You are currently viewing میرا ڈیرہ

میرا ڈیرہ

 

 

سلیم سرور

میرا ڈیرہ( افسانہ)

گاؤں پر پانی کا قبضہ تھا۔ کچے مکانوں کی دیواریں، گلیاں، کھیت اور باغ سب ایک ہی رنگ میں ڈوب گئے تھے۔ دھرتی جس نے صدیوں سے فصلیں جنم دی تھیں، آج اپنی ہی اولاد کو نگلنے پر آمادہ تھی۔ زمین اور آسمان کے بیچ کوئی فرق باقی نہ رہا تھا، جیسے کائنات ایک بے کنار جھیل میں بدل گئی ہو۔دریائے راوی کی بغل میں ’’سرکار نگر‘‘ میرا گاؤں کسی بھی تحدید اورتخصیص سے عاری نظر آرہا تھا۔ گاؤں کے  نقش میرے پاؤں میں برسوں پہلے سے پیوست نہ ہوتے تو شاید میں بھی پہچاننے سے قاصر رہتا۔اس پہچان کا کوئی خاص فایدہ نظر نہیں آرہا تھا کیونکہ گاؤں پانی کی زمین  کے اندر دھنساہوا کوئی نشان عبرت دکھائی دے رہا تھا،تیرنا مجھے آتا نہیں تھا اورچل کرجانا قدرت کونامنظورہوچکا تھا۔دریائے راوی کی حدود سے سات کلومیٹر باہر ،اپنے گاؤں کی حدود کے باہری کنارے سے’’کوٹ ڈیرہ ‘‘کے آخری کنارے تک چلتے چلتے پہنچ آیا  تھا۔

کوٹ ڈیرہ  کی ابتدائی بستیوں میں سے فقیر محمد کی جھونپڑی نظر آئی ،کچھ دن پہلے تک لوگ  اسےچودھری فقیر محمد آڑھتیا کا ڈیرہ کہتے ہوں گے مگر آج سمندر سے ابھرے پتھر کی مانند چٹان دکھائی دے رہی تھی ۔چودھری فقیر محمد کے ڈیرے کی حفاطتی دیواروں کاچمکیلا پتھر بھی معدوم تھا یا شاید دیواریں ہی مفرور تھیں ۔زیادہ پرانی بات نہیں جب چودھری صاحب نے ایم این اے نذیر چودھر ی کے ساتھ مل کرکوٹ ڈیرہ کی سڑک کے  سرکاری فنڈ کواپنے ڈیرے کی  زیب وآرائش کی نذرکردیا تھا۔فقیر محمد کے اہل وعیال پرنظر پڑتے ہی مجھے وہ الیکشن کے دن یاد آئے جب چودھری صاحب کے ڈیرے پرسفید پگڑیوں اورلٹھے کے سوٹوں والےزردار اورسیاست دان  زمینی خدا بن  کربکرے کی رانوں کوچباکر اورصہبا  کومہکاکرمفادات کی گتھیاں سلجھا رہے ہوتے تھے۔ کمی کمین اورمزارع اقلیتیوں  کی مانند ذرا فاصلے پر ننگی زمین کے اوپر کڑوا حقہ پی رہے ہوتے تھے۔

فقیر محمد اپنی جھونپڑی کی چھت پر بیٹھا ہواتھا۔فقیر محمدکو دیکھتے ہی مجھے وہ بوڑھا مزارع یاد آیا جس نے ایک دن بھری محفل کے سامنے ہاتھ جوڑ کرکہا تھاکہ ’’چودھری صاحب میری کمسن بچی کوزیادتی کا نشانہ نہ بناؤ وہ سکول جانا چاہتی ہے اورمستقبل میں ڈاکٹر بننے کاخواب دیکھتی ہے۔آپ میرے مالک ہیں ،آپ نے میری آنکھوں کے سامنے میری بیوی کوتوڑی والے کمرے میں ہوس کانشانہ بنایا تھا میں دیکھ کراندھا بنا رہا تھا،نہ آپ سے شکایت کی نہ بیوی کی بےبسی کامذاق اڑایا مگر اب میری بیٹی کی معصومیت کاسوال ہے‘‘۔مگر فقیر محمدنے اسے دھتکارتے ہوئے کہا تھا کہ’’کتا اپنی کونڈی نہیں  سنبھالتا بلکہ روٹی کے ٹکڑے کی فکر کرتا ہے‘‘۔اگلی صبح معصوم ثمینہ  فقیر محمد کے کمرے سے خون آلود رانوں میں زخموں کی بدھی سجائےبےہوش ملی تھی۔ مجھے ،فقیر محمد  اس مزارع سے بھی زیادہ بےبس دکھائی دیا۔فقیر محمد کی بیگم جس کی خدمت پرہروقت پانچ پانچ ملازمائیں معمور رہتی تھیں۔سروقدرانی بیگم کا گتھا ہواجسم ابھری ہوئی چھاتی ،رات سےتاریک تر،کولھوں سے مسخرے کرتی ہوئی زلفیں،رخسار نچڑتے انار،ہونٹ لب لعلیں کی مثل کھلاہوا گلاب بن کرہر وقت دعوت گناہ  بنے رہتے تھے۔ملازمائیں سر میں تیل کی مالش کرنے اورپاؤں دبانے کی حد تک ہی قریب ہوتی تھیں۔مرد ملازم دیکھ کرنچڑنے سے آگے نہ بڑھ پاتے تھے۔البتہ اس  دعوت گناہ کی گنگاہ میں  چودھری کے ہم پلہ لچے لفنگے ضرور ڈبکی لگالیتے تھے۔ اس کے تین بچے، جو بھوک اور خوف کے ملے جلے سائے میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے۔ ان کے ننھے جسم تھرتھرا رہے تھے، مگر آنکھوں میں سوال کی ایک آگ جل رہی تھی۔ نیچے سے پانی کا شور بڑھ رہا تھا، اور اوپر بادل بھی جیسے مزید قیامت کا وعدہ کر رہے تھے۔ آسمان بجلی کی زبان میں دھمکیاں دے رہا تھا اور پانی زمین کی زبان میں سب کچھ نگلنے کے درپے تھا۔

باہر چاروں طرف صرف پانی ہی پانی تھا،پانی کی سائیکی  بھی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی   کبھی یہ رحمت ہوتا ہے،کبھی عذاب،کبھی اس کے لیے سندھ طاس معاہدے کی ضرورت پڑتی اورکبھی اس کوچھوڑ کرہمسائے کوڈبویاجاتا ہے۔چودھری فقیرمحمد کے دوملازم جو پانی کے جھگڑے پرموت کہ منہ میں چلے گئے تھے وہ بھی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔چودھری فقیر محمد نے اپنے مزارعوں کوحکم دے رکھا تھا کہ اپنے وقت کے شروع ہونے سے دو منٹ قبل ہی پانی  اپنی فصلوں   کے لیے کھول دیا  کریں ،ایک منٹ کی تاخیر بھی کسی صورت گوارہ نہیں ۔سادھو ملازموں نے چودھری فقیر محمد  کی بات مانتے ہوئےنواب طفیل   کا پانی توڑ کراپنی فصلوں کوکھول دیا۔نواب صاحب کا چودھری صاحب   کی پہلے سے جاری بہت سی زیادتیوں کا غصہ مجتمع ہوکران ملازموں پر نمودار ہوا،نواب صاحب نے چشم زدن میں اندھادھند فائرنگ کرکےدونوں ملازم موت کے گھاٹ اتاردیے۔نواب طفیل سمجھ دار آدمی تھا اس نے موقع کی مناسبت کوسمجھتے ہوئے،مقتولین کی لاشوں کواُدھر  چھوڑ کرسیدھا  چودھری فقیر محمدکے ڈیرے کارخ کیا ۔پاؤں پڑ تے ہی واویلا شروع کردیا۔فقیر محمد نے حالات کو جاننے اوراپنی دھاک بٹھانے کےلیے:

’’نواب  پاؤں چاٹنے سے بہتر ہے معاملہ سمجھاؤ‘‘

’’چودھری صاحب آج تھوڑی زیادہ پی لی تھی اور پھر آپ کے کتوں نے دماغ خراب کیا تو۔۔۔‘‘

’’نواب صاحب،آپ بھول رہےہیں وہ کتے نہیں بلکہ میری چال کے خاص مہرے ہیں‘‘

’’چودھری صاحب،چال سلامت رہنی چاہیے،مہرے مرتے اوربنتے رہتے ہیں‘‘

’’کیا دے گا؟‘‘

’’چودھری صاحب موہگے کے منہ کے پاس جودو ایکڑ ہیں وہ آپ کے ہوئے‘‘

’’موہگے کے دائیں بائیں والے چاروں ایکڑ میرے ہوئے اورتم بےفکر ہوئے‘‘

’’چودھری صاحب بہت سمجھدار ہیں،زمین سے زیادہ پانی کی لالچ ہے!‘‘

          چودھر صاحب نے حسب  سابق اپنی فطانت کوبروئے کار لاتے ہوئے ملازموں کی موت کو آپسی لڑائی کے بکسے میں ڈال کرہمیشہ کےلیے بندکردیا۔چودھری صاحب کے ملازم کم ہوتے یابڑھتے مگر اثاثے ہر سال بڑھتے جارہے تھے۔

چودھری فقیر محمد کاڈیرہ پورے گاؤں میں انگوٹھی کے نگینے کی طرح چمکتا تھا مگر آج طوفان میں پہاڑی پر چڑھا ہوا سام نظر آرہا تھا۔حیرانی کی بات یہ تھی کہ چاروں طرف ٹھاٹھے مارتا پانی کا سمندر تھا مگر چودھری فقیر محمد کے گھر پینے والے پانی کا ایک مٹکا بھی میسر نہیں تھا۔مہنگی سے مہنگی ٹائلوں کی صنعت کاری والے واش روم بہتی ندیا کا حصہ بنے ہوئے تھے اورچودھری صاحب کے بچے پانی سے بچی ہوئی چھت پررفع حاجت  کر رہے تھے۔وافر پانی کے باوجود بھی رانی بیگم کاچہرہ مدتوں سےخشک  اورزلفیں  صحرا کی جھاڑیوں کی مانند  تری سے محروم فلسفیوں کے مسائل کی طرح  الجھی ہوئی تھیں ۔ایک ہی چھت کے مکین،چھت کے اوپر اکٹھے بیٹھنے کے باوجود بھی برسوں کی دوری پردکھائی دے رہے تھے، یوم حشر کی مانند نفسی نفسی کے عالم میں اورکسی بھی سوال کے جواب سے گریزاں نظر آرہے تھے۔مگر پانی اوربھوک کاایسا سوال تھا جس کےلیے سبھی  یکساں جواب کے منتظر تھے۔بچوں کے پیاس سے نڈھال چہرے دیکھ کر رانی بیگم نے چلاکر کہا’’اگر د و دن پہلے ہم بھی یہاں سے چلے جاتے تو کیا ڈیرے کو کوئی اٹھا کرلے جاتا‘‘۔افسوس!’’تم حد کرتی ہو چودھری کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنا ڈیرہ چھوڑ کرجائے،ساری زندگی بڑے بڑے  یہاں ہی آکر مجھے ملتے رہے ہیں‘‘۔’’ٹھیک ہے تم نہ جاتے،میں اوربچے تو چلے جاتے‘‘۔’’تم تو پہلے بھی چلی جاتی تھی،تمہارے انہی لچھنوں کی وجہ سے  بچوں کے معاملے میں تم پر بھروسہ نہ کرسکا‘‘۔واہ!’’میری ذرا سی اوٹنگ کولچھن! اورخود میری آنکھوں کے سامنے مزارعوں کی جھوٹی  ایک  بھی ماچھن نہ چھوڑی۔وہ کیا تھا؟‘‘۔’’یار حد کرتی ہو،کہاں ماچھنیں اورکہاں ایک چودھرائن!‘‘۔’’صاحب آپ بھول رہے ہیں عیاشی تو عیاشی ہوتی ہے‘‘۔’’تم آج تک مجھے سمجھ ہی نہیں سکی،وہ میری لذت کوشی نہیں تھی بلکہ ان کوننگا کرنا میری مجبوری تھی تاکہ ان کے جنے میرے سامنے آنکھیں نیچی رکھیں‘‘۔’’تمہارے نزدیک کانے کرنے کامطلب بستر گرم کرنا ہے؟‘‘۔’’اسے نہ عیاشی کہتے ہیں نہ بستر گرم کرنا بلکہ عیاشی وہ ہے جو تم دس دس ہزار کا میک اپ کرواکر ویگو ڈالے پر ہوٹلوں میں جاتی تھی اورمیں ساری رات دروازے میں بیٹھ کرٹھٹھرتا رہتا تھابستر تو کجا میرا لباس بھی گرم نہیں ہوتا تھا‘‘۔دونوں کی بحث ضرور طول پکڑتی مگر بچے نے چلا چلا کرپانی مانگنا شروع کردیا۔

چودھری فقیر محمد کو معلوم تھا کہ باہر کی یہ سیلابی موجیں پیاس بجھانے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی بہا لے جانے کے لیے آئی ہیں۔ یہ پانی اپنی فراوانی میں قحط کی شدت چھپائے ہوئے تھا۔ یہ منظر اس سچائی کی علامت تھا کہ کائنات میں سب کچھ موجود ہونے کے باوجود انسان کبھی کبھی اپنی بنیادی ضرورت کے لیے بوند بوند کو ترس جاتا ہے۔

چودھری  فقیر محمد  کواپناڈیرہ ڈوبتی ہوئی کشتی کی مانند دکھائی دے رہا تھا،وہ خود کوراہی  ملاح اوربیگم کوآخری بادبان تصورکرکے اس کوبچانے کی کوشش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔ چودھری صاحب چاہتے تو اپنے بچوں اوربیگم کوکسی کشتی کے ذریعے یہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کرسکتے تھے مگر وہ منتظر تھے کہ یہ سیلابی ریلا گزر جائے تو اس کاڈیرہ پھر نقشے پراسی طرح ابھر آئے۔وہ جانتے تھے اپنے اثاثوں کی حفاظت  نہ کی گئی تو  مخالفین میں سے کوئی بھی  مقبوض زمین کواپنی تحویل میں لےسکتا ہے اگر وہ یہاں رہا تو یہی موقع اسے  بھی مل سکتا ہے۔سانپ کے ڈنگ میں جتنا زہر ہوتا ہے اتنا ہی اس کی دم میں بھی ہوتا ہے۔اگرچہ اس کے منہ کاڈنگ سیلاب کی نذر ہوگیا تھا تاہم دُم اس کی  دوموہی بننے کے لیے تیار تھی۔

دور کہیں ایک کشتی نظر آئی۔ لوگ چیخنے لگے، کپڑے ہلانے لگے، بچے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ کشتی قریب پہنچی تو پتہ چلا کہ اس میں بمشکل چند ہی آدمیوں کی جگہ ہے۔ زندگی کے اس بڑے ریلا میں کشتی چھوٹی سی امید تھی، مگر امید بھی سب کے لیے نہیں، چند کے حصے میں آنے والی نجات۔تعجب کی بات یہ تھی کہ چودھری صاحب امدادی کشتی کودیکھنے  پر خوش ہونے کی بجائے ورطہ حیرت میں غرق ہوگئے۔فقیر محمد کے لب کھلنے سےپہلے  رانی بیگم اپنے بچوں کے ہاتھ پکڑے کشتی کی طرف بڑھ گئی۔فقیر محمد بےبسی کے عالم میں چیخنے کے سے اندازمیں ’’بیگم! سیلابی ریلے کے ڈر سے گھر نہیں چھوڑے جاتے‘‘۔’’تم جیسے حریص انسان کے لیے صرف زمین،جائیدار اوراثاثے  اہم ہیں میری اوربچوں کی جان  کی کوئی قدر نہیں ‘‘۔’’تم جانتی ہو ،ہمارے بیسمنٹ میں وافر رزق پڑا ہوا ہے،سو اس فکر کی ضرورت نہیں،ذرا سا ریلا ٹلنے کی دیر ہے پھر سے بہاریں لوٹ آئیں گی‘‘۔

ملاح سمیت امدادی ٹیم کے تمام افراد نے چودھری فقیر محمد کی بہت منتیں کیں کہ ایک اورشدید ریلا آرہا ہے اس لیے مزید رکنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔چودھری صاحب نے ان کی منتیں کرنا شروع کردیں کہ میری بیوی اوربچوں کونیچے اتار دو۔مگر وہ سب تو چودھری فقیر محمد کی طرح  حرص و ہوا کا کاسہ اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے نہیں تھے۔اس لیے انہوں نے چودھری کو حریص ،نوکاسا کہتے ہوئے کشتی سٹارٹ کرلی۔چودھری صاحب نے بےبسی کے عالم میں آخری سوال کیا’’کچھ کھانے کے لیے دے جاؤ،میں اورمیرا ڈیرہ یہاں اکیلے ہیں‘‘۔خشک راشن کا ایک پیکٹ چودھری صاحب کی طرف پھینکتے ہوئے کشتی آگے بڑھا دی۔پیکٹ اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر چودھری صاحب محویت میں چلے گئے۔’’رمضانی ،تم میں اور اس کتے میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا،یہ بھی میرے پاؤں میں اس لیے گرتا ہے کہ میں اسے روٹی کاٹکڑا ڈالوں گااور تم بھی ہر وقت میرے تلوے اس لیے چاٹتے ہو کہ میں تمھیں بھی کوئی ہڈی ڈالوں گا‘‘چودھری فقیر محمد نے پانچ ہزار کا نوٹ زمین پر پھینکتے ہوئے کہا تھا’’اٹھا اوردفع ہوجا،جاکربشیری کو ادھر بھیج دینا، میں اکیلا ہی ہوں،یہ تمہاری تنخواہ نہیں بلکہ اس کی قیمت ہے‘‘۔

کشتی آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ بچے اپنی ننھی بانہیں بڑھا کر باپ کو بلاتے رہے۔ مگر چودھری فقیر محمد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بےقراری تھی  دو دن سے مال ڈنگر اورفصلیں  سب کچھ پانی  بہا کر لے گیا تھا اور آج اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیوی بچے بھی  پانی کی لہروں پرسواری کرتے ہوئےنظروں سے اوجھل ہوتے جارہے تھے۔ شاید وہ جان گیا تھا کہ یہ پانی صرف مکان نہیں بہا رہا، یہ ان خوابوں کو بھی ڈبو رہا ہے جو برسوں کی چالبازیوں سے اس نے بوئے تھے۔

چھت پر بیٹھا ہوا چودھری فقیر محمد اور بہتے ہوئے خواب ۔۔۔یہ سیلاب کا وہ المیہ تھا جسے کوئی اخبار، کوئی کیمرہ پوری طرح قید نہیں کر سکتا۔ اور شاید یہی انسان کا سب سے بڑا امتحان ہے: جب کائنات بے شمار پانی دے کر بھی پیاس کا مداوا نہ کر سکے، اور جب امید کا چراغ صرف دوسروں کے ہاتھ میں دے کر بجھانا پڑے۔فقیر محمد چھت پر ایک بےبس پہرے دار بنا بیٹھا ہے جوا پنے سامنے نقصان ہوتا ہوادیکھ بھی رہا ہے مگر بچانے سے قاصر ہے۔اسی اثنی میں  گھر کے باہر والی سڑک جو، اب ندی بنی ہوئی تھی اس میں دو بھینیسں تیرتی ہوئی جارہی تھیں،نہ جانے فقیر محمد کے دل میں ایسا کیا خیال آیا کہ وہ ان بھینسوں کو کسی طرح روک کراپنے ڈیرے میں لانے کےلیے ایک لمبا سا بانس لے کر پانی میں کود پڑا۔بانس کے سہارے بھینسوں کے قریب پہنچا تو دیکھتا ہے  کہ نواب طفیل نے منہ پر شاپر والا ماسک چڑھایا ہوا ہے اوربھینس کا موٹا سنگل پکڑے ہوئے ساتھ ساتھ ڈبکیاں کھاتا جارہا ہے۔’’چودھری ! یہ پاس ہی تیرا ڈیرہ ہے؟‘‘۔’’ہاں اوئے  میرا’چودھری فقیر محمد آڑھتیا کا ڈیرہ‘ہے‘‘۔’’چودھری کسی طرح بھینسیں روک کراپنے ڈیرے پر لے چل،ایک تیری ایک میری‘‘۔’’نواب تو بہت سیاسی ہے،اگر میں بچاتا ہوں توتجھے صرف تیری جان بخشوں گا بھینسیں دونوں میری ہوں گی‘‘ بتا منظور؟۔نواب طفیل کاکوئی جواب آتا،سیلاب  کاا یک شدید ریلا آیا اوربھینسوں سمیت نواب اورچودھری کو لہروں کاحصہ بناکردریا کی گہری زمین کی طرف لےگیا۔ان لہروں میں پیچھے پیچھے چودھری فقیر محمد کاڈیرہ بھی آرہاتھا۔

Leave a Reply