You are currently viewing شہرام سرمدی کی غزل گوئی

شہرام سرمدی کی غزل گوئی

عبدالمنان صمدی

شہرام سرمدی کی غزل گوئی

         حال ہی میں شہرام سرمدی کا تازہ شعری مجموعہ ’’حواشی‘ منظر عام آیا، اردو ادب میں ایسے شعرا بہت کم ہوتے ہیں جن کاشعری مجموعہ خالص نظموں پر مشتمل ہو، اخترالایمان، ن م راشد کے علاوہ شاید ہی اردو ادب میں  کوئی ایسا شاعر ہوا ہو جس کا شمار خالص نظم گو شاعر کے حوالے سے ہوتا ہو اور اس کے یہاں غزلیہ شاعری نہ ملتی ہو۔ خواجہ الطاف حسین حالی سے شہرام سرمدی تک سب شعرا کے یہاں غزلیہ شاعری ملتی ہے اخترالایمان اور ن م راشد اور خود شہرام سرمدی ’’حواشی‘‘ سے قبل اپنے شعری مجموعہ’’ناموعود‘‘ کو غزلیہ شاعری سے پاک نہ رکھ سکے البتہ ’’حواشی‘‘ غزلیہ شاعری سے پاک و صاف ہے۔

         شہرام سرمدی کی شاعری پر اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے۔ اور ’’حواشی‘‘ نے اس سلسلے میں مذید اضافہ کرے گا۔ لیکن شہرام کی شاعری پر اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا تعلق صرف ان کی نظمیہ شاعری سے ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کو ان کے ہم عصروں کے ساتھ ساتھ دانشوروں نے بھی نظر انداز کیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ شہرام اردو کے پہلے ایسے شاعر ہیں جن کی غزلوں کی طرف قارئین و ناقدین توجہ نہیں دی بلکہ ان سے  پہلے بھی ایسے شاعر ہوئے ہیں جن کی غزل گوئی یا تو عارضی طور پر مطالعہ کیا گیا یا مکمل طور پر نظر انداز کردیاگیا۔ اقبال، فیض، میراجی، کیفی اعظمی، سلام مچھلی شہری، وغیرہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

         اورایسابھی ہرگز نہیں کہ قارئین و ناقدین نے ایسا دانستہ طور پر کیابلکہ یہ ہماری مشرقی روایت رہی ہے۔

بقول ڈاکٹر وحید اختر

’’ہماری زبان میں شاعر اور نقاد دو الگ الگ شخصیتں مانی جاتی ہیں تخلیق اور تنقید کو جدا گانہ افراد کے سپرد کرنے کا رواج اس وقت سے ہوا، جب کچھ علمائے ادب نے بطور خود ادب و شعر کی رہنمائی فنکاروں کی تعلیم، شعوری تربیت، اور اصلاح کا فرض اپنے اوپر عائد کرلیا، اور گروہ شعرا نے ان حضرات کے مطالعے سے مرعوب ہوکر احساس کمتری کے ہاتھوں اپنے آپ کو نقادوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اردو میں یہ صورت حال ہمیشہ سے نہ تھی۔ ہمارے اساتذہ نے تذکروں کی شکل میں تنقید کی داغ بیل خود ہی ڈالی تھی۔ میر،  قائم، میر حسن، مصحفی، اور شیفتہ کے تذکرے انشاء کی دریائے لطافت، غالب کی نعت نویسیوں سے قلمی معرکہ آرائی، حالی کا مقدمہ کا مقدمہ شعر و شاعری ہماری تنقید کے ارتقا میں انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں آزادی کی آب حیات اور شبلی کی شعرالعجم، موازنہ، تنقیدی علمی مضامین، سوانح مولانا روم، حالی کی حیات جاوید، حیات سعدی اور متفرق مضامین، رسوا کے تنقیدی مراسلات و مقالات، پریم چند کے مضامین، حسرت کی تنقیدیں، یگانہ کی تعلیاں اور ان کے علاوہ تخلیقی فن کاروں کی لکھی ہوئی علمی کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنقیدی نظریات کے سر چشمے میں تخلیقی ذہنوں سے ہی پھوٹتے رہے ہیں۔ مغرب میں تنقید اور تخلیق کا تعلق اس سے بھی زیادہ گہرا اور نمایاں رہا ہے۔ وہاں ایک شخص بیک وقت شاعر، ڈرامہ نگار یا ناول نویس اورنقاد رہا ہے۔ اور ہر میدان اس کے حق کو مانا گیا ہے۔ ہمارے یہاں ذہنی انحطاط علمی زوال سے اور عام پسماندگی نے ذہنی صلاحیتوں کے اظہار کو بھی محدود خانوں میں بانٹ دیا۔ پھر ایک ایسا دور بھی آیا کہ شاعروں کی امت اپنی امی ہونے کو تمغہ امتیاز سمجھنے لگی۔

(بحوالہ فلسفہ اور ادبی تنقید ڈاکٹر وحید اختر، ص۹-۱۰، نصرت پبلشرز وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنؤ۔ سن اشاعت ۱۹۷۲ء)

         ڈاکٹر وحید اختر کی رائے سے اگر مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا تو مکمل طور پر اختلاف کرنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن ہمارا موضوع وحید اختر کی تنقید نگاری کا تجزیہ کرنا نہیں ہے اس لیے ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یعنی ڈاکٹر شہرام سرمدی کی غزل گوئی یا غزلیہ شاعری کی طرف اردو شاعری میں غزل جتنی مشہور ہے اتنی ہی بدنام بھی ہے کسی نے اس کو نیم وحشی صنف کہا تو کسی نے اس کو اردو شاعری کی آبرو۔ حقیقت کچھ بھی ہو لیکن غزل کی شہرت اس کی اہمیت و افادیت کسی بھی عہد میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔ چاہے وہ عہد کلاسیکی عہد ہو یا ترقی پسند عہد ہو یاپھر جدیدیت و مابعد جدیدیت کا عہد ہو۔

         بعض ناقدین کا خیال ہے کہ غزل میں اپنے کچھ لکھنے کو رہا نہیں یعنی شاید ہی کوئی ایسا موضوع رہا ہوگا جو غزلیہ شاعری میں نہ آیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیا بات ہے کہ غزل آج بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنی اہمیت منوارہی ہے۔ اس کی ایک حصہ یہ ہے کہ غزل کا ہر عہد میں جس طرح اسلوب بدلا ہے وہ شاید کئی اور صنف کا بدلا ہو۔ دوسری حصہ یہ ہے کہ آغاز سے ہی غزل نے قارئین و سامعین پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے اور غزل جتنی جلدی قارئین و سامعین کو متاثر کرتی ہے وہ کوئی دوسری صنف نہیں کرتی۔ اور شہرام غزل کی اس خوبی سے بخوبی واقف ہیں بہت ممکن ہے کہ شہرام کی غزلیہ شاعری جو مضامین ملتے ہیں وہ ان سے قبل کے شعرا کے یہاں بھی موجود ہوں۔ لیکن شہرام کا اسلوب نہ صرف منفرد ہے بلکہ یگانہ بھی ہے۔

         شہرام کی نظمیہ شاعری ابہام کثرت سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن ان کی غزلیہ شاعری ابہام گوئی کے زمرے میں نہیں آتی۔ ان کے یہاں تخیل کو اتنا دخل نہیں جتنا فطرت کو ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہرام ایک فطری غزل گو شاعر ہیں۔ اور یہ فطرت ہی ان کے اشعار کو آفاقیت عطا کرتی ہے۔ وہ دور کی کوڑی لانے کے قائل نہیں سامنے کی بات کرتے ہیں اور ان ہی مضامین کو اشعار میں اتارتے ہیں جوان کے مشاہدے و مجاہدے میں رہے ہیں۔ وہ ایسے تخیلات کو اشعار میں اتارنے کے قائل نہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ ۲۰۱۴ء میں ان کا پہلاشعری مجموعہ ’’ناموعود‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ جس کا پیش لفظ ’’خاک پریشاں‘‘ کے عنوان سے سالم سلیم نے تحریر کیا۔سالم سلیم نے ’’ناموعود‘‘ میں شامل نظم و غزل کے حوالے سے شہرام شاعری گفتگو کرتے ہوئے لکھا:

’’ناموعود‘‘کی تمام تر شاعری کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنا مناسب ہوگا۔ ان کے احساس اور وجدان نے اپنا پیمانہ خود تلاش کرلیا ہے۔ خواہ نظم ہو یا غزل تجربے اور شعور کی کار فرمائی ہر جگہ موجود ہے۔ اس شاعری میں ملال اور مخزولی کا عرصہ پھیلتے پھیلتے اچانک بلند آہنگی سے وصل کرنا ہے۔ غزلوں میں بھی ان کے یہاں (شہرام) فکری کش مکش کی تیز کاٹ موجود ہے۔ وہ اپنی روح پر لفظوں کو صیقل کرتے ہیں اور اپنے خلا کو پر کرتے ہیں یہ خلا ماوی وجود سے لیکر ان کے مابعد طبعیات تک پھیلا ہوا ہے۔

کبھی تلاش کیا تو وہیں ملا ہے وہ

نفس کی آمد و شد میں جہاں خلا سا ہے

طویل سلسلہ مصلحت ہے چار طرف

یقیں کرلے مری جاں خدا ابھی تک ہے

(بحوالہ ناموعود خاک پریشاں سالم سلیم، ص۶-۷ شہرام سرمدی سن اشاعت۲۰۱۴ ناشر دہلیز پبلی کیشنز، نئی دہلی)

         سالم سلیم کے اس عمدہ اور جامع پیش لفظ کے باوجود بھی شہرام کے ہم عصروں یا ان کے چاہنے والوں ان کی غزلیہ شاعری پر اس طرح گفتگو نہیں کی جس طرح ان کی نظمیہ شاعری پر کی شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے دوسری مجموعہ کو غزلیہ شاعری سے پاک رکھا۔

         شہرام آمد سے زیادہ آورد کے قائل ہیں اس لیے ان کی غزلوں میں وہ روانی دیکھنے کو نہیں ملتی جو دیگر شعرا کے یہاں ملتی ہے۔ مگر یہ ایک طرح کا امتیاز بھی ہے کیونکہ قاری شہرام کی غزلو ںکو ٹھہر ٹھہر کے پڑے گا اوریہ ٹھہر نا اس کو سنجیدگی سے مطالعہ کرنے پر مجبور کرے گااور رفتہ رفتہ غزلوں کے مفہوم و مطالب سے وہ آشناہوگا گذشتہ صفحات پر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ شہرام کی غزل گوئی کی بڑی خوبی ہے کہ وہ تخیلات سے زیادہ حقیقت نگاری سے کام لیتے ہیں اور ایسے مضامین کو اشعار میں اتار تے ہیں جن کا تعلق مثال کے طور پر یہ شعر

مسائل جیسے اب درویش ہی شاید نہیں ہوتے

اگر کار جنوں میں سلیقے سے کیا ہوتا

         موجود ہ دور بے حسی کا دور ہے لیکن اس بے حسی کو شعر میں کس طریقے و سلیقے سے بیان کیا جاتا ہے اس کی مثال اس شعر سے بہتر شاید دوسری کہیں اور مل سکے:

لوگ بھی سب شاد تھے اور گھر بھی سب آباد تھے

کس سلیقے سے سے گذر کر رات طوفانی گئی

         تقدیر مقدر، قسمت، نصیب ان الفاظ کے معنی و مفہوم پر بہت سے شعرا نے اشعار کہے ہوں گے یا اب بھی کہہ رہے ہوں گے لیکن شہرام کا انداز بیان کچھ اور ہے:

سبھی کچھ طے شدہ معمول جیسا ہونے والا ہے

کسی بھی واقعے پر وجہ حیرانی نہیں ہونا

         شہرام کی غزلیہ شاعری سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں مایوسی کفر کے درجے میں آتی ہے اور خدا ان کا یقین کامل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ خدا یا اس کی کائنات سے غالف نہیں ہیں اور جو اس کی ذات سے غافل نہیں ہوتا تو وہ مایوس بھی نہیں ہو۔

ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کے نصیبوں میں

خدا نے صاف لکھا ہے پریشانی نہیں ہونا

         شہرام غزل گوئی کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں ان تمام موضوعات پر اشعار ملتے ہیں جو موضوعات کسی شاعر کی شناخت بن جاتے ہیں مثلاً کسی کے یہاں وحشت، جنوں دنیا کی بے ثباتی پر اتنی کثرت سے اشعار ملتے ہیں کہ وہ شاعر کی پہچان بن جاتے ہیں لیکن شہرام کے یہاں کسی بھی ایک موضود پر کثرت سے اشعار نہیں ملتے شاید اس لیے کہ وہ کسی ایک موضوع کو دوسرے انداز سے پیش کرنے کے قائل نہیں۔شعر ملاحظہ ہو:

یہ تارے کس لیے آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں

ہمیں تو جاگتے رہنے کا عارضہ ہے

         اب اس موضوع پر شہرام کے یہاں دوسرا شعر نہیں ملے گا۔ اردو شاعری میں شعرا نے مختلف انداز میں سچّی محبت کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن شہرام کا انداز بیان کچھ اور ہی ہے وہ کہتے ہیں:

میں تیرے بعد جس سے بھی ملا تیکھا رکھا لہجہ

کہ اس بے لوث چاہت کے عوض اتنا تو واجب تھا

میں کچھ پوچھوں بھی تو اکثر جوابا کچھ نہیں کہتا

گذشتہ ایک عرصے سے جو نہیں مجھ سے مخاطب تھا

         قیامت کے منظر کو میں کچھ اس انداز میں تبدیل کرتے ہیں

سمٹ جائے گی دنیا ساعت امروز میں اک دن

شمار زیست میں دلیرزو فردا ابھی نہیں ہوگا

عجب ویرانیاں آباد ہوں گی قریہ در قریہ

شجر شاخوں پہ چڑیوں کا بسیرا بھی نہیں ہوگا

         شہرام سرمدی کے غزل گوئی پر بے شک اس قدر گفتگو نہیں ہوئی جس قدر ہونی چاہئے تھی لیکن جب بھی کوئی قاری ان کی غزلیہ شاعری کا اسی سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا جس سنجیدگی سے اس نے شہرام کی نظمیہ شاعری کا مطالعہ کیا ہے تو وہ اس کی انفرادیت، آفاقیت سے انکار نہیں کرسکے گا۔

         شہرام غزل گوئی گفتگو نہ ہونے کی وجہ خود شہرام کی ذات نظر آتی ہے انہوں نے خود کو شاید نظم کے حوالے سے  ہی منوانے کی کوشش کی ہے۔

         بات جو بھی ہو لیکن میں اپنی گفتگو کا اختتام شہرام سرمدی کے چند پسندیدہ اشعار سے کرتا ہوں

اس نے کہا کہ دل کا کہا مان عشق ہے

اس دن کھلا کہ واقعی آسان عشق ہے

حیران مت ہو دیکھ کے دیوانگی مری

تو محض تو نہیں ہے مری جان عشق ہے

کبھی فرصت ملی تو آسماں سے ہم یہ پوچھیں گے

رہے گا تو ہماری سر پہ یوں مہرباں کب تک

ترے جنون نے اک نام دے دیا ورنہ

مجھے تو یوں بھی یہ صحرا عبور کرنا تھا

متاعِ پاس وفا کھو نہیں سکوں گا میں

کسی کا تیرے سوا ہو نہیں سکوں گا میں

جس کے بغیر زیست کا ذہن میں خاکہ تک نہ تھا

کیسے وہ شخص یک بیک وہم و گمان ہوگیا

زخم دل سر سبز رکھنا ایسا کچھ مشکل نہیں

آج بھی نہ ان آنسوؤں کا ذائقہ نمکین ہے

کر گذر جائیں گے پہلے سے زیادہ اب کے

ملتوی کردیا جینے کا ارادہ اب کے

وہ دیکھ روشنیوں سے بھرا ہے پس منظر

ملول کیوں ہے اگر سامنے اجالا نہیں

سنا ہے دودھیا گایوں میں کوئی چاند دیکھا تھا

معالج پوچھتا تھا کیا مرض ہے چشم حیران کو

         ان چند اشعار سے شہرام سرمدی کی غزل گوئی کی انفرادیت اور ان کے اسلوب کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

وقت کے آگے سر تسلیم خم کرتے چلو

اک تماشہ ہے فقط شادی و غم کرتے چلو

abdulmanansamadi123@gmail.com

Leave a Reply