
اداریہ
ڈاکٹر مہوش نور
مہجری نسائی ادب کا ایک باب بند ہوا — شکیلہ رفیق کی یاد میں
ہندستانی مہجری ادب میں ایک نمایاں نام شکیلہ رفیق کا ہے۔ شکیلہ رفیق کی ولادت سیتا پور ، یوپی (ہندوستان) میں ہوئی۔شکیلہ رفیق نے پی آئی پی کالونی کراچی سے میٹرک پاس کیا۔ کراچی کے سرسید کالج سے بی اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرکیا اور پی آئی اے میں ملازمت کرتی رہیں۔ ٹورنٹو کینیڈا میں تامرگ مقیم رہیں ۔ شکیلہ رفیق کو اردو کونسل آف کینیڈا نے ’’بیسٹ اردو رائٹر ‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔’’ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازی جاچکی ہیں۔ ان کی اب تک آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔جس میں ’’عصمت آپا ‘‘کو ایک خاص اعتبار حاصل ہے۔شکیلہ رفیق بنیادی طور پر فکشن نگار ہیں۔ ان کی اب تک چار تخلیقی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
پہلی تخلیقی کتاب ’’ درد ہے ساتھی اپنا‘‘ ہے۔ یہ ایک ناولٹ ہے، یہ ناولٹ 1975میں منظر عام پر آیا۔ دوسری کتاب ’’کچھ دیر پہلے نیند سے‘‘ ہے۔ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ 1985 میں شائع ہوا۔ تیسری کتاب ’’ خوشبو کے جزیرے‘‘ ہے۔ یہ بھی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ 1985 میں شائع ہوا۔چوتھی تخلیقی کتاب ’’ قطار میں کھڑا آدمی‘‘ ہے۔ یہ افسانوں کامجموعہ 1998 میں شائع ہوا۔
شکیلہ رفیق کے تخلیق کا دائرہ نسائی مسائل کے اردگردچکرلگاتا ہے۔ ان کی کہانیوں میں گھریلو، خانگی اور خاندانی مسائل کی جلوہ گری ہے۔ یہی وجہ ہے خانگی مسائل پر ان کی کہانیاں قاری کو کئی اعتبار سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ شکیلہ رفیق نے صنف نازک کے وجود، عمل اور فکری کشمکش کو اپنی تخلیقات میں نمایاں جگہ دی ہیں۔ مغربی کلچر کی جگہ شکیلہ نے مشرقی کلچر پر زیادہ زور دیا ہے۔
شکیلہ رفیق کی تخلیقی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سب سے پہلی کہانی 1972میں ’احساس کا جرم ‘کے عنوان سے لکھی جو سانحۂ مشرقی پاکستان سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھی۔ ان کی دوسری کہانی’ درد کا ملاپ‘ تھی جو نیا دور کراچی میں شائع ہوئی۔ان سب کے علاوہ دیگر بہت سارے معیاری رسائل وجرائد ہیں جن میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے افسانوں کے ہندی، انگریزی اورسندھی زبان میں تراجم بھی ہوئے ہیں۔
شکیلہ رفیق کا ایک افسانہ ’’آموختہ‘‘ہے۔ یہ کہانی شکیلہ رفیق کے افسانوی مجموعہ’’وے صورتیں الٰہی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ سترہ افسانوں پر مشتمل اس کتاب کو افسانہ نگار نے زندگی کے مختلف رنگوں سے سجایا ہے۔ جہاں زندگی ہنستی ہے، مسکراتی ہے اور دردو کرب سے پریشان ہو کر آنسو بھی بہاتی ہے۔جس میں سانس لینے والے کردار ہماری ہی زندگی سے اخذ کیے گیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب قاری ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرتا ہے اسے اپنی زندگی کا عکس ان کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے۔ اور شکیلہ رفیق جب تک زندگی کی حقیقتوں کو قاری کے سامنے پیش نہیں کر دیتیں تب تک ان کے اندر موجود ایک حقیقت پسند اور حساس لکھاری بے چین رہتا ہے۔
وہ خود لکھتی ہیں’’میرا قلم تو کاغذ پر کہانیاں بکھیرتا ہے اور یہ میری مجبوری ہے کہ بنا لکھے سانس آنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اور جوں ہی کوئی کہانی مکمل ہو کر مجھے مطمئن بھی کر دیتی ہے۔ تب ہی جانے کہاں سے آکسیجن آکر میرے پھیپھڑوں میں سما کر ان میں بسیرا کر کے میری سانسوں کو ہموار کر دیتی ہے گویا اسی لمحے کی منتظر تھی کہ کب کہانی کا اختتام ہو اور وہ یہاں آکر برا جمان ہوجائے۔‘‘
شکیلہ رفیق کا افسانہ ’’آموختہ‘‘ زندگی کے ایک ایسے حالات پر مبنی ہے جس سے ایک خوش حال گھر بکھر جاتا ہے لیکن اسے مزید بکھرنے سے بچانے کے لیے گھر کے اہم ستون یعنی مرد نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہیں عورت جسے کہا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو گھر کو جنت بھی بنا سکتی ہے اور چاہے تو جہنم بھی۔ اس افسانے میں ایک ایسی ہی عورت کی روداد ہے جس نے اپنے رویوں سے ایک خوش حال گھرانے کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔
شکیلہ رفیق کی کہانیوں میں نسوانی آواز کی گونج بہت بلند ہے تاہم اس میں سماجی رکھ رکھاؤ اور نیک وبد کی تمیز بھی ہے۔ یہی وجہ کہ ’’آموختہ‘‘ میں تنگ نظر عورت کے مقابلے میں شکیلہ نے ایک مرد کو ترجیح دے کر یہ بتا دیا ہے کہ خانگی اور خاندانی زندگی دونوں میں توازن ضروری ہے ورنہ انجام سے ہر کسی کو خوف کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح کے عنوان سے مملو ایک افسانہ ’’بالغ عورت‘‘ ہے۔ اس متاثر کن افسانے میں عورتوں کو در پیش متعدد نازک مسائل اور سماجی جبر کی پوری تاریخ پیش کی گئی ہے۔یہ معاشرہ کسی بھی عورت کو ایک پل چین سے جینے نہیں دیتا، ان کی ہر حرکات و سکنات پران کو اعتراض ہے۔ اس بات کو شکیلہ رفیق نے بہت واضح طور پر لکھا ہے اور یہی شکیلہ رفیق کی تخلیق کا کمال ہے کہ وہ سماج میں درپیش مسائل پر ببانگ دہل لکھتی ہیں اور مشرقی سماج میں رائج نظام ذہنی،سماجی،خانگی اور خاندانی ناانصافیوں پر چیختی اور چلاتی ہیں ۔گویا مساوات کے ساتھ ہر طرح کی آزادی کے لیے بھی آواز بلند کرتی ہیں۔آج کے مشرقی سماج میں خواتین کے لیے کتنی جگہ ہے؟ کتنے مسائل ہیں؟ کیا کیا چیلینجزہیں؟ ان سب کو شکیلہ نے مذکورہ کہانی میں جگہ دی ہے۔
اس کے علاوہ ’’بند کمرے میں، بہار کا زخم، نئی شناخت، درد آ گہی، ادھورے خواب، حلالہ، انا کے پجاری، اندر باہر، ایسا کیوں،دھبے، پل، سادہ چیک اورکچی پکی‘‘وغیرہ اسی قبیل کی کہانیاں ہیں۔ جن میں زندگی کے مسائل،انسانوں کے دردو غم،مشرقی ومغربی سماج کے ڈبل فیس، انسانوں کے درمیان پیدا ہوتی دوریاں وغیرہ جیسے موضوعات ہیں۔ گویا شکیلہ رفیق کی کہانیوں میں زندگی کا ہر رنگ موجود ہے اور ان کے افسانوں کا ہر رنگ نمایا ں ہے۔
ممتاز مہجری ادیبہ شکیلہ رفیق طویل علالت کے بعد 22جنوری 2025کو اس دار فانی سے کوچ کرگئیں۔ورلڈ اردو ایسوسی ایشن، نئی دہلی کی پوری ٹیم شکیلہ رفیق کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت پیش کرتی ہے اور اردو قارئین سے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی گزارش کرتی ہے۔ ان پر اب تک متعدد رسائل و جرائد میں مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ ہندستانی مہجری ادب میں شکیلہ رفیق کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کی تخلیقات پرہمہ وقت گراں قدر مضامین شائع ہوتے رہیں گے۔ پروفیسرسحرانصاری کی کتاب’’شکیلہ رفیق کی بہترین کہانیاں‘‘ اور ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’’شکیلہ رفیق : فن اور شخصیت‘‘ سے اردو کے قارئین استفادہ کر سکتے ہیں۔