامنے آتی ہے۔اس میں نفسیاتی پہلو بہت نمایاں ہے۔جسم اور روح ،فرد کی آذادی وبےبسی،فکری و جذباتی اظہار کا بندھن سمے کا بندھن بن کر قاری کو اپنی ارفعیت کا اس قدر اسیر کرلیتا ہے۔کہ وہ کچھ کہنا بھی چاہے تو نہیں کہہ سکتا۔ نائیکہ اپنی شاگرد سے کہتی ہے کہ:

’’اپنا سمے پہچان سنہرے ،اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔‘‘ 7  م(ممتاز مفتی، سمے کا بندھن،ص7)

’’دیکھو اس کے سمے کے نیڑے نیڑے بھی ایسا گیت نہ گانا۔جو اسے پکار دے بجھن نہ چھیڑنا،ڈرو کہیں وہ تمہاری پکار سن کر ہنکارا نہ بھردے۔‘‘ 8  (ایضا،ص11)

سننے اور پڑھنے والے کے لیے یہ سب کچھ بس ایک وہم اور بے جا حدبندی ہےجس کو نفسیاتی مسئلہ یا کوئی خودساختہ بیماری کہا جاسکتا ہے۔لیکن افسانے کے بعد کے حقائق و نتائج نائیکہ کی بات کو سچ ثابت کرتے ہیں۔جب سنہرے محفل میں گاتی ہےتو ہر کوئی محفل میں بھیگ جاتا ہے۔کسی کو ہوش نہیں رہتااور سنہرے کو روکنے والی نائیکہ بھی وہاں نہیں ہوتی۔سنہرے گاتی ہے:

’’خواجہ پیا موری رنگ دے چنریا

ایسی بھی رنگ دے،رنگ نہ چھوٹے

دھوبیا دھوئے جائے ساری عمریا‘‘  9

)ایضا،  ص12)

تو اس کے بعد اسے یہ سب گیت گانا چھوڑنا پڑتا ہے۔اس کا نہ سر لگتا ہے،نہ تال ملتی ہے اور بقول افسانہ نگار کسی بات میں چت نہیں لگتا۔لہذا نائیکہ اسے کسی ریئس کے ساتھ بیاہ دیتی ہے۔کیوں کہ اب وہ بیٹھک میں بیٹھنے لائق نہیں رہتی۔لیکن وہاں بھی کچھ عرصے بعد اس کا شوہر وفات پا جاتا ہےتو وہ گم سم رہتی ہےاور خواجہ پیا کو پکارتی رہتی ہےاور پوچھتی ہے کہ میرا جیون کسی کام آیا۔ایک دن گاؤں میں دو جوگی آتے ہیں۔ سنہرے ان سے مل کر وجہ پوچھنا چاہتی ہے۔لیکن جب وہ ان کو دیکھتی تو حیران رہ جاتی ہےکہ وہ اس کا استاد ہی ہوتا ہے جسے اس رات کے بعد جوگی بننا پڑتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اس کے سمے میں پاؤں رکھ دیا تھا۔

ممتاز مفتی کا افسانہ ساری بات ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔ اس میں ایک نفسیاتی کہانی ہے۔اس افسانے میں وہ نفسیاتی الجھنیں پیش کی گئیں ہیں جو آج کے مادی دور کے کھوکھلے پن اور جھوٹ کی پیداوار ہیں۔انسان جس تصادم کا شکار ہےاس نے اسے ذہنی، جذباتی،باطنی اور نفسیاتی طور پر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہےاور وہ خود اذیتی کا شکار ہو کر اپنی ہی ذات کوانتقام کا نشانہ بناتا ہے۔یہ پلاسٹک کلچر گھرانے کی عام خدوخال کی لڑکی آمنہ کی کہانی ہےجس کے والدین براڈمائنڈیڈ ہونے کے ناطے وقت سے پہلے ہی اپنی بیٹی کے لیے رشتہ کی تلاش شروع کر دیتے ہیں اور محلے میں آنے والے ہر گھر جاتے ہیں تاکہ انھیں کوئی امیر اور قابل لڑکا اپنے جال میں پھنسانے کا موقع ملے۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’وہ بڑے اہتمام سے ہر نووارد کے گھر سوشل وزٹ کرتے۔‘‘ 10 (ممتاز مفتی، ساری بات،مشمولہ:سمے کا بندھن،ص23)

آمنہ ایک ہینڈسم لڑکے امان سے محبت یا یوں کہہ لیں کہ اسے قربانی کے بکرے کے طور پر  پسند کرلیتی ہے ۔اس کے ماں باپ بھی اس میں راضی ہوتے ہیں۔لیکن ایک دن جب وہ امان سے اس بارے میں بات کرتی ہے تو وہ اسے مسترد کردیتا ہے۔بلکہ اس کا مذاق اڑاتا ہےکہ آئینہ دیکھا ہے کبھی۔اس سے اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہےاور وہ انتقام لینے کی غرض سے اس کے باپ سے نکاح کر لیتی ہے۔ اس کے بعد اسے خوف،انزائیٹی اور ڈیپریشن کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔وہ جس بھی ڈاکٹر سے مشورہ کرتی ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی ارریشنل فیئر ہے کیا؟  اور پھر کہتے ہیں کہ ساری بات بتاؤ۔وہ ساری بات بتانے سے قاصر ہے ۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’یہ ڈاکٹر نہیں سمجھے گا۔ ۔ ۔ ۔ میری بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔بار بار کہتی ہوں ڈاکٹر مجھ پر خوف طاری ہے۔کوئی ایسی دوا دیجئے کہ یہ دور ہوجائے یا ٹینشن میں کمی آجائے۔‘‘ 11)ممتاز مفتی،ساری بات،مشمولہ: سمےکابندھن ،ص25)

ممتاز مفتی ذہنی اور فکری آزادی کے قائل تو ہیں لیکن  اس معاشرے کو نظر انداز نہیں کرسکتے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔اس معاشرے میں ذہن وفکر کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہےاور اس کی آزادی کو غلط نظروں سے دیکھا جاتا ہےاور اس کے کئی بے تکے سے مفاہیم بیان کرکے فرد کو قید،حبس اور گٹھن زدہ ماحول کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔جہاں سے وہ چاہے تو بھی نکل نہیں سکتا۔انسانی نفسیات کے نبض شناس ممتاز مفتی اس قید کو پنجرے میں بند طوطے کی مانند سمجھتے ہیں۔جس میں طوطا پھڑپھڑاتا پھڑپھڑاتا یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر وہ شوخی اور زندگی سے پیار کرنا بھول جاتا ہے۔اس کی بہترین مثال افسانہ سیانی ہے۔اس کا مرکزی کردار ساحرہ ہے۔وہ جب بیاہ کر آتی ہےتو وہ اس گاؤں کے رواج کے مطابق نہ تو گھونگھٹ نکالتی ہے اور نہ ہی شرماتی ہے۔بلکہ اپنے بیاہ میں خوب ناچتی ہے۔دوسری عورتیں بڑی حیرت سے اس کا تذکرہ کرتی ہیں، بزرگ اس کی بات سن کر کھانسنے لگتے ہیں اور نوجوان مردوں نے اس کی خاطر خوشبو اور ریشمی رومال خرید لیے ہیں۔اور اس کے پاس سے گزرتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہیں۔لیکن ساحرہ کا پڑوسی فیروز جو کہ سترہ سال کا ہےوہ بالوں میں ہاتھ پھیرنا نہیں جانتا۔وہ اسے بچہ سمجھتی ہے۔حالانکہ عمر میں چنداں فرق نہیں ہے۔وہ اس کے پاس آکر بیٹھا رہتا تھا اس کے میاں نے ایک دن ایک ہی پلنگ پر بیٹھے دیکھ لیا  اور خوب لڑائی کی کہ اسے یہاں مت بلایا کرو۔اگلے دن وہ اسے منع کردیتی ہے کہ یہاں مت آیا کرو اب سے میں تمہارے ہاں آیا کروں گی۔ پھر وہ پردہ بھی کرنا شروع کر دیتی ہےاور فیروز کے گھر بھی جاتی ہے۔مگر اب وہ کسی کو بری نہیں لگتی۔ساحرہ کا جذباتی بہاؤ ردعمل میں دوسرا رستہ اختیار کرلیتا ہےجس پر معاشرے کو بظاہر کوئی اعتراض نہیں ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’میں نہ کہتی تھی ذرا نگر میں رہ لینے دو ۔آپ ہی سمجھ آجائے گی۔تمیز تو یہاں آکر ہی آئی ناں۔ماں باپ نے تو ایسی الھڑ بنا رکھا تھا۔‘‘ 12  م(ممتاز مفتی، سیانی،مشمولہ:ان کہی،ص245)

عورت کی نفسیات سے خاص طور پر ممتاز مفتی آگاہ تھے۔ کہا کرتے تھے کہ عورت کو ڈرا کر نہیں محبت سے ڈیل کرو۔ابدال بیلا  اپنی کتاب مفتی جی کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ:

’’وہ صنف نازک کو مرد سے بہتر مخلوق تصور کرتے تھے۔کہتے تھے عورت اور مرد الگ الگ سپیشی ہیں۔عورت تخلیقی طور پر زیادہ حساس  اور توانا ہے۔ان کا حکم تھا کہ عورت کو ڈرانا نہیں۔اس سے تخلیقی کام خدا بھی لیتا ہے تم بھی لو۔‘‘  13  (ابدال بیلا، مفتی جی، ص43)

ممتاز مفتی اس معاشرے اور اس کے افراد دونوں کے نبض شناس تھے۔اس معاشرےمیں تعریف تو اسی عورت کی ہوتی ہےجو اپنی جبلتوں کا گلا گھونٹ کر رکھتی ہے،مرد کی عزت کرتی ہے، اس کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں کرتی ہے، روایت کو گلے لگائے،جدت سے نابلد،سگھڑ،گھر کا کام کاج سنبھالے،گھر سے باہر منہ نہ نکالے۔مگر محبوبہ وہ بنتی ہےجو شوخ و چنچل کام کاج سے عاری اور نخرے دکھانے میں ماہر ہو۔ ممتاز مفتی کا افسانہ آپا اسی نکتے پر محیط ہے۔اس میں آپا اپنے جذبات کو چھپائے رکھنے والی ہے۔لیکن اس مہمان کے آنے سے اس کے دبے ہوئےجذبات بھی کھل اٹھتے ہیں۔ اسی کی پسند کا کھانے میں میٹھا زیادہ اور سلاد کا آئے  روز بننا یہی اس کے جذبات کا اظہار ہے۔لیکن جب اسے اپنے محبوب کی ساجو سے شادی کا پتا چلتا ہے تو اس کے جذبات بہت مجروح ہوتے ہیں۔افسانہ نگار نے آپا کے جذبات کو جلی ہوئی راکھ کی چنگاری سے تشبیہ دی ہے۔جب اس کا محبوب ساجو کے پاس سے اٹھ کر آپا کے سامنے آگ کے قریب بیٹھتا ہے تو وہ ساجو سے مخاطب ہو کر کہتا ہےکہ آگ کی بجھی ہوئی ڈھیری میں بھی چنگاری ہوتی ہےتو آپا کے جذبات بے قابو ہو جاتے ہیں اور ایک آنسواس کی آنکھ سے ٹپک کر اس راکھ پر جاگرتا ہے۔اور محبوب کہتا ہے کہ اب اس چنگاری کو بھی بجھاو ٔگی کیا۔یہ سب باتیں آپا کے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’شرفا آپا کے مداح ہوتے ہیں۔لیکن ساجو سے بیاہ کی تمنا رکھتے ہیں۔‘‘14۔   (رام دین،ممتاز مفتی، ص188)

ممتاز شیریں نے ممتاز مفتی کے اس افسانے کو نہایت کامیاب افسانہ قرار دیا تھا۔منشا یاد لکھتے ہیں کہ:

’’ کردار کا  نفسی محرکات کی روشنی میں مطالعہ اور تجزیہ کرنے اور اسے اظہار کے تمام تر امکانات کے تحت پیش کرنے کی وجہ سے ہی وہ منفرد اور باکمال افسانہ نگار اور ناول نگار قرار پائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں شک نہیں کہ آپا اردو افسانے کی تاریخ میں ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔اور یقینا اردو کے بہترین افسانوں میں اسے خاص مقام حاصل ہے۔‘‘  15)ابدال بیلا، مفتی جی، ص543)

ممتاز مفتی کا افسانہ مہندی والا ہاتھ ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔اس میں لاشعور سے شعور کی سطح تک کا ذہنی سفر چونکا دینے والےانداز میں سامنے آتا ہے۔ اس میں خودکلامی کی کیفیت ملتی ہے۔فلسفی اور منطقی سا بھائی جو انگوٹھی اور مہندی والے ہاتھوں سے سخت نفرت کرتا ہےاور گھر میں ان دونوں چیزوں پر پابندی عائد ہے۔مہندی سات پردوں میں بھی چھپا کر رکھی جاتی مگر بھائی کو جو بو آجاتی  تو گھر میں قیامت آجاتی۔لیکن اس کی چھوٹی بہن کو شرارت سوجھتی ہےاور وہ اپنی مہمان آصفہ کے ہاتھوں  کومہندی اور انگھوٹھی سے سجا کر بھائی کو ہاتھ دکھانے بھیج دیتی ہےاور انتظار کرتی ہے کہ اب بہت بڑا ہنگامہ ہوگا۔مگر یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ اس کا بھائی ان ہاتھوں کو دیوانہ وار چوم رہا ہے۔اس افسانے میں محبت اور نفرت، وحشت اور لگاؤ کو ایک ہی کیفیت کے دو رخ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ بھائی جان کو مہندی سے جو نفرت اور وحشت تھی اس کی تہہ میں زبردست لگاؤ تھاجسے لاشعور میں دھکیل دیا گیا۔اس لگاؤ سے خود کردار بھی بے خبر تھا۔چناں چہ لاشعور سے شعور پر آنے سے وہ وحشت تحلیل ہوگئی اور لگاؤ ابھر کر سامنے آنے سے وہ مہندی والے ہاتھوں کو چومنا شروع کر دیتا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’انہوں نے ایک وحشت سے وہ ہاتھ پکڑلیا۔اور دیوانہ وار اسے چومنے لگے۔دیوانہ وار۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘   16 (ممتاز مفتی، مہندی والا ہاتھ،مشمولہ:ان کہی،ص185)

ممتاز مفتی کا افسانہ دو ہاتھ ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔اس میں لاشعور میں چھپی اس خواہش کی کہانی ہےجس کی کشمکش اور تصادم امتل جیسی تعلیم یافتہ اور کلچرڈ عورت کو جلا کر بھسم کردیتی ہے۔اس کہانی کی ابتدا میگاں تیلن سے ہوتی ہے جو اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے تیل کے کولہو کو چلاتی ہے۔اس کا شہزادیوں جیسا حسن ہےاورنوجونوں کو اس کے شر سے دور رکھنے کے لیے پنچایت رحمت علی سنیارے سے اس کے بیاہ کا فیصلہ کرتی ہے ۔مگر وہ انکار کردیتی ہےاور امتل جب وجہ پوچھتی ہے تووہ اسے بتاتی ہے کہ اس کی شخصیت پر جیرے ڈاکو کے مضبوط اور بڑے ہاتھ چھائے ہوئے ہیں اور وہ رحمت کے نرم و نازک اور فلالین ہاتھوں کو ناپسند کرتی ہے۔یہاں سے امتل کے لاشعور کی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ جو اپنے شوہر کے بھائی سلطان کے ہاتھوں سے خوفزدہ ہےاور وہ دونوں ہاتھ دیوانہ وار اس کے تعاقب میں رہتےہیں۔اور یوں اس کی ناآسودہ خواہشات  لاشعوری طور پر اسے بیمار کردیتی ہیں۔

ممتاز مفتی کے کم و بیش تمام افسانے نفسیاتی اثرات لیے ہوئے ہیں۔اس کی وجہ ان کی زندگی کے حالات و واقعات ہیں جو ان کی تحریروں میں جابجا منعکس ہوتے رہتے ہیں۔ افسانہ چٹ کپڑی میں ایک نفسیاتی عنصر کی حامل کہانی ہے ۔جہاں محبت اور جذبات میں گرم جوشی پیدا کرنے کی غرض سے تیسرے کردار کی محبت اور توجہ کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ بھی ایک نفسیاتی الجھن ہے۔ ایسے بہت سے کردار معاشرتی سطح پر موجود ہیں جو اپنی ذہنی بیماریوں سے  مجبور یہ تماشہ کھیلنے پر مجبور ہیں۔مسٹر راؤ بیوی کے ساتھ ساتھ اپنی سیکریٹری کی محبت کا دیوانہ ہے۔دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو مسٹر راو ٔکے اندرونی تضاد کا خوبصورت اظہار ہے۔

افسانہ دو مونہی ایک نفسیاتی کہانی ہے۔سانوری سلیمان سے محبت کی شادی کرتی ہے ۔مگر دو سال بعد ہی اکتا جاتی ہے۔وہ اس یکسانیت سے نکلنا چاہتی ہے۔افسانہ نگار اس کے اس جسمانی،جنسی اور نفسیاتی مسئلہ کا علاج بزرگ بتاتا ہے۔مگر انا کی ماری سانوری اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ سانوری کلینک علاج کے لیے جاتی ہےتو وہاں ڈاکٹر سے اسے پتا چلتا ہے کہ من کی گڑہیں،کانٹے اور دراڑیں کسی سے سچی محبت نہیں کرنے دیتیں۔ انسان کو صرف اپنے آپ اور اپنی انا سے محبت ہوتی ہے۔پھر سانوری کی ساری الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔یہ دراصل ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔اس کے حل پر غور کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ:

’’اگر اپنی ول ہی سرنڈر کرنا ہےتو میں اس کی بھینٹ کیوں نہ کروں جس کے پردے میں میں نے دو سال ٹوٹ کر اپنی انا سے محبت کی ہے ۔‘‘   17 (ممتاز مفتی،دو موہنی،مشمولہ: مفتیانے، ص1454)

افسانہ تھرڈ مین میں ایک اہم نفسیاتی مسئلہ پر قلم اٹھایا گیا ہے۔اس افسانے میں آسیہ اپنے شوہر قمر کی محبت کی آنچ کو بھڑکانے کے لیے کسی نہ کسی تھرڈ مین کا سہارا لیتی ہے۔اور اپنےہی نام لولیٹرز لکھتی ہے۔اس افسانے میں مثبت اور منفی انسانی رویوں سے انسانی فطرت اور نفسیات کی بھرپور اور سچی عکاسی کی گئی ہے۔

افسانہ راں ڑیاں ایک کرداری افسانہ ہے۔اس میں مرکزی کردار کی جذباتی سپردگی اور تحفظ کی فطری خواہش افسانے کا مرکزی نکتہ ہے۔ممتاز مفتی کے ہاں ان تمام جذباتی اور نفسیاتی تجربوں کا بیان ملتا ہےجو شخصیت کے اوصاف مکمل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔بدراں مرکزی کردار ہے۔قاسو چور کو بدراں سبز سفوف والا دودھ پلا کر اس کی طاقت ختم کردیتی ہے۔پھر قاسو کا بھائی ماجو انتقام لینے کی غرض سے بدراں کو بےہوشی کی دوا سونگھا کر اسے اٹھالےجانے کے لیے آتا ہے۔ماجو کے وار سے پہلے بدراں کا وار کارگر ہوتا ہے لیکن آخر میں بدراں خود ہی دوائی سونگھ کر اس کے پیروں پر گر جاتی ہے۔یہ بھی عورت کی نفسیات کا ایک پہلو ہے ۔وہ جذباتی سپردگی سے بہت مطمئن ہوجاتی ہے۔

افسانہ روغنی پتلے میں قدیم و جدید ذہن کی جنگ،معاشرتی واقتصادی صورت حال، نفسیاتی مسائل،نئی تہذیب کے مثبت اور منفی رویے زیر بحث لائے گئے ہیں اور عورت کی نفسیات کا پردہ چاک کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’سچ کہتی ہوں بی بی آج کے دور میں مائیں اپنے بچوں کو اپناتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔رومی ٹوپی بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔آج کی عورت عورت بن کر جینا چاہتی ہے۔ماں بن کر نہیں۔‘‘  18)ممتاز مفتی، روغنی پتلے،مشمولہ:مفتیانے،ص1220)

رضا علی عابدی اپنے مضمون انوکھا لاڈلا میں ممتاز مفتی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’عورت کو تو اپنی ہتھیلی کی طرح جانتے تھے۔خوب لکھتے ہیں عورت کی حسیات اور اس سے ملتی جلتی تمام چیزوں پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور ایسے بے تکان لکھے چلے جاتے ہیں جیسے کالج کی لڑکیوں کے ہاسٹل میں رہے ہوں اور بار بار فیل ہوتے رہے ہوں جان بوجھ کر۔‘‘ 19۔ )ابدال بیلا، مفتی جی، ص164)

یعنی کہ عورت کے ہر ہرانداز اور ہرہر لہجے  کی ان کے پاس منطق اور دلیل موجود ہے۔یہی وجہ ہے  کہ ان کے افسانوں میں  عورت اس کی نفسیات اوراسی کے ناز وادائیں  دیکھنے کو ملتی ہیں۔

کتابیات:

  1. انور جمال، ڈاکٹر،ادبی اصطلاحات،اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن2012ء
  2. طارق چھتاری، پروفیسر، جدید اردو افسانہ ،علی گڑھ، ایجوکیشنل بک ہاوس، 1992ء
  3. احسان اکبر، چھڈ یار،مشمولہ:مفتی جی، مرتب:ابدال بیلا،لاہور، فیروز سنز، 1998ء
  4. ممتاز مفتی، دومونہی ،مشمولہ:مفتیانے، لاہور، فیروز سنز، 1989ء
  5. ممتاز مفتی، رام دین،لاہور، فیروز سنز، 1986ء
  6. ممتاز مفتی روغنی پتلے،مشمولہ:مفتیانے، لاہور، فیروز سنز،1989ء
  7. ممتاز مفتی، ساری بات،مشمولہ:سمے کا بندھن، لاہور، فیروز سنز،1993ء
  8. ممتاز مفتی، سمے کا بندھن،لاہور، فیروز سنز، 1993ء
  9. ممتاز مفتی، سیانی،مشمولہ:ان کہی،لاہور، الفیصل اردو بازار،1975ء
  10. نصرت منیر شیخ، مفتی کے افسانے،مشمولہ :مفتی جی،مرتب:ابدال بیلا، لاہور، فیروز سنز، 1998ء
  11. ابدال بیلا، مفتی جی،لاہور، فیروز سنز، 1998ء
  12. ممتاز مفتی، مہندی والا ہاتھ ،مشمولہ:ان کہی،لاہور، الفیصل اردو بازار، 1975ء

This Post Has One Comment

  1. Chand

    Assalam alaikum
    It’s amazing 👏👏

Leave a Reply