
جرمن افسانہ : ترجمہ : عشرت معین سیما
پہاڑ ہل گیا
تعارف افسانہ نگار: زبینے پاہلر
جرمنی کی ابھرتی ہوئی افسانہ نگار’’ زبینے پاہلر‘‘ ، ۱۰ / اکتو بر ۱۹۷۲ کو جرمنی کے شہر انگل ہائم ام رائین میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے علم کیمیا میں ماسٹر کرنے کے بعد ایک دواساز کمپنی میں ملازمت کی اور آج بھی کیمیکل بائیولوجی کے شعبے میں ایک کمپنی میں تحقیق کے حوالے سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پندرہ سال قبل اپنی افسانہ نویسی کا آغاز ایک مقامی ادبی جریدے سے کیا ، اُن کے پسندیدہ موضوعات جدید ادب اور انسانی معاشرہ ہیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ دوہزار گیارہ میں شائع ہوا ۔ انہیں جرمنی کی ایک ادبی تنظیم لوٹس رائین لینڈ فالز کی جانب سے عہدِ حاضر کی بہترین فنِ افسانہ نویسی کا ایوارڈ دو ہزار بارہ بھی دیا گیا ہے۔محبت کے موضوع پر شائع ہونے والی ایک تقابلی افسانہ نویسی کی کتاب ’’ عشق ‘‘ سے اُن کا یہ افسانہ ترجمہ کیا گیا ہے۔
’’ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی!۔۔۔ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر نہیں جاسکتی!ماں!میں آج۔۔۔مارلینے کا جملہ ادھورا رہ گیا اچانک ہی بیرٹا چلائی
’’ ہاں ! میں نے سن لیا۔۔۔میں نے سن لیاکہ تم مجھے آج بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر جاسکتی۔۔۔اپنی کمزور ماں کو ساتھ نہیں لے کر جاسکتی۔
مارلینے نے دوسری جانب جھنجھلاہٹ سے جواب دیا:
’’ ماں ! تم جانتی ہو کہ میری کیا مصروفیات ہیں ۔۔۔ آج یورگ بھی کئی دنوں کے بعدابھی آیا ہے اور وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جاناچاہتا ہے۔۔۔ماں سمجھ رہی ہو نا!۔۔ میں تمہیں بعد میں فون کرونگی وہ ابھی گھر سے نکلنے کو تیار کھڑا ہے۔میں فون رکھ رہی ہوں اب!
فون ایک جھٹکے سے بند ہوچکا تھا،بیرٹا کان سے ریسور ہٹا کر اسے دیکھنے لگی پھر آہستہ آہستہ کچھ سوچتے ہوئے فون کا ریسور اُس نے اُس کی جگہ پر رکھ دیا۔ وہ ایک مخمصے کے عالم میں چند لمحے فون کی جانب ٹکٹکی باندھے ایسے دیکھتی رہی، جیسے کہ اُس نے کچھ غلط سُنا ہو اور مارلینے نے اُس سے یہ کہا ہو کہ وہ بس راستے ہی میں ہے تھوڑی دیر میں پہنچنے والی ہے۔ اُس کا انتظار اب کچھ ہی دیر میں ایک اُمید بن کر اُس کی کھوئی ہوئی خوشی لوٹا دے گا، جب کہ وہ اس بات کو بخوبی سمجھ چکی تھی کہ ایسا نہیں ہونے والا ۔۔۔مارلینے نہیں آرہی ہے۔اس حقیقت کا اعتراف کرنا اُسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔ اُس کے جسم میں یہ اعتراف ایک ارتعاش بن کر اُسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ وہ ٹیلی فون کی میز کے پاس سے ہٹ کر چند قدم آگے بڑھی۔ چند قدم کے فاصلے پر رکھے ہوئے ایک صوفے پر وہ اس طرح بیٹھی کہ جیسے اُس نے کوئی بوجھل سامان ایک جھٹکے سے اُتار کر صوفے پر لا پھینکا ہو۔
’’ یہ صوفہ !۔۔ یہ صوفہ تو ہیرمن کی خاص نشت تھا ‘‘
بیرٹا صوفے کے ہینڈل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑائی۔ اُس کے بوڑھے ہاتھوں نے صوفے کے ہینڈل سے اُس کے کناروں اور پھر ہر طرف ہاتھ پھیر کر اُسے محسوس کرنا شروع کر دیا۔ صوفے پر رکھے کُشن اور اُس کے غلاف میں ابھی بھی اُس کو ہیرمن کی خوشبو محسوس ہورہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب اس گھر میں ہیرمن کا دوبارہ آنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے لیکن پھر بھی اُس نے ہیرمن کے استعمال کی تمام چیزوں کو بہت محبت کے ساتھ سمیٹ کر رکھا ہوا تھا۔ہیرمن سے دوری کا دکھ اُس نے بہت مشکل سے سہا تھا۔اُس کو اچانک ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے اب اُس کے خواب گاہ کے بستر کی چوڑائی اچانک بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ اکثر راتوں کو اُٹھ کر ہیرمن کی خوشبو اُس کمرے میں تلاش کرتے ہوئے جب اپنے بازوئوں کو پھیلا کر اُس جانب لے جاتی جس جانب ہیرمن سویا کرتا تھا تو اُس کو ایسا محسوس ہوتا کہ اب اُس کے ہاتھ اِس دوری کو نہیں پاٹ سکتے۔اُسے ایسا لگتا کہ اُس کا یہ بستر اُس کو کسی وسیع سمندر کی طرح اپنی گود میں لٹائے آسمان اور سمندر کے ملاپ جیسی دوری کا منظر دکھا رہا ہے۔ پچھلے چند ماہ سے بیرٹا نے خود کو سنبھال لیا تھا، گھر کے در و دیوار، ساز و سامان اس گھر میں اب ہیرمن کی یادیں بن کر اُس کی محبت کو سہارا دے رہے تھے۔ ہیرمن کی یادیں ہی اس جدائی کے سفر میں اُس کی محبت کو زندہ رکھے ہوئے تھیں۔ وہ انہیں یادوں کے سہارے اب ایک ایسی منزل کی جانب گامزن تھی جہاں سوائے دل کو بہلانے کو اور کوئی صورت زندگی گزارنے کی نظر نہیں آتی تھی۔
ہیرمن اور بیرٹا کا ساتھ بہت پرانا تھا ،بیرٹا اپنی ابتدائی جوانی کے دنوں میں اپنے گھر کا عیش و آرم، نوکر چاکر گاڑی اور گھوڑے چھوڑ کر ہیرمن کی محبت میں چلی آئی تھی اور اُس کے ساتھ زندگی کا یادگار سفر شروع کردیا تھا۔وہ ایک گھریلو عورت تھی جوہمیشہ صرف اپنی بیٹی اور شوہر کی راحت کا سامان مہیا کرنے کے اور کچھ نہیں سوچتی تھی ۔ہیرمن اور مارلینے سے محبت میں اُس نے اپنی تمام عادتوں اور مشاغل کو اُن کی پسندکے مطابق ڈھال لیا تھا اسی لیے اُن راحت کا اہتمام کرنے ،سارا دن گھر میں رہ کر اسے سجانے ، نت نئے اور لذیذپکوان بنانے اور گھر کا باغیچہ پھولوں پودوں سے سنوارنے میں گزار دیتی تھی، سلائی کڑھائی اور بنائی اُس کے بہترین مشغلے تھے ۔ سردیوں میں وہ اکثراُون اور سلائی میں مگن خاموشی سے سوئٹرووں اور مفلروںکے گھر بننے میں مصروف رہتی اور گرمیوں میں اپنی آنکھوں پر نظر کا چشمہ جمائے باغوں کے پھولوں کو تکئے اور میز پوش پر اُتارنے میں لگی رہتی۔
گھر سے باہر کی دنیا اُس کے لیے صرف اور صرف ہیرمن کے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے ہی میں رنگین اور پُر لطف لگتی تھی۔ شہر سے دور ایک پر فضا مقام پر وہ اپنی اس چھوٹی سی جنت میں خوش تھی۔ اُس کی بیٹی مارلینے نے جوانی میں قدم رکھنے کے بعد اپنی زندگی کوتعلیم اور اپنے دوست یورگ کے ساتھ مشغول کر لیا تو بیرٹا نے بھی خود کو ہیرمن کے ساتھ اور قریب ہوکر اس تعلق کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔ وہ یوں بھی کبھی اکیلی باہر نہیں جاتی تھی لیکن اب وہ گذشتہ کئی مہینوں سے ہیرمن کے بغیر اکیلی باہر نہیں گئی تھی۔ہیرمن کی جدائی نے اُس کے اعصاب اور حواس کو جکڑ کر رکھ دیا تھا۔ اُسے ڈر لگتا تھا کہ وہ باہر کہیں بھٹک جائے گی۔
مارلینے ہرہفتے اُس کے پاس آجایا کرتی تھی تاکہ وہ گھر سے باہر نکلے ، کچھ چہل قدمی کرے، کھانے پینے کی ضروری خریداری کرنے کے لیے اُس کے ساتھ چلے ۔ لیکن بیرٹا ہفتے کی صبح مارلینے کے آتے ہی سب سے پہلے ہیرمن کے پاس جانے کو تیار ہوتی۔جب تک وہ ہیرمن کے پاس نہ چلی جاتی اُسے سکون نہ ملتا۔ وہ ہفتہ بھر اس دن کا انتظار کرتی کہ کب مارلینے آئے گی اور اُسے اپنے ساتھ ہیرمن کے پاس ملوانے لے جائے گی، جہاں وہ ہفتے بھر کی جمع شدہ باتیں ہیرمن سے کر کے اپنے دل کو ہلکا کرئے گی۔وہ ہفتے بھر کی ساری چھوٹی چھوٹی باتیںسوچ سوچ کر اپنے دماغ میں محفوظ کرتی کہ اس ہفتے وہ ہیرمن کو کیا نئی بات سُنائے گی،موسم کی تبدیلی، شہر کے حالات اور اپنی دن بھر کی مصروفیات کو اُس نے اپنے ذہن میں اس طرح جما کر رکھا ہوتا تھا کہ جیسے وہ اُس کا سب سے قیمتی خزانہ ہو۔اب وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اپنے ہفتے بھر کی اِن جمع شدہ باتوں کو وہ کب اور کیسے ہیرمن کو سنائے گی جن کو سن کر ہیرمن مسکرا دے یا زندگی کے کسی احساس کو وہ ردِ عمل کے طور پر پیش کرئے۔ بیرٹا کو اپنا دل بھاری محسوس ہورہا تھا ، اُس کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اچانک اُ س کی سانسیں بھاری ہوکر اکھڑنے سی لگی ہیں۔ اُس کے اندر کی گھٹن نے اُس کے ذہن سے نکل کر اب اُس کے جسم کے دوسرے اعضاء پر حملہ کرنا شروع کریا ہے، اُسے اپنے پائوں بھاری محسوس ہورہے تھے وہ بڑی مشکل سے اپنے حواسوں کو سنبھالتی ہوئی اُٹھی۔ وہ مستقل بڑ بڑائے جارہی تھی۔
’’ آج مارلینے مجھے لینے نہیں آسکتی ۔۔۔آج ۔۔ آج میں ہیرمن کے پاس نہیں جاسکونگی۔۔۔ وہ میری راہ دیکھتا رہ جائے گا۔۔‘‘
بیرٹا کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اُس کی کوئی قیمتی شئے کہیں کھو گئی ہواور اب اُس کو نہیں معلوم کہ وہ اپنے اُس خزانے کو کہاں تلاش کرئے۔ کوئی نا معلوم بے چینی اسے بیٹھنے بھی نہیں دے رہی تھی ۔ وہ اسی فکر میں صوفے سے اچانک اٹھی اورکمرے کا ایک جائزہ لیتے ہوئے آہستہ آہستہ گھر کی نچلی منزل کی جانب قدم بڑھانے شروع کر دئیے۔ اس نے اپنی تمام ہمت و طاقت کو جمع کر کر کے سیڑھیاں نیچے اُترنا شروع کر دیں۔ اِن سیڑھیوں سے اکیلے اُترے ہوئے بھی اُسے کئی دن ہوگئے تھے۔ جیسے جیسے وہ سیڑھیاں اُترتی جاتی اُس کو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے ابھی اُس کے اندر تھوڑی بہت طاقت و ہمت موجود ہے اور وہ اسی طاقت کے بل پر اپنے جسم کو اپنی مرضی سے کنٹرول کر سکتی ہے۔ اُس کو اپنے اندر اچانک زندگی کے آثارمحسوس ہونا شروع ہوگئے۔ وہ سیڑھیاں اُتر کر اپنی وارڈ روب کی طرف آئی ۔ آج وہ پیلا پھولدار ڈریس پہننا چاہ رہی تھی ، وہ ڈریس اُسے ہیرمن نے شادی کی سالگرہ کے موقع پر بہت اصرار سے دلایا تھا۔ ڈریس کو وارڈ روب سے نکالتے ہوئے اُس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ پیلا رنگ ہیر من کا پسندیدہ رنگ تھا، وہ اسے بہار کی آمد کی علامت اور امید کا نشان سمجھتا تھا۔ اس لباس میں وہ ہیرمن کے ساتھ پہلی بار لانگ ڈرائیو پر باویریا کے ایک پہاڑیوں میں گھرے چھوٹھے سے قصبے میں جب بہت اونچائی تک گئی تھی تب اُنہیں ان پہاڑیوں میں کھلے پیلے اور رنگین پھولوں کی قطار نے اُسے مدہوش کر دیا تھا۔محبت کا ایسا نشہ اُس روز اُن دونوں کے دل و دماغ پر چھایا تھا کہ آج تک وہ اس احساس کو اپنے دل میں کہیں دھڑکتا ہوا محسوس کرتی تھی۔ اُس روز ہیرمن کی محبت میں بیرٹا کو محسوس ہوا تھا کہ اُس کی یہ محبت اُس کے جسم اور روح کو توانا رکھنے والی ایک ایسی انمول طاقت جو اِن بلند و بالا پہاڑوں کو بھی ہلا سکتی ہے ۔
’’ہیرمن میں تمہاری محبت میں اِن پہاڑوں کو بھی ہلا سکتی ہوں‘‘
جب اُس نے یہ جملہ ہیرمن سے کہا تو وہ دیر تک اُس کی آنکھوں میں اس جذبے کی سچائی کو تلاش کرتا رہاتھا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر اُس کے چہرے کو والہانہ چومنے لگا تھا ، پھرکچھ دیر بعد اُس نے ہنستے ہوئے بیرٹا سے پوچھا کہ
’’ یہ تو بہت مشکل کام ہے ڈارلنگ! کیا سچ مچ تم ایسا کر سکوگی؟
ہیرمن کے اس بے ساختہ پن پر پھر دونوں ہی ہنسنے لگے اور اِ س پُر فریب منظر سے دیر تک لطف اندوز ہوتے رہے۔بیرٹا کو گزرا ہوا وہ وقت یاد کر کے اپنے اندر ایک عجیب سی پھرتی محسوس ہورہی تھی، اُس نے کچھ سوچتے ہوئے اس ڈریس کے ساتھ میچنگ کرتی ہوئی ایک چھوٹی جیکٹ بھی نکالی۔ وہیں پڑی ایک کرسی پر بیٹھ کر وہ اپنا لباس تبدیل کرنے لگی۔ اُس کی سانسیں بدستور پھول رہی تھیں، اُس نے دل میں ارادہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ آج کسی بھی طرح ہیرمن سے ملنے جائے گی۔
لباس بدلنے کے بعد اُس نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سوچنا شروع کر دیا کہ وہ کیسے آج مارلینے کے بغیر ہی ہیرمن سے ملنے جاسکتی ہے۔ ’’ٹیکسی گھر کے دروازے پر اگر بلا لی جائے! اُس نے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ پھر خود ہی اپنے مشورے کو رد کرتے ہوئے کہنے لگی
’’ میرے پاس پیسے کہاں ہیں ٹیکسی کو دینے کے لیے۔۔۔ سارا حساب کتاب تو مارلینے کے ہی پاس ہوتا ہے اب۔۔۔اب وہ ہی تو اس گھر کے اور میرے اخراجات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔پڑوسی بھی اجنبی ہیں ابھی کچھ دن قبل ہی تو مسٹر ڈیوڈ کے مرنے اور اُن کی بیگم سلویا کے اولڈ ہوم میں جانے کے بعد یہاںایک نوجوان جوڑا یہاں منتقل ہوگیا تھا اور اُن سے مانگنا تو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔یوں بھی وہ نوجوان تیز آواز میں موسیقی سنتے ہیںاور جب کبھی ہمیں آتے جاتے دیکھتے ہیں تو ایک لمبا چکر کاٹ کر ہم سے ایسے دور ہوکر گزرتے ہیں کہ جیسے ہم کوئی بوڑھے پڑوسی نہیں بلکہ کوئی چھوت کی بیماری ہوں۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔ میں اُن سے مدد نہیں مانگوں گی‘‘
بیرٹا نے میز کی دراز سے اپنے بٹوے کو نکال کر اُس میں جھانکنا شروع کیا ۔ وہاں چند سکوں کے سوا کوئی رقم نہیں تھی اور اِن سکوں میں تو وہ ہیرمن کے پاس جانے کا سفر ٹیکسی سے طے نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے اُداسی اور مایوسی سے اپنا بٹوہ واپس میز کی دراز میں رکھنے کے لیے دراز کھینچی تو اچانک اُس کی نظر ایک چابی کے گچھے پر پڑی ، یہ گھر کے گیراج اور ہیرمن کی گاڑی کی چابیاں تھیں۔ بیرٹا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُس نے چابی کا گھچھا جلدی سے اُٹھا کر اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے سوچا کہ آخری بار اُس نے تقریباََ چالیس سال قبل گاڑی چلائی تھی۔ اُس وقت وہ مارلینے کو کنڈر گارٹن سے لینے جارہی تھی کہ گلی کے ایک موڑ پر اُس نے ایک ایکسیڈنڈنٹ کر ڈالا تھا۔ اُس کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن سامنے سے گاڑی ایک کھمبے سے ٹکرا کر اچھی خاصی تباہ گئی ۔ ہیرمن کو عورتوں کا گاڑی چلانا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ عورتیں صرف گھر ہی بہتر چلا سکتی ہیں، سڑکوں پر اگر وہ گاڑیاں لے کر نکل آتی ہیں تو سوائے مردوں کو گاڑی چلانے میں رُکاوٹ ڈالنے یا ٹریفک کے قوانین توڑنے کے اور کچھ نہیں کر سکتیں۔ کسی آڑہی ترچھی پارک کی ہوئی گاڑی کو دیکھ کر وہ ہمیشہ کہتا کہ یقیناََ اس کار کی ڈرائیور کوئی عورت ہی ہوگی۔ جب ہیرمن نے اپنی پہلی گاڑی خریدی تو بیرٹا کو صرف اُس گاڑی کی چابی اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی لیکن لائسنس ہونے کے باوجود اُس کو ہیرمن کی گاڑی چلانے کی اجازت اُس دن سے ختم ہوگئی تھی جس روز اُ س نے وہ حادثہ کیا تھا۔ اُس دن کے بعد سے بیرٹا کو کہیں بھی جانا ہوتا ہیرمن اپنے ساتھ ہی گاڑی میں لے کرجاتا، ہیرمن اُس کا ڈرائیور ہی نہیں اُس کا رہبر بھی اُس وقت تک بنا رہا جب تک اُسے فالج کے اُس اچانک حملے نے ہاتھ پائوں تو کیا زبان سے بھی کچھ کہنے اور اپنے احساسات ظاہر کرنے کے قابل نہ چھوڑا اور اسے جسم و ذہن سے معذور کر دیا ۔ اب وہ صرف ایک مردہ جسم کی طرح اپنا وجود سنبھالے گذشتہ کئی مہینوں سے ہسپتال کے بستر پر پڑا تھا۔
بیرٹا کا منہ اُس حادثے کو یاد کرتے ہوئے ایک بار پھر خشک ہونے لگا ۔اُسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ حادثہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہوا ہے۔ اُس نے اپنے گلے میں لعاب نگلتے ہوئے ایک بار پھر گاڑی کی چابیوں کے گچھے کو غور دیکھا۔ اُسے لگ رہا تھا کہ آج وہ باویریا کے اُس چھوٹے سے قصبے کے پہاڑوں کو سچ مچ ہلا سکتی ہے۔ اُس نے گاڑی کے کاغذات اور اپنے ضروری شاختی کاغذات کو قریب ہی رکھی میز کی ایک مخصوص دراز سے نکال کر وارڈ روب میں لٹکے ہوئے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھنا شروع کر دیے اور سامنے لٹکی ہوئی اپنی ہیٹ کو اٹھا کر قرینے سے اپنے سر پر جمائی، راہداری میں لگے قدِ آدم آئینے میں اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے خود کو غور سے دیکھا۔ اُس نے اپنی آنکھوں میں جھانکا جہاں اُسے ایک باہمت عورت کی شکل نظر آئی ۔ اُس نے بڑے اعتماد کے ساتھ اپنے گھر کے صدر دروازے سے نکل کر گیراج کا گیٹ کھولا اور سامنے ہی ہیرمن کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ اُس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی کا ریموٹ بٹن دبایا ایک ہلکی سی آواز اور لائیٹ کے جلنے بجھنے کے بعد گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ اسٹئیرنگ کے سامنے ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اُس نے گاڑی میں چابی لگانے کے بعدسائیڈ مرر اور سامنے کا شیشہ اپنے حساب ست ٹھیک کیا ۔ گاڑی میں مسلسل ارتعاش ہورہی تھی اُس نے کلچ دبا کر پہلا گئرلگایا اور آہستہ آہستہ بریک سے پائوں ہٹانا شروع کیا۔ گاڑی چل پڑی۔ اُس کا جسم اب بھی کانپ رہا تھا، ہتھیلیاں پسینے سے بھری ہوئی تھیں اور پیشانی پر بھی پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ اُس نے اپنے سر سے ہیٹ اُتار کر برابر کی سیٹ پر رکھا اور گھر کے گیراج سے گلی کے نکڑ اور پھر وہاں سے بڑی سڑک تک کا سفر طے کر کیا اُس نے پہلے گئر سے دوسرے اور پھر تیسرے گئر میں گاڑی کی رفتار بڑھانا شروع کردی ۔کچھ دیروہ اپنی ہمت اور ارادے کو اڑان دیتے ہوئے جانے پہچانے راستے پر گاڑی دوڑانے لگی۔ اُس کے کانوں میں اپنی ہی آوز ٹکرا رہی تھی۔
’’ بیرٹا ! تم گاڑی چلا سکتی ہو۔۔۔ تم ہیرمن کے بارے میں سوچو۔۔وہ آج کتنا خوش ہوگا ۔۔ آج تمہارے پاس اُسے بتانے کو تمہار ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔۔۔وہ کتنا خوش ہوگا جب وہ تمہیں اپنے سامنے دیکھے گا، حیرت سے اور خوشی سے اُس کی آنکھیں چمکیں گی۔۔۔اُس کا بھی تو انتظار ختم ہوگا۔۔۔ پورے ہفتے بھر کا انتظار ۔۔۔مجھ سے ملنے کا انتظار۔۔۔ میری باتیں سننے کا انتظار اور اپنی باتیں کہنے کا انتظار۔۔۔
گاڑی کا شیشہ آدھا کھلا ہوا تھا ۔ اُس کے بالوں کا اُلجھا جوڑا کھُل اُس کے ملگجی بالوں میں گزرے وقت کی رفتار دکھا رہا تھا اور موسمِ بہار کی آنے والی ہوائوں میں اُس کا پیلا لباس فضامیں ایک رنگ بکھیر رہا تھا۔ وہ اِن تمام باتوں سے بے نیازگاڑی دوڑائے جارہی تھی ۔سڑک پہ آتی جاتی گاڑیو ں کی ہارن بھی وہ سن رہی تھی لیکن ہیرمن سے ملنے کی آس میں مگن چھوٹی بڑی سڑکوں سے گزرتی ہوئی وہ ہسپتال کے پارکنگ ایریا میں داخل ہوگئی تھی۔ اُس نے ایک کھلی جگہ پر آڑھی ترچرچھی گاڑی پارک کر کے چابی اپنے پرس میں رکھی اور ہسپتال کی مرکزی گزر گاہ سے ہوتی ہوئی اسپیشل کیئر وارڈ میں آگئی ۔ وہ کئی مہینوں سے یہاں مارلینے کے ساتھ آرہی تھی راہداری اور کمرا اُسے اچھی طرح یاد تھے۔ وہ تیز تیز پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ دروازہ کھول کر ایک کمرے میں داخل ہوئی ، جہاں ہیرمن اُس کے انتظار میں اپنی اَدھ کھلی آنکھیں فرشِ راہ کئے ساکت اُس کا منتظر تھا۔اُ س کی حالت کئی ہفتوں سے ایک ہی جیسی چل رہی تھی ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہیرمن اب کچھ ہی دن کامہمان ہے اور وہ کسی بھی دن اس دنیا کو چھوڑ کر جاسکتا ہے۔
بیرٹا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی والہانہ اُس کے ہاتھوں کو چومنا شروع کردیا اور جزباتی انداز میں روتے ہوئے کہا
’’ ہیلو ڈارلنگ ! میں آگئی ہوں تمہارے پاس ۔۔۔ تمہاری زندگی ! بیرٹا !! ڈارلنگ ! دیکھو میری جانب ! یہ لباس ۔۔ یہ گاڑی کی چابیاں۔۔۔۔ میں نے پہاڑوں کو اُن کی جگہ سے ہلا دیا ہے ہیر من! اب تم بھی ہمت کرو اورمیرے پاس لوٹ آئو۔۔۔
بیرٹا کے آنسوؤں سے بھرے چہرے پرایک جوش اور اضطرابی کیفیت دکھائی دے رہی تھی وہ ہیرمن کا ہاتھ تھامے بولے چلی جارہی تھی دوسری جانب شایدہیرمن بھی اپنے فالج ذدہ جسم اور کومہ میں ہونے کے باوجود اُس کی آمد کو محسوس کر رہا تھامگر اُس کا ضعیف اور جھریوں سے بھرے ڈھانچہ نما جسم ویسا ہی ساکت و سرد تھا لیکن بیرٹا کو ایسا لگ رہا تھا کہ پہاڑوں کے ہلنے سے کچھ جھرنوں نے ہیرمن کی آنکھوں کو نم کرنا شروع کردیا ہے۔