
جاوید رسول
کشمیر میں اردو صحافت کے موجودہ رجحانات اور چیلنجز
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر زمانے میں عوامی رائے کو تشکیل دینے میں صحافت کا رول سب سے اہم رہا ہے۔یہ بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ صحافت کا کام صرف ریاستی قوانین اور نظم و نسق کی عمل آوری یا عوامی زندگی پر ان کے اثرات کا سچ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ فکری سطح پر معاشرے کی اجتماعی ترقی کو ممکن بنانا بھی صحافت کے ذمے ہوتا ہے۔پھر اس ذمہ داری کو نبھانے میں صحافت کو کئی طرح کے Challenges کا سامنا رہتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج تو روایتی سوچ کی تشکیل نو ہوتا ہے۔ یہ چیلنج موجودہ زمانے میں اس لیے بھی سخت ترین ہے کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور سوشل میڈیا اس وقت ایشیائ ثقافتوں کے لیے ایک ایسی پس نوآبادیاتی سرمایہ دارانہ طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جو ہمارے صحافتی ڈسکورس کو طے شدہ فریم ورک میں فٹ کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ہم آجکل جس صحافتی انحطاط کے شکار ہیں اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بنیادی وجہ اس طے شدہ فریم ورک کے تحت چلنا ہے۔ نوم چومسکی اس حوالے سے 1998 میں چھپے اپنے شہرہ آفاق مضمون ” What makes mainstream media mainstream میں لکھتے ہیں:
The elite media set a framework within which others operate”
آگے لکھتے ہیں:
“That framework works pretty well, and it is understandable that it is just a reflection of obvious power structures”
ظاہر ہے اب ہمارے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ آخر یہ “طے شدہ فریم ورک” کیسے ہمارے خطے کی صحافت پر اثرانداز ہو کر اس کے لیے نئے Challenges پیدا کررہا ہے۔
اس حقیقت سے کوئ مفر نہیں کہ کشمیر کی کل آبادی ایک چھوٹے سے جغرافیا کو محیط ہے لیکن اس حقیقت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس چھوٹے سے جغرافیا کی ثقافت نے ہر زمانے میں دنیا کو اپنے علم و ادب کی بصیرتوں نیز قومیت کے جذبوں سے متاثر کیا ہے۔اس معاملے میں یہاں کی صحافت کا رول ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔لیکن آج جب ہم اس خطے کے مستقبل کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اپنی انفرادیت یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو شناخت کسی نئی شام کے دھندلکے میں لتھڑی ہوئ نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری صحافت کا نئے چیلنجز اور نئے رجحانات سے بے بہرہ ہونا یا جان بوجھ کر صرف نظر کرنا ہے۔
میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہمارے یہاں اخبارات یا رسائل و جرائد کی کوئی کمی ہے بلکہ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ ہم ڈیجیٹل لینڈ اسکیپ کا حصہ نہیں ہیں، ضرور ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری صحافت فکری سطح پر ہمارے معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا باعث بن رہی ہے؟ اس سوال پر سوچنے کی ذمے داری ان دانشوروں پر عائد ہوتی ہے جو سطحی اور معیاری صحافت میں فرق کرنا جانتے ہوں۔لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا وہ دانشور حضرات اس فرق کو سامنے لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟حالانکہ ہم کشمیر کی موجودہ صحافت سے کسی سیاسی منطقے کا تقاضا بالکل نہیں کرتے بلکہ ایسے سبھی منطقے تقریباً ہماری ثانوی ترجیحات سے بھی خارج ہوچکے ہیں،فی الوقت ہم اپنی صحافت سے معاشرتی سطح کے فکری معاملات کا تقاضا کرتے ہیں۔ہماری صحافت اس وقت الیٹ میڈیا (Elite Media )یعنی سوشل میڈیا کے فریم ورک کی زد پہ ہے اور اس فریم ورک سے نکلنا ہی فی الحال اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔فریم ورک سے نکلنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہوجانا چاہیے بلکہ اس سے مطلب دئے گئے فارمولے کے بجائے اپنے انتخاب اور فیصلے کو ترجیح دینا ہے اگرچہ اس میں وقتی طور پر مالی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ ہماری صحافت جن صارفی عوامل کو بنیادی ترجیح دے کر سفلی پن کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ کسی نئی ضرورت کی پیدوار نہیں بلکہ اسی فریم ورک کا حصہ ہیں جو اپنے پروپیگنڈا کو کامیاب بنانے میں ہماری صحافت کا استعمال کررہا ہے۔مثلاً؛ یہ کس قدر کریہہ حقیقت ہے کہ اب پیسہ ہی ہماری صحافت کی پہلی ترجیح بن چکا ہے جو کہ ایک نئے رجحان کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی حصول یابی کے لیے جس شئی کو بیچا جارہا ہے وہ عوام اور معاشرتی تقدس ہے۔الیٹ فریم ورک کا مقصد بھی یہی ہے کہ کسی طرح عوام کو بیچا جائے، ان سے سوچنے کی صلاحیت اور اجتماعی زندگی کا شعور چھینا جائے تاکہ انہیں ایک ایسی پوزیشن پہ لاکر کھڑا کیا جائے جہاں دنیا کی Elite Minority انہیں کسی ایک ضابطے (Order) یعنی مہابیانیے کے تحت ہانک سکے، جیسا کہ اب ہورہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایشیائی ممالک کی صحافت کا موجودہ منظرنامہ اس بورژوا اقلیت کے مقاصد کو پورا کرنے میں نادانستہ طور پر سرگرم عمل ہے۔کشمیر کی صحافت تو سامنے کی مثال ہے۔یہاں کے سب سے معیاری اخبار کشمیر عظمی کی موجودہ حالت یہ ہے کہ سرورق سے ہی اشتہار بازی شروع ہوتی ہے۔سوشل میڈیا خاص کر فیس بک پر تو ہر دوسرا آدمی صحافی بنا بیٹھا ہے جو شہر کے ہر نکڑ پر عوام کا سودا کررہا ہے۔چونکہ ایسے صحافیوں کو دراصل اپنی صارفی بھوک مٹانا مقصود ہوتا ہے اس لیے یہ ہماری نفسیات کو جانتے ہوئے حادثات کی رپورٹنگ، اشتہار بازی اور چندہ جمع کرنے جیسی سفلی چیزوں کو صحافت کے قالب میں پیش کررہے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ عوام کو اس قسم کی صحافت کی کوئی حاجت ہے بلکہ چونکہ ہم حقیقی صحافت اور فکری تقاضوں سے ناواقف ہیں اس لیے جو بات ہمیں جذباتی سطح پر فوراً متاثر کرتی ہے ہم اسی کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ اس قماش کے لوگوں کو صحافت کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اب اس رجحان کے اثرات دھیرے دھیرے ہمارے معتبر صحافتی ادراوں اور شخصیات پر بھی پڑ رہے ہیں۔کوئی ایک ایسا ادارہ یا صحافی بتائیے جو پیسوں کے لیے اپنے معیار سے سمجھوتا نہ کررہا ہو؟ ہاں ہمارے یہاں کچھ ادارے اور لوگ ایسے ضرور تھے جو اپنے معیار سے نیچے آکر Mediocrity کو ترجیح دینا بددیانتی سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی طاقت نے یا تو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا یا پھر اتنا مجبور کیا کہ بالآخر وہ خود سطحیت کے شکار ہوکر بے اثر ہو گئے۔اب آپ پوچھیں گے کہ اس سطحیت کا ہماری معاشرتی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ تو اس کے جواب میں ہماری نوجوان نسل کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے دیکھیے کیسے صارفیت نے ان کے ذہن اتنے کھوکھلے کر دیے ہیں کہ یہ فکری اور اخلاقی انحطاط vulgarity کا شکار ہورہے ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر معاشرے کے ثقافتی اور تہذیبی بیانیوں کے قیام میں وہاں کی صحافت کا رول بنیادی نوعیت کا ہوتا ہے۔ سرسید کو اس بات کا علم تھا اس لیے انہوں نے مسلمانوں میں جدید سوچ پیدا کرنے کی غرض سے” تہذیب الاخلاق” جیسے تاریخی رسالے کا اجرا کیا۔بھلے ہی ان کے کئی ہم عصر ادیبوں ، شاعروں اور اسکالروں نے ان پر تنقید کی یا رسالے کو نوآبادیاتی پروپیگنڈا کہا، لیکن سرسید نے ان سب رویوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن کو جاری رکھا، حتی کہ انہیں اس مشن میں کامیاب ہونے کے لیے بعض اوقات دامن بھی پسارنا پڑا لیکن ہمارے صحافیوں کی طرح کسی شخص کے گردے بچانے یا ٹی آر پی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ قومی مستقبل کو بچانے کے لیے۔دنیا گواہ ہے کہ رسالہ “تہذیب الاخلاق” نے اس روایتی ذہنیت کی تشکیل نو میں کتنا اہم رول ادا کیا۔جو واقعی نظر شناس ہوتے ہیں انہیں آج بھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کو دیکھ کر سرسید کے صحافتی کردار کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے جو صحافت قومی خودی یا تعمیر نو کے لیے کی جاتی ہے وہ صارفی سوچ جیسے زہر سے بالکل پاک ہوتی ہے۔کشمیر کا اس وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں “تہذیب الاخلاق” کے معیار یا مقصد کا کوئی ایک بھی رسالہ یا روزنامہ موجود نہیں ہے جبکہ فی الوقت ہمیں ایسی صحافت کی اشد ضرورت ہے۔یہاں بات کا رخ ذرا سا ادبی صحافت کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
ظاہر ہے ادبی صحافت معاشرے کے دانشور طبقے کے لیے اس لیے زیادہ اہم ہوتی ہے کہ اس سے انہیں اپنے معاشرے کی فکری صورت حال کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ہم سبھی کو روزنامہ آفتاب کا وہ مشہور کالم “خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے” یاد ہوگا کہ کیسے خواجہ ثناءاللہ بٹ کا Political Satire پڑھے لکھے طبقے کو نہ صرف جمالیاتی حظ بہم پہچاتا تھا بلکہ فکری سطح پر بھی اپنی مجموعی صورت حال پر سوچنے کے لیے مجبور کرتا تھا۔مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہنے کو کسی دلیل کی ضرورت پڑے گی کہ ان کے انتقال کے بعد نہ صرف روزنامہ آفتاب اپنے جوہر سے محروم ہوا بلکہ کشمیر میں اردو کالم نگاری بالخصوص اس طرز کے Political Satire کا بھی باب بند ہوگیا۔یہ تو خیر ادبی صحافت کا وہ پہلو ہے جسے بعض ادب شناس لوگ ادبی صحافت کے زمرے میں ثانوی درجے پہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ادبی صحافت اصل میں ادبی رسائل و جرائد سے پہنچانی جاتی ہے۔چلیے فی الحال کے لیے یہی مان کر چلتے ہیں لیکن تب بھی ادبی صحافت کے حوالے سے ہماری تحقیق کسی مثبت نتیجے پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اسے درپیش کئی سارے Challenges سے پردہ ہٹاتی ہے۔مثلاً: اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہوگا کہ ہم کشمیر کو دبستان ادب کہتے تھکتے نہیں بلکہ اب تو ہر بڑے منچ پر ہم بہ آسانی کشمیر کو دبستان کے نام سے متعارف بھی کراتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اگر ہم سے یہ پوچھا جائے کہ آپ دبستان کشمیر کو دلی اور لکھنو جیسے دو بڑے دبستانوں کے مقابل میں کیسے دیکھتے ہیں تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟اور کیا واقعی کشمیر اس موازنے کے قابل ہے؟ چلیے کلاسیکی عہد کو چھوڑ کر آج کی دلی اور لکھنو کو مد نظر رکھ کر بتائیے کیا ہمارا ادب ان دونوں خطوں میں لکھے جانے والے ادب کے معیار سے موازنہ کرسکتا ہے؟ ہماری آئرنی تو یہ ہے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس سوال کے جواب میں ہاں کہا جائے یا ناں کیونکہ ہم اپنے معاصر ادب سے بے بہرہ ہیں۔یہ کام دراصل ہر خطے کی ادبی صحافت کا ہوتا ہے کہ مقامی ادبی رویوں سے اپنے پڑھے لکھے طبقے خاص کر Intellectual Class کو آگاہ کرے۔لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے کسی بھی ادبی رسالے میں معاصر ادب پر مباحثے نہیں ملتے۔ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے یہاں کون سا ایسا معیاری ناول لکھا گیا جس پر کوئ تنقیدی مباحثہ ہوا ہو؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ان دو دہائیوں میں فن اور موضوع کی سطح ہمارا ادب کوئی خاطر خواہ ترقی کر بھی پایا ہے کہ نہیں، کیونکہ ہمارے ادبی رسائل و جرائد میں اس قسم کے ضروری مباحث کا فقدان ہے۔جبکہ یہ ہمارے ادبی رسائل کی اولین ذمہ داری تھی، لیکن کیا انہیں اس ذمہ داری کا احساس ہے؟ پھر ہمارے یہاں رسائل و جرائد کی وہ بھرمار بھی تو نہیں جو دوسرے خطوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔وہاں ہوسکتا ہے معیار کو قائم رکھنا بڑا دشوار گزار ہوتا ہو لیکن ہمارے یہاں تو گنتی کے کل دو یا تین ادبی رسالے شائع ہوتے ہیں جن میں سے بھی دو سرکاری جرائد ہیں۔ایسے میں معیار قائم رکھنا کوئ مشکل کام تو نہیں ہوتا کیونکہ خرچہ پانی سب بہرحال سرکار اٹھاتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس سب کے باوجود ہم ادبی حلقوں میں کسی نئی ادبی بحث کو سامنے لانے میں ناکام ہورہے ہیں۔معاف کیجیے گا ہمارے ادبی رسائل و جرائد یا تو سرکاری وسائل کی بھرپائی کرتے ہیں یا محض
اپنی لابی کے افراد کی ذہنی تسکین کا کام کرتے ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فی زمانہ ہماری ادبی صحافت کو دوہرا چیلنج درپیش ہے۔ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ معیاری ادب پر مباحثے کرائے، دوسرے یہ کہ نئی تکنالوجی کے سہارے ان مباحث کو دنیا کی دیگر ادبی ثقافتوں تک پہنچائے تاکہ صحت مند مکالمہ قائم ہوسکے۔اس سے مفر نہیں کہ ہماری ادبی صحافت اس وقت ترسیل و ابلاغ کے مسائل سے دوچار ہے کیونکہ اس کے پاس نہ وہ مواد ہے جو دوسروں کی توجہ کا باعث بن سکتا ہے اور نہ وہ وسائل جو دوسروں تک پہنچنے میں اس کی مدد کرسکتے ہیں۔پھر جس طرح کتابت کی غلطیاں اب رسائل و جرائد میں دیکھنے کو ملتی ہیں اس سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ اب ہمارے یہاں پرنٹ میڈیا کا اثر دھیرے دھیرے کم ہوتا جارہا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید تر وسائل کے ذریعے ہی اپنے ادبی مقام کا تعین کیا جائے۔اس ضمن میں پوڈکاسٹ جو اس وقت دنیا کے صحافتی منظرنامے (خواہ ادبی ہو یا عوامی) میں نئی روح پھونک رہا ہے، ہمارے یہاں نئے فکری انقلاب کا باعث بن سکتا تھا، لیکن مفقود ہے۔کشمیر لائف یا جی کے ٹی وی اگرچہ اس طرز کی کوششیں ضرور کررہے ہیں لیکن وہ بھی عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ہچکولے کھا رہے ہیں۔ظاہر ہے یہ سب تب تک ممکن نہیں ہوسکتا جبتکہ عوام میں حقیقی صحافت کا شعور بیدار نہ ہو۔ ہمارے بڑے اور معتبر صحافیوں کو چاہیے کہ موجودہ صحافت کو فلٹر کرنے کی کوئی موثر ترکیب نکالیں تاکہ عوام میں حقیقی صحافت کا شعور بیدار ہو۔میرے خیال میں ہماری صحافت فی الوقت جس فکری انحطاط کی شکار ہے اس سے نکلنا ہی اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔