You are currently viewing ڈاکٹرعبدالمجید بھدرواہی کی افسانہ نگاری

ڈاکٹرعبدالمجید بھدرواہی کی افسانہ نگاری

 

ڈاکٹر گلزار احمد وانی

 

ڈاکٹرعبدالمجید بھدرواہی کی افسانہ نگاری

عبدالمجیدبھدواہی ٣ مئی ١٩٤٢ میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد کا نام خواجہ عبدالکریم تھا اور والدہ کا نام مرسہ بیگم تھا۔ آپ کا اپنا آبائی گھر قصبہ بھدرواہ کے محلہ تھڑا میں آباد تھا۔ آپ افسانہ نگاری کی طرف زمانہ طالب علمی سے ہی مائل تھے۔ اور ان کی افسانے کی طرف یہ مراجعت اردو افسانے کے لیے سود مند ثابت ہونے لگی۔ جب انہوں نے افسانے کی قرات کے ساتھ ساتھ تخلیقیت کی جانب رخ اختیار کیا۔ اگر چہ اردو ان کا دسویں جماعت تک ہی ان کے درسی مضامین میں شامل رہا ،  پر جس سے ان کے افسانوں میں سادہ مگر پر کار اسلوب دکھائی دیتا ہے۔ ابھی تک ان کے دو افسانوی مجموعے منظر عام پر آۓ ہیں۔ان کا پہلا مجموعہ ” چبھن ”  تھا جو ٢٠٢١ میں منصہ شہود پر آچکا تھا۔ جس میں ٦٥ افسانے شامل ہیں۔ یہ ایک ضخیم مجموعہ ہے ۔ مجموعے کے آغاز میں بہت سے نقد نوازوں نے اسے اپنی تنقیدی آرا سے نوازا ہے جن میں ولی محمد اسیر کشتواڑی ، نور شاہ ، ش م احمد ، خالد حسین ، سعداللہ شاد فرید آبادی ، مشتاق فریدی ، محمد اسداللہ وانی اور منشور بانہالی وغیرہ شامل ہیں۔ مجموعے کے اولین ٤٣ صفحات نقد و نظر کی نذر ہوۓ ہیں۔ جس میں عبدالمجید بھدرواہی کے افسانوی جہات کا کمہ حقہ احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد رواں سال یعنی ٢٠٢٥ میں  ان کا دوسرا  افسانوی مجموعہ “جلتا گلاب ” منظر عام پر آیا ہے ۔ موخرالذکر مجموعے میں اننچاس افسانے شامل ہیں۔ اس کے آغاز میں مذکورہ مجموعے کے لیے ولی محمد اسیر کشتواڑی ، محمد یوسف ٹینگ ، نورشاہ ، شمشاد کرالواری ، بشیر احمد خطیب ،  ڈاکٹر ریاض توحیدی اور پرویز مانوس وغیرہ کے تاثرات بھی شامل ہوۓ ہیں۔
” چبھن ” سے “جلتا گلاب ” تک فی الحال ان کا افسانوی سفر محیط ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہاں کے روزنامہ اخباروں کے لیے لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی کی افسانہ نگاری کی افسانہ نگاری کے پیچھے جو محرکات ہیں وہ ان کے معاشرتی ادراک اور اچھائی کی تڑپ ہے۔جو اسے کسی کروٹ چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ہے۔ آپ خیر کی صحت مند روایات سے جڑے ہوۓ رہنا چاہتے ہیں۔ اسی لۓ آپ سماج اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا قلہ قمہ کرنے کے لیے پہلے اظہار کی سیڑھیوں سے اترتے ہوۓ ایک ادب کے قاری کو ان محرکات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد اسے یہ تاثر دلانا چاہتے ہیں کہ واقعی سماج و معاشرے میں اس طرح کی پراگندگی چہار سمت پھیلی ہوئی ہے، جسے دور کرنے کے لیے ہی افسانہ نگار کا قلم اس قدر تحیر آمیز ہو کر سرعت اور ہنگامہ خیز نظر آ رہا ہے۔ ان کے اکثر افسانوں میں ایک قاری کو اس بات کا احساس ملتا ہے کہ افسانہ نگار نے اچھوتے موضوعات پر قلم اٹھانے کی جرات کی ہے۔ ان کے کرداروں میں اسی سماج کے لوگ رہ رہے ہیں جن میں خاص و عام کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ جن میں مولوی ، مزدور ، تاجر  ، پٹواری ، ٹھیکیدار ، عورتیں ، دوشیزائیں ، دوست اور دشمن سبھی کردار دیکھے جا سکتے ہیں۔ افسانہ نگار کو اپنے بیان میں اپنے اسلوب میں ایک جدت سی دکھائی دے رہی  ہے۔ جب وہ موضوع کو اپنے اصل مقصد کی اورمڑتے اور  پھیرتے ہوۓ لے جاتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں اختصار  ہے۔ اور بلا وجہ طوالت سے محفوظ ہیں۔ اگر چہ ان کے افسانوں میں بین الاقوامی مسائل کی طرف ان کا کم دھیان ہی  سہی پر اپنے معاشرے کے لوگوں کی نبض پر ان کا ہاتھ ہے جس سے سماج و معاشرے کی تمام تر کمزوریوں ، بیماریوں اور عیبوں کو بیان کرکے اس کے اصل مقصد حیات میں بیان کرنے پر قادر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس سماجی گروہ کی دبی کچلی زندگی کے بھی ان تمام پہلوؤں کو بیک وقت دکھاتے ہیں جو مضبوط اور توانا و غالب ہاتھوں کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔ وہ انسانی نفسیات کے بھی ڈاکٹر ہیں۔ ولی محمد اسیر کشتواڑی اس بارے میں رقمطراز ہیں :

“ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ انسانی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ انہیں اردو زبان و ادب کے ساتھ والہانہ محبت ہے۔ ان کا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے۔”

نور شاہ عبدالمجید بھدرواہی کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:

 ” ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کی کہانیاں پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا یے کہ وہ وقت کی نبض بخوبی جانتے اور ہہچانتے ہیں اور شاید اسی لیے ان کی کہانیوں میں زندگی کے مختلف روپ ، دکھ سکھ اور احساسات و جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔”

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کی یہی خوبی ہے کہ آپ ہر افسانے میں درد و کرب اور دکھ سکھ کی فضاؤں سے شروع ہو کر زندگی کی تلخیوں کو بے نقاب کرکے انہیں ایک قاری کو اس طرح دکھاتے ہیں کہ کیسے وہ ان تلخیوں سے نبرد آزما ہو جائیں اس دوران وہ تمام عسرت و مسرت کی کھٹی میٹھی آب و ہوا میں سے مطلب و معنی کی ذرخیزیت نکالتے ہیں۔ اسی درد و کرب کے تیکھے پن نے ان کے افسانوں کو ایک عجب قسم کا تحرک بخش دیا ہے ، اور  جو بیان کرنے کے قابل ہے۔ آپ نے سماج اور معاشرے میں پلے بڑھے ہر ایک فرد کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ رسوئی سے لے کر باہری زندگی کا جو نقشہ انہوں نے اپنے بہترین اسلوب میں کھینچا ہے  کہ  وہ ایک قاری کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر ہی رکھتا ہے۔ ان کے افسانے سماج کے آئینہ دار ہیں۔جو ایک قاری کو اپنے معاشرے کا صاف اور ملجگی چہرہ و مہرہ دکھانے میں ممدو ہیں۔ جوں جوں ایک قاری ان افسانوں میں پوری طرح غوطہ زن ہونے لگتا ہے اسی قدر اس پر زندگی کے خصائل اور اس کے حقائق ورق در ورق کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے خالد حسین یوں لکھتے ہیں:
“ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی افسانے کی ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے پختگی کی راہ پر گامزن ہیں”۔
جس طرح ایک کامیاب شاعر کے اشعار زبان زد عام ہوتے ہیں۔اسی طرح ان کے اقتباس کے جملے بھی ازبر رہ جاتے ہیں۔ مثلاً:
” ریشمی کپڑے میں اونی پیوند نہیں لگایا جا سکتا ہے” افسانہ۔۔۔۔ آخری تمنا
” یہ دلدوز کہانی سن کر ہمارے دل پسیج گۓ ” افسانہ تلاوت کاانعام
” جنم کنڈلی کا رنگ نکھر آیا اور رشتے آنے لگے”۔۔۔ افسانہ زندگی کے دائرے
افسانہ نگار کےافسانوں میں اوہام و تیقن کا عندیہ بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔۔افسانہ” آخری تمنا ” کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں :
” دونوں نے باہمی مفاہمت سے ایک بات طے کی کہ چونکہ یہ تقریباً مجبوری کی شادی ہے جو صرف داداجی کی خوشنودی کے لیے کی گئی ہے ۔ اس لیے ہم اپنی ازدواجی زندگی کو التوا میں رکھیں گے”۔
اس کے ساتھ ہی یہ اقتباس بھی دیکھیں:
” کچھ دنوں کے بعد لڑکے کے والد صاحب کو بھی پتہ چلا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کو یتیمی اور مروجہ تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا تھا تواس نے سجدہ شکر ادا کیا اور انتہائی خوش ہو کر کہنے لگا کہ شادی اسی لڑکی سے ہو رہی ہے جو کہ یتیم ہونے کے ساتھ دیندار بھی ہے “۔۔۔ افسانہ  تلاوت کا انعام
ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کے افسانوں سے یہی بات اخذ ہوتی ہے کہ ان میں عورت زندہ ہےاور جیتی جاگتی اور سانس لیتی ہوئی ۔شاید ہی ان کا کوئی افسانہ یا کہانی نظر سے گذری ہو جہاں اور جس میں عورت سانس نہ لے رہی ہو۔ میں مشتاق فریدی کے اس جملے سے نا اتفاقی برت رہا ہوں کہ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے اعصاب پر اب عورت  سوار نہیں ہے۔ یہ تاثر ان کے پہلے مجموعہ افسانہ “چبھن” میں رقم ہوا ہے مگر اس کے بعد والے افسانوی مجموعے “جلتا گلاب ” جو کہ ٢٠٢٥ ء میں  منظر عام پر آیا ہے اس میں بھی عورت دور و نزدیک نظر آتی ہے۔ عورت ان کے افسانوں کی مرکزی اہمیت والی کردار ہے۔ یلدرم کی طرح ان کے افسانے کا  منبع عورت ہے۔کیونکہ یہ ہمارے زوال آمادہ  معاشرے کی مغلوب اور استحصال زدہ مخلوق ہے۔ اس پر ہو رہے مظالم ، جورو جفا ، گھریلو تشدد ، اور دیگر زیادتیاں بھی ایک بڑے افسانے سے کچھ کم نہیں۔ ایک اور  بات ان کے افسانوں میں یہ ہے کہ بقیہ افسانہ نگار جس طرح کوئی  فرضی واقعہ بیان کرکے کہانی کو بن رہے ہیں مگر عبدالمجید بھدرواہی اس کے برعکس حقیقی واقعات و حادثات کو اپنے قرطاس پہ بکھیر کر کہانی بن ریے ہیں۔ پروفیسر احتشام حسین  لکھتے ہیں :
” یلدرم نے اس چیز کی طرف توجہ نہیں کی ، بلکہ انہوں نے ایک دوسرے مسٔلے کو اپنے فن کا مرکز بنایا۔ وہ یہ دیکھتے تھے کہ سماج میں عورتوں کا مقام کیا ہے، عورت اور مرد کی محبت سے زندگی کس طرح  خوبصورت بن سکتی ہے ۔ اس لیے انہوں نے اپنے افسانوں کی بنیاد محبت پر رکھی۔ ان کے یہاں محبت کا وہ بڑا تصور نہیں تھا جو پریم چند کا تھا ۔ بلکہ وہ محدود تصور تھا جو گھریلو زندگی اور خاص طور پر محبت کی زندگی کا ہوتا ہے۔اسی کو انہوں نے افسانے کا موضوع بنایا ”
اردو نثر کا فنی ارتقا ۔۔۔ ص نمبر ٢٧۔٢٨ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی سن اشاعت ٢٠١٣۔
عبدالمجید بھدرواہی کے یہاں عورت  ان کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورت ہی کیوں ؟ دراصل عورت ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڑی تصور کی جاتی ہے۔ اور گھر کے ماحول سے جب بھی جلتے کھانے کی بو آنے لگتی ہے تو اس میں اس کی ذمہ دار  عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر اس کے ارد گرد کے ماحول میں مرد  بھی برابر حصے دار ہے۔ اسی معاشرے کی جب بھی کوئی خون آشام واقعہ دہرایا جاتا ہے تو اس کی سب سے پہلی شکار عورت ہی ہوتی ہے۔یہ استحصال ، گھریلو تشدد کی بھی شکار بنتی ہے ان مسائل کی اور  افسانہ نگار کی نگاہ تیز ہے جو انہیں اپنے افسانوں میں عورت کو لانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی اپنے معاشرے پر قریبی نظر رکھے ہوۓ ہیں ۔ وہ اسی معاشرے میں سے ایسے واقعات بیان کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان حیران رہے بنا نہیں رہ سکتا ہے۔ مثلاً ” تنہائی کا آسیب ” افسانے میں کیسے عورت کے مقصد کی تکمیل کرا لیتے ہیں۔اس افسانے میں” پروین ” کی صورت میں انہوں نے خواتین کی غلط کاری اور تنہائی کے کرب کو بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔وہ محنت اور مزدوری سے اپنا پیٹ پالتی تھی اور چار سال قبل کسی اجنبی نے اسے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔  ایک اور افسانے میں دیکھیے۔
” ایک دوشیزہ کی بیوہ ماں طرح طرح کی بیماریوں سے جاں بلب ہو رہی ہے۔اس کی یتیم بیٹی کے ماں کے علاج کے لیے روپیہ پیسہ نہیں ہےاس کو ماں کے علاج کے لیے یہ ترکیب سوجھتی ہے کہ وہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے ، اسے اپنی بپتا سناتی ہے اور کہتی ہے ڈاکٹر صاحبہ میرا نس بندی آپریشن کرو، ڈاکٹر یہ سن کر ششدر ہو کر رہ جاتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ کنواری لڑکی شاید غلط راستے پر جانا چاہتی ہے اور اس لڑکی  سے نس بندی کی وجہ پوچھتی ہے یہ ،  دکھی لڑکی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوؤں کی جھڑی لگتی ہے اور درد کےاتھاہ سمندر میں ہچکولے کھاتی ہوئی کہتی ہے ۔ ڈاکٹرصاحبہ میری بیوہ ماں اس وقت موت و حیات کی کشمکش میں ہے اس کے علاج کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، میں نے سنا  ہے کہ نس بندی  کرانے پر ہسپتال والے کچھ نقد رقم  دیتے ہیں ۔ اسی لئے میں جوانی کو اپنی غمزدہ ماں پر نچھاور کرنا چاہتی ہوں”۔ اور بقول مشتاق فریدی اسی درد و کرب کے تیکھے پن نے ڈاکٹر عبدالمجید کے افسانوں کو حرارت بخشی ہے۔ ان کے موضوعات کی کوئی قید نہیں ہے اب وہ اس قدر افسانہ بننے کے فن میں ماہر نظر آ رہے ہیں کہ کسی بھی کلائمکس میں وہ اپنے  تخیل کو افسانے کی شکل دے سکتے ہیں ۔ان کے افسانےمیں پلاٹ اس قدر مربوط ہوتا ہے کہ کہانی میں کسی بھی الفاظ کے مس کرنے پر وہ نقص ظاہر کر لیتا ہے۔ اور یہی ان کے کامیاب افسانہ نگار ہونے کی قوی دلیل بھی ہے۔

 

Leave a Reply