چھتری (انشائیہ)

 

غلام حسن طالب

چھتری (انشائیہ)

کیا ہی خوب مشابہت پائی جانے کا عندیہ کھلتا ہے “دوست آن باشد کہ گیرد دست دوست – در پریشان حالی و درماندگی”اتفاق کی بات ہے کہ چھتری  بھی اسی تناظر میں بارشوں کی پریشانی اور دھوپ کی تمازت کی تکلیف کے دوران اپنے تھامنے والے کی سروپا کا تحفظ کرکے انسان دوستی کا ثبوت پیش کرتی ہے-جبکہ اچانک ہوا فرفر چلنے کے دوران چھتری تھامنے والا اس کے ڈنڈے کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ کربدلے میں اس کے تہیں اپنی بے لوث وفاداری کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

لغوی طور چھتری سے مراد چھوٹا چھاتا یا چھتر یا کبوتروں کے بیٹھنے کا اڈا یا ڈولی کے اوپر کا ٹھٹھر یا سر کے بڑے اور گھنے بال وغیرہ ہیں-چھاتا یا چھتر سے مراد بڑا چھاتا یا نم گیر یا شامیانہ یا سائبانہ یا چھت گیر ہے-تذکیروتانیث کے اعتبار سے تو چھاتا یا چھتر مذکر اور چھتری مؤنث ہے-یہ چھتری کا بڑاپن ہے جو اس نے اپنے آپ کو چھاتا یا چھتر میں بدل دینے میں کوئی ناراضگی نہیں جتائی بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ چھوٹے میاں سو چھوٹے میاں، بڑے میاں سبحان اللہ ۔

کون نہیں جانتا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے- بنیادی طور فضائے بسیط کی وہ انتہا جہا ہماری نظر جاکر ٹھر جاتی ہے آسمان کہلاتا ہے- جو ازل سے ابد تک ساری دنیا کے اوپر ایک چھتر یا چھاتا کی مانند سایہ افگن ہے-اس پر طرہ یہ کہ سورج کی گرمی سے بچنے کیلئے چھتری کا چھاؤں کار آمد ثابت ہو جاتا ہے۔

اگر ہم غوروفکر سے کام لیتے ہیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ  میں آسکتی ہے کہ ایک انسان کو پیدا ہوتے ہی اپنے جسم کے بعض اعضاء کو خفیہ رکھنے کےلئے اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکنا پڑتا ہے – پھر وہ  بارشوں اور دھوپ کی شدت سے بچاؤ کی خاطر اپنے جسم کے اوپری حصے کو چھتری یا چھاتا سے ڈھانپتا ہے-چنانچہ بہشت سے سراندیپ میں اتارکر حضرت آدم کی برہنگی کو چھپانے کے لئے انجیر کے پتے نے گویا چھتری کی مانند پناہ دے دی جبکہ حوا علیہ السلام کو جدہ کے قریب سمندر کے کنارے اتارا گیا تاکہ اس کے جسمانی اعضاء چھتر چھایا میں رہیں۔

جس طرح چھتری بدن کے اوپری دھڑے کو ڈھانکنے سے پورے شریر کو سہولت فراہم کرتی ہے بالکل ویسے ہی دن کےگزر جانے کے بعد رات پوری کائنات کو چھتر کی مانند اندھیروں سے ڈھانپ لیتی ہیں جس سے  ہر جاندار کو استراحت کرنے کا وقفہ ملتا ہے کیونکہ رات کو ماں کا پیٹ کہا گیا ہے -بہرحال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چھتری کے بجائے ایک چھاتا زیادہ سے زیادہ دو افراد کونامحرم خاتون کے سوا بارشوں اور تیز دھوپ کے دوران  پناہ دے سکتا ہے -تاہم دوسرے کو اس قسم کا سہارا ملنا ویسا ہی دکھتا ہے جیسا کہ پرانے وقتوں میں کسی مسافر بس میں سیٹ پر بیٹھا نرم دل انسان کسی کھڑے بزرگ کو اپنے زانووں پر بٹھانے کی فراخدلی کا مظاہرہ کرتا تھا۔

دراصل ایک چھاتا یا چھتری کے فوائد براہ ِراست ایک فرد کے لئے اطمینان بخش ہونے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی جگہ پر بیٹھی جماعت یا گروہ کے لئے چھتر یا چھاتا کے بجائے خیمے، سائبانہ اور شامیانہ سےکام لیا جاتا ہے – اس کے علاوہ بنی نوع انسان نے مکانوں کے اوپر چھتری جیسے بنائےچھتوں کے نیچے پناہ لینے کے ساتھ ساتھ عارضی طور کھڑا کئے گئے کوٹہاروں ، ٹین و لکڑی کے شیڈوں، تنبووں اور ٹینٹوں میں اپنی موجودگی کو ڈھانپنے کا عمل شروع کیا ہے -ایسی عارضی رہائش گاہوں میں مہاجرین اور سیلانی وغیرہ اطمینان سے پناہ لیتے ہیں – گویا چھایا بڑی مایا ہے ۔

شاعروں کا اپنی نظموں میں صنائع بدائع ظاہرکرنے کی مانند کاریگروں نے بھی ایک عرصہ سے خواتین کی نازک اندامی کا لحاظ کرتے ہوئے  چھتریوں یا چھاتوں میں بوقلمونی ظاہر کر رکھی ہے-چنانچہ ان کے استمال کرنے سےنہ صرف خواتین کا حسن خدا داد نکھرجاتا ہے بلکہ طالبات کا بسا اوقات جلوسوں کی صورت میں چھتریاں سروں کے اوپر رکھتے چلنا ذوق جمال رکھنے والوں کے لئے رنگین مناظر پیدا کرتے ہیں- ایسے خوبصورت نظارے دیکھنے کے لئے موسلا دھار بارشوں اور کڑکتی دھوپ کے اوقات  نہایت موزوں ہوتے ہیں ۔

اکثر لوگ بالخصوص سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے حضرات نکلتے وقت اپنی چھتریاں یا چھاتے دفتروں یا کارخانوں یا دکانوں میں بھول جاتے ہیں -یہی کچھ حال ان تغافل شعار لوگوں کابھی ہوتا ہےجو عبادت گاہوں سے واپسی پر اپنی اپنی چھتری یا چھاتا اٹھانا بھول جاتے ہیں -جہاں ہم ان عبادت گاہوں میں متنوع نوعیت کے  پوسٹر خاص کردوران عبادت “موبائل فون بند” رکھنے کی نوٹس چسپاں کرتے ہیں وہاں کیوں نہ ہم ایک اور نوٹس “اپنی چھتری ساتھ لینا نہ بھولیں” ہر اس جگہ چسپاں کرکے رکھیں جہاں ہمارا کسی کام  یا عبادت کیلئے جانا معمول ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ چھاتا یا چھتری ایک مرد یا خاتون کے چلنے پھرنے کے دوران بارشوں یا شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے ایک آلہ ہے،جس پر پورا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا- تاہم وقت گزرنے کے ساتھ آدم زاد کو نئی ترکیبیں سوجھیں، کیونکہ بعض اوقات چلنے کے دوران ہوا کے جھونکے اور لوگوں کے ایک دوسرے سے دھکم دھکا کی باعث ایک چھتری پر کنٹرول رہنا ناممکن ہوکر رہ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی آدم نے برساتی یا رین کوٹ بازار میں اتار دیا ہےجس سے زیادہ تر امیروں اور بڑے بڑے افسروں کو لگا تار بارشوں کے دوران اپنے اپنے شریروں کو ڈھانپنے کی سہولیات نصیب ہوتی ہیں-جبکہ عام لوگوں کے لئے چھاتا یا چھتری اپنے ڈبل رول میں سوہان روح ٹابت ہوجا تے ہے۔

چھاتا یا چھتری کی اہمیت کو نظر انداز کرنے والوں کے لئے اس حقیقت کا انکشاف کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ اس نے بنی نوع انسان کے ہاتھوں میں رہتے موسلا دھار بارشوں اور دھوپ کی تمازت سے بچاؤ سے بڑھکر فضائی حدود میں جست لگائے پیرا شوٹ یا ہوائی چھتری کا روپ دھار لیاہے گویا یہ فضا میں اڑان بھرنے والوں کےلئے لائف لائن بن کر رہ گئی ہے-صرف یہی نہیں بلکہ اسے دفاعی سازوسامان میں ایک اہم مقام حاصل ہوگیا ہے۔

تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں راجا یا والی ریاست یا پھر وہ افسر جس کے سپرد چتر شاہی ہوتا، چھتر پتی  کہلاتا تھا-چنانچہ روایتی بانڈ پانتھر میں مہاراجہ اور مہارانی کو پیش گاہ ایوان ہونے پر چھتری کے نیچے کھڑے ہوتے خیر مقدم کیا جاتا ہے -ہندو دھرم میں تو ایسی رسم شروع سے رائج تھی لیکن مسلمانوں میں بھی دلہا اور دلہن کی چھتری کے نیچے کھڑے رہتےآو بھگت کی جاتی ہے-
چنانچہ جب ہم انسانوں کے ابدان یا اعضاء وغیرہ ڈھانپنے یا ڈھانکنے یا پردہ کرنےیا چھپنے چھپانے یا پناہ میں لینے یا پناہ دینے یا سایہ ڈالنے وغیرہ جیسے افعال کے متعلق سوچ بچار کرتے ہیں تو ہم اس نتیجتے پر پہنچتے ہیں کہ چھتری کے سایہ کے تناظر میں سرپرستی ، سایہ عاطفت ، سایہ گستر، سایہ بال ہما،سایہ خدا اور سایہ زدہ صورتیں نظروں میں منڈلانے لگتی ہیں -مثال کے طور والدین یا سرپرستوں  کا سایہ ایک چھتری کی مانند اولادوں یا یتیموں کے سروں پر ہوتا ہے- چھتری یا چھاتا سے ہمیں جو خاص سبق ملتا ہے اس کے مطابق دنیامیں چھوٹوں کے سروں پر بڑوں کے شفقت بھرے ہاتھ چھتری یا چھاتا کی طرح سایہ افگن رہنا انسانی زندگی کا خاص مقصد ہونا چاہیے- علاوہ ازیں چھتری یا چھاتا انسانوں کے سروں پر بارشوں کی بوندیں اور دھوپ کی تمازت سہنے کے لئے ویسا ہی آلہ ہوتا ہے جیسا کہ برتنوں میں اشیائے خوردونوش کو صاف و پاک رکھنے کے لئے ان کے اوپر ڈھکن یا سرپوش یا خوان پوش رکھا جاتا ہے-

Leave a Reply