You are currently viewing گڑ کی جلیبی

گڑ کی جلیبی

ناہید طاہر،ریاض،سعودی عرب

گڑ کی جلیبی (افسانہ)

دو کمروں پر مشتمل وہ مکان، جس کی بوسیدہ دیواریں رنگ سے بے نیاز ہر جگہ سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھیں، کسمپرسی کی مورت بنا ہوا تھا۔ یہاں بجلی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دیواروں کی طاقوں میں رکھے دیے اپنی مدھم روشنی سے اندھیرے کو شکست دینے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے  سرشار دکھائی دے رہے تھے، گویا مکینوں پر کوئی احسان جتا رہے ہوں۔

منڈیریں بھی شکستہ حالت میں تھیں جہاں آوارہ  کبوتر بیٹھے مسلسل غٹرغوں کرتے رہتے تھے۔ کمو انھیں بڑی محبت سے دانہ ڈالتی۔کبوتروں کی غٹرغوں چہار سُو پھیلی ویرانی کا بوجھ کچھ لمحوں کے لیے ہلکا کرتی اور کمو کا منتشر دماغ بھی لمحہ بھر کو سکون پاتا۔

گھر کی ویرانی سے باہر نکل کر دیکھا جائے تو وہاں بھی سناٹوں کی حکمرانی تھی۔ شام ڈھلتے ہی یہ علاقہ بیوہ کی سی مانوس اُداسی اوڑھ لیتا۔ کبھی کبھار کوئی مرد یا عورت، اونٹ کی نکیل تھامے، تھکے قدموں سے گزرتا دکھائی دیتا۔

ہریانہ کا یہ صحرائی علاقہ قحط کا مارا ہوا تھا، جیسے وقت نے اسے نظر انداز کر دیا ہو۔ ناخواندگی عام تھی، ترقی نایاب۔کمو گاؤں کی واحد لڑکی تھی جس نے شہر جا کر نرسنگ کا کورس مکمل کیا تھا۔ گاؤں میں لوگ اُسے ‘ ڈاکٹر’کہتے تھے۔سال میں ایک مرتبہ یہاں ہولی کی پوجا ہوتی، خوب ناچ گانا ہوتا۔ مکھیا اور شہر سے آئے سیاسی لیڈروں کی قیادت میں شراب کی بوتلیں ناچتیں۔ یہ ایک ایسی یادگار پوجا ہوتی جس کے زیرِ اثر لوگوں کے دل و دماغ خوف کی چادر اوڑھے سال بھر کانپتے رہتے۔

موسمِ گرما کی تپش زدہ راتیں کمو کے لیے عذاب بن گئی تھیں۔ کسی پل قرار نہ تھا۔اس وقت بھی، وہ وجود میں دبی گھٹن سے پریشان، چھت پر آ گئی اور اُجڑی نظروں سے  کالے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے چاند کو دیکھنے لگی۔ وہ چاند اس صحرائی زندگی میں اس کا تنہا ہمدرد تھا۔وہ سرد آہ بھر کر کبوتر کے گھونسلے کی طرف متوجہ ہوئی۔یہاں ایک مادہ کبوتر گزشتہ تین دنوں سے انڈوں پر بیٹھی انہیں سینا رہی تھی۔کمو نے اپنے اُبھرے ہوئے پیٹ کو دیکھا۔ چہرے پر کراہت اور نفرت کی ایک لہر دوڑ گئی ۔وجود کی گہرائی میں سلگتی نفرت شعلہ بن کر بھڑکی تو اس نے اپنی دونوں بانہیں اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا اور پوری قوت سے دیہی لہجے میں چلائی:

“بھگوان! پیٹ میں دبکا بیٹھا جُو ای دشمن سَے، تُو مارے کیوں نہ ڈالا اس نے رے؟”

سردیوں میں شام آنچل پھیلائے جب آنگن میں اُترتی ہے تو اپنے دامن میں بے نام سی اداسیاں بھی سمیٹ لاتی ہے۔ اس اداسی تلے روح میں پیوست زخم بھی جیسے کراہ اٹھتے ہیں۔کمو، نو ماہ کی اذیت اپنے وجود میں سمیٹے، اونٹ کی نکیل تھامے، بوجھل قدموں سے صحرائی علاقہ عبور کرتی ہوئی بہت دور نکل چکی تھی۔

ایک ناختم ہونے والا ریت کا دریا تھا۔ چہار سُو پھیلے ریت کے ٹیلے، پرندوں سے عاری اُداس آسمان اور فضا میں اُڑتی خاک نے ماحول کو سوگوار بنا رکھا تھا۔سانس بحال کرتے ہوئے اس نے آہستگی سے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔پیٹ میں چھپا دشمن جیسے چونکا اور اُس نے پیر کی ضرب لگائی۔”اوئے حرام کا جایا!”کمو نے کراہ کر بڑی نفرت سے گالی دی۔

اونٹ نے بغبغاتے ہوئے سر آسمان کی طرف اٹھایا۔”او تنے تو بڑی خوشی چڑھ لی رے!”

اس نے جھلا کر نکیل زور سے کھینچی۔فضا میں کچھ عجیب سا شور تھا۔ کمو نے چونک کر اوپر دیکھا۔اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ فضا میں آگ لپکی۔کمو نے سہم کر آنکھیں موند لیں۔دوبارہ آنکھیں کھولیں تو دیکھا، ایک ہیلی کاپٹر صحرائی ریت میں گر چکا تھا۔

ڈھلان کی طرف ایک سایہ لڑھکتا ہوا نظر آیا۔کمو دوڑی۔ نزدیک پہنچی تو دیکھا، ایک ادھیڑ عمر شخص لہولہان پڑا تھا۔

کمو اپنے لرزتے وجود کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور زخمی شخص کی مدد کرنے لگی۔مگر دوسرے ہی لمحے وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن، اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے بے رحمی سے بھینچا۔جب خون کا ذائقہ زبان پر پھیل گیا تو اس نے لبوں کو دانتوں کی گرفت سے آزاد کیا۔وحشی انداز میں اس نے زخمی شخص کو جھنجھوڑا۔اس کے سر پر چوٹ تھی، جس سے خون بہہ رہا تھا۔کمو نے اپنے دامن کا کچھ حصہ چاک کیا اور زخمی شخص کے سر پر پٹی باندھ دی۔زخمی کی حالت بہت تشویش ناک تھی۔ وہ بمشکل سانسیں لے رہا تھا۔کمو نے جلدی سے زخمی کے سینے پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالا تاکہ سانسیں ہموار ہوں، لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔اس نے پھر سے پوری قوت سے جھنجھوڑا اور مٹھیوں سے سینے پر پے درپے ضربیں لگائیں۔پھر کچھ سوچ کر وہ زخمی شخص کے اوپر جھکی۔

اچانک ایک آواز، ماضی کا پردہ چاک کرتی ہوئی، سماعت سے ٹکرائی”

“تُو چُھوت کا ہے ری!”

“تیرے پاؤں سے یہ مندر میلی ہو گی!”

اس کے ساتھ ہی باپو کو دھکا دے کر سیڑھیوں سے نیچے گرا دیا گیا۔

“باپو رے!”

کمو تڑپ کر باپ کو سہارا دینے کے لیے دوڑی۔

باپو کا چہرہ زمین سے لگا ہوا تھا، دھول چاٹتا ہوا دکھائی دیا۔

“بھگوان سب کا ہے رے، درشن کا حق کوئی چھین نہ سکتا!”

باپو کی مدھم، سچائی سے لبریز آواز اُبھری۔

“اوے! زبان چلاوے ہے میرے آگے؟”

ایک رُعب دار سیاسی لیڈر، جس کی عمر پچاس کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی، نے اچانک پچاری کے ہاتھ سے تھالی چھین کر باپو کی پیشانی پر دے ماری۔لمحے بھر میں ماتھا شق ہوا اور خون کا فوارہ شدت سے پھوٹ نکلا۔

“صاہِب! اوپر والا سب کا لہو ایک جیسا دیہ سَے… جے آدمی، آدمی میں بھید بھاؤ کرے گا نا، تو بھگوان ناراض ہو جاوے گا رے!”

“توبہ رے توبہ! بھید بھاؤ کدّا نہ کرنا! ہم تو بھئی چھوٹ بھوٹ کُچھ نہ سَے (ذات پات)۔ ہمیں تو گُڑ کی خوشبو بھا جاوے!”

چھڑی سے کمو کے ہونٹوں کی توہین کرتے ہوئے وہ معنی خیز انداز میں کہا اور تمسخر آمیز قہقہہ لگایا ۔

“ہولی کی رات سَے رے۔۔۔ گُڑ جیسی رنگت والے جلوے دکھا دے بی… گھنے انعام دیے جائیں گے تنے۔۔۔!!”

“صاہِب! بچی ہے بی… رحم کرو… چھوڑ دو اِس نے!”باپو ہاتھ جوڑ کے گڑگڑایا۔

“بھگوان نے تو ہمیں شوگر کی بیماری نہ دی رے… جلیبی کھاوے سے کون روک لے گا ہمیں؟”

فحش نظروں سے گھورتا ہوا، اُس نے قہقہہ لگایا۔

نسلی امتیاز کے دعوے دار سماج کے مہذب ٹھیکے داروں نے معصوم کمو کی عزتِ نفس پامال کرتے ہوئے اُسے درندوں کی مانند گھسیٹا تھا۔گاؤں کے لوگ ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے۔آنکھوں میں ماضی کی کرچیاں چبھنے لگیں۔کمو نے زخمی شخص کے سینے پر زور کی ضرب لگاتے ہوئے جنونی کیفیت میں چلائی:

“آج تیرے پھیپھڑاں میں سانس بھی میں ہی پھونکاں گی، بے!”

وہ پھر جھک کر اسے منہ سے سانس دینے لگی۔

“ارے تیرے ہونٹ تو بڑے رس بھرے لگے ری!”

یادِ ماضی نے دماغ میں ایک بار پھر نفرت کی سنسناہٹ بھر دی۔

“پنڈت! تُو اپنی پوجا چالو رکھ!”

“صاہِب! بچی سَے بی… رحم کرو… بخش دو اِس نے۔۔۔ ہم کدّے مندر کی اور نہ جاں گے رے!!”

ایک مجبور باپ کی لرزتی آواز بازگشت بن کر بہت دیر تک فضا میں سسکیاں بھرتی محسوس ہوئی۔

کمو کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

اس نے بڑی حقارت سے زمین پر تھوکا اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چلائی:

“بس۔۔۔!!!!!!!”

زندگی کی شمع کو جلائے رکھنے کی جو کوشش تھی، وہ بالآخر کامیاب رہی۔ کمو کے لبوں سے سانس کا گرم جھونکا اس کے پھیپھڑوں میں اترا تو وہ جھٹکے سے کھانسا، جیسے ڈوبتے کو کسی نے یکدم پانی سے کھینچ لیا ہو۔ پلکیں آہستہ آہستہ کانپتے ہوئے اُٹھیں اور آنکھوں میں نیم جان سا اُجالا بھر آیا۔ اُس نے  تشکر آمیز نگاہوں سے اپنی مسیحا کو دیکھا۔پھر لب ہلائے اور مدھم سی آواز گونجی:

’’تھارا اپکار‘‘

جواب میں کمو نے سختی سے ہونٹوں کو بھینچا۔کمر میں چھپی تیز دھار چاقو پر اس کی گرفت سخت ہوئی۔تیز ہوا اور ریت سے اُٹھنے والا شور ماحول پر عجیب سی دہشت پھیلائے تھا اور یہ ہوائیں ریت کے ٹیلوں سے ٹکراتی صحرا کو پُراسرار بنا رہی تھیں۔

’’تُو نے میری جان بچائی ری۔۔۔ اس کے بدلے سرکار تجھے بڑّو انعام دے گی بی!‘‘

جواب میں وہ کسی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح دھاڑی:

’’کتنی معصوم عورتوں کی زندگی برباد کری ہے تُو نے؟‘‘

زخمی شخص کے گلے میں سانسیں الجھنے لگیں۔ اس کے سوکھے لبوں نے جنبش کی:

’’کمو!‘‘

کمو وحشیانہ انداز میں چلائی:

’’کمو نہ رے… جلیبی!

وہی گُڑ کی جلیبی، تنے بھگوان نے ساکشی بنا کے حیوان وان گٹک لیا تھا رے!‘‘

دور سے شور سنائی دیا.گاؤں کے لوگ تیزی سے دوڑے چلے آ رہے تھے۔

ایک آندھی اٹھی۔ کمو کے ہاتھوں کی گرفت بھی کمر پر چھپی چُھری پر سخت ہوئی۔کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے ہاتھ چلایا اور۔۔۔

فضا میں ایک دردناک چیخ گونجی:

’’کے کری دیا رے تُو؟‘‘

’’جان بچا کے… شوگر کی بیماری لگا دی بی تنے! ہا ہا ہا ہا!”

جنونی کیفیت تلے قہقہہ لگاتے ہوئے، اُس نے اپنے اُبھرے ہوئے پیٹ پر تھوک دیا۔

Leave a Reply