You are currently viewing دیپک بدکی کی افسانہ نگاری

دیپک بدکی کی افسانہ نگاری

 

عطیہ حیدر فاطمہ

ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو، اگنو ۔دہلی

دیپک بدکی کی افسانہ نگاری (زیبرا کرا سنگ کے حوالے سے)

وادیِ کشمیر سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار دیپک بد کی نہ صرف ریاست جموں و کشمیر بلکہ ہندوستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں اردو ادب کا ذوق رکھنے والے قارئین کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ انہوں نے اپنے فن سے دنیائے ادب میں اپنی پہچان بنائی۔ دیپک بدکی، کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ’’ سلمیٰ ‘‘سے ہوا، جو ۱۹۷۰؁ء میں روزنامہ’ ہمدرد‘ میں شائع ہوا ۔ ابتدائی دور میں ان کی کہانیاں ملک کے مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتی رہیں مثلاً ہمدرد (سرینگر)، آفتاب کشمیر (سرینگر) ،تعمیر (سرینگر) ،رفتار (جموں)، گنگ و جمن (کانپور)، عقاب (سرینگر)، رگِ سنگ (کانپور) وغیرہ۔ ان کے فسانوی مجموعے ’’ ادھورے چہرے‘‘، ’’چنار کے پنجے ‘‘،’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘‘، ’’ریزہ ریز ہ حیات‘‘ ،’’روح کا کرب ‘‘ (افسانچے)، ’’مٹھی بھر ریت‘‘ (افسانچے)،’’اب میں وہاں نہیںرہتا‘‘، ’’ جڑوں کی تلاش ‘‘، ’’یہ کیسا رشتہ ‘‘ (افسانچے)،’’کاٹھ کا گھوڑا‘‘(افسانے و افسانچے )،’’پتّوں پر لکھی تحریریں ‘‘(افسانے و انشایئے) شائع ہو کر اردو دنیا میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے افسانوں نے ریاست میں اردو افسانے کی روایت کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے علاوہ ملک کے دیگر مسائل کو اپنے افسانوں میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کی کہانیوں کے کردار سماج کے ہر طبقے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سماج کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کو اپنے افسانوں میں پیش کیا۔ ان کے افسانوں کا خمیر مختلف شہروں کی تہذیب سے تیار ہوا ہے۔ جن جن شہروں کا انہوں نے دوران ملازمت سفر کیا ہے وہاں کی تہذیب، مسائل، اتار چڑھاؤ، زیر و بم ان کے افسانے کی بنت کی اہم کڑی ہیں۔ انہوں نے کشمیر کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے سیاسی منظر کو صفحۂ قرطاس پر اتارا ہے۔ بھوک افلاس، ظلم و ستم ،عورتوں کے مسائل، فرقہ واریت، انسانی نفسیات و جنسیات و غیرہ مختلف موضوعات ان کی کہانیوں میں جابجا ملتے ہیں۔

دیپک بدکی کا افسانوی مجموعہ ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘‘ جو کہ ۲۰۰۷؁ء میں شائع ہوا،اپنے موضوعاتی تنوع اور فکری گہرائی کے باعث ادبی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔اس مجموعے میں تیئس افسانے شامل ہیں۔ تمام افسانے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو کر خاصی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم عنوانی افسانہ ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘ ‘ زندگی کی بے رحم حقیقتوں کو جس دردمندی سے پیش کرتا ہے،وہ اسے دیپک بدکی کے نمایاں ترین افسانوں میں شامل کر دیتا ہے۔اسی مقبولیت کے سبب اس کا انگریزی ترجمہ’’At The Zebra Crossing‘‘رخشندہ جلیل کی مرتب کردہ انگریزی اینتھالوجی ’’The Pigeons Of The Domes‘‘میں شامل کیا گیا ہے۔

افسانہ ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی ‘‘ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اننت ناگ کا رہنے والا ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر وہ ہجرت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کے آبائی گاؤں میں اس کو تمام سہولیات دستیاب تھیں۔ لیکن ہجرت کے بعد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پتی پتنی دونوں اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کا بیٹا گھر کے اخراجات سنبھالنے کے قابل ہو جائے گا۔ مگر وقت نے ان کے خواب کو پورا ہونے سے پہلے ہی توڑ دیا ۔بیٹا جوانی کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔زندگی نے بوڑھے باپ کو پھرسے  وہی بوجھ اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ایک دن زیبرا کراسنگ پر سڑک پار کرنے کے لیے گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد اس آدمی کی بھی موت واقع ہو جاتی ہے اور کہانی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ افسانہ نگار نے اِس کہانی کو پیش کرنے کے لیے ایسی فضا تیار کی ہے کہ قاری کہانی کے اختتام کے باوجود اس کردار کی تکلیفوں میں جکڑا رہتا ہے اور کہانی کے ایک سے زیادہ ابعاد قاری کے ذہن میں روشن ہو جاتے ہیں۔

دیپک بد کی انسانی نفسیات کی گہرائیوں سے بخوبی واقف ہیں اور یہی واقفیت ان کی تحریروں میں جا بجا جھلکتی ہے۔وہ افسانہ ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی ‘‘میں اس بوڑھے شخص کے باطن میں اتر کر دکھاتے ہیں جو جلتی دوپہر میں سر پر گیلا تو لیا لیے سڑک کے کنارے کھڑا اپنی زندگی کے تمام آلام و مصائب کو یاد کر تاہے۔ ذرا ایک مکالمہ ملاحظہ کیجیے:

’’بابو جی لگتا ہے آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر رک گئے‘‘

بھائی صاحب، کیا کہوں۔ اب کہنے کے لیے رہا ہی کیا ہے۔ میں اپنے ہی ملک میں رفیوجی بن کہ رہ گیا ہوں۔‘‘۱

یہ جملے ہجرت کے المیے اور اس سے جنم لینے والے مسائل کو قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نا موافق حالات نے ان لوگوں کو اپنی زمین ، اپنی تہذیب، اپنے رشتے ناطے اور بے شمار قدرتی وسائل اور آسائشوں کو ترک کر نے پر مجبور کر دیا۔اب وہ اجنبی سرزمین پر کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ سرکار کی طرف سے امداد کے نام پر ملنے والی ریلیف فنڈ کی رقم محض ایک رسمی تسلی محسوس ہوتی ہے۔ یہ رقم اتنی کم ہے کہ دیپک بدکی کے بوڑھے کردار کے لیے ایک خاندان کا کپڑ التّا، کھانا پینا، دوادارو مہیا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

اِس مجموعے کا افسانہ’’ چڑی کی بیگم‘‘ اخلاقیات کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ افسانے کا کردار شیاملی، جو راوی سے محبت کرتی ہے، راوی کے دوست جیون لال کے گھر میں پہلی بار راوی اور شیاملی کی روحوں کا ملن ہوتا ہے۔ چند سالوں بعد جیون لال شیاملی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتا ہے۔ جب راوی ،شیاملی کو اپنے دوست یعنی جیون لال کے گھر میں اس کی بیوی کے روپ میں دیکھتا ہے تو وہ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ راوی کی حیرت کو بھانپتے ہوئے جیون لال کہتا ہے:

’’جوانی میں کس سے لغزش نہیں ہوتی۔ جب تمھیں اور مجھے حق حاصل ہے تو عورتوں کو کیوں نہیں۔ یہ تو اتفاق سمجھو کہ مجھے اس کی بیتی ہوئی زندگی کا علم ہے ورنہ ارینجڈ میریج میں تو مجھے اس کے ماضی کے بارے میں کہاں جانکاری ہوتی۔‘‘ ۲

یہاں افسانہ نگار اپنے کردار جیون لال کے ذریعے موجود نسل کی تربیت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں،کہ عورت ہی نہیں مرد بھی اپنے شباب میں بے راہ روی کا شکار ہو سکتا ہے اور پھر کبھی کبھی کسی حاجت یا ضرورت کے تحت بھی انسان شادی سے قبل غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہو سکتا ہے۔ انسان کی جبلّت میں بعض عناصر ایسے ہیں جن کے سامنے اصولوں کے بند زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے اور سارے آدرش ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اچھوت بنادیا جائے اور اس کی زندگی جہنم ہو جائے۔ یہ انسان کا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ آخر وہ انسان ہے وہ اس خطا اور نسیان سے مرکب ہے۔

افسانہ’’ آواز کا جادو‘‘ ایک نوجوان فوجی افسر کی کہانی ہے جو اپنی نئی تقرری کے بعد ٹیلی فون ایکسچینج پر موجود ایک نا معلوم خاتون آپریٹر ،پریتی، کی میٹھی اور دلکش آواز سے متاثر ہوتا ہے ۔ابتدائی طور پر یہ کشش محض تجسس اور دلچسپی کی صورت میں جنم لیتی ہے،مگر رفتہ رفتہ وہ آواز اس کے ذہن و دل میں بسنے لگتی ہے۔پریتی کی مٹھاس بھری آوازاس کے دل پر ایسا اثر ڈالتی ہے کہ وہ اسے دیکھے بغیر ہی جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگتا ہے ۔وہ زندگی کی بے رنگی اور الجھنوں سے تھک کراکثر پریتی سے بات کرتا ،جیسے اس کی آواز میں سکون چھپا ہو۔لیکن جب وہ پریتی سے ملاقات کرتا ہے تو حقیقت اس کے تصورات سے بالکل مختلف نکلتی ہے۔وہ عورت ،جسے وہ اپنے خیال میں جوان اور حسین سمجھ بیٹھا تھا ،دراصل ایک ادھیڑ عمر ،شادی شدہ ماں ہے جس کے تین بچے ہیں۔یہ انکشاف فوجی افسر کے لیے چونکا دینے والا تھا۔ کردار کی یہ داخلی کیفیت مصنف کے الفاظ میں کچھ یوں جھلکتی ہے:

’’گھر واپس جاتے ہوئے مجھے اپنی حماقت پر ہنسی آرہی تھی۔خیال آیا کہ میں بھی کیسا پاگل ہوں ،کیا کیا خاکے بنائے تھے اس حسن خوش گلو کے۔سوچتا تھا کہ اگر وہ مجھ سے عمر میں بہت چھوٹی نکلی تو پھر اس دوستی کا کیا ہوگا؟اور اب جو ہوا تو وہ میں نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔ میرا اسکوٹر ہوا سے باتیں کرتا ہوا چلا جا رہا تھا جبکہ میرے دل میں اب بھی گدگدی ہو رہی تھی۔دوسرے روز دفتر پہنچتے ہی ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔دوسری طرف سے وہی سحرانگیز آواز آرہی تھی مگر آج ٹیلی فون کا رسیور بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔‘‘۳

اس کہانی کا غیر متوقع اختتام قارئین کو حیرت کے سمندر میں ڈال دیتا ہے ساتھ ہی انہیں کہانی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کی طرف مائل کر دیتا ہے۔دیپک بدکی کہانی کو ایسے بنتے ہیں کہ قاری افسانہ ختم ہونے کے بعد بھی استعجاب میں رہ جاتا ہے۔ ہر کہانی، ہر کردار قاری کو پوری طرح متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دیپک بد کی کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کے افسانے اندرون اور بیرون ملک کے مختلف ادبی رسائل اور جرائد میں شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر خواص وعوام میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے افسانے قاری کو زندگی کے تلخ تجربات سے روشناس بھی کراتے ہیں اور محظوظ بھی کرتے ہیں۔ اِس مجموعے کے سبھی افسانے قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے اکثر افسانے زندگی کی امنگوں سے بھر پور ہوتے ہیں۔

یہ دیپک بدکی کے تخیل کی پرواز ہے کہ جو تجربات و مشاہدات ان کو زندگی میں در پیش آئے وہ انہیں بڑی ہنرمندی کے ساتھ افسانے کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کا ایک الگ مقام و مرتبہ ہے۔ یہ مرتبہ انہیں ان کی علمی لیاقت کے باعث ملا ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ درد اوران کی پریشانیوں کو بھانپ لیتے ہیں۔ معاشرے میں موجود برائیوں کو ایک منجھے ہوئے فن کار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ملازمت کے سلسلے میں انہیں ملک کے مختلف حصوں میں قیام پزیر ہونا پڑا۔ایک حساس فن کار کی طرح انہوں نے اپنے گردو پیش کے مناظر اور حالات کا مشاہدہ کیا اور اسی معاشرتی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات سے اپنے افسانوں کا خمیر اٹھایا۔

افسانہ’’ مغرور لڑکی‘‘ میں کامنی کا شوہر خود لذتی اور ہم جنسی کو ازدواجی زندگی پر ترجیح دیتا ہے۔ کامنی کی طلاق ہو جاتی ہے۔ ذہنی اور نفسیاتی کرب سے گزرنے کے بعد مرد کی عدم موجودگی میں وہ بھی خود لذتی کا شکار ہو جاتی ہے اور لز بینزم کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہے۔ راوی کو اِس بات کا شدید احساس ہے کہ اس کی بیوی کے آنے کے بعد کا منی کی زندگی مشکل ہو جائے گی۔ یہ ا کیلا پن اس کو کاٹنے دوڑے گا۔ وہ پھر اسی پرانی گھٹن کے ساتھ زندگی جینے پر مجبور ہو جائے گی۔ وہ اِس کمی کا نعم البدل تلاش کرنے لگے گی کیوں کہ اپنے شوہر سے جنسی لذت حاصل نہ ہونے پر اکثر عورتوں کو غیر صحتمندانہ طریقوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اِس سے شادی جیسے مقدس رشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور معاشرہ پستی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

دیپک بد کی جنسیات پر بات کرتے ہوئے کتراتے نہیں ہیں۔ وہ اِن برائیوں کو کاغذکے پنوں پر لا کر قاری سے اِن کا سامنا کرواتے ہیں تا کہ ہر ذمے دار شخص معاشرے میں پنپنے والی اِن برائیوں سے نظر چرا کر مواخذے سے مثتثنی نہ ہو جائے بلکہ اِن کے پیدا ہونے کا اعتراف کرے اور اِن سے معاشرے کو پاک کرنے کی کوشش کرے۔

افسانہ ’’حرص گناہ ‘‘میں ہم دیکھتے ہیں کہ مصنف نے مختلف ایسے عناصر کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے جو دیمک کا کام کرتے ہیں اور قوم کی ترقی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ قوم کے رکھوالوں اور معماروں کی بدعنوانیوں کو بڑی چابک دستی سے اجاگر کیاگیا ہے۔ افسانہ ’’گاڑی کا انتظار‘‘ میں دوران سفر پیدا شدہ جن مسائل سے عوام کو دو چار ہونا پڑتا ہے چاہے وہ ریل کا سفر ہو، ہوائی جہاز یا بسوں کا، ٹکٹ خریدنے سے لے کر اختتام ِ سفر تک ،حتی کہ موجودہ دور میں انسان کے آخری سفر کو لے کر جو دشواریاں پیش آتی ہیں، تمام مراحل میں پیش آنے والے مسائل کا نقشہ بڑی ہنر مندی سے کھینچا ہے۔ وہیں دوسری جانب ان لوگوں پر بھی طنز کیا ہے جو کبھی ریل میں بم لگاتے ہیں تو کبھی جہاز کو ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ ایسے افراد کو تہذیب کا دشمن گردانا ہے۔

دیپک بدکی نے علامتوں کا استعمال بخوبی کیا ہے۔ افسانہ ’’سرحدیں ‘‘میں کتوں کو علامت بنا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سرحد یں خون کے رشتوں کی معنویت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ افسانہ’’ گھونسلا‘‘ میں چڑیا کے گھونسلے کو علامت بنا کر ہجرت کرنے والوں کے کرب کو پیش کیا گیا ہے۔سیاسی موضوعات بھی اِس افسانوی مجموعے میں میں جا بجاد یکھنے کو ملتے ہیں۔ کبھی ہندوستان کی صورت حال آزادی سے پہلے کی ہمیں دیکھنے کوملتی ہے جس میں ہندوستانی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو کبھی آزادی کے بعد کی ،جس میں وہی جبر اور ظلم و ستم پھر ان کا مقدر بنتا ہے۔ افسانہ’’ کئی گاندھی اور‘‘ میں ہندوستان کی آزادی کی خاطر ہری رام اپنے دونوں بیٹوں کی قربانی دیتا ہے۔ مگر آزادی کے بعد جب وہ ملک کی ابتر حالت دیکھتا ہے، افراتفری اور بدامنی ملک کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے، لوٹ کھسوٹ سر عام ہونے لگتی ہے تو ہری رام یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اچھا ہوا گاندھی جی جلدی ہی بھگوان کو پیارے ہو گئے ان سے یہ مناظر ہرگز نہ دیکھے جاتے۔ افسانہ’’ معصوم علی‘‘ میں عراق میں ہونے والی جنگ کی تباہ کاریاں قاری کو خون کے آنسو رلاتی ہیں۔ امریکی صدر کے جملے راوی کے بچوں کو بہت ناگوارگزرتے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ عراق کی آزادی میں اب زیادہ دیر نہیں البتہ آزادی حاصل کرنے کے لیے کچھ قربانیاں دینی پڑیں گی۔ وہیں دوسری طرف علی جو محض بارہ سال کا ہے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اپنا پورا خاندان کھو چکا ہے۔ اسے ملبے کے نیچے سے نکال کر ہسپتال میں بھرتی کر دیا جاتا ہے۔ کہانی کا آخری جملہ دل سوزی کا ایسا نمونہ ہے جو پورے افسانے کو درد کی گہرائی بخشتا ہے۔ جو کچھ اس طرح سے ہے:

’’میری طرف دیکھو، میں ہوں اِس آزادی کا حاصل! اب بتاؤ کیا میں آزاد ہوں۔۔۔۔؟‘‘۴

ِاس مجموعے کے افسانوں پر فرحت رضوی نے اپنی رائے یوں پیش کی ہے:

’’بد کی کے افسانوں پر سیاسی گرد نظر آتی ہے خاص طور سے وادی کے پس منظر میں لکھے گئے گھونسلہ، سرحد میں، حرص گناہ، زیبرا کراسنگ پر کھڑا آ دمی۔ پہاڑوں کا رومانس اور لمحوں کا کرب بھی وادی سے متعلق کہانیاں ہیں۔ ان کے یہاں کہیں کشمیر کی وادی میں پنپتی دہشت گردی ہے تو کہیں آسام اور میگھالیہ کے ثقافتی رنگ میں کہرے کی طرح چھایا قبائلی تشدد، کھاسی عیسائی قبائلیوں اور نیپالی نو نصرانیوں کے بیچ رسہ کشی، علاحدگی پسندی اور مذہبی تفرقہ نمایاں ہوتا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں پدری نظام کی جگہ مادرانہ نظام ہے جہاں عورتوں کا وجود اور سماجی حیثیت ہندوستانی روایتی عورت سے قطعی مختلف روپ میں نظر آتی ہے۔ ان ریاستوں کے پس منظر میں افسانہ نگار نے اپنے کئی افسانوں میں اس لبرل عورت کو موضوع بنایا ہے۔ دوگز زمین، آغوش ہوس ، میگھالیہ اور آسام کے سماجی تانے بانے میں آزاد روی نیز سیاسی انتشار سے متعلق کہانیاں افسانہ نگار کے مشاہدے پر مبنی ہیں۔‘‘۵

فرقہ پرستی ان کے افسانوں کا اہم موضوع ہے۔ افسانہ ’’دوگز زمین‘‘ اور’’ شیر اور بکر ا‘‘اِس کی اہم مثالیں ہیں۔ عیسائی مذہب میں فرقوں سے پیدا ہونے والے مسائل افسانہ ’’دوگز زمین ‘‘کا موضوع ہیں۔ ’’شیر اور بکرا‘‘، کشمیری مسلمانوں کی فرقہ پرستی اور گروہ بندی کو پیش کرتا ہے۔ سماجی ٹھیکیداروں کی پھیلائی ہوئی نفرت کے باوجو د ا سمال اپنے روزگار کا سہارا یعنی اپنا گھوڑ افروخت کر کے اور اپنا گردہ فاطمہ کے جسم میں منتقل کروا کر اپنی محبت یعنی فاطمہ کی زندگی بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور کہانی اپنے خوبصورت انجام کو پہنچتی ہے۔

دیپک بدکی کی کہانیوں میں جنسیات بہت خوشگوار معنوں میں مستعمل ہے۔ ان کے یہاں جنسی استحصال نہیں ملتا۔ بلکہ جنسی عمل انسان کی بنیادی ضرورت بن کر ابھرتا ہے۔ گھر کا بھیدی، چڑی کی بیگم، مغرور لڑ کی، پہاڑوں کا رومانس، آغوش ہوس جیسے افسانے ظاہر کرتے ہیں کہ جنسی عمل انسانی ہوس یا تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی سرشت میں شامل ایسا عمل ہے جو انسانی زندگی کو پرسکون بناتا ہے۔  جنسی اظہار کے اس پہلو پر ڈاکٹر نذیر آزاد لکھتے ہیں:

’’جنس دیپک بد کی کا ایک اور محبوب موضوع ہے۔ یوں تو جنسی نفسیات پر منٹو اور عصمت چغتائی نے ایک سے بڑھ کر ایک افسانے لکھے ہیں۔ ایسے میں کسی جدید افسانہ نگار کا جنس پر قلم اٹھانا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ موپاساں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب وہ معمولی شہوت انگیز عورت کا ذکر کرتا ہے کا غذ بھی گرم گوشت کی طرح پھڑ کنے لگتا ہے۔ اس صورتحال میں دیپک بدکی کا جنس کے بارے میں لکھنا کئی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے لیکن ’ گھر کا بھیدی‘،’ چڑی کی بیگم‘،’ مغرور لڑ کی‘،’ پہاڑوں کا رومانس‘ اور’ آغوش ہوس‘ جیسے افسانوں میں بد کی نے انسان کی جنسی جبلت کو اس کی فطری حالت میں پیش کیا ہے۔ بدکی کے ہاں نہ دلالوں کی کہانی ہے اور نہ طوائفوں کا بیانیہ ہے اور نہ ہی جنسی استحصال کی گھناونی مرقع کشی ملتی ہے بلکہ انہوں نے جنس کو انسان کی سرشت کے لازمی عنصر کی صورت میں پیش کیاہے۔‘‘۶

دیپک بدکی نے اکثر افسانوں میں صیغہ واحد متکلم کا استعمال کیا ہے۔ راوی کی زبان سے واقعات کی ادائیگی دیکھ کر قاری خود کو حقیقت کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔ قاری کے لیے حقیقت اور مجاز میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ قصے کو حقیقت کے قریب تر بنانا مصنف کی کامیابی کی دلیل ہے۔دیپک بدکی کا انداز بیان دل میں اترنے والا ہے۔ کہانی کو سیدھے سادھے انداز میں قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ کہانی دریا کی روانی کی طرح آگے بڑھتی رہتی ہے اور قاری ان کی سحر بیانی کی گرفت میں جکڑا چلا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں کا پلاٹ بہت گتھا ہوا نظر آتا ہے۔ قاری کی توجہ شروع سے آخر تک کہانی پر مرکوز رہتی ہے۔ اِس مجموعے کی تمام کہانیاں اعلیٰ درجے کی اور افسانے کے فن پر کھری اترتی ہیں۔

حوالہ جات:

۱۔زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی، دیپک بد کی ،ص۱۰۷

۲۔چڑی کی بیگم، دیپک بد کی ،ص۱۰۰

۳۔ آواز کا جادو، دیپک بد کی،ص ۱۴۸

۴۔ معصوم علی، دیپک بد کی ص ۵۲

۵۔سیاسی، سماجی، جنسی انتشار کے ارد گرد گھومتی کہانیاں، مشمولہ: ورق ورق آئینہ( دیپک بد کی۔۔ شخصیت اور فن): پروفیسر شہاب عنایت ملک، ڈاکٹر فرید پر بتی، ڈاکٹر انور ظہیر انصاری (مرتبین)، ص ۱۶۲، میزان پبلیشرز ،۲۰۰۹؁ء

۶۔زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی،تخلیقی فنکاری کا امین،مشمولہ:ورق ورق آئینہ،ورق ورق آئینہ( دیپک بد کی۔۔ شخصیت اور فن): پروفیسر شہاب عنایت ملک، ڈاکٹر فرید پر بتی، ڈاکٹر انور ظہیر انصاری (مرتبین)، ص۱۵۳، میزان پبلیشرز ،۲۰۰۹؁ء

 

Leave a Reply