You are currently viewing مہمان اداریہ

مہمان اداریہ

ڈاکٹر عبد الحئی

سی ایم کالج، للت نارائن متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ

مہمان اداریہ

ہمارا ملک ہندوستان مختلف تہذیبوں اور مذاہب کی آماجگاہ رہا ہے۔ یہاں صدیوں سے قسم قسم کے لوگ اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہتے آرہے ہیں۔ہمارے یہاں کی زبانیں، بولیاں، رسومات، طور طریقے، رہن سہن، طریقہ عبادت وغیرہ الگ الگ  ہیں لیکن ہم سب  ہندوستانیت یا قومیت کے ایک دھاگے سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی لیے ساری دنیا میں ہمارے ملک کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ اہل مغرب خاص طور سے ہماری طرف رجوع کرتے ہیں کہ یہاں کے لوگ کس طرح الگ الگ ہوکر بھی ایک ہیں۔اس ایک ہونے میں ہی ہماری شناخت ہے۔ہمارے ملک میں جہاں ہمیں اس بات کی آزادی ہے کہ ہم اپنے مذاہب پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہوں وہیں ہیں یہ بھی آزادی ہے کہ اپنے تہواروں کو اپنے اپنے انداز میں منائیں۔ ہمارے یہاں کے تہوار بھی عجیب و غریب ہیں۔یہ ہماری زندگی میں کچھ اس طرح داخل ہیں کہ ہم ان سے کسی طرح الگ نہیں ہوسکتے۔ہم چاہے کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں لیکن ہم سبھی تہواروں پر ویسے ہی خوشی مناتے ہیں جیسے یہ ہمارے اپنے تہوار ہوں۔ مسلمانوں کا تہوار عید بھی اسی قسم کا ہے۔ یہ کہنے کو تو بھلے مسلمانوں سے منسوب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تہوار میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہیں ان کے گھر جاتے ہیں۔ اسی طرح ہولی دیوالی پر مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ خوشیاں ساجھا کرتے ہیں۔ یہ ساجھی وراثت ہمیں صدیوں سے جوڑے ہوئے ہے لیکن موجودہ دور میں ہمیں اس وراثت کی بقا کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ بات اگر ادب کی کی جائے تو ہمیں یہ دیکھ کر طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ادب میں بھی تہواروں و دیگر رسوم و اقدار کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ کے بارے میں سبھی لوگ جانتے ہیں کہ وہ خود محرم میں ماتمی لباس پہن کر مرثیہ پڑھا کرتا تھا اور اسی طرح دیوالی ، دشہرے و دیگر تہواروں میں بھی جوش و خروش سے لیتا تھا۔قلی قطب شاہ کی ایک نظم عید رمضان کے یہ اشعار دیکھیں:

نس عید جلوہ گر دن صیام ساقی          نوچند تھے ساغراں میں بھر مے میں مدام ساقی

زاہد دیا تھا بھون دن بدنام ہورہا ہوں    پیالے پلا پرم کر نیک نام ساقی

تیس دن کی خماری توڑن کے باتیں مج کون        کم کم نہ کرتوں دم دم بھر بھردے جام ساقی

اردو شاعروں نے عید پر بے شمار اشعار کہے ہیں۔ عید پر اردو میں سینکڑوں نظمیں مل جاتی ہیں۔شاہ مبارک آبرو، مصحفی،حاتم، نظیر اکبر آبادی،ولی دکنی، میر،بہادر شاہ ظفر،غالب، ذوق،اقبال،شاد،سیماب اکبر آبادی، امیر مینائی،صبا اکبر آبادی، داغ اور بعد کے شاعروں نے عید کو اپنی شاعری میں خصوصیت سے جگہ دی ہے۔ہماری شاعری میں عید اور اس سے وابستہ روایات کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔عید کا استقبال، چاندرات، محبوب  سے دوری، ہجر و وصال کے قصے اورتیس روزوں کے بعد عید کی خوشیاں، مفلس و نادار کی عید، غریب الوطن کی عید، جیسی باتیں عید شاعری میں نظر آجائیں گی۔محبوب سے ملنا اور اس سے دور ہونا، اس ایک مضمون کو شاعروں نے مختلف انداز میں باندھا ہے۔ کوئی محبوب کے چہرے کو عید کے چاند سے تعبیر کرتا ہے تو کوئی معشوق کے ملنے کو ہی عید بتاتا ہے۔ کسی کے لیے عید کی خوشیاں ادھوری ہیں کہ اس کا عاشق اس سے دور ہے تو کسی کے لیے عید اہم ہے کہ اس کا چاہنے والا اس کے ساتھ ہے۔ اقبال بچپن کی عید اور چاند کی دید کو یاد کرتے ہیں تو حالی ماہ صیام کے جانے اور روز عید کے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔اقبال کی نظم کے یہ بند ملاحظہ کریں۔

غرہ شوال اے نور نگاہ روزہ دار         آکے تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار

تیری پیشانی پہ تحریر پیام عید ہے       شام تیری کیا ہے، صبح عیش کی تمہید ہے

سیماب کے یہ اشعار دیکھیں:

حاصل جو نشاط دید ہوجاتی ہے          سرمست ہر اک امید ہوجاتی ہے

عید رسمی کا میں نہیں ہوں قائل        جب ملتے ہیں آپ عید ہوجاتی ہے

اسی طرح علامہ راشدالخیری کے رسالے عصمت کے جون  1927  کے شمارے میں عید پر یہ اشعار درج ہیں۔

منائی عید تم نے بال بچوں  کی ندیموں کی          مگر فریاد بھی کچھ کان میں آئی یتیموں کی

مسلماں تمہیں احکام کی کچھ یاد بھی آئی            تمہارے کان میں معصوم کی فریاد بھی آئی

اکبر الہ آبادی کے انداز بھی دیکھ لیں:

خوش پھر رہی ہے خلق خدا صبح عید ہے            ہر سمت زیب و ذینت دنیا کی  دید ہے

پیش نظر ہمرے ہے شام شب فراق             اس کی سحر جو ہو تو ہماری بھی عید ہے

قمر بدایونی کا مشہور زمانہ شعر اگر یہاں نہ دیا جائے تو یہ تحریر ادھوری تصور کی جائے گی۔

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم     رسم دنیا بھی ہے  موقع بھی ہے دستور بھی ہے

عید کے موقع پر ادیب و شاعر حضرات تحفہ عید، بیاض عید، سرور عید ، شگوفہ عید،تبریک عید، ماہ عید، گلدستہ جیسے ناموں سے عید پر لکھی تخلیقات کو شائع کرتے تھے۔ رسالہ عصمت میں عید پر شائع نظمیں اور افسانوں کو علامہ راشدالخیری نے گلدستہ عید کے نام سے 1927 میں شائع کروایا تھا۔رسالوںمیں  عید کے موقع پر افسانے اور مضامین کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جاتا تھا۔

         اگر نثر کی بات کریں تو یہاں بھی عید پر افسانے، مضامین ، سبق آموز تحریروں کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔پریم چند کی کہانی عید گاہ ایک کلاسک کا درجہ رکھتی ہے بعد میں اسلم جمشید پوری نے عید گاہ سے واپسی لکھی۔ آنند لہر کا ناول ہے اگلی عید سے پہلے جو کشمیر میں ظلم و ستم کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔اوپر راشدالخیری کا ذکر آیا ہے۔ان کے یہاں بھی عید کے موضوع پر کئی کہانیاں مل جاتی ہیں۔جسٹس جاوید اقبال نے اپنے والد کے حوالے سے عید کی یادوں کو خصوصیت  سے بیان کیا ہے کہ وہ کس قدر خوش ہوتے تھے اور جاوید اقبال کی انگلی پکڑ کر شاہی جامع مسجد میں عید کی نماز پڑھنے جاتے تھے۔ عید کا ذکر ہو اور زنداں کی بات نہ ہو تو یہاں فیض موجود ہیں جو قید خانے میں اپنی بے رنگ عید کا بیان کرتے ہیں ۔ اپنی اہلیہ ایلس فیض کو لکھے ایک خط میں وہ کچھ یوں کہتے ہیں۔

جیل میں جو بہت سی عیدیں آئیں اور گذر گئیں۔ ان میں یہ عید غالبا سب سے زیادہ ویران تھی۔ بالکل بے رنگ اجاڑ دن تھا، جس کوئی یاد یا آرزو بھی بیدار نہ کیمیں نے قیدیوں کی جماعت کے ساتھ نمازاداکی،لیکن اس کے سوا او کچھ بھی نہیں کیا۔ صرف ڈان کوئکزوٹ پڑھتا رہا اور اب کے سانچوپانزا پر بھی ہنسی نہیں آئی۔اگلے ہفتے تم آئوگی تو ہم جھوٹ موٹ کا تہوار کا کچھ سماں پیدا کرلیں گے۔( بحوالہ خط،صلیبیں میرے دریچے)

انتظار حسین نے عید کے تہوار کو بے رنگ تہوار قرار دے دیا اور کہا کہ جس تہوار کا انحصار چاند پر ہو

اس کا اعتبار معلوم، چاند نظر آگیا تو وہ رات چاند رات ورنہ بھر اندھیری رات۔ملک اور دنیا کے بدلتے حالات کے تناظر میں عید پر لکھے  ان کے ایک کالم سے یہ اقتباس بھی یہاں دینا ضروری ہوگا۔

اب ہم پولس کے پہرے میں نماز عید ادا کرتے ہیں اور جب عید کے بعد اپنے پرانے یار آشنا اور اجنبی گلے ملتے ہین تو ہمارا دل دھکڑ پکڑ کرنے لگتا ہے کہ جانے بیچ میں کون اجنبی گلے ملنے میں کیا گل کھلائے۔کہیں ہم یاروں سے عید ملتے ملتے کسی خودکش حملہ آور سے تو بغل گیر نہیں ہوجائیں((بحوالہ مضمون اقبال خورشید، مدیر اجرا)

         ادب اطفال میں تو رمضان،عید اور چاند کے موضوعات پرہزاروں تخلیقات موجود ہیں شفیع الدین نیئر، مائل خیر آبادی،حفیظ جالندھری اور دیگر شعرائے کرام نے عید پر بے شمار کہانیاں ، نظمیں اور مضامین تحریر کیے ہیں۔ بچوں میں رمضان کا پیغام عام کرنے اور عید کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے نظموں کا سہارا لیا گیا ہے۔

         مختصر یہ کہ عید الفطر اردو شاعروں و ادیبوں کی تخلیقات کا مرکز رہی ہے۔ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے اور اس مناسبت سے اسے کافی اہمیت بھی حاصل ہے۔رسائل کی تاریخ رہی ہے کہ اہم موقعوں پر خصوصی نمبرات کی اشاعت کی جاتی تھی۔ خواتین میں مقبول رسائل میں تو عید پر جہاں عید کے اشعار اور نظمیں ہوتے تھے وہیں عید پر پکائے جانے والے کھانوں کی تراکیب، مہندی کے ڈئزائین، کشیدہ کاری اورکپڑوں کے ڈئزائین وغیرہ پر بھی مواد شائع ہوتے تھے۔ وقت اور حالات کے ساتھ ہمارے رہن سہن، اطوار وانداز بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔اب ہم مادی آسائشوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔لکھے ہوئے حروف اور تحریریں ایک دائرے میں مقید ہوتی جارہی ہیں۔ایسے میں ہم اپنے قارئین کی اجازت سے روایات کا احیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے رسالے کا عید نمبر پیش کرتے ہوئے ہمیں یک گونہ خوشی وفخر کا احساس ہورہا ہے۔ آج جس نفسانفسی کے دور سے ہم گذر رہے ہیں ویسے میں ہمیں اپنی روایات و اقدار کو زندہ رکھنا اور انھیں باقی رکھنا  جوکھم بھرا کام ہے لیکن اس کے لیے کوششیں بھی ہم سب کو ہی کرنی ہوں گی کیوں کہ ہماری تہذیبی شناخت ہی ہمارا سرمایہ ہے اور اپنے سرمائے کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔۔۔۔۔

         آپ سبھی کو عید الفطر کی مبارکباد۔ خدا کرے کہ ایسی سینکڑوں عیدیں آپ کی زندگی میں آئیں۔۔۔۔

         رسالے پر آپ سب کے تاثرات ، مشوروں اور تجاویز کا استقبال ہے۔

***

Leave a Reply