
شازیہ ظہور
استاد شعبۂ اردو،شہیدِ ملت گورنمنٹ ڈگری کالج
برائے خواتین عزیزآباد ،کراچی
مشتاق احمد یوسفی کی کردار نگاری
ABSTRACT
Mushtaq Ahmad Yusufi (September 4, 1921- June 20, 2018) holds a unique position in Urdu literature, based on his distinctive style. His extensive study and in – depth observations make his written works highly effective, his literary style captures the reader from a fresh perspective while keeping them fully engaged. He is a master humorist and satirist in Urdu literature, a fact for which his work provides perfect proof.
Keywords: Literary, Humorist Satirist, Multidimensional.
دور ِجدید کا دبستان مزاح مشتاق احمد یوسفی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے یوسفی نے اردو مزاح نگاری میں جو اسلوبی تجربات کیے وہ نہ صرف مزاح کے مختلف زاویوں کو آشکار بلکہ مزاح کو ادب ِ عالیہ کا مقام عطا کرتے ہیں ۔مشتاق احمد یوسفی کی ہر ادبی کاوش میں تہذیب و تمدن، عصر ِرواں کی لسانی روانی ،جملوں کے نت نئے معنی ،طنزومزاح کی چاشنی میں ڈوبے نشتر وہ کام کرتے ہیں جس کے لیے کوئی مبلغ برسوں محنت کرتا ہے یوسفی کا مزاح کسی نہ کسی کردار یا واقع کی بنت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے جس میں وہ کمالے مہارت سے قاری کو اپنے سحر میں مبتلا کر لیتے ہیں ۔
یوسفی کی مزاح نگاری کے بارے میں ڈاکٹر عابدہ نسیم کا کہنا ہے کہ :
” مشتاق احمد یوسفی ہمارے عہد کے بڑے نثر نگار ہیں ۔وہ محض مزاح نگار نہیں ہیں ، بلکہ مزاح کے پردے میں ایک نبض شناس سماجی ماہر ، ایک صاحب بصیرت افروز ،ایک زیرک نفسیات داں اور ایک منجھا ہوا فکشن نگار چھپا بیٹھا ہے۔انھوں نے اپنے عہد کے سماجی حقائق کو ایک صاحب بصیرت کی نظر سے دیکھا اور ایک درد مند دانش ور کی حیثیت سے پرکھ کر ایک فکشن نگار کے تخلیقی تجربے کے ساتھ پیش کیا ۔” 1؎
*استاد شعبہ اردو ـ شہیدملّت گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین عزیز آباد، کراچی ۔
یوسفی ایک صاحب طرز مزاح نگار ہیں انھوں نے اردو مزاح میں اپنے ہم عصر ادیبوں کی نسبتاً کم لکھا لیکن ان کی شہرت کا معیار ہمیشہ بلند رہا ، یہ اُن خوش نصیب ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنھیں زندگی ہی میں شہرت و مقبولیت کا درجہ نصیب ہوا انھوں نے مزاح میں ایسے سماجی پہلوؤں کو اُجاگر کیا جو روز مرہ انسانی زندگی میں شامل ہیں ان عام فہم موضوعات کو یوسفی نے سماج کا باشعور فرد ہونے کے ناطے اپنے دلکش اسلوب کی بدولت خاص بنا کر پیش کیا جس میں سماجی اور عصری مسائل کی نشاندہی سلیقے سےبرتی ہے ،یوسفی کے موضوعا ت کا دائرہ وسیع ہے ان میں اہم موضوع ہجرت کا کرب ہے جو ان کی تخلیقات میں نمایا ں ہے ان کے یہاں نثرمیں اسلوب کا جو لطف ہے وہ کم ہی مزاح نگاروں کے یہاں پایا جاتا ہے، اردو ادب پر انھیں مکمل عبور حاصل ہے نثر کے ساتھ شاعری کا بھی عمدہ ذوق رکھتے ہیں انھوں نے اپنے مضامین میں اشعار اور مصروں میں تحریف نگاری کی بہترین مثالیں پیش کی ہیں ۔ ان کے فن کی یہ خوبی ہے کہ انھوں نے چھوٹے سے واقع کو بھی اپنے اسلوب ِ ہنر سے ادبی وقار عطا کیا ۔ یوسفی نے اپنے فن پاروں میں جملوں کی بناوٹ ،الفاظ کی ترتیب ،پلاٹ کا انتخاب ، مکالموں کی ادائیگی ،تخیل کی بلند پرواز، دانشورانہ انداز ، صوتی آہنگ جس میں موضوع کی مناسبت سے لہجے ترتیب دیے ہیں انھیں پڑھ کر قاری کا دماغ روشن وبیدار ہوتا ہے اور وہ اِن بامقصد تحریروں کا گرویدہ ہو جاتا ہے ۔
مشتاق احمد یوسفی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز مضمون” صنفِ لاغر” سے کیا جب کہ اِن کی پہلی تصنیف ہونے کا اعزاز “چراغ تلے” کو حاصل ہوا جس کے بعد بالترتیب مزید چار کتابیں خاکم بد ہن ، زرگزشت ،آب گم اور شام شعر ِ یاراں منصئہ شہود پر آتی گئیں، جو اردو ادب میں یہ پانچوں کتب کسی قیمتی سرمائے سے کم نہیں ہیں۔چراغ تلے سے یوسفی کی شہرت اور مقبولیت کی ابتدا ء ہوئی اسلوب ِ نگارش اور موضوعات کے اعتبار سے یہ ادب ِ طنزومزاح میں اہم اضافہ ثابت ہوئی ، خاکم بدہن میں یوسفی کے فن کی پختگی اور فکر کی بلندی چراغ تلے سے ذیادہ نمایاں دکھائی دیا ، زرگزشت یوسفی کی سوانح نوعمری کی یادوں کا مجموعہ ہےاس میں انھوں نے اپنی بینک کی ملازمت کا احوال قلم بند کیا جسے اپنی تحریف نگاری کے دلکش انداز میں پیش کیا ہے ، آب ِ گم طنزومزاح کے پردے میں سماجی خامیوں کا عمدہ شہکار ہےاس نے قاری کو اپنے سحر میں رکھا اور یہ افسانوی اسلوب کی عکاس نظر آئی ، شام شعر یاراں میں ان کے خطبات ، تقاریر اور مضامین شامل ہیں جو انھوں نے مختلف تقریبات میں پڑھے اس کے اسلوب میں تنقیدی اور تحقیقی رنگ شامل ہے یہ کتاب انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دور میں تحریر کی ، تخلیقات ِ یوسفی مصنف کے عمیق مطالعے اور وسعت ِفکرونظرکا بین ثبوت ہیں یوسفی کی طنزومزاحیہ تصانیف کی اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تمام کتب کے مقدمات شگفتہ اور پُر لطف انداز سے بقلم خود تحریر کیے ہیں جو ادب میں نئی روایت کی ابتداء ہےیہ مقدمات انتہائی دلچسپی کی حامل تحریریں ہیں ۔
یوسفی مقدمات لکھنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
” اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ِ ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں ۔دوسرا فا ئدہ یہ کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے ۔ ورنہ ہمارے نقاد عام طور سے کسی تحریر کو اس وقت تک غور سے نہیں پڑھتے جب تک انھیں اس پر سرقے کا شبہ نہ ہو ۔” 2؎
یوسفی کےاسلوب ِ نگارش کی منفرد خوبی ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقات میں مزاح پیدا کرنے کے لیے مختلف مزاحیہ کردار وں کو متعارف کروایا یہ تمام کردار ہمارے سماج کی سچی عکاسی کرتے ہیں ان اہم کرداروں کی مدد سے یوسفی نے معاشرے میں پھیلی خامیوں کی نشاندہی کی ، یوسفی کے یہ تخلیقی کردار حقیقی ،سنجیدہ اور با شعور ہیں ان کی شخصیت متاثر کن ہے ۔ یوسفی کے یہ کردار تفریح طبع کا سامان مہیا کرتے ہیں اوران سے لغزشیں بھی سرزدہوتی ہیں یہ کردار اپنی کوتائیوں کی سبب سماج میں چھپی برائیوں کو سامنے لاتے ہیں ، یوسفی کے کردار ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے بلکہ کسی بھی رخ پر ظاہر ہو جاتےہیں ، انھوں نے ان کرداروں کی تعمیر وتشکیل بڑے طریقے اور سلیقے سے کی ہے ۔ یوسفی کو کردار نگاری میں مکمل دسترس حاصل ہے ان کے کردار معاشرے کے زندہ جاوید کردار معلوم ہوتے ہیں جو باتیں وہ خود کہنے سے گریزا ں رہے اپنے کرداروں کی زبانی کہلواتے ہیں ان کے کرداروں کا آپس میں ربط ضرور ہے لیکن اپنی اپنی انفرادیت لیے ہوئے ہیں کچھ لمبے عرصے ساتھ رہتے ہیں اور کچھ کم وقت کےلیے سامنے آتے ہیں لیکن اپنا گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں ان کے کردار مزاحیہ حرکات سے قاری کو متاثر نہیں کرتے بلکہ مزاح سے بھر پورمکالمے ادا کرتے ہیں ۔
پروفیسر جیلانی کامران ،یوسفی کے کرداروں کی بابت کہتے ہیں کہ :
” مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں سے کرداروں کی ایک متنوع اور بڑی تعداد بھی ظاہر ہوتی ہے ،جو جیتے جاگتے لوگوں کے پیکروں سے تشکیل ہوئی ہے ۔ان میں کوئی شخص ایسا نہیں ،جو برادکھائی دے اور جس کے ساتھ چند لمحے گزارنے میں قاری کو کوئی عذر ہو ۔مصنف کے وسیع مطالعے کے پیش نظر ان کرداروں میں بعض جانے پہچانے کرداروں کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ،لیکن گمان ہوتا ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کے قبضئہ قدرت میں آجانے کے بعد دوسری ادبیات کے ماڈل کردار بدل گئے ہیں اور جو کردار سامنے آیا ہے ،وہ اپنی ہی مٹی کا بنا ہواہے شخص دکھائی دیتا ہے ۔یہ پہلو اس قدر اس قدر جاذب نظر ہے کہ اس پر ہر درد مند گفتگو کرنے کو آمادہ رہے گا کہ ان کرداروں میں ایک عہد کی نسل شامل ہے ۔”اور ایک نئے قائم ہوتے ہوئے ملک کے مسافران ِ وطن شامل ہیں اور ان حالات میں گھرے ہوئے وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں ،جنھوں نے 1947 ء میں ایک ملک قائم ہوتے ہوئے دیکھا اور جس کی خاطر وہ اپنی جان سے گزرنے کے لیے تیار بھی ہو گئے ۔” 3؎
مشتاق احمد یوسفی نے اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کے طفیل جو مختلف کرداراپنے تخلیقی فن پاروں میں پیش کیے ان میں کچھ نمایاں نام مرزا عبد الودود بیگ(مرزا) ،پروفیسر قاضی عبد القدوس ایم اےبی ٹی (گولڈ میڈلسٹ )،آغا تلمیذ رحمٰن چاکسوی ، شیخ صبغت اللہ (صبغے اینڈ سنز ) ،ضرغام الاسلام صدیقی شامل ہیں ۔
مرزا عبدالودود بیگ (مرزا) ،یوسفی کے تخلیق کردہ تمام کرداروں میں اہم اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے جسے انھوں نے اپنا ہمزاد قرار دیا اور اس کی درازی عمر کے لیے دعا بھی کی ، اس کا تعارف انھوں نے اپنی پہلی تصنیف “چراغ تلے ” کے مقدمے “پہلا پتھر” میں کروایا، اس شا ہکار کردار سے پہلے کسی مزاح نگار نے ہم زاد متعارف نہیں کروایا تھا مرزا حساس طبعیت کا مالک ہے جو سماج کی ناانصافیوں پر گہری نظر رکھتا ہے اور لوگوں کو اُن کا جائز حق دلوانے کا خواہ ہے ، یوسفی نےمرزا کے کردار کی بدولت مضامین ِیوسفی میں شوخی ، دلکشی اور سنجیدگی کے پہلو پیدا کیے ہیں ۔
یوسفی اپنے محبوب کردار مرزا کی زبانی ایک جگہ لکھتے ہیں :
” کہنے لگے ، خانساماں وانساماں غائب نہیں ہو رہے ،بلکہ غائب ہورہا ہے ،وہ ستر قسم کے پلاؤ کھانے والا طبقہ جو بٹلر اور خانساماں رکھتا تھا اور اڑد کی دال بھی ڈنر جیکٹ پہن کر کھاتا تھا ۔اب اس وضع دار طبقے کے افراد باورچی نوکر رکھنے کے بجائے نکاح ِ ثانی کر لیتے ہیں ۔ اس لیے کہ گیا گزرا باورچی روٹی کپڑا اور تنخواہ مانگتا ہے ، جب کہ منکوحہ فقظ روٹی کپڑے پر ہی راضی ہو جاتی ہے ، بلکہ اکثر وبیشتر کھانے اور پکانے کے برتن بھی ساتھ لاتی ہے ۔”4؎
یوسفی نے سماجی نکتہ نظر بیان کرنے کے لیےاکثر جگہوں پر مرزا کا سہارا لیا ہے ،یوں مرزا کے کردار میں مصنف کی شخصیت کا عکس جھلکتاہوا دکھائی دیتا ہے، جہاں یوسفی کوئی بات یا واقعہ بیان کرنے سے ہچکچاتے وہی وہ مرزا کا سہارالیتے اور طنزومزاح کے تناظر میں وہ مکالمےکہلوادیتے ہیں جو لبو ں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتے ہیں ، مرزا یوسفی کا محبوب ترین کردار ہے جس کی گنجائش انھوں نے تقریباً اپنےہر فن پارے میں نکالی ہے مرزا کے کردار کے تمام پہلوؤں سے انھوں نےقاری کو روشناس کروایا جس سے مرزا کا ایک سوانحی خاکہ ذہن میں ابھرتا ہے جیسے : عادت واطوار، پسندو نا پسند،سوچ و شعور ،فلسفیانہ سوچ ، ضدی پن، شوخی،ذہانت ،وہمی ،انا پرست، باتونی ، معصومیت ،حاضر جوابی، کھانے کے شوقین ، ان باتوں کو مد نظر رکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ مرزا پہلو دار اور بزلہ سنج شخصیت کے مالک ہیں دوسروں پر ہنسنا جانتے ہیں اور خود بھی مزاح کا نشانہ بنتے ہیں ۔
ڈاکٹر محمداحسن فاروقی” مرزا “کے کردار کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:
“یہ کردار ہماری روایت اور یوسفی صاحب کے تجربے کی چیز ہے ۔وہ حماقتیں جو ہمارے معاشرے کی حقیقتیں ہیں ،اس کے اندر اسی زور اور استقلال سے موجود ہیں جیسی کی معاشرے میں ملتی ہیں ۔کہیں کہیں اس کی کردار نگاری میں مبالغہ سے بھی کام لیا گیا ہے ،مگر یہ مبالغہ دور از قیاس نہیں ہوتا ۔” 5؎
پروفیسر قاضی عبد القدوس ایم ـاے ،بیـ ٹی (گولڈمیڈلسٹ ) لکھ کر گولڈمیڈلسٹ کے نیچے احتیاطاً خط کھینچ دیا کرتے تھے کہ بندہ بشر ہے ،مبادا نظر چوک جائے ۔ یوسفی کا یہ دوسرا اہم مزاحیہ کردار ہے جسے انھوں نے اپنی تخلیق “خاکم بدہن” کے مضمون “پروفیسر” میں متعارف کروایا ،اس کو کبھی قاضی اور کبھی پروفیسر کہہ کر مخاطب کیا ۔ یوسفی نے فنی ہنر مندی سے اس دلچسپ کردار کی تشکیل میں بڑی خوب صو رتی سےرنگ بھرےہیں یہ مزاح اور طنز سے بھرپور کردار ہے۔
یوسفی ،پروفیسر کا تعارف بیان کرتے ہیں :
” پروفیسر قاضی عبد القدوس ایم ـاے، بی ٹی گولڈمیڈلسٹ (مرزا سے روایت ہےکہ یہ طلائی تمغہ انھیں مڈل میں بلاناغہ حاضری پر ملا تھا ) یونیورسٹی کی ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد بنک آف چاکسو لمیٹڈ میں بحیثیت ڈائرکٹر پبلک ریلیشنر اینڈ ایڈور ٹائزنگ دھانس دیے گئے تھے ۔” 6؎
پروفیسرکی حماقتوں اور بیوقوفیوں سے تحریروں میں تفریح کا عنصر غالب ہے،وہ اپنی نادانیوں پر کبھی شرمندہ نہیں ہوتے حد درجہ معصوم شخصیت معلوم ہوتے ہیں اپنی علمیت کا اظہار برملا کرتے ہیں اورخود کو ذہین اور قابل جانتے ہر موقع پر اپنی اصلاح دیناضروری سمجھتے اِحساس برتری میں مبتلا رہتےہیں ۔
یوسفی ان کے مزاح سےمتعلق رقم طراز ہیں :
” پروفیسر قاضی عبد القدوس ظریف نہ سہی، ظرافت کے مواقع ضرور فراہم کرتے رہتے ہیں ۔” 7؎
پروفیسر صاحب اپنی ملازمتی ذمداریوں سے ہمیشہ غافل رہے اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے مضامین ِ یوسفی کے مطالعے سے ان کی جو خوبیاں اور خامیاں ظاہر ہوئیں ان میں وہ سیدھے سادے، بہادر ، ہمدرد، خود انحصاری ، نرگسیت، آزاد پسند طبعیت,اعصابی کمزوری ، نرم دل اور شعروشاعری کے شوقین انسان ثابت ہوئے ہیں ۔
یوسفی کی رائے پروفیسر کی عادت واطوار کے حوالے سے ملاحظہ کیجیے :
“صرف تحقیق وتنقید پر موقوف نہیں ،پروفیسر قاضی عبد القدوس غیر علمی ونجی معاملات اور مسائل میں بھی اپنے رویے اور طریق کار کو thoroughسمجھتے ہیں ۔ طبعاً اور اصولاًشکی اور وہمی واقع ہوئے ہیں ۔وہ ہر شخص کو برا سمجھتے ہیں تاوقتیکہ وہ خود کو اچھا ثابت نہ کردے ! جب سے وہ ترقی پاکر پروفیسر کے گریڈ میں آئے ہیں اُن کی شخصیت میں ،بقول مرزا چند بنیادی اور ڈھانچوی تبدیلیاں رونما بلکہ خود نما ہوئی ہیں ۔سب سے پہلے اورسب سے ذیادہ اُن کی vocabulary (لفظیات ) متاثر ہوئی جو سوج پھول کر غبارہ بن گئی ۔ روز مرہ گفتگو میں اب اتوار کو یک شنبہ ،چنوں اور بیسن کو نخود، بیٹے اور پودینے کو پَسر اور نعنع،جوش ِ جوانی کو غَلیان وجنسی تہیجات ،لطف و مہربانی کو ملاطفت ،میاں بیوی کی باہمی نوک جھونک کو مُلاعنت ،عام خط کو عطوفت نامہ ،ہم لوگوں کو ابنائے زمانہ ، ہم پیشہ اور ہم جِنسوں کو زاغ و زغن اور اپنے بیوی بچوں کو مکروہات دنیوی کہنے لگے ۔” 8؎
آغا تلمیذ الرحمٰن چاکسوی کو یوسفی نے کتاب” چراغ تلے ” کے مضمون “یادش بخیریا” میں متعارف کروایا اور آغا کہہ کر مخاطب کیا، آغا پرانی سوچ وبچاریعنی ماضی پرستی (ناسٹلجیا) کا شکار انسان واقع ہوئے ہیں، یہ حال میں رہتے ہوئے ماضی کی خوب صورت یادوں میں کھویا رہنا پسند کرتا ہے ،اسےپرانی چیزوں ،پرانے دوستوں اور اپنے چاکسو( گاؤں) سے شدید لگاؤہے۔ حال سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہمیشہ ماضی کے سمندر میں غرق رہنا پسند کرتا ہے لوگوں سے ملنے کے متمنی نہیں اسی بنا پر جدت پسند یا نئے خیالات کے لوگوں سےمذاق کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
یوسفی ،آغا کے ماضی پرستی کے متعلق بیان کرتے ہیں :
“یہ ایک چھوٹا سا نیم تاریک کمرہ تھا جس کے دروازے کی تنگی سے معاً خیال گزرا کہ غالباًپہلے موروثی مسہری اوردوسری بھاری بھرکم چیزیں خوب ٹھساٹھس جمادی گئیں ،اس کے بعد دیواریں اٹھائی گئی ہوں گی ۔ میں نے کمالے احتیاط سے اپنے آپ کو ایک کونے میں پارک کرکے کمرے کا جائزہ لیا ۔سامنے دیوار پر آغا کی ربع صدی پرانی تصویر آویزاں تھی ۔جس میں وہ سیاہ گاؤن پہنے ،ڈگری ہاتھ میں لیے ،یونی ورسٹی پر مسکرا رہے تھے ۔اس کے عین مقابل ،دروازے کے اوپر دادا جان کے وقتوں کی ایک کاواک گھڑی ٹنگی ہوئی تھی جو چوبیس گھنٹے میں صرف دو دفعہ صحیح وقت بتاتی تھی ۔”9؎
آغا تلمیذ الرحمٰن یوسفی کا نفسیاتی کردار ہے جو ماضی کی وابسطہ یادوں سے جڑا ہے آغا ہمیشہ خود کو صحیح مانتے اور جانتے یعنی خود کو عقلِ کُل سمجھتے اپنی بات کو منوانے کے لیے عجیب و غریب دلائل پیش کرتے ہیں، ان کے خیال میں دنیا میں تمام ترقی پچھلے وقتوں میں ہوچکیں یہاں تک کہ اردو میں بھی سب کچھ پچھلے زمانوں میں لکھا جا چکا ہے۔ اس کردار کو سماج کی مٹتی ہوئی اقداراور روایات کا امین کہنا بھی بالکل درست ہوگا ۔
یوسفی ،آغا کی خوش فہمی کے بارے میں کہتے ہیں :
“آغا نے یک لخت ماضی کے مرغزاروں سے سرنکال کر فیر کیا ۔”یادش بخیر کی بھی ایک ہی رہی ۔اپنا تو عقیدہ ہے کہ جسے ماضی یاد نہیں آتا اس کی زندگی میں شاید کبھی کچھ ہواہی نہیں ۔لیکن جو اپنے ماضی کو یاد ہی نہیں کرنا چاہتا وہ یقیناً لوفر رہا ہوگا ۔کیا سمجھے ؟”10؎
شیخ شبغت اللہ ،صبغے اینڈسنز (سوداگران و ناشر ان کتب) کے مالک ہیں ۔ یوسفی کا مضمون “صبغے اینڈ سنز” کتاب ” خا کم بدہن” میں شامل ہے ۔صبغےکا کردار جدید تقاضوں کے مطابق خود کو تجارت کے پیشے میں ڈھلنے سے قاصر رہا یعنی تجارتی صلاحیتوں سے نابلد لیکن خود کواس فن کا بہترین کتب فروش سمجھتے ہیں ۔
” کتب فروشی ایک علم ہے ، برخوردار ! ہمارے یہاں نیم جاہل کتابیں لکھ سکتے ہیں لیکن بیچنے کے لیے باخبر ہونا ضروری ہے ۔” 11؎
صبغے کتابوں سے عشق کی حد تک محبت اور قدر کرتے دکان پر صرف اپنی پسند کے مصنفین کی کتابیں رکھتےتھے۔ ان کی دکان کم اور لائبریری ذیادہ معلوم ہوتی تھی ، ان کے پسندیدہ شاعر غالؔب تھے جس کا دیوان بیچنا پسند نہیں کرتے کہتے تھےاس کے بغیر دکان سونی ہو جائے گی،گاہک کی اس درجہ عزت کرتے کہ انھیں کھلائے پلائے بغیر رخصت نہیں کرتے ،وہ سادہ طبعیت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے اسی سبب لوگ ان سے فائدے اٹھاتے ،ادیبوں پر طنز کرنے سے بھی نہیں چوکتے زبان اور تلفظ کے بارے میں بڑے حساس واقع ہوئے تھےجس شخص کا تلفظ غلط ہوتااس کو کتاب بیچنا اپنی توہین سمجھتے تھے۔
اس حوالےسے یک واقعہ ملاحظہ کیجیے :
” ان کے نک چڑھے پن کا اندازہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص پوچھتا ہوا آیا “لُغَت ہے؟”لغت کا تلفظ اس نے لُطف ، کے وزن پر کیا ۔انھوں نے نتھنے پھلا کر جواب دیا “اسٹک میں نہیں ہے ۔” وہ چلا گیا تو میں نے کہا “یہ سامنے رکھی تو ہے ،تم نے انکار کیوں کر دیا ؟” کہنے لگے یہ ؟ یہ تو لغت ہے پھر یہ بھی کہ اس بچارے کا کام ایک لغت سے تھوڑا ہی چلے گا! “12؎
ضرغام الاسلام صدیقی ایم ۔اے ۔ایل ۔ایل ۔بی۔ سینئر ایڈوکیٹ عرف ضرغوص اس مزاحیہ کردار کو یوسفی نے مضمون ” ہل اسٹیشن” میں متعارف کروایالیکن یہ کردار صرف ایک مضمون تک محدود رہا انھیں یوسفی نے اپنا یونیورسٹی کا ساتھی بتایا ہے یہ اکثر غائب دماغ رہتے، ضرغوص کا علم پہاڑوں کے متعلق نہ ہونے کے برابر تھا پر خود کو بہت اعلیٰ پائے کا کوہ پیماں سمجھتے، پہاڑوں کےسفر کا اہتمام بڑے طریقےسلیقےسے کرتے ہیں ۔
یوسفی ، ضرغوص کے بارے میں کہتے ہیں :
“بڑے وضعدارآدمی ہیں اور اس قبیلے سے ہیں جو پھانسی کے تختے پر چڑھنے سے پہلے اپنی ٹائی کی گرہ درست کرنا ضروری سمجھتا ہے ۔ذیادہ تر کار سے سفر کرتے ہیں اور اسے بھی کمرۂ عدالت تصور کرتے ہیں ۔ چناچہ کراچی سے اگر کابُل جانا ہو تو اپنے محلے کے چوراہے سے ہی درہ خیبر کا راستہ پوچھنے لگیں گے ۔” 13؎
مشتاق احمد یوسفی نےاپنے ادب پاروں میں کرداروں کی ایک بڑی تعداد متعارف کروائی جن میں سے چند اہم تخلیقی کردار ہیں جو اس مضمون میں پیش کیے گئے ہیں یہ کردار مشترک خصوصیات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے منفرد دکھائی دیے ان کرداروں کے ذریعےیوسفی نے انسانی قدروں کو موضوع بنایا ، ان کے یہ کردارزندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور مشکل سےمشکل حالات میں بھی بلند حوصلہ،کشادہ دل،زندگی سے بھرپور ، پُر امید اور خو ش باش نظر آتے ہیں ۔
حواشی
1۔ ڈاکٹر عابدہ نسیم ، آب ِ گم کے کرداروں پر ہجرت کے اثرات کا مطالعہ ،مشمولہ : ماہ نامہ قومی زبان ،دسمبر 2018ء ،کراچی ،ص199
2۔ مشتاق احمد یوسفی ، چراغ تلے ، مکتبہ دانیال2008ء،کراچی،ص10
3۔ پروفیسر جیلانی کامران ، مشتاق احمد یوسفی اور عظیم ادب کی نشو نما ،مشمولہ : مشتاق احمد یوسفی کچھ یادیں کچھ باتیں ،امر شاہد (ترتیب وتدوین ) ، ص218
4۔ مشتاق احمد یوسفی ، چراغ تلے ، مکتبہ دانیال2008ء،کراچی،ص82
5۔ ڈاکٹر محمد احسن فاروقی ،مشتاق احمد یوسفی – ایک مزاح نگار ،مشمولہ: سہ ماہی سیپ ،شمارہ نمبر 12 (خاص نمبر) ،ص269
6 ۔ مشتاق احمد یوسفی ، خاکم بدہن ، مکتبہ دانیال 1981ء، کراچی ،ص 93
7۔ ایضاً، ص 98
8۔ مشتاق احمد یوسفی ،شام ِ شعر یاراں ، جہانگیر بکس ،لاہور ، ص390
9۔ مشتاق احمد یوسفی ، چراغ تلے ، مکتبہ دانیال2008ء،کراچی،ص44
10۔ایضاً،ص56
11۔ مشتاق احمد یوسفی ، خاکم بدہن ، مکتبہ دانیال 1981ء، کراچی ،ص23
12۔ ایضاً، ص27۔28
13۔ ایضاً،ص 139-140
مآخِذ :
1۔ امر شاہد (ترتیب وتدوین ) ، مشتاق احمد یوسفی کچھ یادیں کچھ باتیں ،بک کارنر جہلم،2018ء
2۔ مشتاق احمد یوسفی ، چراغ تلے ، مکتبہ دانیال2008ء،کراچی
3۔ مشتاق احمد یوسفی ، خاکم بدہن ، مکتبہ دانیال 1981ء، کراچی
4۔اُبو الاعجاز حفیظ صدیقی (مرتبہ) ،کشاف تنقیدی اصطلاحات ،مقتدرہ قومی زبان ،اسلام آباد ،1985ء
5۔ مشتاق احمد یوسفی ،شام ِ شعر یاراں ، جہانگیر بکس 2014 ء،لاہور
6۔ ماہ نامہ قومی زبان( اشاعت خاص )، کراچی، جلد: 90-شمارہ : 12دسمبر 2018ء
7۔ مشتاق احمد یوسفی،زرگزشت،مکتبہ دانیا 2018ء،کراچی
8۔ مشتاق احمد یوسفی،آب ِگم ،مکتبہ دانیال2022ء،کراچی