
مبصر: سیدہ ایمن عبد الستار
نقش نوشاد:ایک مطالعہ
سہیل سالم کی یہ مرتب کردہ کتاب ” نقش نوشاد “ایک عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے، جو نوشاد رسول صاحب کی متنوع زندگی، علمی خدمات، اور روحانی تجربات کا ایک جامع نقشہ کھینچتی ہے کتاب کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس میں مختلف اہل قلم نور شاہ صاحب ،سیدہ نسرین نقاش صاحبہ ،ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب ،سہیل سالم صاحب ، اور خود نوشاد رسول صاحب کے مضامین شامل ہیں، جو ایک ہی شخصیت کے فکری، ادبی، اخلاقی، اور روحانی پہلوؤں کو مختلف زاویوں سے پرکھتے ہیں۔اس کتاب میں سوانح، تنقید، تحقیق، اور سفری تجربات کا ایک متوازن امتزاج موجود ہے۔کتاب میں شامل مضامین کی زبان اعلیٰ، ادبی، اور باوقار ہے۔ ان کا علمی اسلوب اس کتاب کو نہ صرف ایک تعزیتی مجموعہ بلکہ ایک معیاری تنقیدی اور سوانحی دستاویز بنا دیتا ہے۔مصنفین کی تحریروں میں نوشاد رسول صاحب کی شخصیت کے لیے ایک شدید محبت اور احترام کی جھلک ملتی ہے، جو قاری کو بھی متاثر کرتی ہے اور انہیں ایک مثالی ادیب و استاد کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ کتاب یا مطبوعہ مواد نوشاد رسول صاحب کی شخصیت، اخلاقی اقدار اور فکری و تخلیقی خدمات کا ایک مستند ریکارڈ ہے۔ یہ نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے، بلکہ اردو ادب، تحقیق، اور افسانہ نگاری کے طلباء کے لیے بھی ایک معلوماتی اور مفید ماخذ ہے۔ یہ مجموعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ نوشاد رسول صاحب نے ایک بنیادی اور اصلاحی نوعیت کا ادبی ورثہ چھوڑا ہے۔
“میرے آنگن کا پرندہ”
نور شاہ صاحب کی تحریر ایک ادبی شخصیت، میر نوشاد رسول صاحب کے کام اور فن پر ایک عمیق اور تعریف تبصرہ ہے۔ مضمون” میرے آنگن کا پرندہ ” میں ان کی ادبی حیثیت، اندازِ نگارش، موضوعات کی نوعیت اور اردو زبان و ادب میں ان کے مقام کو نہایت تفصیل اور خلوص کے ساتھ بیان کیا گیا ہے نور شاہ صاحب نے میر نو شاد رسول صاحب کو ممتاز، باصلاحیت اور محترم قلم کار قرار دیا ہے جن کے کاموں کو ہندوستان اور دنیا بھر میں پذیرائی اور احترام حاصل ہوا۔ وہ ایک منفرد اسلوب کے مالک ہیں اور ان کی تحریریں سنجیدہ تنقیدی نگاہ رکھنے والوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔مصنف نور شاہ صاحب کا اندازِ بیاں خوبصورت اور شگفتہ ہے، اور وہ سنجیدگی اور تفریح کا حسین امتزاج پیش کرتے ہوئےاپنے قارئین کو میر نوشاد رسول صاحب کی تخلیقی اور زندگی کے مختلف پہلووں کی طرف لے جاتے ہیں۔
مصنف نے اپنی تحریر میں یہ واضح کیا کہ میر نوشاد رسول صاحب نے اپنے افکار و نظریات کے ذریعے بنیادی طور پر اخلاقی، دینی، اور روحانی بیداری پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ ان کا کام قاری کو خود کو بہتر بنانے، اخلاقیات اپنانے اور روحانیت کی طرف راغب کرتا ہے۔انہوں نے اردو تہذیب و تمدن، علم و ادب، اور زندگی کے حقائق پر کھل کر لکھا اور فارسی و کشمیری زبانوں کے اشعار و اقوال کا مناسب استعمال کیا۔مصنف نور شاہ صاحب کا خیال ہے کہ میر نوشاد رسول صاحب نے اپنے کاموں کے ذریعے مستقبل کے لیے رہنمائی کی ہے اور لوگوں کو ان کے تخلیقی کام میں جرأت اور فن دینے کی ذمہ داری محسوس کی ہے۔یہ مضمون ” میرے آنگن کا پرندہ” میر نور شاہ رسول صاحب کی شخصیت اور ادبی خدمات کو ایک بصیرت افروز خراج تحسین پیش کرتا ہے، جس میں ان کے فنی کمال، اخلاقی تعلیمات اور ادبی اثر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ انہیں ایک ایسے قلم کار، رہبر اور معلم کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنی تحریروں سے قارئین کے ذہن اور روح کو جِلا بخشتے ہیں۔اور ان کی قربت، خوبصورتی اور ان کے کام کی پرواز کو ظاہر کرتا ہے۔
سیدہ نسرین نقاش صاحبہ نے یہ نقطہ بہترین انداز میں اٹھایا ہے کہ نوشاد رسول صاحب کی فکری توانائی کا ماخذ “معاشرہ” تھا اور وہ اپنے کام کو “سوشل فریم ورک” کی تعمیر سمجھتے تھے۔ یہ تجزیہ محض سوانح نگاری سے بڑھ کر ایک نظریاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ سیدہ نسرین نقاش صاحبہ نے ان کے کام میں موجود “اخلاقی دائرے” کی نشاندہی کر کے واضح کیا کہ ان کا ادب فن، اصلاحی اور تہذیبی اقدار کا حامل تھا۔ یہ تجزیہ بہت عمدہ ہے کہ نوشاد رسول صاحب کی طبیعت میں ماضی کی روایات، حال کے تجربات، اور آئندہ کی بیداری کا ایک ہموار امتزاج موجود تھا۔ سیدہ نسرین نقاش صاحبہ نے نوشاد رسول صاحب کی افسانہ نگاری کے مقصد کو بڑی صراحت سے بیان کیا ہے کہ وہ کہانی کی سچائی کو تلاش کرتے تھے، یعنی وہ “فن برائے فن” کے بجائے “فن برائے زندگی” کے قائل تھے۔ انہوں نے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نوشاد رسول صاحب نے “افسانوی تکنیکوں سے زیادہ طاقت اور سچائی” کو ترجیح دی۔ ان کے افسانے روزمرہ کی زندگی میں موجود “انسانی جزبات و خواہشات” کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تبصرہ ان کے کام کی حقیقت پسندی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ ایک کلیدی نکتہ ہے کہ ان کے افسانے “دکھاوے، اپنائے ہوئے ماحول، اور جھوٹے تعلقات” سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور “معیاری و جاندار سماج” کی تشکیل کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ان کے ادب کے انقلابی اور اصلاحی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔
سیدہ نسرین نقاش صاحبہ کا اسلوب علمی اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہے، جو قاری کو نوشاد رسول صاحب کی فکری عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔الفاظ کا چناؤ بہترین ہے انہوں نے “تحقیقی شعور”، “سوشل فریم ورک”، اور “پہلو دار شخصیت” جیسے الفاظ کا استعمال کر کے مضمون کو تنقیدی ادب کے معیار پر لانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تحریر نوشاد رسول صاحب کو ایک ایسے ادیب اور محقق کے طور پر پیش کرتی ہے جو اپنے کام میں دیانت داری، سچائی اور سماجی ذمہ داری کو اہمیت دیتے تھے، اور ان کا ادب فکر و عمل کی رہنمائی بھی تھا۔
ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب نے “نوشاد رسول صاحب کا سفر عمرہ – ایک جائزہ” کے عنوان سے لکھا ہے۔ یہ مواد نوشاد رسول صاحب کی زندگی، ادبی کارناموں، اور ان کی روحانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب کا یہ مقالہ ایک گہرا اور متوازن تجزیہ ہے جو نوشاد رسول صاحب کی علمی، ادبی اور روحانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ تحریر دیگر مضامین میں بیان کردہ معلومات کو مزید وسعت اور گہرائی فراہم کرتی ہے۔ “نوشاد رسول صاحب کا سفر عمرہ – ایک جائزہ” اگرچہ روحانی سفر پر مرکوز ہے، لیکن ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب نے اس کو ایک خوبصورت عذر کے طور پر استعمال کر کے ان کی پوری ادبی زندگی کا جائزہ لیا ہے۔ مصنف کا اسلوب علمی، تجزیاتی اور سنجیدہ ہے۔ انہوں نے نوشاد رسول صاحب کے علمی اثاثے کو ایک محقق کی نگاہ سے پرکھا ہے۔یہ تحریر نوشاد رسول صاحب کی سوانح حیات تعلیم تدریس، ادبی خدمات شاعری و افسانہ نگاری، اور روحانی پہلو کو ایک ساتھ پیش کرتی ہے، جو اس کی جامعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے یہ نقطہ اٹھایا کہ نوشاد رسول صاحب نے اپنے تدریسی کیریئر میں دیانت، اخلاص اور محنت کو اپنا شعار بنایا اور طلباء کی سچی رہنمائی کی۔سفرِ عمرہ (2017): تحریر کا مرکز ان کا 2017 کا سفر عمرہ ہے۔ نے اس سفر کو صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب عظیم روحانی تجربہ قرار دیا جو ان کی شخصیت کا عکس ہے۔ نوشاد رسول صاحب کے ایمان، اللہ کی توحید، اور حضرت محمد ﷺ سے ان کی شدید محبت کو اس سفر کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سفر کو “دل کی صدا” اور “قلبی تعلق” کا نتیجہ قرار دیا۔ ڈاکٹر شاہ فیصل صاحب نے ان کے روحانی نقطہ نظر کو اجاگر کیا کہ وہ دنیا کو صرف “فانی” اور “عارضی” سمجھتے تھے، اور ان کا اصل مقصد آخرت کی کامیابی اور حقیقی منزل تھا۔ڈاکٹر شاہ فیصل کی یہ تحریر نوشاد رسول صاحب کی شخصیت پر ایک مکمل دستاویزی رپورٹ ہے۔جو ان کی ادبی قدرو قیمت اور روحانی پختگی دونوں کو توازن سے پیش کرتی ہے جو تعریف و تحقیقی احترام کا ثبوت ہے۔
سہیل سالم صاحب نے “آہ.. نوشاد رسول صاحب… حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں” کے عنوان سے لکھا ہے، جو ایک شاندار خراجِ تحسین اور ایک مضبوط تعارفی مقالہ ہے سہیل سالم صاحب کا اسلوب بہت شائستہ، پُرجوش، اور مدح سرائی والا ہے۔ ان کا اسلوب رواں، پروقار اور دلنشیں ہے ۔وہ نوشاد رسول صاحب کی شخصیت اور خدمات کو ایک اعلیٰ مقام پر فائز کرتے ہیں۔ مختصر صفحات میں نوشاد رسول صاحب کی پیدائش، تعلیم، ادبی خدمات، تحقیقی کام کی نوعیت، اور وفات تک کے تمام اہم پہلوؤں کو کامیابی سے سمو کر اعلیٰ اسلوب میں اجاگر کیا ہے۔ مضمون کا عنوان اور اس میں شامل اقبالؒ کا شعر نوشاد رسول صاحب کے فکری رجحان اور حیات کے فلسفے کی بہترین نمائندگی کرتا ہے، جو اس مضمون کا مرکزی خیال ہے۔ سہیل سالم صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نوشاد رسول صاحب کے کام سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ گہرا مطالعہ بھی رکھتے ہیں۔
انہوں نے نوشاد رسول کی تحقیق کے ماخذ مثلاً پروفیسر سید عبدالسلام اور خواجہ محمد عابد کا ذکر کر کے مضمون کو تحقیقی بنیاد فراہم کی ہے۔ یہ نقطہ نگاری بہت ضروری ہے کہ ایک محقق کس طرح اپنے پیشروؤں کے کام سے فیض یاب ہوتا ہے۔ مصنف سہیل سالم صاحب نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ نوشاد رسول صاحب کے خطوط اور مراسلوں سے متاثر تھے، جو دونوں کے درمیان فکری ہم آہنگی اور ذاتی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ نوشاد رسول صاحب کے کام میں “قوم اور ملت کی اصلاح” کے جذبے کو نمایاں کیا ہے، جس سے ان کی خدمات کا دائرہ صرف ادب تک محدود نہیں رہتا بلکہ سماجی مفکر کے طور پر بھی سامنے آتا ہے۔ سہیل سالم صاحب کی یہ تحریر پڑھنے والے پر ایک گہرا اور مثبت تاثر چھوڑتی ہے۔ سہیل سالم صاحب نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نوشاد رسول صاحب صرف ایک ادیب نہیں تھے، بلکہ انسان دوست اور حق و صداقت کے علمبردار تھے۔ یہ مضمون قاری کو نوشاد رسول صاحب کی علمی شخصیت کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ان کی وفات سے ادب و علم کو کتنا بڑا نقصان پہنچا ہے۔سہیل سالم صاحب کی تحریر ایک لائقِ تحسین ادبی کاوش ہے۔ یہ صرف ایک تعزیتی مضمون نہیں، بلکہ ایک تعارفی نصابی مقالہ بھی ہے جو نئے پڑھنے والوں کو نوشاد رسول صاحب کے فکری اثاثے کی طرف راغب کرتا ہے۔
اور آخر میں بذات خود نوشاد رسول صاحب کا سفرنامہ درج ہے میر نوشاد رسول صاحب کا شمار اُن اہلِ قلم میں ہوتا ہے جن کی تحریریں صرف خبری یا تبصراتی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ فکر، احساس اور بصیرت کا آئینہ بھی ہوتی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں ان کے منتخب کالموں اور مضامین کو یکجا کر کے ان کے تخلیقی سفر کی جھلک پیش کی گئی ہے اور اُس فکری جہت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جو ان کے قلم کا خاصہ ہے۔یہ کتاب قاری کے سامنے ایک ایسا منظرنامہ کھولتی ہے جہاں سماجی شعور، سیاسی آگہی اور تہذیب ایک ہی صفحے پر اکٹھے نظر آتے ہیں۔ نقش نوشاد کی تحریروں میں وقت کے مسائل پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ انسانی قدروں اور اخلاقی زوال پر سنجیدہ غور وفکر بھی ملتا ہے۔ ان کے کالم محض رائے نہیں بلکہ مشاہدے کا نچوڑ ہیں سادہ زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر جسے وہ بخوبی جانتے ہیں۔کتاب کے مضامین میں ادب، ثقافت، مذہب، اور انسانی نفسیات پر ان کی گرفت قابلِ تعریف ہے۔ کہیں وہ سماج کی بےحسی پر سوال اٹھاتے ہیں، تو کہیں امید کی کرن دکھاتے ہیں۔ بعض تحریریں ایسی ہیں جو طنز کی نرمی میں لپٹی تلخ حقیقتیں بیان کرتی ہیں، اور کچھ ایسی جو قاری کے دل میں نرمی، فکر اور اصلاح کا جذبہ جگا دیتی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب کی ترتیب بھی عمدہ ہے۔ مضامین کی درجہ بندی اس طرح کی گئی ہے کہ قاری رفتہ رفتہ مصنف کی فکری وسعت سے واقف ہوتا چلا جاتا ہے۔
مصنف میر نوشاد علی صاحب نے عمرے کے سفر کو خارجی منظرنامے کے ساتھ ساتھ باطنی کیفیات کی عکاسی سے یوں جوڑا ہے کہ قاری کے اندر بھی عبادت کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ ہر منظر میں جذبے کی صداقت اور عقیدت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ مدینہ منورہ کی خاموشی، مکہ مکرمہ کی رفعت، اور کعبہ کے دیدار کی لمحاتی کیفیت کو جس سادگی اور تاثیر سے بیان کیا گیا ہے، وہ اس تحریر کو روحانی تجربہ بنا دیتی ہے۔اس سفرنامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ظاہری سفر اور باطنی تبدیلی دونوں کو ہم آہنگ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ سفر روح کا سفر ہے ایک ایسی پرواز جو دل سے شروع ہو کر رب کے در تک پہنچتی ہے۔تحریر کا اسلوب نرم، شفاف اور دعا جیسا ہے۔ الفاظ میں عاجزی اور شکر گزاری جھلکتی ہے۔ میر نوشاد علی صاحب نے عبادت کی گہرائی، آنسوؤں کی حرارت، اور ایمان کی روشنی کو ایک ساتھ سمیٹ کر ایسا تاثر پیدا کیا ہے جو دیر تک دل میں ٹھہرا رہتا ہے۔”روحانی سفر” ایک پاکیزہ، پُراثر اور وجدانی تحریر ہے جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ صرف عمرے کا سفرنامہ نہیں، بلکہ ایمان، دعا، اور بندگی کا بیانیہ ہے دل کو نرم کرنے والا، روح کو جگانے والا۔امید قوی ہے کہ یہ کتاب جموں و کشمیر میں کالم نگار کے فن کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔