You are currently viewing بٹ سہران کا ناول ’’آئینہ‘‘ میری نظر میں

بٹ سہران کا ناول ’’آئینہ‘‘ میری نظر میں

مبصر: رئیس احمد کمار

قاضی گنڈ کشمیر

بٹ سہران کا ناول ’’آئینہ‘‘ میری نظر میں

وادیٔ کشمیر کا ضلع گاندربل اپنی بے پناہ فطری خوبصورتی کے باعث پورے ملک میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سرزمین انگنت اسکالروں، شاعروں، ادیبوں اور سماج کے معزز شہریوں کی آماجگاہ بھی رہی ہے۔ ضلع گاندربل تاریخی اہمیت کا حامل اس اعتبار سے بھی ہے کہ ماضی میں اور حالیہ ادوار میں گاندربل اسمبلی حلقے سے کامیاب ہونے والے امیدوار اکثر وزارتِ اعلیٰ کی مسند تک پہنچے ہیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوری ریاست کی سیاسی تقدیر کے فیصلوں میں گاندربل کا کردار نمایاں رہا ہے۔
نامور ادیبوں، قلمکاروں اور شاعروں کے علاوہ اس ضلع کی زرخیز فکری زمین نے نوآموز اور باوقار قلمکاروں کو بھی جنم دیا ہے۔ انہی نوجوان اور ابھرتے ہوئے قلمکاروں میں ایک معتبر نام بٹ سہران کا بھی ہے۔ ماضی میں متعدد ایوارڈز اور انعامات حاصل کرنے والے بٹ سہران اب تک تقریباً دو درجن کتابیں تصنیف کر چکے ہیں، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک نئی کتاب ’’آئینہ‘‘منظرِ عام پر آئی ہے، جو ایک ناول ہے۔

ناول ’’آئینہ‘‘ کی کہانی ایان نامی ایک طاقتور مگر خودغرض شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ایان کرپشن اور لالچ کی دلدل میں اس حد تک گرفتار ہو جاتا ہے کہ پورے شہر کی اقتصادی بدحالی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ خوب صورت تخلیق پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ ایان، جو شہر کا ایک امیر اور بااثر شخص سمجھا جاتا ہے، منافع خوری اور خودغرضی کی زندگی گزارتا ہے۔ وہ ایک بڑی کمپنی کا مالک ہے، مگر اپنے ملازمین کے ساتھ اس کا رویہ غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی ہے۔ وہ مسلسل ان کا استحصال کرتا اور طرح طرح سے انہیں اذیت دیتا ہے۔
ایان کے غیر شائستہ مزاج کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی فیکٹری کے منیجر جاوید کو ایک غلام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مہک، ایک خوب صورت اور نوجوان لڑکی جو اسی فیکٹری میں کام کرتی ہے، ایان کے دباؤ اور بدسلوکی کا شکار رہتی ہے کیونکہ وہ اس کے غیر مہذب رویّے سے تنگ آ چکی ہوتی ہے۔ ایک موقع پر ایان کی گاڑی سے ایک فقیر بابا کو ٹکر لگتی ہے، جس کے بعد اسے یہ تنبیہ ملتی ہے کہ اس کا وقت آ رہا ہے، مگر وہ اسے ضائع کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس حادثے کے فوراً بعد ایان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور وہ اپنے اعمال کے محاسبے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

جاوید کی بیٹی روبی، جو ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوتی ہے، کے علاج کا انتظام کر کے ایان پہلی بار اپنے عمل کے ذریعے انسانیت کی جھلک دکھاتا ہے۔ دوسری طرف مہک، ایان کی ناشائستہ زبان اور غیر اخلاقی رویّے سے عاجز آ کر کمپنی چھوڑ دیتی ہے اور کسی اور کام سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ بالآخر ایان کو اپنے اخلاقی اور شائستگی کے وژن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

ایان کے غیر اخلاقی رویّوں اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے نتیجے میں پورا شہر ایک شدید مالی بحران کا شکار ہو جاتا ہے اور معاشی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تاہم اسی مرحلے پر ایان کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری دولت بحران زدہ ملازمین اور شہریوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ کمپنی کے مالک کی حیثیت سے اقتدار جتانے کے بجائے وہ خود کو ایک خدمت گزار کے طور پر وقف کر دیتا ہے۔

ایان کے اس مثبت تغیر کو دیکھ کر اس کے تین سابقہ ملازمین—جاوید، مہک اور ارسلان—متحد ہو جاتے ہیں اور خلوص کے ساتھ اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب ایان ایمانداری اور انسانی ہمدردی کو اپنی زندگی اور کاروبار کی بنیاد بناتا ہے۔ وہ سی ای او بننے کے بجائے ایک نگہبان بننے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی آئندہ زندگی میں سادگی، عاجزی اور انکساری نمایاں ہو جاتی ہے۔ وہ اب دوسروں کو پرکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کے لیے پیش پیش رہتا ہے۔

ایان کی اس تبدیلی کا اثر جلد ہی شہر کے نظام پر پڑتا ہے، اور وہ معاشی ڈھانچا جو پہلے بکھر چکا تھا دوبارہ درست سمت میں آ جاتا ہے۔ اس کا نیا ماڈل زیادہ منافع کے بجائے انسانی ہمدردی اور اجتماعی فلاح پر زور دیتا ہے۔ شہر کا ایک نامور تاجر شکیل بھی ایان کے اس ماڈل کو اپنانے لگتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ مہک کو رومانوی ساتھی کے طور پر حاصل نہ کر سکا، مگر ایک باوقار اور قابلِ احترام شراکت دار کے طور پر ضرور پا لیا ہے۔ ارسلان اور جاوید کے ساتھ اس کی دوستی اس کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن جاتی ہے۔
ایان کا ضمیر اب پوری طرح بیدار ہو چکا ہوتا ہے، مگر ایک فلسفی پروفیسر عارف سے ملاقات کے بعد اسے یہ پیغام ملتا ہے کہ اب اسے صرف اپنے ضمیر ہی کو نہیں بلکہ کائنات کے ضمیر کو بھی جگانا ہے۔ ناول کے اختتام پر ایان اپنے شہر کو چھوڑ کر ایک ویران پہاڑی علاقے کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، جہاں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور کان کنی نے زمین کو بنجر بنا دیا تھا۔ وہ وہاں زیتون کا ایک پودا لگاتا ہے۔ جب وہ پورے خلوص اور محبت سے یہ عمل انجام دیتا ہے تو موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے، جو گویا کائنات کی طرف سے معافی اور قبولیت کی علامت بن جاتی ہے۔

Leave a Reply