
سیدہ فوزیہ فاطمہ
سائے کی آواز (افسانہ)
چنار پور اب خاموش نہیں رہا تھا۔ پچھلے دو سال سے گاؤں کے آس پاس عجیب واقعات ہو رہے تھے۔ رات کو چناروں کے جھنڈ میں سے کوئی آواز آتی۔ نہ انسانی، نہ جانور کی۔ بس ایک سرسراہٹ، جیسے کوئی پرانا ریڈیو آن ہو اور کوئی بہت دور سے پکار رہا ہو۔لوگ کہتے، ’’بھوت ہے۔‘‘ بچے ڈرتے۔ بڑے خاموش ہو جاتے۔ مگر استاد غلام رسول ہنستے:’’بھوت نہیں بیٹا، کوئی راز ہے۔ اور راز ڈرنے کے لیے نہیں، کھولنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘‘استاد غلام رسول کی عمر تقریباً ستر سال ہوچکی تھی،مگر کمزور نہیں ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں اب بھی وہی چمک تھی جو چالیس سال پہلے تھی۔ وہ کہتے:’’میں مرنے سے پہلے اس گاؤں کا سب سے بڑا راز جاننا چاہتا ہوں۔‘‘اور یہ راز جاننے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے چار شاگردوں پر ڈال دی۔عمران، صبا، بلال، اور ماریہ۔ وہی چار، جنہیں استاد نے دسویں کلاس میں اپنا آخری سبق دیا تھا: ’’حقیقت ڈر سے نہیں، جرات سے ملتی ہے۔‘‘
یہ بات مارچ مہینے کی تھی۔ ایک رات بارہ بجے کے قریب صبا استاد کے گھر دوڑی چلی آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا کاغذ تھا۔ ’’سر۔۔۔ یہ چنار کے تنے میں چپکا ہوا ملا۔‘‘کاغذ پیلا، پرانا، اور اس پر پنسل سے لکھا تھا:’’جس نے میری آواز سنی، وہ میری قبر کھودے ،لیکن یاد رکھے، قبر کھودنے والا خود دفن ہو جائے گا۔ 15 اپریل، رات بارہ بجے۔ چنار نمبر 7۔‘‘
استاد نے کاغذ پڑھا اور مسکرائے:’’تم چاروں تیار ہو؟‘‘
ماریہ بولی:’’سر، یہ کوئی مذاق ہو سکتا ہے۔‘‘
بلال ہنسا:’’یا کوئی سچی قبر۔‘‘
عمران خاموش رہا، مگر اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔استاد نے کہا:’’15اپریل کو ہم سب چنار نمبر 7 کے نیچے ہوں گے۔ میں، تم چار، اور میری پرانی رائفل۔‘‘
رات گیارہ بجے۔ چاند مکمل تھا۔ گاؤں سو چکا تھا۔ پانچ سائے چناروں کے جھنڈ کی طرف بڑھے۔ استاد آگے آگے، پیچھے چار نوجوان۔ سب کے ہاتھ میں ٹارچ، ایک کے ہاتھ میں کدال۔چنار نمبر 7۔ سب سے پرانا، سب سے موٹا۔ اس کی جڑوں میں ایک عجیب سی گول جگہ تھی جہاں زمین دھنس گئی تھی۔رات کے ٹھیک بارہ بجے آواز آئی۔ وہی سرسراہٹ۔ پھر ایک واضح جملہ، اردو میں:’’آ گئے تم۔۔۔اب کھودو۔‘‘عمران کی ٹانگیں کانپنے لگیں، مگر استاد نے اس کا کندھا دبایا۔ ’’ڈر مت، بیٹا۔ جو آواز بلا رہی ہے، وہ ہم سے ڈر رہی ہے۔‘‘کدال زمین میں اتری۔ پہلی مٹھی، دوسری، تیسری۔۔۔آدھا گھنٹہ گزرا۔ پھر کدال کسی سخت چیز سے ٹکرائی۔لکڑی کا تابوت۔ مگر تابوت خالی تھا۔ بس اس میں ایک پرانی کتاب پڑی تھی۔ چمڑے کی جلد، سونے کے حروف۔ جس کاعنوان تھا’’سائے کی ڈائری‘‘استاد نے کتاب اٹھائی۔ پہلا صفحہ کھولا۔ لکھا تھا:’’یہ ڈائری اس شخص کی ہے جو 1947 میں چنار پور آیا تھا۔ میں برطانوی فوج کا افسر تھا۔ نام کیپٹن ایڈورڈ ہیرس۔ میں نے یہاں جو کچھ چھپایا، وہ آج تک کوئی نہ جان سکا۔ اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو یاد رکھو، سچ جاننے کے بعد تم واپس نہیں لوٹ سکو گے۔‘‘
اگلی صبح استاد نے چاروں کو بلایا۔ ’’آج رات ہم دوبارہ جائیں گے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ دوسرا سراغ چنار نمبر 3 کے نیچے ہے۔‘‘مگر اس بار گاؤں والوں کو پتا چل گیا۔ گاؤں کے لوگ جمع ہو گئے۔سب نے ’’استاد جی، یہ سب چھوڑ دیں۔ ہمارے بچوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔‘‘استاد بولے، ’’خطرہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سچ سے دور رکھیں۔‘‘رات کو جب وہ دوبارہ گئے تو چنار نمبر 3 کی جڑ میں ایک چھوٹا سا دھاتی ڈبہ ملا۔ اس میں ایک پرانی فوجی شناخت، ایک چابی، اور ایک خط۔خط میں لکھا تھا:’’میں نے 1947 میں یہاں سونا چھپایا تھا۔ برطانوی خزانے کا حصہ۔ تقسیم کے وقت ہم بھاگے تو یہ یہیں رہ گیا۔ سونا دریائے جہلم کے نیچے ایک غار میں ہے۔ چابی اس غار کی ہے۔ مگر غار میں داخل ہونے والے نے کبھی واپسی نہیں کی۔ کیا تم اتنے بہادر ہو؟‘
استاد نے چاروں کو گھر بلایا۔ ’’اب فیصلہ تمہارا ہے۔ ہم جا سکتے ہیں۔ سونا ملے گا تو گاؤں کی تقدیر بدل جائے گی۔ سکول بنے گا، ہسپتال بنے گا، سڑکیں بنیں گی۔ مگر شاید ہم میں سے کوئی واپس نہ آئے۔‘‘
صبا بولی: ’’سر، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘
بلال ہنسا:’’مرنا تو ایک دن ہے ہی، کم از کم اچھے کام کے لیے مر جائیں۔‘‘
ماریہ بولی:’’میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں، مگر اگر آج ہم بھاگ گئے تو کل مریضوں کے سامنے کیسے کھڑے ہوں گے؟‘‘
عمران بولا:’’سر، چلیں۔‘‘
اگلی رات۔ اندھیری رات۔ پانچ افراد، ایک چھوٹی کشتی، اور ایک چابی۔ دریا کنارے ایک پرانی غار تھی جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ چابی نے تالا کھولا۔اندر اندھیرا، نم، اور ایک عجیب سی بو۔ استاد آگے آگے۔ پچاس قدم چلے تو ایک بڑا ہال ملا۔ اور ہال کے بیچ میں۔۔۔سونے کے سینکڑوں ڈبے۔ برطانوی دور کے سکے، زیورات، اشرفی۔ اربوں روپے۔مگر جیسے ہی عمران نے ایک ڈبا اٹھایا، زمین ہلنے لگی۔ غار گرنے لگی۔’’بھاگو!‘‘ استاد چیخے۔سب دوڑے۔ پتھر گر رہے تھے۔ بلال کا پاؤں پھسل گیا، وہ گر پڑا۔ ماریہ واپس بھاگی، بلال کو اٹھایا۔ ایک بڑا پتھر گرا، استاد کے اوپر۔عمران اور صبا نے استاد کو کھینچا۔ استاد کا بازو ٹوٹ چکا تھا، خون بہہ رہا تھا۔ مگر وہ مسکرا رہے تھے۔’’چلو۔۔۔ باہر نکلو۔‘‘آخری لمحے میں وہ سب غار سے نکل آئے۔ پیچھے دھماکہ ہوا۔ غار بند ہو گئی۔ سونا اندر ہی رہ گیا۔ اور چابی ٹوٹ چکی تھی۔
وہ واپس آئے تو گاؤں سوچتا رہ گیا کہ کیا ہوا۔ استاد نے کچھ نہیں بتایا۔ بس اتنا کہا، ’’جو کچھ ملا، وہ ہمارے پاس ہے۔‘‘اگلے دن استاد نے سکول کی اسمبلی میں چاروں کو بلایا۔ ان کے ہاتھوں میں کچھ نہیں تھا، مگر ان کی آنکھوں میں سب کچھ تھا۔استاد بولے:’’ہم سونا نہیں لا سکے۔ مگر ہم نے جو پایا، وہ سونے سے قیمتی ہے۔ ہم نے سیکھا کہ سچ کی تلاش میں جان بھی دے سکتے ہیں۔ ہم نے سیکھا کہ ایک دوسرے پر جان چھڑک سکتے ہیں۔ یہ دولت کوئی غار نہیں چھین سکتا۔‘‘وہ رات کے بعد آواز بند ہو گئی۔ چناروں کی سرسراہٹ ختم ہو گئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیپٹن ایڈورڈ ہیرس کا سایہ مطمئن ہو گیا۔ اسے اپنا سچ سنانے والے مل گئے تھے۔
استاد اب بھی پڑھاتے ہیں۔ بازو ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا، مگر وہ لکھتے ہیں، چاک اٹھاتے ہیں، اور بچوں کو کہتے ہیں: ’’زندگی ایک راز ہے۔ اسے کھولنے کی ہمت کرو۔ اور جب ڈر لگے تو یاد رکھو، تمہارا استاد تمہارے ساتھ ہے۔‘‘
عمران اب وکیل ہے،جو غریبوں اور مفلسوں کی لڑائی لڑتا ہے۔ صبا کی شاعری کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ بلال اب بھی ہنستا ہے، مگر اب اس کی ہنسی میں ایک طاقت ہے۔ ماریہ ڈاکٹر بن گئی، اور اس نے عہد کیا کہ کبھی مریض کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔اور جب بھی چناروں میں ہوا چلتی ہے، لوگوں کو لگتا ہے کہ استاد کی آواز اب بھی گونج رہی ہے:’’ڈر مت۔۔۔ آگے بڑھو۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
یہ کہانی موت کی نہیں، زندہ رہنے کی ہمت کی ہے۔ اور ایک استاد کی، جو اپنے شاگردوں کو سکھاتا ہے کہ اندھیرے
میں روشنی خود بننا پڑتی ہے۔
٭٭٭