
رائلہ فاطمہ انصاری
یونیورسٹی آف کوٹہ، کوٹہ، راجستھان، گورنمنٹ آرٹس کالج، کوٹہ، راجستھان
،ریسرچ اسکالر
نگراں: ڈاکٹر حسن آرا
حضرت صولت ٹونکی شخصیت اور شاعری
ادب میں تحقیق ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ذریعہ ہر روز نئے نئے نقش و نگار جلوہ گر ہو رہے ہیں۔زمانئہ حال میں اردو شعرو ادب میں جو ترقی اور افزائش ہو رہی ہے اور جس طرح اردو زبان دنیا میں عروج پر ہے اس کا سہرا تحقیق کو جاتا ہے۔ محقیقین کے رہینِ منتّ ہی آج ادب میں آنے والی دشواریوں و مسائل کوسہل بنا کر اس کے مقاصد کو کشادہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ گمنام ، پوشیدہ اور دشوار شاخوں سے روبرو کروایا۔تاکہ اردو ادب سے جڈے تمام افراد اور قلم کار اس سے استفادہ حاصل کریں۔ علم و ادب کی دنیا میں تحقیق و تدوین کا کام بڑے صبر، اطمنان، محنت اور توجہ کا کام ہے۔تحقیق کی اس راہ کو طے کرنے کے لئے ایک محقق کو انتہائی سخت و مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ان سب کے باوجود تحقیق کے علم وآگہی میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس طرف طالب علموں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس سے اس کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔آج کم و بیش اردو شعروادب کے ہر موضوع پر تحقیقی کام انجام دیا جا رہا ہے۔ اب مختلف قدیم و جدید موضوعات پر ادبی تحقیق سامنے آ رہی ہے۔
بقول عظیم الحق جنیدی :
’’تحقیق و تدوین کا یہ ذوق اردو میں بالکل نئی چیز نہیں ۔ شعراء کے دواوین کی ترتیب اور شعرائے اردو کے تزکروں کی تیاری اسی ذوق کی مظہر ہیں۔ مگر اس کی پوری اہمیت کا اندازہ اب جاکر ہوا ہے اور ہر طرف اس حقیقت کا اعتراف ہونے لگا ہے کہ اپنے قدیم سرمائے کو سلیقے سے مرتب کرنے کا کام بے حد اہم ہے۔‘‘
[ اردو ادب کی تاریخ۔عظیم الحق جنیدی۔ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ، ۲۰۰۱ء۔ ص ۲۷۴]
گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں تحقیق و تدریس میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ ملک و دنیا کے دیگر تعلیمی ، اصلاحی، ادبی شخصیت وغیرہ موضوعات کے ساتھ ترقی زبان وادب کے مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیںاور یہ کام جاری و ساری ہے۔ میں بھی اس سلسلہ میں اپنے تحقیقی کام کو اردو شعروادب میں انجام دے رہی ہوں۔ جس کا موضوع ہے۔’’حضرت سیّد محمود الحسن صولت ؔ ٹونکی۔ شخصیت اور شاعری‘‘۔ان کا مختصر تعارف اس طرح ہے:۔
راجستھان کے اردو شعروادب میں اپنے صوفیانہ رنگ اور تغزل شاعری سے اردو شاعری کو روشن کرنے والے مشہور قادرالکلام استاد الشعراء حضرت سیدّ محمودالحسن صولت ؔٹونکی کی پیدائش۱۸۹۸ء کو ہوئی۔ آپ کے بزرگ عرب کے رہنے والے تھے ۔ جن کاساداتِ مفتخر کے ہاشمی خاندان سے قریبی تعلق تھا۔اس لئے مکہّ معظمہ اور مدینہ منوّرہ میں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ آپ کے والدصاحب کا نام سید حامد تھا۔ آپ کے والد صاحب کو ریاست ٹونک کے نواب محمد وزیر خاں بہادر کی بہو محترمہ رقیہ بیگم حج بیت اللہ تشریف لے گئیںتو وہاں سے بہ عزت و وقار اپنے ساتھ ٹونک لے آئی۔ رقیہ بیگم نے آپ کے والد صاحب سے درخواست کی کہ آپ کو گود لے کر اپنا بیٹا بنا کر رکھیں گی۔ آپ کے والد نے ان کی یہ خواہش منظور کی۔ بیگم صاحبہ نے آپ کی بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کی۔ رقیہ بیگم صاحبہ حضرت صولت ؔکی اس قدر عزت کرتی تھیں کہ آپ کا پسینہ اپنے چہرہ پر ملتی اور فرماتی تھیں کہ اہلِ سادات کے پسینہ کی برکت سے دوزخ کی آنچ حرام ہوگی کیوں کہ یہ وہ معطر و مقدس پسینہ ہے جو حضور ﷺ کی اکیسویں پشت میں تھا۔
آپ کا بچپن علمی اور دینی ماحول میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم خاندانی بچوں کی طرح گھر پر حاصل کی۔ شعروسخن کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ دس گیارہ برس کی عمر سے ہی شعرکہنا شروع کر دیا تھا۔ شعر کی ساتھ ساتھ مصرعہ پر مناسب و موزوں مصرعہ پہچاننا آپ کے سلقیہ اور ذوق میں شمار رہا۔ آپ کی اس تیزی، ہوشیاری اور خداداد صلاحیت کی آپ کے ہر استاد نے تعریف کی۔ عربی فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر یکسا عبور حاصل تھا۔ رئیس زادوں کی طرح آپ نے رقیہ بیگم کے پاس پرورش پائی۔ وہ آپ کو اپنی سگی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھی۔
بیگم صاحبہ کے انتقال کے بعدسے صولت ؔٹونکی کو ان کی جائداد میں سے وظیفہ ملنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی والیانِ ٹونک نے اہلِ عرب کے لئے جو ورقم مقرر کر رکھی تھی اس میں سے بھی کچھ رقم بطور وظیفہ ملنے لگی۔ بیگم صاحبہ کے انتقال فرما جانے کے بعدیہی کل آمدنی ان کا زریعہ معاش بن کر رہ گئی تھی۔ مگر قیامِ راجستھان کے بعد یہ رقم اتنی محدود ہو گئی تھی کہ ان کو مالی دشواری کا سامنا کرنا پرا۔ ان کی زندگی کے آخری سال جسمانی اور ذہنی پریشانی میں گزرے۔ جسمانی ، ذہنی اور مالی پریشانی کے باوجود اپنے وطن کو کبھی نہ چھوڑا اور ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ـء کو ٹونک میں وفات پائی۔ جو محفلیں شعروادب میں حضرت صولت ؔٹونکی سے منور رہتی تھیںوہ ان کے جانے کے بعدسونی اور ویران سی ہو کر رہ گئی۔
حضرت صولت ؔٹونکی کی وفات پر حکیم فضل الرحمان خاں رحمانیؔ نے فرمایا :۔
’’ حضرت صولت ؔکی موت نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جع شاید پر نہ ہو سکے۔ ٹونک میں حضرت بسمل ؔ سعیدی کے دہلی نقل مقانی کے بعد مرحوم حضرت صولت ؔکی ذات ایک شمع رہ گئی تھی۔ جو بھی گل ہو گئی۔ مگر اس شاعر کش اورادب سوز دنیامیں مرحوم موجود نہ سہی لیکن وہ ہمارے کاشانئہ دل میں زندہ ہیں اور زندہ ررہیں گے۔‘‘
[جرنل صولت نمبر۔ جلد ۳ ۔شوکت علی خاں ۔ڈائیریکٹرعربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، راجستھان۔ص۱۲۹]
حضرت صولت ؔٹونکی کلاسکی غزل گو شعراء تھے۔آپ نے دہلوی رنگِ سخن کو اپنایا۔ اپنی شاعری کا آغاز اس وقت کیا جب کہ اردو شعروادب مین داغؔ کی شاعری کا جادو چل رہا تھا۔ اکثر شعراء ان کے اثر سے بچ نہ سکے۔ خود صولت ؔٹونکی بھی ان کے رنگ سے متاثر ہوئے ۔ انہوں نے داغؔ اور کیفؔ جیسے اساتزہ سے فیض تلمذ حاصل کیا۔ مگر صولت ؔٹونکی کا اپنا ایک الگ اندازِ بیان رہا۔ صنفِ غزل اردو شاعری کی سب سے نازک ، خوشگوار مگر پر زور اور پر وقار صنف ہے۔ یہ ادب کا وہ خزینہ ہے جس پر ہر شاعر فخر کرتا ہے۔ حضرت صولت ؔٹونکی نے بھی اسی فخریہ انداز سے غزل گوئی میں اپنا ایک الگ منفرد رنگ اپنایا۔ غزل ان کو شاعری میں سب سے محبوب صنف تھی۔آپ ایک کہنہ مشق شاعر تھے۔ کلام میں شاعرانہ ترنم کے ساتھ ساتھ رنگِ تغزل کی ضیاافراز کیفیت اور تاثیر ملتی ہے۔ صنفِ غزل ایک طرح سے ان کی شاعری کا عنوان بن چکی تھی۔ اپنی غزلوں میں ایک ایک جزبہ اور وجدان کی اس طرح سے ترجمانی کی ہے کہ تمام کیفیت، جوش و خروش، جزبات و احساسات غزل کے دامن میں نمایاں ہوئے تو غزل ان کی آئینہ دار نظر آئی۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملا حظہ ہوں ؎
کچھ وصل میں قرار نہ کچھ ہجر میں سکوں
بس قصہ مختصر کہ محبت بلا کی ہے
ستم میں ا پنے کسی کو میرا شریک نہ کر
میرے لئے بھی کوئی امتیاز رہنے دے
پیمانِ وفا تم نے اسی منہ سے کیا تھا
کچھ بات کرو مجھ سے ذرا آنکھ ملا کر
صولت ؔٹونکی کے یہاں صاف گوئی وبے ساختگی پائی جاتی ہے۔وہ ہمیشہ بے باکی سے اپنی بات رکھتے تھی۔ ان کی غزلوں میں خلوص اور صداقت پائی جاتی ہے۔ خاص کر ان کی عشقیہ اور صوفیانہ شاعری میں یہ خلوص بے مثال ملتا ہے۔ وہ سیدھی بات کرتے، جو کچھ دیکھتے، محسوس کرتے اور جو ان پر گزرتی سب اپنی شاعری میں بخوبی بیاں کرتے۔ حقیقت نگاری کا رنگ ان کی غزلوں پر کثرت سے پایا جاتا ہے۔ ان کی شاعری کے مضامین میں عشقیہ کیفیات اور واردات کے ساتھ ساتھ بے بسی، مجبوری، خوشی و غم کی مختلف پہلئو، نازِ عشق و نازِ حسن کے اندازِ بیان کی وضاحت ملتی ہے۔
حضرت صولت ؔٹونکی جدید غزل کے قائل تھے۔ وہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں میرؔ، غالبؔ،اقبالؔ، فیضؔ وغیرہ کی شاعری کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں رومان و حقیقت کا سنگم کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے جیسے فیضؔ کی غزلوں میں دکھائی دیتا ہے۔ مرزا غالبؔ اور حالیؔ کی شاعری کی طرح زندگی اور حقیقت پسندی کی مضامین بھی ملتے ہیں۔ ساتھ ہی میرؔ کا سا سوز و گداز، فانیؔ کا سا اندازِ فکر اور اقبالؔ کی طرح صوفیانہ رنگ پایا جاتا ہے۔ نمونہ کلام ملا حظہ ہو ؎
گلشن پہ آسماں سے برستی ہیں بجلیاں
آفت یہ چار تنکے میرے آشیاں کے ہیں
کسی کروٹ تو چین آئے کسی پہلو تو کل آئے
الہی کوئی صورت تو تسلی کی نکل آئے
دستِ جنوں خدا کے لئے اب تو رحم کر
دیکھے گا مجھ کو چاکِ گریباں کہا تلک
سجدے نصیب ہوں اگر بابِ حریم ناز پہ
طول حیات جاوداں کردوں نثار سنگ دوں
ان کی اس شاعرانہ خوبی اور اندازِ بیان کے بارے میں ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی فرماتے ہیں کہ :۔
’’ صولتؔ کی شاعری میں اردو شاعری کی روایت کا نہ صرف احترام ملتا ہے بلکہ انہوں نے اپنے رنگِ تغزل میں میرؔ، مومنؔ، داغؔ، فانیـؔاور غالبؔ کی فنی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی شاعری میں وہی فکر وہی نظریہقائم رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔‘‘
[نگار خانئہ راجستھان۔ ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی۔۲۰۱۹ء۔ ص ۱۸ ]
صولت ؔٹونکی صوفیانہ مزاج کے شاعر تھے۔ اس لئے ان کے کلام میں صوفیانہ رنگ کے ساتھ نعتیہ کلام بھی موجود ہے۔ آج بھی ان کے لکھے اور پڑھے گئے نعتیہ کلام محفلِ میلاد میں بڑے ہی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ صولت ؔٹونکی ہمیشہ سے ہی عشقِ رسول ﷺ سے سرشار رہے ہیں اور یہ بات ان کے نعتیہ کلام سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔ چند نعتیہ اشعار پیش ہیں ؎
شاہِ رسولاں فخرِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم
رحمتِ یزداں اکرم و اعظم صلی اللہ علیہ و سلم
میں اور کہاں داورِ محشر کی حضوری
کام آئی فقط نسبتِ سلطانِ مدینہ
خواجہ غریب نواز ؒسے آپ کو بے پناہ عقیدت تھی۔ وہ فرماتے تھے ؎
یہ میری مصیبت کی دیں گے گواہی یہ آنسو جو آنکھوں میں لایا ہوں خواجہ
فسانہ یہی ہیں میرے رنج و غم کا ، انہیں ساتھ لے کر میں آیا ہوں خواجہ
ٹونک کی مشہور صنفِ سخن چار بیت پر آپ کو قدرت حاصل تھی۔ راجستھان کے ضلع ٹونک میں صنفِ چار بیت سب سے زیادہ مقبول و معروف ہوئی اور آج بھی یہ اپنی جڑ جمائے ہوئے ہے۔ صنفِ چار بیت ڈف کی تھاپ پر گایا جاتا ہے۔ اس کو ’پٹھانی لوک گیت‘ یا ’پٹھانی راگ ‘ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ جس میں مختلف قسم کے راگ شامل ہیں۔ چار بیت کے شعراء و فنکار بڑے جوش و خروش سے اشعار کو ترنم کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ حضرت صولت ؔٹونکی کی لکھی اور پڑھی گئی چار بیت بھی بہت مقبول رہی۔ ٹونک کے چار بیت کے گروپ آج بھی صولت ؔٹونکی کی چار بیت شاعری کو دلکش انداز میں پیش کیا کرتے ہیں۔ صولت ؔٹونکی کی چار بیت میں عشقیہ، صوفیانہ، عارفانہ، نعتیہ وغیرہ موضوعات شامل ہیں۔جن کو دلکش و عمدہ انداز میں کہا گیا ہے۔ ان کی چار بیت شاعری کے اشعار ملا حظہ ہوں ؎
کیا کوئی کہے سوزِ محبت کی کہانی کس طرح دکھائے کوئی اشکوں کی روانی
مغرور ہے وہ حسن پہ اللہ رہے جوانی سنتا ہی نہیں وہ بتِ بے پیر کسی کی
آپ کی قطعہ نگاری بھی بے مثال ہے۔ وہ اس اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے کہ کبھی بھی کہیں بھی قطعات فرما دیتے تھے اور با کمال کہتے تھے۔ اپنے آخری وقت میں بھی انہوں نے خوب قطعات کہے۔ جب ان کے پیارے فرزند کا اچانک جوانی میں انتقال ہوا تب وہ بہت ٹوٹ چکے تھے اور اس غم کے حالات میں انہوں نے اس طرح قطعہ فرمائے ؎
شادمانی ختم ہو کر رہ گئی کامرانی ختم ہوکر رہ گئی
تیرے جاتے ہی مرے پیارے میاں زندگانی ختم ہو کر رہ گئی
جب بھی راجستھان میں اردو شعرو ادب کا ذکر ہوتا ہے صولت ؔٹونکی کا نام اپنے آپ زبان پر آ جاتا ہے۔وہ بلند پایہ شاعر رہے ہیں۔ انہوں نے تقریباً ہر شعری صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ جن میں غزل کے علاوہ حمد، نعت، منقبت، قصیدہ، مراثی، رباعی، قطعہ، نظم، چار بیت، سہرے سہاگ، مبارکبادیں، تضمین نگاری وغیرہ قابلِ ذکرہیں۔
قصیدہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی۔ آپ نے نواب سعادت علی خاں اور نواب اسماعیل علی خاں کی شان میں کئی قصاید پیش کئے۔ ان کی قصیدہ نگاری میں خلوص، سچائی، محبت، عقیدت کے پہلو اور قصیدہ نگاری کے فن کی تمام خوبیاں شامل ہیں۔ ان کی قصیدہ نگاری میں تکلف اور تصنع نہیں ملتے۔ نواب سعادت علی خاں کے حضور میں پیش قصیدے کے چند اشعار اس طرح ہیں ؎
سرکار اس دماغ سے میں تنگ آ گیا
ایزا نئی یہ اس نے نکالی میرے لئے
صولت غلامِ آلِ شہ انبیاء ہوں میں
کیا کم ہے کچھ یہ نسبتِ عالی میرے لئے
صولت ؔٹونکی کی غزل گوئی اور قصیدہ نگاری کے بارے میں سالکؔ عزیزی یوں فرماتے ہیں کہ :۔
’’ مرزا غا لب کے نزدیک بھی وہی شخص پورا شاعر کہلانے کا مستحق تھا جو غزل اور قصیدہ دونوں میںدسترس رکھتا ہو۔ معیار قدما کے مطابق استاد صولتؔ مکمل شاعرتھے۔ آپ اعلیٰ غزل گو ہونے کے ساتھ بہترین قصائد نگار بھی تھے یوں تو قدرتِ کلام نے آپ کو ہر صنفِ سخن پر قادر بنا دیا تھا۔ لیکن غزل اور قصیدے پر آپ کو قابل رشک قدرت تامہ حاصل تھی۔ ‘‘
[جرنل صولت نمبر۔ جلد ۳ ۔شوکت علی خاں ۔ص۱۶۸]
حضرت صولت ؔٹونکی کی شخصیت، ترتیب اور خاص کر کے شاعری کی تہزیب میں ٹونک کی فضا کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس دور میں ریاست ٹونک میںشعروشعری کا ماحول سرگرم تھا۔ ٹونک کے نواب کو ان محفلوں کا بڑا شوق تھا۔ اس لئے ٹونک میں شاعری اور مشاعرے عام بات تھی۔ مگر پھر بھی یہ سب کے بس کی بات نہیں۔ صولت ؔٹونکی کو خدا نے جیسے پیدایئشی شاعر بنایا۔ شعرو شاعری تو ان کو فطری اور جبلی طور پر خدا کی نعمت تھی۔ شعر پہ شعر کہنا آپ کا کمالِ فن تھا۔شاعری اورمشاعروں کو روشن اور رنگین کرنا ، شعراء کے اشعار پر داد دینا، اشعار کا تجزیہ کرنا آپ کے لئے بہت آسان کام ہوتا تھا۔ پورے راجستھان کے شعرو ادب میں صولت ؔٹونکی کی شاعری اور استادی کا فن قابلِ قبول رہا ہے۔ وہ ایک کثرالتلامزہ استادِ سخن تھے۔ ان کی استادی سے اردو شعراء بھی فیض یاب ہوئے۔
بقول صاحبزادہ شوکت علی خاں :۔
’’ حضرت جگرؔ مرحوم، فراقؔ گورکھپوری، ماہرؔ القادری اور اعجاز صدیقی وغر ہم کو صولتؔ صاحب کی توجہ خاص کے طالب بنتے ہوئے دیکھا ہے اور سنا ہے۔یہی نہیں جگرؔ، جوشؔ اور ماہرؔ جیسے شعراء کو صولت صاحب کی خداداد شعری صلاحیتوں کا مداح اور قدرشناس بھی پایاہے۔‘‘
[جرنل صولت نمبر۔ جلد ۳ ۔شوکت علی خاں ۔ص۳۵]
صولت ؔٹونکی کا آخری وقت بڑے مشکلات میں گزرا ۔ ان کو اپنے ملک موت کا احساس ایک عرصہ سے ہو گیا تھا۔ وہ وفات کے چند روز پہلے ایک مشاعرے میں شامل ہوئے تھے تب انہوں نے اپنے اس احساس کا اظہار بڑی حسرت کے ساتھ کیا تھا ؎
سخت جاں تو بھی وہ صولتؔ ہے کہ پرواہ ہی نہیں
کر رہا ہے ملک موت کا تقاضہ تب سے
صولت ؔٹونکی کی شاعری کی اہمیت اور خصوصیات یہ ہے کہ انہوں نے شاعری کو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم کنار کیا۔ فکری، فنی، حقیقی، مزاجی، صوفیانہ، عشقیہ وغیرہ کے تمام عنصر سے اپنے کلام کو آشنا کر کہ شاعری کے وزن اور وقار میں اضافہ کیا۔ صولت ؔٹونکی نے ہر صنفِ سخن میں اپنی شاعری کا جادو بکھیرا ہے اور ان کا کلام بھی بہت تعداد میں تھا مگر افسوس کہ آج تک منظرِ عام پر نہ آ سکا۔اور نہ ہی کسی نے ان کے کلام کو یکجا کرکے شائع کیا۔ اسی لئے ان کے اس بیش قیمتی کلام کی روشنی میں صولت ؔٹونکی کی شخصیت اور شاعری کا مطالعہ و تحقیق کرنا میں نے ضروری سمجھا۔
اپنے اس تحقیقی کام کو انجام دینے میں ہر اسکالر کو کچھ دشواریاں درپیش آتی ہیں۔ چنکہ تحقیق اپنی نوعیت کے مطابق ایک چنوتی کا کام ہے۔ جس میں اپنے تحقیقی کام کو انجام دینے میں موضوع، منصوبہ بندی، نگہداشت، سخت محنت کے ساتھ ان سب کا گہرائی سے مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔تحقیق کا کام دانش مندی کا کام ہے۔ اسی لئے اس کے امکانات و مسائل پر غور و فکر کر کے اس کی ترتیب و تدراک کرنا اہم مقصد ہوتا ہے۔ اس طرح میرے تحقیقی مقالہ کا مقصد یہ ہے کہ صولت ؔٹونکی کی شخصیت، ادبی و علمی خدمات اور ان کی شاعری کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مبسوط کام منظرِ عام پر لانا اور اردو شعروادب کو ان کی شخصیت اور شاعری سے روبرو کرانا ہے۔ صولت ؔٹونکی نے اپنے شاعری کے ذریعہ اردو شعروادب کو قیمتی سرمایہ عطا کیا اور اس کے دامن کووسعت بخشی ۔ ان کا کلام تاریخی اور ادبی حیثیت کا حامل ہے۔
۔۔۔