You are currently viewing ہنرک ابسن کے شاہکار ڈرامے

ہنرک ابسن کے شاہکار ڈرامے

 

اشفاق احمد آہنگر

ریسرچ اسکالر: سینٹرل یونی ورسٹی ،کشمیر

ہنرک ابسن کے شاہکار ڈرامے

         ہنرک ابسن جدید ڈرامے کا بانی Father of Morden Dramaتسلیم کیا جاتا ہے۔اس نے فکری استقامت اور فنی چابک دستی سے مغرب کی ڈرامائی روایت کو بدل کر رکھ دیا۔بہ نظر غائر دیکھا جائے تو اس کی وجہ اس کے ڈراموں کی تکنیک، پلاٹ سازی، فطری مکالمے ، رفعت کردار ،منظر آرائی،سماج شعور ،مختصرتصویر کشی Miniaturepainting ،اسٹیج کی آرائش و زیبائش اور فکری رچائو ہیں۔اس کے کردار اسی دنیا کے چلتے پھرتے، سانس لیتے، مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے والے ہیں اورہر کردار اپنی ایک الگ زندگی بسر کررہا ہے۔اس کے طور طریقے، عادات و اطور ،رفتار و گفتار ، مسائل و معاملات اور سوجھ بوجھ مختلف ہیں۔ہر کہانی میں چاپلوس اوربد خواہ کرداروں کے درمیان ایک ایسا کردار بھی ہے جو ان کی اصلاح کرنے کا کام کرتا ہے۔ انہی خوبیوں نے اس کو پورپ کا عظیم ڈراما نگار بنا دیا۔رچرڈ ہورنبی اس کو شیکسپیر کا ہم پلہ قرار دیتا ہے۔ جارج برنارڈ شا بھی ابسن کے مداح تھے۔بعض ناقدین نے یہاں تک کہا کہ Ibsen is better than Shakespere۔اس نے ڈرامائی روایت کو جدید طرز سے ہمکنار کرنے کے علاوہ اس کی سمت و رقتار کو تسلی بخش تقویت بخشی۔اس سے پہلے کے ڈراموں میں عجیب و غریب الخلقت ،خیالی کہانی،مافق الفطری کردار،پر شکوہ اور فصیح و بلیغ مکالمے اور عامیانہ قسم کی پیش کش کا چال چلن تھا مگرابسن نے اس کو یکسربدل دیا۔ ڈرامے کے فرسودہ اصولوں اور بیجا قدغنوں پر شدید ضرب لگا دی۔ اس کے اکثر ڈرامے انسان کی احساس کمتری ، Existence of servivalاور زندگی کی پیچیدگیوںپر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔علاوہ ازیں اس نے حال میں ماضی کے رسوم و روایات کو فروغ دینے اورسماجی و مذہبی امور کوجبراََ نافذ کرنے پر زور مذمت کی۔

         موضوعاتی سطح اس کے ڈراموں میں عورت کی تضحیک ،ظلم و استبدار کی مختلف نوعیتں،ازدواجی زندگی کی الجھنیں ابھر کر آتے ہیں۔ اس نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز Catiline(۱۸۵۰ء )کے ایک شعری مجموعے سے کیا اور اس کی پزیرائی ملنے کے بعدفوراََ ڈراما نگاری کی طرف متوجہ ہوئے  اور بہت کم وقت میں نوجوانوں کی انجمن The league of youth۱۸۶۹ء،سماج کے ستونPillars of society۱۸۷۷ء ، گڑیا گھر A Doll’s house۱۸۷۹ء،سماج کا دشمنAn Enemy of the people۱۸۸۲ء،ہیڈا گیبلرHedda Gabler۱۸۹۰ء،بحری خاتونThe lady from he Sea۱۸۸۸یء کے علاوہ متعدد ڈرامے لکھ کر مغربی ڈرامائی روایت میں اچھا خاصا اضافہ کیا۔نمونے کے طور پردو تین ڈراموں پر سرسری نگاہ ڈالنے سے اس کی فنکاری کے سوتے سامنے آئیںگے۔

         ڈراما ہیڈا گیبلرHedda Gablerعورت کے باغیانہ خیالات کا احاطہ کرتا ہے۔یہ ڈراما ۱۸۹۰ میں کھیلا گیا۔اس ڈرامے کی پوری کہانی ہیڈا Hedda(نسائی کردار) پر منحصر ہے۔اس کی Frailtyیہ ہے کہ مارڈرن اور آزاد انہ زندگی کی آرزو کے پہلو بہ پہلو سماجی اصولوں کی پاسدار بھی بنناچاہتی ہیں۔ ہمیشہLuxory and high class living Familyوالوں سے ملنا جلنااس کا خاص مشغلہ ہے۔علاوہ ازیںدوسروں کی نجی زندگی کو کریدنااورجاننا ، ان کی زندگیوں کو برباد کرنااور نا محرموں سے جنسی Sexualباتیں کرنا ،اس کی کل کائنات ہے ۔شادی شدہ زندگی کو غلامی سے تعبیرکرتی ہے۔شائد اس لیے زندگی بھر اچھی بیوی نہ بن سکی ۔ایک طرف بچے جننے کو عیب تصور کرتی ہے تو دوسری طرف اپنے وقار کو بنائے رکھنے کے لیے گاہے بے گاہے حاملہ ہونے کا ڈھونگ رچاتی ہے ۔دوسرا کردار اس کا شوہرجارج تیسمن George Tesmanتہذیب کی تاریخ پر ریسرچ کررہا ہے۔ان دونوں کے علاوہ دیگر کرداروں میںمسزجولیانہ تیسمنMiss Juliana Tesman (جارج تیسمن کی آنٹی)،جج بریکJudge Brack(تیسمن کا بے آیمان دوست  جو ہیڈا سے درپردہ پیار کرتا ہے۔)،ایلجرٹ لو بارگEilertlovborg(جارج کا سابق ساتھی),Berta (Servent at the Tesmans)وغیرہ کردار بھی ہیں۔

         زیر نظر ڈراما ۱۸۹۱ء میںKlgnigliches Resident Theatreمیونج جرمنی میں اسٹیج ہوا۔ ابتدائی منظر میں ہیڈا اور جارج کی شادی کا ذکر ہواہے۔یہ دونوں اس ڈرامے کے مرکزی کردار بھی ہیں۔ ہیڈا گیبلر آزاد خیال ،فیشن زدہ ،ترقی پسند، گھمنڈ، تکبر ، نخوت کی حامل ہے۔ساتھ ہی اشرافیہ Aristocraticخاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اپنے کرتوتوں سے اپنی زندگی کو برباد کرتی ہے۔ ہیڈا کی شادی ایک نیک صفت اورباغیرت نوجوان جارج ٹسیمن سے ہوتی ہے جوکہانی میںاول تا آخر اپنے مقصدپر فدا ہے۔اس کو پروفیسر بننے کا بہت شوق ہے مگر ہیڈا کے کنٹرول میں رہنے کی وجہ سے اس کی زندگی دائو پر لگ جاتی ہے۔حالانکہ اس نے زندگی کابیشتر وقت پڑھائی میں صرف کیا۔حتیٰ کہ شادی کے بعد جب وہ ہونی مون جاتے ہیں تو وہاں بھی کتب بینی میں مستغرق رہتا ہے۔اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہیڈا ذہنی کوفت میں مبتلا ہوتی ہے۔کیوں کہ ہیڈا موج مستی اور دنیا وی رنگ و بود میں کھو نا چاہتی ہے وہ اپنے شوہر کی زبان سے اپنے حسن کی تعریف سننا چاہتی ہے مگرتیسمن دنیا کی تمام لذتوں سے متنفر ہوکر اپنے Desireپر فداہے:

Miss tesman: oh yes I, I suppose so {more confidentially , and lowering her voice a little.}But listen now, George__ hane you nothing__ nothing specil to tell me?

Tesman: As to our journey?

Miss Tesman: Yes,

Tesman: No, I don’t know of any thing except what i have told you in my letters. I had a doctor’s degree conferred on me__ but that i told you yesterday.

         دوسرے ایکٹ میں ہیڈا اپنے گھر میں بیٹھی پستول کے ساتھ کھل رہی ہے۔ پاس ہی بیٹھے جج براک کواپنے شوہر کی ساری کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے ۔اتنے میں جارج تیسمن بھی آتا ہے اور دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔ایک اور دانش ور اور ہمدرد لو بارگ بھی کمرے میں موجود ہے ۔گپ شپ ختم ہونے کے بعد جج براک دوستوں کو شراب نوشی کی دعوت دیتا ہے مگرمسز ایلوسٹڈ شراب پینے سے صاف نکار کرتی ہے اور اپنے خاوندلوبارک کو بھی منع کرتی ہے ۔کیوں کہ اس نے مشکل ہی سے اس کو شراب سے چھٹکارا دلایا دیا۔جج براک آگ بگولہ ہوتا ہے اور مسز ایلوسٹڈ کو طعنہ دیتی ہے کہ اس نے لوبارک پر سحر کیا ہے۔

         لوبارک دوست کا دل رکھنے کے لیے شراب کے چندگھونٹ پی کرہوش کھو دیتاہے تو مسز ایلوسٹڈ دل برداشت ہوکر چلی جاتی ہے۔ دراصل لوبارگ سے دوسری شادی کرنے کے بعدایلوسٹڈ کی زندگی یکسر بدل گئی تھی۔وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوش و خرم نظر آرہی تھی۔ اصل میں اس کا شوہر لوبارگ ایک بہترین تخلیق کار ،ذہین اور دوست نواز ہیں مگر شراب نوشی کی وجہ سے لوگوں نے اس سے ملنا جلنا ترک کیا تھا۔

         اس وقت مسز ایلوسٹڈ کی کوشش سے اس نے مے نوشی ترک کی ،لیکن آج اسی سے لڑائی کرکے پھر سے شراب پینا شروع کیا۔ ہیڈانے موقع سے فائدہ اٹھا کر حسب معمول دونوں کی محبت میں تیل چھڑکنا شروع کیا :

         Lovborg: {Takes one of the glass of punch , raises it to his lips , and says in a row, husky voice} your health, Thea!

Mrs Elvested: {Softly}oh, Hedda,Hedda__ how could you do this?

         مگر  He empties the glass and is about to refill_it.اورمدہوشی کے عالم میں لو بارگ ،ہیڈا کے گھر سے نکل کر Manuscripts کھو دیتا ہے اور ہیڈافوراََ اٹھا کر جلا دیتی ہے۔ہوش آنے پر لو بارگ فوراََکتاب کے سلسلے میں واپس آتا ہے تو ہیڈا لاعلمی کا اظہار کرتی ہے ۔ساتھ ہی راینٹگ ٹیبل کے پاس جاتی ہے اوردراز میں سے پستول نکال کر الٹااس کے ہاتھ میںتھما کر خودکشی کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔

لوبارگ: (اس کی طرف دیکھتے ہوئے)یہ؟ کیا ہے یہ یادگار؟

ہیڈا:(سر ہلاتے ہوئے)آپ اسے پہچان رہے ہیں؟ میں نے ایک بار اس سے آپ پر نشانہ لگایا تھا۔

لوبارگ:آپ کو اسی وقت اسے استعمال کرلینا چاہیے تھا۔ہیڈا: اسے لے لیجیے۔ اور آپ اس کا استعمال کیجیے۔

         یہاں ویلن جج براگ پھر سے نمودار ہوکرہیڈاسے پیار کا اظہارکرتا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے نہ مانا تو لو بارگ کے قتل کے بارے میں ہر ایک کو بتائے گا۔ہیڈا سہم جاتی ہے اور پستول نکال کر دوسری گولی خود کومار دیتی ہے۔

          ہنرک ابسن نے اس ڈرامے میں خواتین کی اعصابی بیماری کو شان دار طریقے سے پیش کرنے کی سعی کی ہے۔غیر ضروری موضوعات اوررمزیات Mystificationکے بجائے نئے ڈھنگ اور بہتر اسلوب سے ترتیب دیا ہے۔

         ڈراماگڑیا کا گھرA Doll’s Houseسب سے پہلے ۱۸۷۹ء /میں ناوے جن ٹائون NorwegianTownکے اسٹیج پر کھیلا گیا۔یہ ایک Problem Playہے جس میں کام کرنے والے کرداروں (Dramatis Personae)کے نام نورا ہیلمرNoora Helmer، ٹوروالڈ ہیملرTorvald Helmer، ڈاکٹر رینگDoctor Rank(ہیملرکا دوست ) ،کرسٹن لنڈوے (بیوہ عورت)،نیلس کروگسٹڈNils Krogstad(بینک میں کام کرنے والابہت بڑا بے آیمان ہے )وغیرہ ہیں۔اس ڈرامے کی ہیروئن نورا ہیلمرNoora Helmer ایک تربیت یافتہ، حوصلہ مند،خود اعتماد اور صالح عورت ہے۔اس کی شادی زبردستی ٹوروالڈ ہیملر سے کی جاتی ہے۔جس سے اس کے تین بچے ہیں ۔نورااپنے بچوں اور خاوند کے لیے سب کچھ لٹا دیتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا شوہر اس کے ساتھ گڑیا جیسا سلوک کرتا ہے اور اسے سست، ناکارہ، اور نالائق کہہ کر پکارتا ہے۔

         ڈرامے کے پہلے ایکٹ میں نورامارکیٹ سے شاپنگ کرنے کے بعدجوہی گھر کے اندر قدم رکھتی ہے تو اس کا شوہر ٹوروالڈہاتھ میںشاپنگ بیگ دیکھ کر سخت ناراض ہوتا ہے۔حالانکہ نورا نے یہ شاپنگ اس کی پرموشن کی خوشی میں کی تھی ورنہ وہ بھی اٹھنی چونی کا حساب کرنا خوب جانتی ہے۔بلکہ بچوں کی پرورش کیسے کرنی ہے؟گھر کیسے چلانا ہے؟ نورا سے بہتر کون جانتا ہے!

Nora: just now(

Puts the bag of macaroons intoher pocket and wipes her mouth.) come in there, and see what i have bought.

Helmer: Don’t disturb me.

(A little later, he opens the door looks into the room , Pen in hand) Bought , did i say? all these things ? has my little spendthrift been wasting money again?

Nora: Yes but, Torvald , this year we really can let ourselves go a little . This is the First Christmas that we have not needed to economise.

         نوراکے مقابلے میں کرسٹین ایک باتونی،بے وفا اور نکمی عورت ہے۔اس کی بیماری یہ ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کو کم تر اور خود کو برتر تصور کرتی ہے۔پھر بھی عزت اور رتبہ پاتی ہے۔نورا نے ٹوروالڈ کو اٹلی میں علاج کرانے کے لیے کروگسٹڈسے بڑی رقم ادھار لی تھی اور اب اس کو چکانے کے لیے گھریلو الائونس سے کچھ بچا کر آہستہ آہستہ قسطوں میں ادا کر رہی ہے۔اس نے یہ بات اپنے شوہر کو اس لیے نہیں بتائی کیوں کہ وہ مالی طور پر بہت کمزور تھا۔ایسے میں گھر کا چراغ جلائے رکھنے کے لیے کروگسٹڈ سے مجبوراََلونLoanلینا پڑا۔ان ساری قربانیوں کے باوجود ٹوروالڈ ہیملر Torvald Helmerصرف اینے اسٹیٹس اور نوکری سے پیار کرتا ہے۔بیوی کی خلوص بھری محبت و ہمدردی اسے راس نہیں آتی اور لونڈیا سمجھ کر طعنے دیتا رہتا ہے۔ بینک ڈائریکٹربننے سے اس کے تیور مزید بگڑ گیے۔اس نے جعلی کاغذات پر دستخط کرنے والے کروگسٹڈکو نوکری سے نکالنے کا آڈر بنا دیا۔ادھر کروگسٹڈ اپنے دفاع کی خاطر نورا پر دبائو ڈالتا ہے کہ وہ اس کے جرم کو ظاہر کرئے گا ۔ یعنی اس نے جو لون لیا ہے ،اس کا Bond نکالے گا۔نورا کسی بھی طرح اس سچویشن سے نکلنا چاہتی ہے ۔ اسے یہ برداشت نہیں کہ اس کے شوہر کی عزت و عفت پر کوئی آنچ آجائے۔وہ کروگسٹڈ کا منہ بند رکھوانے کے لیے شوہر سے رحم کی بھیک مانگتی ہے۔

         ٹاروالڈہیملر کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔لہٰذااس نے کروگسٹڈ کو نوکری سے نکال دیا ۔کروگسٹڈ نے برہم ہوکر Bondکو اس کے میل بکس میں ڈال دیا۔عین وقت پر کرسٹن جس نے کروگسٹڈ سے طلاق کا تقاضا کیا تھا۔ نورا کی دکھ بھری زندگی پر ترس کھا کر دوبارہ کروگسٹڈسے اس شرط پر رشتہ قائم کرتی ہے کہ وہ ہیملر کو خط لکھ کر اس کی تمام غلط فہمیوں کو دور کرئے ۔ہیملر نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے بہت افسوس ہوا۔وہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے اوربیوی کو منوانے کی ٹھان لیتاہے مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

         نورا ۸ سال سے ظلم و ستم کو برداشت کرتے کرتے عاجز آچکی تھی۔ اس کے دماغ میں یہ بات رچ بس گئی تھی کہ وہ ہیملر سے محبت کرنے کی قابل نہیں رہی :

She comes back with out-door things and a small travelling bag, which she puts on a chair .

Helmer: Nora, Nora ,not now! wait till tomorrow.

Noora (putting on c’lock). I can not spent the night in a strange man’s house.

Helmer.But can not we live here as brother and sister?

Noora:(Fastening her hat)you know very well that would not lost long. Good-bye, Torvald. no, I won’t go to the

children . I know they are in better hands that mine. As I know am, I can be nothing to them.

Helmer: But sometimes , Noora-Sometimes-

Noora: How can i tell ? I have no idea what will become of me.

Helmer: but you are my wife now and always!

Noora: Listen, Torvald- when a wife leaves her husband’s house, as i am doing, i have heard that in the eyes of the law he is free from all duties . You must not feel your self bound any more than i shall. There must be perfect freedom on both sides…”

ؓ       زیر بحث ڈرامے کے بہت سارے مکالموں پر لوگوں نے سخت اعتراض کیا ۔رجعت پرستوں نے اسے ایک گمراہ کن نظریہ قرار دیا۔بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا عورت اتنی باغی ہوسکتی ہے؟کیاشوہر اور خاندان سے کنارہ کش ہوکر وہ کوئی شناخت قائم کرسکتی ہے؟وغیرہ وغیرہ۔اس ڈرامے کو Feminist play کے ذمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں جگہ جگہ حقوق نسواں کی بات چھڑگئی ہے۔

         اگلا ڈرامابھوت۱۸۸۱ء میں منظر عام پر آیا اور ۱۸۸۲ء میں شکاگو میں کھیلا گیا۔ پلاٹ کا آغازمسز ہیلن الونگ سے ہوتا ہے جوایک اچھی خاصی پڑھی لکھی عورت ہے۔اس کے شوہر الونگ شرابی، رشوت خور، عیش پرست اور اول نمبر کا بے ایمان ہے۔معمولی باتوں کو تنقیدو تعریض کا نشانہ بنانے کے علاوہ بیوی کے ہر کام میں دخل دینا اس کا شیوہ بن چکا ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ وہ یہ ساری برائیاں گھر کی چار دیواری کے اندر انجام دیتا ہے۔باہر کی دنیا میں اس نے اچھی خاصی عزت بنا رکھی ہے ۔ لوگ اس کو فرشتہ صفت اور معلم اخلاق سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ریجینا کی سہیلی مینڈرز اور جوزف داس بھی المیہ کردار ہیں جو معاشرت اور ماحول کے مارے ہوئے ہیں۔ان کے تکلیف کا اندازہ درج ذیل مکالمے سے لگایا جاسکتا ہے:

مینڈرز:۔۔۔لیکن بیوی کو یہ ذیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے شوہر کے افعال کا جائزہ لے اور اس پر نکتہ چینی کرئے ۔ آپ کا فرض تھا کہ خاموش اور صبرورضا کے ساتھ اس صلیب کو اٹھائے رکھتی جو حکم قضا سے آپ کو دی گئی تھی۔۔۔‘‘

         مسز ہیلن ایلونگ کو شوہر کے ساتھ ساتھ بیٹے کی بھی فکر ستانے لگتی ہے کیوں کہ اس کی عادتیں باپ سے ملتی جلتی ہیں۔ ریجینا نے ایلونگ کی شباہت کو قائم و دائم رکھنے کے لیے انات آشرم بنوایا مگر بدنصیبی سے وہ آگ کی زد میں آجاتا ہے۔اس کا بیٹا آسوالڈ جنسی فعل اور نشے کا عادی ہے ۔ریجینا اس کا علاج کرانے کے لیے اگرچہ ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے مگر ستم ظریفی یہ کہ ڈاکٹرنے کہا کہ اس بیماری کے جراثیم اس کے اندر پیدائشی موجود ہے۔

         آسوالڈ جنسی بھوک کو مٹانے کے لیے گھر کی نوکرانیReginaسے جنسی تعلق رکھتا ہے جو رشتے میں اس کی سوتیلی بہن بھی ہے۔ریجینا سے پہلے اس گھر میں Johanaنام کی لڑکی کام کرتی تھی جس کو ایلونگ سے ناجائز تعلقات تھے۔جوہانہ جوہی حاملہ ہوئی تو اس کی شادی ایک ترخان  Jokab Engstrarسے کی جاتی ہے اوراسی سے ریجینا پیدا ہوئی ۔ مسز ہیلن ایلونگ نے جوہانہ کی طرح ریجینا کو بھی گھر سے نکال دیا۔

         اس کی غیر موجودگی میں آسوالڈ سخت آزمائش میں گرفتار ہوتا ہے۔پیٹ کی بھوک کو تو اس نے کسی طرح مٹا دیا لیکن جنسی خواہش کو در کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ یہاں پر ڈرامے میں ہیبت ناک منظر کی عکاسی کی گئی کیوں کہ آسولڈ ماں سے تمام خواہشوں کی تکمیل چاہتا ہے اور بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس کو اپنے بستر میں دیکھنے کی تمنا کرتا ہے۔وہ ماں جو چند لمحے پہلے بیٹے کی آرزوئوںکو پورا کرنے پر تلی ہوئی تھی،بیٹے کی ناذیبا خواہش کو جان کر لرز جاتی ہے:

She stands a few Steps away from him with her hands .Twisted in her hair , and stares at him in speechless horror.

ترجمہ:آسوالڈ سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوتی ہے ، ہاتھوں سے اپنے بال نوچتی ہے۔ پھر رک جاتی ہے خوف سے اس کی آواز نہیں نکلتی ۔

         ڈرامے کے موضوع اورمتن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابسن کا مقصد اخلاقی خیالات کی ترویج کرنا نہیں ہے ۔وہ نہ واعظ اور مبلغ بننا چاہتاہے اور نہ ہی فلسوف کی طرح فلسفہ چھاٹنا چاہتا تھا۔بس ایک آٹسٹ کی طرح کام کرتا تھا۔اس نے Practical Dramaturgyپر فوکس کیا اوراپنے گردوپیش کی زندگی اور واقعات سے ڈرامے کا ڈھانچہ تیار کیا۔اس کے ڈراموں میں عورتوں کی آزادی کا شور شرابا سنائی دیتا ہے۔مثال کے طور پر مسز ایلونگ کے یہ الٖفاظ قابل ذکر ہے۔مجھے تو بچپن سے صرف فرض شناسی ہی کے سبق پڑھائے گیے تھے اور اسی کا اثر میرے دل ، میرے دماغ اور میری چھایا ہوا تھا! ہر چیز میں فرض ہی گھسا ہوا تھا میرا فرض۔۔۔یا ان کا فرض ! اس بدنصیب ملک میں ’’نشاط زندگی ‘‘ سے ہم بیچاری عورتوں کو کہاں واسطہ پڑتا ہے۔؟

         عوام کا دشمن ہنرک ابسن کا شاہکار ڈراما ہے جس میں مختلف پیشے سے وابستہ مختلف حالات میں زندگی گزارنے والے لوگوں کی داستان ہے۔کہانی میںایک لمبے عرصے تک جب غسل خانے کے پانی کو نہیں بدلا گیا تو اس سے سنڈاس کی بو آنے لگی۔ ڈرامے کا ہیرواسٹاک مین چونکہ پہلے ہی سے متحرک اور سماج سیوک کا کام کرتا تھا یہ دیکھ کر سخت برہم ہوا۔ اس نے شہر کے لوگوں کو غسل خانے کے زہر آلودہ پانی اور اس سے پھیلنے والی بیماریوں سے مطلع کرانے کے لیے دن رات محنت کی۔اس کام میں اسٹاک مین کوحکومت اورعوام کی دھمکیوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنا پڑا۔یہاں تک کہ اس کی بیوی کو اس حد تک خوف زدہ کیا گیا کہ وہ بھی اس کے مخالف کھڑی ہوگی:

مسز کتھرین:میں کچھ نہیں جانتی ، لیکن ہاں ، اتنا جانتی ہوں کہ بھائی صاحب سے جھگڑا کرنے کے بعد گھر تباہ و برباد ہوجائے گا۔یں تمہارے پیر پڑتی ہوں ایسا مت کرو۔میرا سونے کا گھر مٹی ہوجائے گا۔ پھر پہلے جیسی تمہاری حالت ہوجائے گی۔نہ رہنے کو گھر ہوگانہ تن پر کپڑا ہم لوگوں کے لیے دو روٹی کا انتظام کرنے کے لیے تمہیں در در کی ٹھوکریں کھانیپڑے گی۔ یہاں آنے سے پہلے کے دن بھول گیے۔ نہیں نہیں یہ سب مت کرو ۔ میں تمہارے پائوں پڑتی ہوں۔‘‘

صفحہ: ۱۶۳

         اس کا سامنا ان بے وقوفوں سے بھی ہیں جنہوں نے پرانی اور بے معنی سچائیوں کو اپنا رکھا ہے۔اسٹاک مین قلمی طور پر بھی متحرک ہے ۔اس نے اس مسئلہ پر ایک آٹیکل بھی لکھا ہے جس کو وہ مناسب وقت پر ہائوس ٹیڈ کے اخبار ’’ عوام کی آواز‘‘Voice of Peopleمیں چھپوانا چاہتا ہے۔ اس آٹیکل میں انہوں نے لکھا ہے ’’ہمارے نلوں میں زندگی دینے والی پانی نہیں زندگی لینے والا پانی بہتا ہے۔‘‘پمپنگ اسٹیشن والے کارخانے کے دل میں جنسی جراثیم پلتے ہیں۔یہ سب ان کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں ۔

          ’’کیا آپ اتنا بھی نہیںسمجھ سکتے۔میں اس جھوٹ کے خلاف تحریک شروع کررہا ہوں۔جس کا ٹھیکہ اکثریت نے لے رکھا ہے، کون سی سچائیوں ہیں جنہیں آپ لوگوں نے اپنایا ہے۔ ان سچائیوںکی جو پرانی اور بے معنی ہوگئی ہیں، اتنی پرانی اور بے معنی کہ وہ اب رفتہ رفتہ جھوٹ جھوٹ بنتی جارہی ہیں۔۔۔‘‘

         ابسن نے مذکورہ بالا ڈرامے میں حکومت، زرائع و ابلاغ اورسماجی تنظیموںکو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔اس کا خیا ل ہے کہ سماج کو بگاڑنے اور بیماریوں کو پھیلانے میں انہی اداروں کا اہم رول ہوتا ہے۔ڈرامے کا پورا ماخذ اس جملے میں پنہاں  ہے:The strongest Man in the World is one who stands most alone.:یعنی دنیا کا سب سے طاقت ور آدمی وہی ہے جو بغیر کسی سہارے کے کھڑا رہ سکتا ہے۔ ڈرامے کا نقطہ نظر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر سارے ادارے ذمہ داری اورہوش مندی کے ساتھ سماجی سدھار کا فریضہ انجام دے تو لمحہ بھر میں دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کوخوش حال زندگی گزارنے کا موقع مل جائے گا۔ الغرض ابسن کی اس فنی و فکری بلوغیت کے بارے میں زاہدہ زیدی بھی رطب السان ہیں:

’’ہنرک ابسن (۱۹۰۶ء ۔۱۸۶۸ء)نہ صرف جدید ڈرامے کا اولین امام بلکہ مغربی ڈرامے کی ایک نہایت قدآور شخصیت ہے۔ جس نے جدید ڈرامے کو وقار بخشا۔اور اسے غیر معمول گہرائی،وسعت اور شدت فکرو احساس سے آشنا کیا۔‘‘

حوالے:

.        (1.)Hedda Gabler by henrik Ibsen, Translated by Edmund Gosse and William Archer,pdf,Page No:4

2)۔(   محمد کاظم، ہنرک ابسن کے ڈرامے، عرشیہ پبلیکشنز دہلی،۲۰۱۶ء، صفحہ: ۳۳۱، ۳۳۲

(3.)A Doll’s House by Henrick Ibsen,PDF,Page no:4

(4.)    ڈاکٹر محمد کاظم،ہنرک ابسن کے تین ڈرامے،عرشیہ پبلکیشنز،نئی دہلی،۲۰۱۶،صفحہ نمبر:۱۵۰

(5)زاہدہ زیدی،جدید مغربی ڈرامے کے اہم رجحانات،سجاد پبلشنگ ہائوس ، نئی دہلی،۱۹۹۷ء، صفحہ نمبر۱۰

***

Leave a Reply