
نام کتاب: تذکرہ شعرائے مدھوبنی اول
مرتب : حسیب الرحمن شائق
صفحات : 208
سن اشاعت : اپریل 2024
ناشر : شافعہ بک ڈپو، یکہتہ مدھوبنی
ملنے کا پتہ : ناولٹی بکس قلعہ گھاٹ دربھنگہ، حسن بک ڈپو، شکری، مدھوبنی م
قیمت : 250 روپے
تبصرہ نگار : ڈاکٹر محمد حسین
میتھِل زبان و تہذیب کا گہوارہ مدھوبنی ضلع شمالی بہار کا ایک ضلع ہے. جہاں اکثریت کی زبان میتھلی ہے جس کا اپنا رسم الخط (.متھلاکشر) بھی ہے. البتہ اب یہ زبان دیو ناگری میں ہی لکھی جاتی ہے. میتھلی آئین ہند کی 22 زبانوں میں سے ایک ہے. میتھلی ادب میں تخلیقی اور تنقیدی تحریریں بھی خوب لکھی جا رہی ہیں. شمالی بہار کے اکثر اضلاع میں میتھلی زبان خوب بولی جاتی ہے. منظر سلیمان، پروفیسر مشتاق احمد اور صدر عالم گوہر جیسے اردو کے شاعر و ادیب بھی میتھلی زبان پر قدرت رکھتے ہیں، نثری و منظوم تخلیقات کے ساتھ ان حضرات نے تراجم پر بھی توجہ دی ہے. جیسے پروفیسر مشتاق صاحب نے اردو کے اولین ناول مراۃ العروس کا میتھلی ترجمہ کنیانک اَینہ (कनयक अयना) کے نام سے کیا ہے، اسی طرح منظر سلیمان صاحب نے تقسیم ہند پر مبنی عبد الصمد کے ناول دو گز زمین کا میتھلی ترجمہ “दु गज जमीन” کے نام سے کیا ہے. ان کی ایک میتھلی نظم بہار کے اسکولی نصاب میں شامل نویں درجہ کی میتھلی کتاب میں اب بھی موجود ہے. صدر عالم گوہر نے میتھلی کی نمائندہ کہانیوں کا اردو ترجمہ کیا ہے. جس پر انہیں ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ بھی ملا ہے. یہ تینوں کتابیں ساہتیہ اکادمی سے شائع ہوئی ہیں.
اسی مدھوبنی ضلع کے اردو شعرا کے تذکرے پر مشتمل کتاب “تذکرہ شعرائے مدھوبنی” میرے مطالعے میں ہے. جس کے مصنف حسیب الرحمان شائق یکہتوی ہیں.؛
اردو کی ادبی تاریخ میں تذکروں کی اہمیت مسلّم ہے. تذکروں نے اپنے دامن میں اردو شعرا کی تاریخ کو محفوظ رکھا ہے. ادبی تاریخ نگاروں نے تذکرہ کو تنقید نگاری کا سر چشمہ بھی کہا ہے۔
حسیب الرحمان شائق ایک دینی مدرسہ کے مدرس ہیں اور بہترین شاعر ہیں۔ان کی شاعری اور شعر سنانے کا انداز دونوں پر کشش ہے۔تذکرہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے. یہ ایک طرح سے پتہّ ماری کام کام ہے. ایک مدرسہ کے مدرس ہوتے ہوئے اس کام کے لیے شائق صاحب محنت اور لگن، قابل ستائش ہے۔ اس نوعیت کا یہ پہلا کام ہے۔نقش اول قائم کرنا کٹھن کام ہے. متفرق رسالوں میں شعرا کے کلام ڈھونڈنا، شعری مجموعے تک رسائی، شعرا کے وارثین سے شعرا کے ذاتی احوال و کوائف کی تلاش و تحقیق کے لیے اپنے وقت کی قربانی، یہ سب کوئی ایک دو دن کا کام نہیں ہے. نہ تو یہاں کوئی ایسی لائبریری ہے جہاں ضلع کے سبھی شعرا کے شعری مجموعے دستیاب ہوں۔نہ ہی کوئی ایسا ادارہ
معروف نقاد و محقق حقانی القاسمی نے اس کتاب پر ایک مبسوط اور مفصل تقریظ لکھی ہے. ان کی ایک بات پر میں ٹھہر گیا. حقانی القاسمی صاحب لکھتے ہیں.
“علاقائی ادبی تاریخوں کی تشکیل ایک طرح سے چند دبستانوں پر مرکوز ادبی تاریخوں کے خلاف ایک احتجاجی رد عمل ہے.”
چند دبستانوں پر مرکوز ادبی تاریخ کے خلاف احتجاج کے بجائے ایسے تذکروں کو دنیائے اردو کو یہ باور کرانے کی ‘کوشش’ کیوں نہ کہا جائے کہ دبستانوں سے باہر دور افتادہ سرزمینوں میں بسے شعرا و ادبا نے بھی گیسوئے اردو کو سنوارنے کا کام کیا ہے.
کتاب میں مفتی ثناء الہدی’ قاسمی اور عزیز بلگامی کی بھی مختصر تعارفی تحریریں شامل ہیں. تقریباً 18 صفحات پر مشتمل “عرض مرتب” میں شائق یکہتوی نے مدھوبنی ضلع کی شعری روایت پر تفصیل سے لکھا ہے. جس میں انہوں نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ مدھوبنی کی شعری روایت کم از کم ڈیڑھ سو سَال پرانی ہے. البتہ آزادی سے قبل کے کسی شاعر کا شعری مجموعہ دستیاب نہیں. سب سے پہلا دستیاب مجموعہ “رحمت کے پھول” مہر شکروی کا ہے جو 1950 میں شائع ہوا. مدھوبنی ضلع کے چار گاؤں کا خاص طور سے ذکر شامل ہے. ململ ، شکری، راگھونگر اور خود مرتب صاحب کا گاؤں یکہتہ. ان چاروں گاؤں کو اردو شعر و ادب کے لیے زر خیز گاؤں بتایا گیا ہے. یہ بات درست بھی ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل سے ہی ان گاؤں میں ادبی اور شعری محفلیں ہوا کرتی تھیں. ململ اور شکری کے مشاعروں میں ملک کے نامور شعرائے کرام آیا کرتے تھے.
کتاب میں مدھوبنی کے ڈیڑھ سو شعرا کا ذکر کیا گیا ہے لیکن شائق صاحب نے چالیس شعرا کے احوال اور نمونہ کلام کو اس جلد اول میں الف بائی ترتیب سے جمع کیا ہے. یعنی دوسری جلد کا بھی خاکہ تقریباً تیار ہی ہوگا . اس پہلی جلد میں مطیع الرحمن احقر ، یعقوب آزاد ، آسی یکہتوی، سکندر اعظم، علاءالدین افضل، حافظ ململی، حیدر وارثی،سلطان شمسی, رفعت پنڈولوی، سرور پنڈولوی، ، ظفر فاروقی، کلیم دوست پوری، صدر عالم گوہر، شفیع الرحمان شفیع، نیرنگ ململی، جیسے سینئر شعرا کا بھی ذکر ہے تو نعمت رضا نعمت،شایق یکہتوی اور اسامہ عاقل وغیرہ جیسے نوجوان شعرا کا بھی ذکر شامل ہیں. ان چالیس شعرا کی منتخب شاعری میں سے کچھ اشعار ملاحظہ کریں.
فضا و بحر و بر تسخیر کرنے کا ہے کیا حاصل
اگر یہ لعنت تفریق انسانی نہیں جاتی…
(مطیع الرحمن احقر ملمی)
ازل سے ایک جیسا ہے ہمارا ظاہر و باطن
جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں عیاری نہیں کرتے
(نسیم اختر برداہا)
شب تاریک کا کھسکا حجاب آہستہ آہستہ
افق پر آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
(شفیع الرحمان شفیع)
کہے حال دل کوئی کیسے کسی سے
کہ ڈرتا ہے اب آدمی آدمی سے
(گوہر)
خوشی سے مری دشمنی ہے پرانی
مرے گھر وہ آئے گی کیسے خوشی سے (گوہر)
کلیم عاجز کے لہجے میں ان کے ہم نام کلیم دوست پوری کا شعر ملاحظہ کریں.
جو بیت گیا سو بیت گیا کیوں بیتے دن یاد دلاؤ ہو
رہ رہ کے وہ یاد ستائے کیوں دل کو میرے تڑپاؤ ہو
(کلیم دوست پوری)
میری خاموشی کو مجبوری نہ سمجھو یارو
ہم چھپائے ہوئے سینے میں شرر رکھتے ہیں
کون ہے دوست میرا کون ہے دشمن لوگو!
ہم بھی ہیں اہل نظر سب پر نظر رکھتے ہیں
(اسامہ عاقل)
بے وفا تجھ کو میں ایک بار بھلا لوں تو چلوں
نقش یادوں کے سبھی دل سے مٹا لوں تو چلوں
(حلیمہ شگفتہ)
آپ رہنے دیں تقدس کی یہ ساری باتیں
آپ کیسے ہیں میاں! خلق خدا جانتی ہے
(شائق)
ذرا اپنے جنون شوق کو بیدار رہنے دو
بڑھو آگے نوشتے کو پس دیوار رہنے دو
(عبد القیوم ساقی)
اک راہزن کو دیکھیے رہبر سمجھ لیا
افسوس ہم نے ریت کو گوہر سمجھ لیا
(سرور پنڈولوی)
کہاں سے لاؤں میں اتنے جواب بتلاؤ
“کہ زندگی تو مسلسل سوال کرتی ہے”
(مقصود عالم رفعت)
گوپیاں بے چین ہو جایا کریں گی
کرشن سی بنسی جہاں بجتی رہے گی
(پروفیسر رضوان)
دامن دریدہ کیوں ہوا یوسف جمال کا
پوچھیں یہی سوال سبھی مہ وشاں سے ہم
(حیدر وارثی)
مختار ایسا ہوں کہ فعّال لما یرید
مجبور ایسا سانس بھی لوں کیا مجال ہے
(حامد حسین جوش)
خلاف مظالم ہے آواز میری
ارادہ مرا، باغیانہ نہیں ہے (انیس یکہتوی)
برائے وضو ہے نہ اشنان لائق
لہو رنگ، گنگ و جمن دیکھتے ہیں (پرویز انجم)
بچے نئی صدی کے عذابوں میں آ گئے
بے رہ روی کے رنگ نصابوں میں آگئے
چلمن سے جھانکنا ابھی گوارا نہ تھا جنہیں
بے پردہ بار بار وہ خوابوں میں آگیے (پرویز انجم)
ترے فیض کرم کی نور افشانی نہیں جاتی
مرے دل کی مگر تاریک سامانی نہیں جاتی.
(مطیع الرحمان احقر)
ان اشعار کی قراءت سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدھوبنی کی شعری روایت میں قوس قزح کے دھنک رنگ کی طرح کئی رنگ ہیں، احساسات و تجربات، فلسفہ زندگی ، قلبی واردات، مہر و محبت،جذبات دروں، سیاسی و سماجی حالات، خالق و مخلوق کے رشتے، حب الوطنی، طنز و ظرافت، غم اور نشاط ہر ڈھب کے اشعار ملتے ہیں. ان شعرا کی شاعری میں شاعرانہ فن کاری اور معنی آفرینی کے ساتھ صاف ستھرے اور آسان اشعار بھی ملتے ہیں. یوسف، رادھا کرشن، گنگ و جمن، وضو، اشنان جیسی تلمیحات اور علامات کو بھی شعرا نے بآسانی برتا ہے.
زود گو اور برجستہ عوامی شعرا بھی ہیں تو کئی کئی شعری مجموعوں کے خالق سنجیدہ شعرا بھی ہیں. یہاں مہر شکروی جیسے شعرا بھی ہوئے ہیں جنہیں جگر مرادآبادی، شوق نیموی اور ناصر دہلوی جیسے بڑے شعرا کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے موقع ملا ہے. مہر شکروی کے مجموعوں کا انتخاب ایک تحقیقی مقدمے کے ساتھ پروفیسر مشتاق احمد صدر شعبہ اردو سی ایم آرٹس کالج دربھنگہ نے “قرطاس مہر” کے نام سے کیا ہے. یہاں حیدر وارثی جیسے شعرا بھی ہیں جن کے 6 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں. جن کے بارے میں پروفیسر لطف الرحمان لکھتے ہیں، “حیدر کے یہاں اپنا ایک سلیقہ ہے، انہوں نے تشبیہ، استعارہ اور کبھی علامت کے ذریعے حیات و کائنات کے نازک مسئلوں کو تخلیقی سطح پر سادگی اور طرح داری کے ساتھ برتنے کی کوشش کی ہے” یہاں صدر عالم گوہر جیسے ادیب و شاعر بھی ہیں جو متعدد زبانوں کے ماہر ہیں. اردو رسالوں، مشاعروں، اور سیمیناروں کے ساتھ میتھلی زبان کی شعری و ادبی محفلوں میں بھی احترام سے پڑھے اور سنے جاتے ہیں.
قارئین کو اس تذکرہ کے مطالعے کے بعد شاید یہ شکایت ہو کہ مدھوبنی ضلع کے بہت سے شعرا کا تذکرہ اس میں شامل نہیں ہے. امید ہے دوسری جلد پر شائق صاحب کام کر رہے ہوں تو اس جلد میں قارئین کی یہ شکایت دور ہو جائے. دیدہ زیب سر ورق اور کمپوزنگ و پروف ریڈنگ کی اغلاط سے بہت حد تک پاک 208 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اردو ڈائریکٹریٹ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ حکومت بہار کے مالی تعاون سے 2024 میں شائع ہوئی ہے. اس کتاب کا استقبال کیا جانا چاہیے. اہل علم و ادب کو شائق صاحب کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تا کہ دوسری جلد پر بھی وہ کام تندہی سے کریں.