
زیبا خان
بری عورت کی کتھا : نسائی لہجے کی پہچان یا ایک عورت کی حقیقی داستان
کشور ناہید کی خودنوشت ‘بری عورت کی کتھا ‘ کیا ہے؟محض نسائی لہجے کی پہچان ایک عورت کی کہانی ،جو اس کے بچپن سے جوانی اور جوانی سے شادی شدہ زندگی تک کے وہ تمام قصے بیان کرتی ہے،جس میں اس نے زندگی کے وہ تمام اتار چڑھائو دیکھے،جو ایک عورت ہمیشہ سے دیکھتی چلی آ رہی ہے یا پھر ایک عورت کی زندگی کی حقیقی داستان ،جس کے ذہن و دل نے عورت کے درد کو صرف محسوس ہی نہیں کیا بلکہ لفظوں کی شکل میں صفحہ قرطاس پر ویسے کاویسا ہی اتار دیا جیسا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔کشور ناہید نے کیا دیکھا ،کیا سمجھا اور کیا لکھا سے زیادہ لوگوں نے دلچسپی اس بات میں لی کہ انھوں نے ‘ کیوں لکھا’ ،اور وہ سب کیوں لکھا جو ان پر بیتا یا ان جیسیوں پر سالہا سال سے بیتتا چلا آ رہا ہے؟ان کے لکھنے کو یا بولنے کو فیمنزم کا نام دے دینا کہاں تک صحیح ہے؟ Feminist Theory کے نظریے سے اگر ہم دیکھیں تو اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ کشور ناہید ایک فیمنسٹ رائٹر تھیں، لیکن وہ فیمنسٹ رائٹر کیوں تھیں اور یہ تھیوری جن لوگوں کی اختراع ہے ان کا نظریہ آف تھیوری کتنا صحیح ہے؟ اس پر ہنوز سوال قائم کیا جا سکتا ہے۔کیا عورت کا اپنے حقوق کے لیے لڑنا کسی الگ اصطلاح کا متقاضی تھا؟اور اگر اسے ایک الگ اصطلاح دے دی تو ان تمام عورتوں کو ،جو اپنے حقوق کے لیے لڑیں یا جنھوں نے معاشرے کے فرسودہ رواجوں اور اصولوں سے بغاوت کی تو ہم نے انھیں ایک الگ نظریے سے دیکھنا کیوں شروع کر دیا گویا وہ ہماری نظروں میں معیوب ٹھہریں۔اور معیوب بھی کس لیے کہ انھوں نے سوال کرنے شروع کر دیے یا اپنے فیصلے اپنی مرضی سے لینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
‘ بری عورت کی کتھا’ بھی ایک ایسی ہی عورت کی حقیقت پر مبنی داستان ہے ،جس نے خود فیصلے لینے کی خواہش ظاہر کی،جس نے فرسودہ اصولوں سے بغاوت کی کوشش کی ،جس نے ملک و قوم کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے کو تخلیق کوہتھیار بنایا اور بدلے میں ایک فیمنسٹ رائٹر کے طور پر ابھر کر سامنے آئی،افسوس اس کی کہانی میںاب تک صرف ایک ہی پہلو یعنی فیمنزم تلاش کیا گیا ہے کہانی کے دوسرے پہلو کونظر انداز کرکے ان کی زندگی کے تمام اچھوتے پہلوئوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس میں وہ ایک عام عورت کی طرح یا یوں کہیںتو زیادہ بہتر ہوگا کہ ایک انسانی زندگی کی حقیقتوں سے ہم رکاب تھیں۔بنگال کے بٹوارے اور بنگلہ دیش بننے کی جنگ کے دوران کشور ناہید جب سرکاری کام سے 1971ء میں بنگال بھیجی گئیں تو وہاں کے حالات کو دیکھ کر لکھتی ہیں:
” میں نے بی بی سی سے سنا تھا ۔ ڈھاکہ میں اقبال ہاسٹل کو خالی کرانے کے نام پر سارے لڑکوں کو مار دیا گیا ہے۔میں ڈھونڈھتی ڈھونڈھتی۔اقبال ہال پہنچی۔باہر سفیدی ہو رہی تھی۔اندر گئی تو کمرے ‘ کہیں جھلسے ہوئے کپڑوں کی شکل میںاور کہیں بارود کی بو کی شکل میں بربریت کی گواہی دے رہے تھے۔مجھے میرے چند دوستوں نے میری پاگل پن کی حرکتیں اور رونا پیٹنا دیکھ کر،فوراً جہاز میں سوار کرا دیا۔میری رپورٹ پر دفتری سطح پر بہت سرزنش ہوئی۔مجھے اور ان سارے دوستوں کو جنہوں نے بنگالیوں کے حق پر بات کی،غدار اور محب وطن کہا گیا۔”
( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024،ص ۲۵)
اس ہاسٹل کے حالات کو دیکھ کر کشور ناہید رونا پیٹنا شروع کر دیتی ہیں اور جب خبروں میں آتا ہے کہ دونوں اطراف کی فوجوں نے رضا مندی سے ہتھیار ڈال دیے ہیںتودوستوں کو پرسہ دینے کی نیت سے باہر نکلتی ہیں اور لوگوں کا ردعمل دیکھ کر ،جس میں لوگ لاپرواہی سے ہنس رہے ہیں،آئس کریم کھا رہے ہیںان کی چیخ نکل جاتی ہے لوگوں کی بے حسی دیکھ کر چھ مہینے کے لیے ان کی آواز بند ہو جاتی ہے،جس کا سبب ڈاکٹر بھی نہیں بتا سکتے۔یہ انسانیت کی اعلی قدروں کا وہ جذبہ تھا جسے ہم نے کشور ناہید کے یہاںیکسر نظر انداز کیا ہے۔آواز کا بند ہو جانا حواس پر ان لڑکوں کے مار دیے جانے اور پھر ان جھلسے ہوئے کمروں اور کپڑوں سے آتی مہک میں ان کے وجود کو محسوس کرنے کا انسانی جذبہ تھا،اس جنگ میںسیکڑوں بے گناہوں کا خون خرابہ تیرہ چودہ سال کی لڑکیوں کی عصمت دری،جس کے سبب وہ حمل کے ناقابل برداشت درد سے گزر رہی تھیںان کے گھروالوں کو غدار کہہ کر مار دیا گیا تھا ، ان سب کا سیدھا اثر ان کے ہوش و حواس پر پڑا اور وہ کچھ نہ بولنے کے در پے ہو گئیں۔ ان لڑکوں کے ساتھ ہوئے ظلم اور بربریت،اور ان لڑکیوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کو ان کا حساس دل برداشت نہیں کر پایا ۔لیکن ہم نے تو ان کے یہاں صرف فیمنزم کا پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی ان کا یہ نرم اور حساس ذہن و دل ہمیں نظر ہی نہیں آیا۔ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا ان کا یہ جذبہ ہی تھا جس نے انہیں یہ کہنے کو مجبور کیا کہ
” میرے وطن میں تو عورت کے ساتھ مرد بھی سخت مظلوم ہے کہ سارے ملک کی 87 فیصد زمین پر صرف 13 فیصد لوگوں ۔وڈیروں کے نام پر قبضہ ہے۔میرے ملک کے اناج اگانے والے۔سارا زر مبادلہ لانے والے تو چار صدیوں پرانے ماحول میں سڑتے ہیں،اور انکے مفادات کا سودا کرنے والے اسمبلیوں اور ایئر کنڈیشنڈ گھروں میں آسائشیں لوٹتے ہیں۔”
( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024،ص 97)
یہاں وہ صرف ظلم کی بات کر رہی ہیں،ظلم جو مردوں کے ساتھ بھی ہوا ہے یا ہوتا آیا ہے ۔مضبوط طبقے نے ہمیشہ کمزور طبقے پر ظلم کیا ہے بلکہ یوں کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ہر وہ شخص ،جواقتدار میںہے یا مضبوط ہے اپنے سے کمزور شخص پر زیادتی کرتا ہے،جس کی مثالیں ہمارے یہاں اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے لے کر طبقاتی سطح تک مل جاتی ہیں۔اور پھر آتی ہیں عورتوں پہ ہونے والی زیادتیاں،جو صرف مرد ہی نہیں کرتے بلکہ زمانہ،اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ حتی کہ عورت خود بھی عورت پر ہونے والی زیادتی میں شامل ہے۔ ظلم یا زیادتی چاہے مردوں کے ساتھ ہو یا عورتوں کے ساتھ ظلم ہی کہلائے گا،لیکن دونوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی میں فرق ہے ۔کیونکہ مرد کے ساتھ زیادتی یا ظلم عموماً طبقاتی سطح یا اقتدار کی سطح تک ہوتا ہے اور وہ بھی محض 25 سے 30 فیصد،لیکن عورت پر زیادتی کی کوئی سطح ہی نہیں ہے غور کریں تو معاشرے کی تقریباً 90 فیصد عورتیں کسی نہ کسی روپ میں ظلم و زیادتی کی شکار ملیں گی۔اب اگر کشور ناہید جیسی حساس رائٹر ظلم اور زیادتی پر قلم اٹھائے گی تو ممکن ہے وہی لوگ اس کا موضوع بنیں گے ،جن کی اکثریت زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ ان لوگوں کا ذکر بھی کر رہی ہیں ،جو اکثریت میں نہیںہیں اور ان پر ظلم ہوا ہے۔
ایک عورت ،جس نے بچپن سے لے کر جوانی تک بہت کچھ دیکھا محسوس کیا،وہ سب اس کے مشاہدے میںسالوں سال چلتا رہا اور جب لکھنا شروع کیا تو درد بن کر سب کچھ اوراق پر یوں اتر آیا گویا یہ بھی ہمارے دل میں تھا۔بچپن سے عورت اور مرد کے درمیان تفاوت ،جسے ذہن کے پردے کے پر یوں بٹھا دیا گیا تھا کہ یہی حقیقت ہے اس سے آگے سوچنے کی کوشش بھی کرنا گناہ عظیم قرار پائے گا اور جب یہی عورت اس سے آگے کا سوچنے بلکہ کرنے لگ گئی تو جانے کن کن القابات سے نوازا گیابغیر یہ سوچے ہوئے کہ جس کے لا شعور میں بچپن سے جوانی تک ہر موڑ پر’ اپنے خوابوں کو دفن کر دو کہ یہ تمہارا میدان نہیں ہے کہ تم عورت ہو’ جیسی ہزارہاداستانیں موجود ہوں وہ جب پھٹے گی تو ممکن ہے جوالامکھی کی صورت اس کالاوا برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔اور یہی ہوا،جب کشور ناہید نے اپنے لاشعور میں موجود جوالامکھی کو لفظوں کی صورت خودنوشت،تحریروں،نظموں میں بیان کرنا شروع کیا تو لوگوں کی قوت برداشت جواب دے گئی۔بچپن میں طرح طرح کی لگنے والی پابندیاں ،اسکول کالج کے زمانے میں اساتذہ اور پروفیسرز کے بچوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی وجوہات ،لکھنے اور مشاعروں کے زمانے میں اپنے سینئر شعراء و ادباء کی نظروں اور شفقتوں کے پیچھے چھپی ہوئی نیت،پسند کی شادی پر گھر سے نکال دینے کا رواج،اور پھر شادی کے بعد شوہر کابدلتا مزاج ،جس نے کشور جہاں کو کشور ناہید بنا دیا ۔لکھتی ہیں،
” سات سال کی عمر برقعہ پہنا دیا گیا،میں گر پڑتی تھی،13 سال کی عمر سارے رشتے کے بھائیوں سے ملنا بند__ دوپٹہ سینے پہ ڈھکنے کا حکم__ احتجاج__ صدا بہ صحرا__ 15 سال کی عمر__ کالج میں داخلے کے لیے بھوک ہڑتال__ 19 سال کی عمر__ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے واویلا__ 20 سال کی عمر__ شادی خود کرنے پر اصرار__ 20 سال کی عمر کیا آئی__ شادی کیا ہوئی__ سوچ تو میری پہریدار ہو گئی۔مشورہ گیر اور اپنے ہیرو بھی ایسے لوگ تھے جو جیل جاتے ،شعر کہتے،غریبوں کی بات کرتے اور پھر نوکری ایسی ملی کہ دیہات میں کام__ گویا زندگی کی مابعد الطبیعات کا بنیادی شعور ،زندگی کا ذائقہ ٹھہرا۔” ( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024، ص84)
جس کی زندگی میں احتجاج بچپن میں ہی داخل ہو گیا ہو،جس کی بنیاد میںشعور و آگہی کا عمل دخل ہو،جسے سوچنا آتا ہو وہ ذہن کے دروازے بند کرے بھی تو کیسے؟ ممکن ہی نہیں ہے۔اور پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ ،جن سے متاثر ہیں وہ بھی ظلم کے خلاف بغاوت کا علم اٹھائے ہوئے چل رہے ہیں،جن سے مشورے کرتی ہیں وہ بھی ایسے لوگ ہیں ،جو شعر کہتے اور جیل جاتے ہیں ایسے ماحول کا پروردہ ذہن اگر نظموں اور تحریروں میں اپنا درد بیان کر رہا ہے ،اپنی تخلیق کے ذریعے اگر دل کی بھڑاس نکال رہا ہے تو حیرت کیسی؟لکھتی ہیں،
” ہر نظم کی تخلیق میرے لئے بیک وقت سکون کا لمحہ اور عذاب کی دہلیز ہوتی تھی۔ مجھے نظم لکھتے ہوئے اتنے امتحان اور اذیت سے گزرنا پڑتاتھا کہ ہر لفظ میرے وجود کا خراج لیکر خود کو منکشف کرتا تھا۔نظم لکھنے کے بعد جیسے نہائی ہوئی تروتازہ،ہلکی پھلکی،کئی راتوں کی نیند جیسے پوری ہو گئی ۔کئی دنوں کی بھوک جیسے مٹ گئی۔ہر کتاب کو مرتب کرنا ،بچے کی پیدائش جیسا مرحلہ لگتا رہا ہے۔” ( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024،ص 96)
ایک تخلیق کار کا اپنے وجود کو اپنی تخلیق میں ضم کر دینا ہی اس کے اعلی فنکار ہونے کا ثبوت ہے،کشور ناہید بھی اپنی تخلیق میں خود کو جذب کر دینا جانتی تھیں بلکہ وہ نہ چاہ کر بھی ان میں جذب ہو جاتی تھیں اور اس طرح کہ وہ تخلیق پھر ان کے وجود کی دریافت بن کر سامنے آتی ہے۔ایک ایسی دریافت ،جس میں حساس ذہن ،باغی تیور ،صدیوں کا درد ایک ساتھ سمٹ آتا ہے اور تخلیق کہتی ہے کہ یہ میں ہوں ایک عورت کے احساس کا اس کے وجود کا وہ حصہ جسے اس نے صدیوں تلک اپنے لہو سے سینچا ہے۔کشور کا یہ روپ ، جس میں وہ ایک تخلیق کار نظر آتی ہیں pure soul کا وہ روپ ہے،جس میں احساس اور وجدان روح تک اترے ہوئے ہیں۔اور وہ ایک حقیقت کی مانند زمانے پر منکشف ہو گئی ہیں۔
کشور ناہید کے یہاں مردوں سے مقابلہ یا ذاتی رنجش نہیں بلکہ زمانے سے گلہ اور حق تلفی کی شکایات ہیں،وہ ظلم کے خلاف با آواز بلند احتجاج درج کرواتی ہیں۔ظلم ،جو ایک عورت پر ہو رہا ہے، ایک مرد پر ہو رہا ہے، کسی بچی پر ہو رہا ہے،ملک و قوم پر ہو رہا ہے وہ سب پر کھل کر بات کرتی ہیں۔اور خود ہی کہتی ہیں کہ ہزار نالہ و شیون کے باوجود میں سیتا کی لکیر کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتی تھی۔یہ جملہ اپنے آپ میں چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میرے وجود کی گہرائیوں کو سمجھنے کی کوشش کرو ،میں وہ نہیں جو تم نے مجھے جانا ہے وہ میرا درد تھا ،حقیقتیں تھیں ،جو میں نے اپنی تخلیق میں بیان کی ہیں ،جن سے آپ چاہ کر بھی نظریں نہیں چرا سکتے ۔ اور یہ میں ہوں ،جو سیتا کی لکیر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں۔ اتنی ماڈرن،باغی ہونے کے باجود انھوں نے ایک عام عورت کی زندگی جی،شوہر اور بچوں کی ہر طرح سے دیکھ بھال اور تربیت کی،نوکری کرنے کے باوجود گھر کے کام خود کیے،ساری ذمہ داریاں اٹھائیں ،زیست کرنے کے جتنے امکان ہو سکتے تھے سب کو جیا اور لکھا :
” میں تو چیخوف کی کہانی کی وہ عورت ہوںجس نے اپنی ذمہ داریوں کی آبنائے عبور کرنے کے بعد خود اپنے لیے اور اپنے لوگوں کی مرضی سے خدمت کرنے کے لیے جینا شروع کیا ہے۔میں نے ہر لمحے کو موتیوں، آبدار موتیوں کی طرح تجربے کی لڑی میں پرویا ہے۔چہروں کے پڑھنے سے لے کر میں نے دنیا بھر کی گلیوں میں بہنے والی تہذیب کو چکھا ہے۔ میں بڑی ڈرپوک عورت ہوں،صرف اپنے اعتماد کے سائے میں چل سکتی ہوں۔” ( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024، 141/140)
بظاہر سخت اور نڈر نظر آنے والی عورت اندر سے اس قدر موم ہو سکتی ہے یہ کس نے سوچاہوگا۔وہ خود کہہ رہی ہے کہ میں بڑی ڈرپوک عورت ہوں صرف اپنے اعتماد کے سائے میں چل سکتی ہوں اور یہ کہہ کر وہ پھر دکھا رہی ہے مجھے کسی کے اعتماد کا سایہ بھی منظور نہیں کیونکہ وہ سائے فریب سے بنے ہوتے ہیں،جن سے فقط زندگی کی مایوسیاں جنم لیں گی اور کشور ناہید کو مایوسیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔بچپن میں ہی ملک کے بٹوارے کا درد جھیلنے والی عورت،جس کی یادداشت میں پریوں کی کہانیاں نہیں بلکہ خوف کے تازیانے تھے،اور جوانی بھی انہیں بھٹیوں کی آگ میں جل رہی تھی،عورتوں اور مردوں کے ساتھ ظلم و بربریت کی روز نئی داستانیں رقم ہو رہی تھیں قیام پاکستان کے بعد ہر روز سننے میں آتا تھا کہ آج فلاں گائوں کی لڑکیاں اٹھا لی گئیں،آج جنگلوں سے ایک لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں اٹھا کر لایا گیا ہے،ہر طرف مائیں اپنی بیٹیوں کو چھپاتی پھر رہی تھیںایسے حالات میں،جس کا ذہن پرورش پا رہا ہو اس کی تخلیق میں ہمیں انہیں حقیقتوں کا کرب ملے گا جنہیں اس کی آنکھوں نے صرف دیکھا نہیں بلکہ ذہن نے قید کر رکھا ہو، تب اس کا غصہ اسی صورت نکلتا ہے:
” میاں بیوی کے رشتے میں عورت کی وفا اور مرد کو تسلیم کرنے کی بنیاد اور اولیت اس امر کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مرد کی خواہش کے مطابق جنسیت کے لئے تیار ہو۔گویا طاقت کا سرچشمہ مرد کو ثابت کرنے کے لئے سارا معاشرتی ڈھانچہ مرتب کیا جاتا ہے۔اسی لئے عورت کا معاشی طور پر آزاد ہونا یا مساوی انتظامی سطح پر آنایا سماج میں عقلی سطح پر تسلیم کیا جانا،یہ سب منفی رویے قرار دیئے جاتے ہیںاور قانونی سطح پر کسی قسم کی مساوات کے عمل کو روکنے کا ماحول بنایا جاتا ہے۔” ( کشور ناہید،بری عورت کی کتھا،عرشیہ پبلیکیشنز،دہلی،2024،ص 136)
وہ اس قانون کی ،جو پدرانہ معاشرے کی پیداوار ہے سخت تنقید کرتی ہیں۔عورتوں کو ان کے حقوق تعلیم حاصل کرنے سے لے کر پسند کی شادی ،شوہر کی جنسی خواہشات کا احترام، خاندان کی عزت کا بار،پڑھی لکھی ہیں تو نوکری کرنے کے لیے اجازت حتی کہ اس طرح کی اور بھی کئی چیزیں آتی ہیں،جن سے محرومی ہی ان کے حصے کا حاصل ٹھہرتی ہے۔یوں تو یہ چیزیں کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی انہیں مسئلہ بنا کر رکھا گیا ہے۔بدلتے زمانے کے ساتھ بہت کچھ بدلہ ہے کچھ فیصد عورتوں کو ان کے جد و جہد کا صلہ ملا بھی ہے لیکن ابھی بھی یہ صرف کچھ فیصد ہی ہے ۔کشور ناہید انہیں چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو اپنی تخلیق میں لاکر عورتوں کے حقوق کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہیں اور یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ ان کی حق دار ہیں،آپ معاشرے کا کوئی بھی قانون ان کو الگ رکھ کر نہیں بنا سکتے ،ان کی شمولیت ہر جگہ لازمی ہے۔
مجموعی طور پر کشور ناہید کی خودنوشت میں احساس،جذبات اور روایات تینوں اس طرح مدغم ہو گئے ہیں کہ انہیں علیحدہ رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا،ایک عورت کے حساس ذہن میں موجود روایات سے بغاوت کے شعلے اس کے جذبات کے مجروح ہونے کے سبب ہی بھڑک کر سامنے آئے ہیں۔ورنہ اس کا دل موم کی طرح نازک اوراحساس کی شدت سے لبریز ہے،جس سے عورت کی دریافت کے بے شمار پیکر تراشے جا سکتے ہیں،ایسے پیکر جن سے ہر شخص اپنی تصویروں کو نئے رنگ دے سکتا ہے،زندگی کو نئے زاویے عطا کر سکتا ہے کیونکہ عورت ہماری زندگی کا ایک خوبصورت رمز ہے جس سے فرار کی صورت ممکن نہیں۔ اسی لیے خودنوشت ‘ بری عورت کی کتھا’ محض ایک نسائی لہجے کی پہچان نہیں ہے بلکہ ایک عورت کی زندگی کی حقیقی داستان ہے،جس میں عورت کی دریافت کا سفر حقیقت کی منزل سے ہوکر گزرتا ہے،جس سے نظریں چرانے کا مطلب حقیقتوں کا اعتراف کرنے سے بچنا ہے۔