You are currently viewing ہندی فلم کا اردو پس منظر

ہندی فلم کا اردو پس منظر

ابراہیم نثار

بی۔ایڈ،ایم۔اے

جمال پورا مئو ناتھ بھنجن اتر پردیش

ہندی فلم کا اردو پس منظر

          ہندوستان میں فلم کا آغاز باقاعدہ  ۱۹۱۳سے ہوا ۔لیکن یہ سلسلہ ابھی تک خاموش فلموں تک جاری رہا۔حالات نے دھیرے دھیرے کروٹ لی اور لوگوں کو اس سے اکتاہٹ محسوس ہوئی۔چنانچہ اس عہد کے لوگوں نے اس سے ہٹ کر بولنے والی فلموں کی طرف متوجہ ہوئے اوراسی طرح باقاعدہ طور پر  ۱۹۳۱  میں بولنے والی فلموں کا آغاز ہوگیا۔اوراب تک تحقیق کے مطابق پہلی بولنے والی فلم کا نام ’’عالم آرا ‘‘ تھا۔

         یہ بات ظاہر ہے کہ فلم سے بیشتر لوگوں کی دلچسپی رہی ہے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلم،چھوٹا ہو یا بڑا،مرد ہو یا عورت،جاہل ہو یا عالم،ان تمام کا فلموں کے بارے میں پڑھنا اور دیکھنا شوق رہا ہے۔فلم کی مقبولیت کی ایک اوروجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی کہانی انسان کی ذاتی زندگی پر مبنی ہوتی ہے ۔جسے دیکھ کر انسان کھو جاتاہے ۔اس کے بعد اب راست موضوع کی طرف متوجہ ہوتاہوں ۔ہندی فلم سے مراد ہندوستانی فلم ہے۔ اور ہندوستانی فلم سے مراد اردو  فلم ہے۔اس لئے کہ جب اردو زبان کا آغاز ہو رہا تھا ،تو اس وقت اسے ہندوی زبان کا نام دیا گیا تھا،اسی طریقہ سے ہند ایرانی زبان سے مراد اردو اور فارسی زبان کو لیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی زبان اردو ہے اور ایران کی زبان فارسی ہے۔اسی اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ ابتداء میں جو بھی فلم منظر عام پر آئی وہ داستان ،ناول اورافسانے سے لیکر بنا ئی گئیں اور یہ داستان ،ناول اور افسانے لکھنے والوں کا تعلق براہ راست اردو زبان سے تھا۔اس دور میں بھی تھا اورآج بھی باقی ہے۔یہ تو حکومت کی ہمارے اوپر ستم ظریفی ہے کہ اسے ہندی فلم کا نام دیا جاتا ہے جبکہ اس فلم میں کہانی،کردار،مکالمہ،ڈرامہ اور موسیقی وغیرہ سب کے سب اردو زبان سے لئے جاتے ہیں۔اور اسی کردار کو مقبولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے جس کو اردو زبان اچھی آتی ہے۔ڈاکٹر عابدی لکھتے ہیں۔اقتباس

’’فلم سے متعلق متعدد کتب،رسائل و جرائد اور اخبار میں مضامین  کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان و ادب کا وہ بڑا نام جو اردو ادب کا ایک اہم ستون رہا ہے اس کو بھی کبھی فلموں سے دلچسپی رہی تھی۔وہ شوق کی حد تک رہی ہو یا اس کی معاشی ضرورت رہی ہے،اسی طرح سے ہماری فلموں کا اردو زبان سے رشتہ رہاہے‘‘۔

         اس اقتباس کے مطابق یہ بات غالب گمان ہے کہ جس زمانے میں تھیئٹر ہی لوگوںکی تفریح کا بہترین ذریعہ تھا۔اس وقت اردو کے مشہور شاعر و ادیب تھیئریٹکل کمپنیوں سے وابستہ تھے۔وہ بالعموم منشی کہلاتے تھے۔لیکن جب تھیئٹر زوال پذیر ہوگیا تو اس وقت ہندوستان میں بھی فلم کا آغاز ہو رہا تھا۔آہستہ آہستہ وہ منشی فلموں سے تھیئٹر میں آگئے اور دھیرے دھیرے وہ اسکرپٹ رائٹر بن گئے،مکالمہ نگار بن گئے،کہانی نگار بن گئے۔بعض لکھے جانے والے فلموں کے گیت مکالمے،منظر نامے اور کہانی سب کچھ ان سب کا تعلق اردو زبان سے تھا۔ایک دوسری جگہ پر انیس امرہی لکھتے ہیں۔اقتباس۔

’’ہندوستان میں جدید فلم کا آغاز اسی دور میں ہو رہا تھا جب اردو ادب میں ترقی پسند رجحانات بہت تیزی  سے داخل ہو رہے تھے اور جب ہندوستان میں یہ تحریک آزادی کو ہر شدت کے ساتھ اختیار کر رہی تھی اسی وقت ۱۹۳۱میں ہندوستانی فلم نے خاموشی کے دور سے نکل کر آواز کی دنیا میں قدم رکھا اور فلموں کے کردار نے سیدھے طور پر مکالمہ شروع کر دیا۔۱۹۳۶ میں اردو ادب ترقی پسند تحریق کا باقاعدہ آغاز ہوگیا اور بڑی تعداد میں ادیب و شاعر و دانشور اس تحریق سے وابستہ ہوئے۔ان میں کہانی کار،نغمہ نگار،فلم ساز و ہدایت کار لگاتار فلم انڈسٹری سے جڑتے چلے گئے۔ جس میں منشی پریم چند،خواجہ احمد عباس،نجم نقوی،سعادت حسن منٹو،کمال امروہی،کرشن چندر،ساحر لدھیانوی،وشو مترا عادل،راجہ مہدی علی خاں،راجندر سنگھ بیدی،مجروح سلطان پوری،جاں نثار اختر،کیفی اعظمی،علی سردار جعفری،عصمت چغتائی،پرتھوی راج کپور،اختر الایمان،راجندر کرشن،صبا افغانی،حسرت ج پوری،ساغر سرحدی وغیرہ قابل ذکر ہیں ‘‘۔ ( ہندوستانی سنیما کے سو سال)

         کہا جاتا ہے ۔کہ فلم اور ناول کسی بھی ملک ،کسی بھی قوم،کسی بھی طبقہ،کسی بھی مذہب کی سماجی ،معاشی تہذیب کی عکاس ہوتی ہیں۔یہی وہ لوگ تھے ؟جو یک بعد دیگر اردو ادب سے جڑے اور فلموں سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین تخلیقات پیش کر رہے تھے۔اور اسی دور کو ہندوستانی سنیما کا عہد زریں دور کہا گیا ہے۔اس لئے کہ ان کی تخلیق کردہ کہانیوں میں اردو زبان کے ساتھ ساتھ اس عہد کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔اردو زبان کے حوالے سے چند اہم فلموں کے نام اس طرح ہیں۔شیریں فرہاد،شکنتلا،لیلیٰ مجنوں،امرائو جان ادا،اندر سبھا،پاکیزہ،یہودی کی لڑکی،پکار،سکندر،اعلان،الہلال،سلطنت،مغل اعظم،محبت کے آنسو،ہیر رانجھا،زندہ لاش،مرزا غالب،عشق اور خدا،رضیہ سلطانہ،شطرنج کے کھلاڑی،سرداری بیگم،محافظ وغیرہ اردو زبان سے متعلق کامیاب فلمیں شمار کی جاتی ہیں۔ اور ان تمام فلموں کو باقاعدہ اردو سرٹیفیکٹ بھی ملا ہے۔ایک دوسری جگہ پر ڈاکٹر عابدی لکھتے ہیں۔

’’پریم چند کی کہانی پر بنائی گئی فلمیں غریب مزدور،سوامی اور ان کے ناول چوغان ہستی پر رنگ بھومی کے نام سے فلمیں بنائی گئیں۔دو بیلوں کی کتھا پر فلم ہیرا موتی بنائی گئی۔۱۹۶۴ میں فلم گودان بنائی گئی۔۱۹۶۶ میں فلم غبن بنائی گئی۔ اسی طرح عید مبارک،کتے کی کہانی،اور سیلانی بندر وغیرہ پریم چند کی کہانی پر فلمیں بنیں۔شطرنج کے کھلاڑی،ستیہ جیت رائے نے اس فلم کو منشی پریم چندکی کہانی پر بنائی جو کہ سب سے عمدہ فلم شمار کی جاتی ہے۔جس میں شبانہ اعظمی،فریدہ جلال،سنجیو کمار نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو ادب کے حوالے سے پریم چند کا نام فلموں کے حوالے سے کافی حد وابستہ رہاہے ‘‘۔

         ہندی فلموں کی تاریخ میں امتیاز علی تاج کا نام بہت بلند مقام پر نظر آتاہے۔ان کے مشہور ڈرامہ انار کلی پر اپنے زمانے کی مشہور اور کامیاب فلم مغل اعظم ۱۹۶۰ میں بنی جس کے ہدایت کار کے۔آصف تھے۔اور یہ اردو کی زبردست اور کامیاب فلم تھی۔لیکن اسے اردو کا سرٹیفیکٹ نہیں دیا گیااور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہندی فلم میں تبدیلی ہونا شروع ہوگئی۔اگر چہ کہ ان کا سارا دارومدار اردو زبان پر تھا ۔مگر صرف اور صرف ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیےایسا کیا جاتا ہے۔اور اگر ہم صرف کہانی لکھنے والوں کی بات کرتے ہیں۔ تو اس میں بھی ان حضرات کا نام سب سے زیادہ آتا ہے جن کا اردو زبان ہی اڑھنا اور بچھونہ تھا۔راجندر سنگھ بیدی،سعادت حسن منٹو،کرشن چندر،خواجہ احمد عباس،کمال امروہی،اخترالایمان،سلیم جاوید،جاں نثار اختر،گلزار دہلوی،ارجن دیو رشک،وجاہت مرزا اور ابرار الوی وغیرہ کو بلند مقام حاصل رہا ہے۔ان کی مایہ ناز فلموں میں مرزا غالب،سلطنت،من چلی،وقت،آوارہ،پکار،محل،پاکیزہ،آندھی،چپکے چپکے،دل ایک مندر،جس دیش میں گنگا بہتی ہے،روٹی،سنگھرش،منورنجن،صاحب بیوی اور غلام،لیلیٰ مجنوں،امرائو جان،زنجیر،دیواروغیرہ ان کی کہا نی کے اعتبار سے اردو کی کامیاب فلمیں شمار کی جاتی ہیں۔

          ایک طرف پریم چند نے جس روایت کی بنیاد ڈالی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کرشن چند ر نے بھی اس میدان میں اپنی قسمت آزمائی کی ۔اس لئے کہ یہ خود ایک بڑے فکشن رائٹر تھے۔اور جب انھوں نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔ تو ایک سے بڑھ کر ایک فلمیںانھوں نے بنائی۔ان کی فلموں کی فہرست کافی طویل ہے۔اس لئے کہ ان کو بچپن ہی سے فلمیں دیکھنے اور ان پر تنقیدی مضامین لکھنے کا شوق تھا۔اوراسے ایک خوبصورت اتفاق ہی کہیے گا کہ وہ خود مکالمہ اور کہانیاں لکھنے لگے۔اسی لئے کرشن چندر کا دوسرا نام اردو مشہور ہوگیا۔کرشن چندر نے فلموں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں ہیں اور منطر نامہ و مکالمے بھی لکھے ہیں مگر ان کو مکالمے میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔انھوں نے جن فلموںمیں مکالمے لکھے ہیں ان میں خاص فلمیں یہ ہیں۔زلزلا،آندولن،غلامی،فرار،شرافت،میرے ہمسفر،تماشا،ہنستے آنسو،من کی جیت وغیرہ۔

         خوجہ احمد عباس کا تعلق بھی اردو ادب سے رہا ہے۔ خاص کر ان ہندی فلموں میں ان کا سب سے اہم نام ہے۔انھوں نے کئے یاد گار فلمیں ہندوستانی سنیما کو دیں ہیں۔ان کی کہانی پر سب سے پہلے نیا سنسار فلم بنی اور انھوں نے خود اپنی ہدایت میں سب سے پہلی فلم دھرتی کے لال بنائی۔ اس کے بعد نوان،ان داتا،وغیرہ ان کی خاص فلمیں شمار ہوتی ہیں۔ان کی فلمی تخلیقات میں ایک خاص طرح کا منفرد انداز ملتا ہے۔ یہی نہیں خواجہ احمد عباس نے فلمی دنیا کو راج کپور ،راج کمار گوتم ،امیتابھ بچن وغیرہ جیسے معروف شخصیت سے روشناس کروایا۔۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے لوگ ہیںجیسے راج کمار گوتم،امیتابھ بچن کے والد ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن نے امیتابھ بچن کو خواجہ احمد عباس سے ملوایا تھا۔خواجہ احمد عباس نے امیتابھ بچن کو سات ہندوستانی میں بطور ہیرو پیش کیا یہ فلم خاطر خواہ کامیاب نہ ہوئی امیتابھ بچن کو زنجیر فلم سے شہرت ملی لیکن یہاں اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ بتانا مقصود ہے کہ امیتابھ جیسے میگا اسٹار کو کاسٹ کرنے والے کوئی اورنہیں خواجہ احمد عباس تھے جنہیں اردو سے بڑا شغف تھا۔ انھوں نے سات ہندوستانی فلم کے ذریعہ سے امیتابھ بچن کو سپر اسٹارر بنادیا۔اسی طرح سے شبانہ اعظمی،سمیتا پاٹل،سنجیو کمار،راج کپور کے علاوہ اور بھی فنکار ہیں جنھیں عباس صاحب نے فلمی دنیا سے متعارف کرایا۔ اور انھیں اپنی فلموں میں لیکر مقبولیت کا شرف بخشا ہے۔

         اسی طرح سے اردو ادب کے حوالے سے ایک اور بہت اہم نام راجندر سنگھ بیدی کا ہے انھوں نے بھی کئی فلموں کی کہانیاں ،منظر نامے،اور مکالمہ لکھے ہیں اور خود بھی کئی فلمیں بنائی ہیں ۔ان کا ایک ناول ایک چادر میلی سے کو پنجابی زبان میں فلم بنائی گئی ہے۔ان کی کامیاب فلم دستک کافی مقبول رہی ہے۔اور اسی فلم کے بعد بیدی کو باقاعدہ طور پر پدم شری کا انعام بھی ملا تھا۔ان کی فلمیں بڑی بہن،داغ،مرزا غالب،فاگن،آنکھیں دیکھی،اپنی دھرتی اپنا دیش،نواب صاحب ایک چادر میلی سی وغیرہ کامیاب فلمیں رہی ہیں۔

         اسی طرح سے اردو ادب اور خاص کر ترقی پسند تحریق سے تعلق رکھنے والے ناموں میں سب سے اہم نام علی سردار جعفری کا ہے۔جنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے گیتوں کے ذریعہ سے اسے جلا بخشی ہے۔علی سردار جعفری نے فلموں کے لئے گیت،اسکرپٹ،اور فلم سازی کی ہے نیز وہ فلم رائٹر اسوسیشن کے ممبر بھی رہے ہیں۔علی سردار جعفری نے پہلی بار فلم نیا ترانہ ۱۹۴۳ میں گیت لکھا تھا۔اس کے بعد انھوں نے دھرتی کے لال میں گیت لکھے ہیں۔انہونی اور فٹ پاتھ ان سب کے ہدایت کار اردو کے شاعر و ادیب ضیاء سرحدی تھے۔اس فلم میں بھی علی سردار جعفری نے گیت لکھے ہیں۔

         اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب نے ہندوستانی فلم کے ذریعہ سے ہمارے پورے معاشرے پر کافی مثبت اثرات مرتب کئے ہیں ۔تقسیم ہند کے بعد جہاں دو دلوں کی تقسیم ہوئی وہیں پر ایک سازش کے تحت ایک بڑے طبقے نے صرف مسلمانوں کی زبان کو اردو کا عنوان دے دیا۔ اور اس کا اثر سب سے زیادہ فلم پر پڑا۔اس لئے کہ جو بھی فلمیں بنائی جاتی تھیں یا بنتی تھیںاس کی کہانی اردو میں مکالمہ،موسیقی،زیادہ ترگیت ،کبھی کبھی ڈائیلاگ اردو میں ہوا کرتے تھے۔لیکن اردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جانے لگا۔ اور اسے ہندی فلم کا نام دیا جانے لگا۔

         اگر ہم صرف ابتدائی دور کی فلم کا مطالعہ کریں تو اس وقت کی فلموںمیں کہانی سے زیادہ گانے ہوا کرتے تھے اور کسی فلم کی کامیابی اور ناکامی اس کے گانے پر منحصر ہوتی تھی۔ایک ایک فلم میں بیس بیس گانے ہوا کرتے تھے۔اور بجز اس کے کہ وہ گانے لکھنے والے حضرات کا تعلق براہ راست اردو زبان و ادب سے تھا۔چاہے وہ ساحر لدھیانوی ہوں،معین حسن جذبی ہوں،مجروح سلطان پوری،علی سردار جعفری،شکیل بدایونی،کیفی اعظمی،حسرت جے پوری،آنند بخشی،نداء فاضلی،شہر یار،راجہ مہدی علی خاں،گلزار دہلوی،جاوید اختر وغیرہ یہ وہ حضرات ہیں جنھوں نے اپنی گیتوں اور نغموں سے فلموں کے اندر چار چاند لگا دئے ہیں۔

         اگر ہم ان حضرات کی فلم کی فہرست دیں تو کافی طویل ہو جائیگی اس کے لئے وقت کی درکار ہے۔میں یہاں مختصرا کچھ فلموں کا ذکر کر رہا ہوں جیسے مغل اعظم ،پاکیزہ،آرزو،تاج محل،حنا،امرائو جان،ہیر رانجھا،لیلیٰ مجنوں،رضیہ سلطانہ،نیل کمل،رات کی رانی،حقیقت،سلطنت وغیرہ ایسی بہت ساری فلمیں ہیں جس میں ہم اور آپ کو اردو زبان کی شیریں الفاظ کے پیرائے میں ڈھلے ہوئے گیت اور نغمے ملتے ہیں۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گیت اور نغمہ لکھنے والے کا تعلق صرف اور صرف اردو زبان سے تھامثلاکچھ فلموں کے گیت۔۔

’’تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو‘‘

         ’’ چھولینے دو نازک ہونٹوں کو‘‘

         ’’چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘‘

         ’’نہ ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا‘‘

         ’’ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی‘‘

         ’’بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے‘‘

         خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس مختصر سے جائزے کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں۔ کہ اسے ہندی فلم کا نام کیوں دیا جارہا ہے؟ جس کا پورا لب لباب اردو زبان سے ہے۔اور اس زبان کے جاننے والوں نے اسے ابتداء سے ارتقاء کی منازل طے کرایا ہے۔چاہے وہ کہانی لکھنا ہو،مکالمہ لکھنا ہو،موسیقی لکھنا ہویا ڈرامہ لکھنا ہو یا نغمہ گانے والے ہوں۔یہ سب کارنامہ انجام دینے والے حضرات صرف اور صرف ہندوستانی اور اردو زبان کے شیدائی تھے۔اگر ہم اس کے پس منظر میں جاتے ہیں تو اس کے سارے کرتا دھرتا اردو پڑھنے لکھنے والے ملتے ہیں۔لیکن اب ؎سوال یہ ہے کہ جس فلم کو ہم ہندی فلم کا نام دے رہے ہیںاسے اردو کا نام کیوں نہیں دیا جارہا ہے؟کیا ہم اپنی آواز اٹھانے سے گھبراتے ہیں؟یا پھر ہم اپنے روزگار سے دست بردار ہونے کے ڈر سے چپ ہیں؟

         اگرچہ کہ بہت سارے فلم ناظرین کی رائے یہ ہے کہ اسے ہندی فلم کا نام اس لئے دیا جاتا ہے کہ تاکہ لوگ اسے زیادہ سے زیادہ دیکھیںاور زیادہ سے زیادہ کمائی کا ذریعہ بنے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر اسے اردو فلم کا نام دے دیا جاتا تو یہ فلمیں بزنس نہیں کر پاتیں۔اور اسی ڈر سے بہت سارے ہدایت کار اسے اردو سرٹیفیکٹ بھی نہیں دلوا پاتے ہیں۔لیکن ان تمام انتشار کے باوجود بہت ساری ایسی فلمیں بنائی گئیں اور کامیاب بھی ہوئیں۔ اور اسے با قاعدہ طور پر اردو سرٹیفیکٹ سینسر کیا گیا ہے۔اس کی بہترین مثال’’ مغل آعظم‘‘ ہے ۔

         لیکن آج کے دور میں بہت سے ایسے رہنمایان ہیں جن کا اردو زبان سے اٹوٹ رشتہ ہے جیسے گلزار دہلوی،جاوید اختر وغیرہ۔گلزار دہلوی صاحب نے ابھی جلد ہی ایک انٹرویو میںنصرت ظہیر کے اس سوال پر،کیا اردو کی تعلیم فلموں میں بھی کام آئی؟اس کے جواب میں گلزار صاحب نے کہا ،جی ہاں یہ اردو زبان ہے اور آج بھی فلموں میں جو زبان استعمال ہوتی ہے وہ80 فیصد اردو ہے بلکہ میں80 فیصد سے زیادہ سمجھتا ہوں۔ اسے90 فیصد کہئے۔اس لئے کہ ہندوستانی سنیما میں اردو کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔یہ اردو زبان ہی ہے جس نے ہندوستانی سنیما کو تقویت دی ہے۔یہ وہی زبان تھی جو تقسیم ہند سے پہلے رائج تھی۔لیکن ہم نے اسے ہندی بنا دیا اور سرکاری طور پر ہندی ہوگئی۔سنسر بورڈ کے سرٹیفیکٹ میں اسے ہندی لکھا جانے لگا اور آگے انھوں نے کہا کہ اگر ہندی فلم کا نام اردو کر دیں تو ناظرین کم ہوجائینگے کیوں کہ عام لوگ اردو کو مشکل زبان سمجھتے ہیں اس لیے اسے ہندی کردیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور فلم اچھا بزنس کر سکے۔

         میرے نزدیک اردو کا بہت بڑا المیہ ہے کہ لوگ اس کے توسط سے معروف ومشہور ہوتے ہیں عالمی شہرت حاصل کرتے ہیں تمام آشائش حاصل کرتے ہیں اور اس کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں کہ اردو ہی آسان ہے اوراسے ہی لوگ آسانی سے سمجھتے ہیں ۔

         اگر ان کا یہ ماننا ہے تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ یہ وہی گلزار ہیں جنھوں نے اس زبان میں ایسے ایسے گیت اور فلم کی کہانیاں لکھیں ہیں جس کے عوض میں ان کو دنیا کا بڑے سے بڑا ایوارڈ بھی ملا ہے ۔اس زبان کو اس کا حق دلانے یا دلوانے کی بات کیوں نہیں کرتے؟خاموش کیوں ہیں؟آخر ان کو کس بات کا ڈر ہے جس زبان کے ذریعہ سے آج ان کو یہ مقام ملا ہے اس زبان کو اس کا حق دلانے کی کوشش ان کو کرنی چاہئے۔اگر اس طرح سے ہم اور آپ خاموش رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس زبان کی پہچان بھی ختم ہو جائے گی اور ہم صرف خیر خواہی میں افسوس کریں گے۔

کتابیات

٭ماہنامہ اردو دنیا ،سنیما کے سو سال۔شمارہ فروری ۲۰۱۳      ٭ہماری فلمیں اور اردو۔خالد عابدی

٭ہندوستانی سنیما کے پچاس سال۔پریم پال اشک            ٭تحریک آزادی اور ہندوستانی سنیما۔پرے پال اشک

٭ہندوستان کے عظیم موسیقکار۔سنبھو ناتھ مشرا            ٭ماہنامہ آج کل۔سنیما کے سو سال۔شمارہ فروری ۲۰۱۳

Leave a Reply