You are currently viewing ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کی شاعری میں فکر و فن کا تنوّع اور سماجی شعور

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کی شاعری میں فکر و فن کا تنوّع اور سماجی شعور

طاہرہ خاتون

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کی شاعری میں فکر و فن کا تنوّع اور سماجی شعور

تلخیص

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں، ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ فکر و فن، مذہبی عقائد اور سماجی شعور کا سنگم ہے۔ ان کا نظریہ فن برائے زندگی پر مبنی ہے، جہاں وہ اپنی ذات کے کرب کے ساتھ معاشرے کے بکھرتے ڈھانچے کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

عاملؔ کی حمدیہ شاعری میں خدا پر کامل بھروسے کا درس ملتا ہے، جب کہ نعتوں میں عشقِ رسول اور شرعی حدود کا بہترین توازن برقرار ہے۔ حج کے سفر پر مبنی ان کے اشعار روحانیت اور باطنی تبدیلی کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ محض رسومات کے بجائے حقیقی تبدیلیِ قلب کو حج کا اصل مقصد قرار دیتے ہیں۔

ان کے کلام کا ایک اہم پہلو حبِ وطن اور سماجی تنقید ہے۔ وہ بھارت کی کثیر الثقافتی شناخت کے علم بردار ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔ ساتھ ہی، وہ ہجومی تشدد، سیاسی منافقت اور مادہ پرستی جیسے عصری مسائل پر جرأت مندانہ احتجاج کرتے ہیں۔ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال پر بھی کڑی نظر رکھتے ہیں۔

فنّی اعتبار سے عاملؔ قادر الکلام شاعر ہیں۔ وہ پیچیدہ مسائل کو سہلِ ممتنع، دلکش تشبیہات اور بلیغ استعاروں کے ذریعے بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کا کلام قدیم روایات اور جدید رنگِ تغزل کا حسین امتزاج ہے، جو قاری کو اصلاحِ نفس اور اخلاقی بلندی کا پیغام دیتا ہے۔اردو ادب کی عصری تاریخ میں ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کا نام ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جو بیک وقت ایک محقق، ناقد، ادیب، صحافی، عَروضی اور عمدہ شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ان کی قلبی واردات، سماجی مشاہدات اور مذہبی اعتقادات کا نچوڑ ہے۔ عاملؔ اس نسل کے نمائندہ شاعر ہیں جو اپنی تہذیبی جڑوں سے بھی وابستہ ہے اور جدید عہد کے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی تغیرات پر بھی گہری نظر رکھتی ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ان کے ہاں فن برائے فن نہیں بلکہ فن برائے زندگی کا نظریہ کارفرما ہے۔ ان کی شاعری ایک آئینہ ہے جس میں جہاں ان کی ذات کا کرب جھلکتا ہے، وہیں سماج کے بکھرتے ہوئے ڈھانچے کی تصویر بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔

حمد، مناجات اور خدا پر توکل

عاملؔ کی شاعری کی بنیاد ’توحید‘ اور’توکل‘ پر ہے۔ ان کی حمدیہ شاعری میں روایتی خشک بیانی کے بجائے ایسا جذب و مستی کا عالَم ملتا ہے جہاں بندہ اپنے خالق کے سامنے اپنی بساط اور دنیا کی بے ثباتی کا اقرار کرتا ہے؎

تِری قدرت کے آگے مکر اس کا چل نہیں سکتا

مقفّل باب ہیں سارے، مجھے تجھ پر بھروسا ہے

اس شعر میں ’مکر‘ کا لفظ انسانی یا شیطانی چالوں کی علامت ہے، جب کہ ’مقفل باب‘ مایوسی اور بے بسی کے استعارے کے طور پر آئے ہیں۔ عاملؔ یہاں یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، تب بھی اللہ کی قدرت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ ان کی مناجات میں عجزوانکسار کی ایک ایسی لہر ہے جو قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ وہ خدا سے اپنا رشتہ ’بندگی‘ کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں اور یہی بندگی انسان کو زمانے کے خوف سے آزاد کرتی ہے۔

نعتِ رسول اور عشق و شعور

نعت گوئی اردو شاعری کی وہ کٹھن صنف ہے جہاں ذرا سی لغزش انسان کو افراط و تفریط کا شکار کر سکتی ہے۔ عاملؔ نے یہاں بھی کمالِ توازن سے کام لیا ہے۔ ان کی نعتوں میں جہاں عشقِ رسول کی تپش ہے، وہیں شرعی حدود کا پاس بھی ہے؎

خاتم الانبیا فخرِ دونوں جہاں

آپ کی ذات ہے وجہِ کون و مکاں

یہ شعر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کائناتی مرکزیت کو بیان کرتا ہے۔ عاملؔ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ کائنات کی تخلیق کا اصل سبب [Cause of Creation] ہے۔ ان کی نعتوں میں’قربِ خیر الوریٰ‘ اور ’مدفن تِرے شہر میں‘ جیسی تمنائیں ان کی والہانہ محبت کی عکاس ہیں۔ وہ جب ’روضۂ اقدس‘ کی بات کرتے ہیں تو ان کا تخیل عقیدت کے پھول برسانے لگتا ہے۔

حج کا مبارک سفر

سفرِ حج پر کہے گئے اشعار عاملؔ کے کلام کا ایک نہایت ہی جذباتی اور روحانی حصہ ہیں۔ ان اشعار میں وہ ایک عام زائر کی طرح منیٰ، عرفہ اور مزدلفہ کی فضائوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ’قافلے حج کے سارے روانہ ہوئے‘ والا شعر ان کے اس باطنی کرب کو ظاہر کرتا ہے جو ہر وہ مسلمان محسوس کرتا ہے جو حاضری کی تڑپ تو رکھتا ہے مگر کسی وجہ سے محروم ہے۔فنّی اعتبار سے ان اشعار میں صنعتِ مراعات النظیرکا بہترین استعمال ہوا ہے۔ منیٰ، خیمہ، رمی اور حاجی جیسے الفاظ کو ایک ہی لڑی میں پرونا ان کے کلام میں ایک خاص صوتی اور معنوی آہنگ پیدا کرتا ہے۔ رمیِ جمار (شیطان کو کنکریاں مارنا) کے عمل کو وہ ایک ابدی حقیقت سے جوڑ دیتے ہیں؎

رمی کرتے ہوئے یہ بھی رہے حاجی کے ذہنوں میں

تعلق توڑ کر واپس لگانا مت گلے اس کو

یہاں وہ ایک مصلح کے طور پر سامنے آتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ اصل حج باطنی تبدیلی کا نام ہے، محض رسومات کی ادایگی کا نہیں۔

حبِ وطن اور قومی یکجہتی

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کی شاعری میں وطن کی محبت ایک مقدس فریضے کی طرح موجود ہے۔ وہ بھارت کی کثیر الثقافتی جڑوں کے محافظ نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک وطن کی ترقی کا راز تمام قوموں کے اتحاد میں ہے؎

مسلماں ہو یا ہندو ہو یا سکھ ہو یا ہو عیسائی

رہیں بھارت میں مل جل کر یہ ہے قوموں کی اچھائی

ان کے اشعار میں وطن سے محبت کے دعوے کے ساتھ ان قوتوں پر بھی کاری چوٹ بھی ہے جو حبِ وطنی کو صرف ایک مخصوص طبقے کی جاگیر سمجھتے ہیں اور دوسروں کی وفاداری پر شک کرتے ہیں۔ ’وطن سے محبت ہمیں بھی ہے لیکن‘ جیسے اشعار ان کے سیاسی شعور اور جرأتِ اظہار کی دلیل ہیں۔

سماجی تنقید اور احوالِ زمانہ

عاملؔ کی شاعری کا ایک بڑا حصہ ’احتجاج‘ پر مبنی ہے۔ وہ اپنے عہد کے ناسوروں کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، انسانی خون کی ارزانی اور سیاسی منافقت ان کے قلم کا نشانہ بنتی ہے۔ ہجومی تشدد [Mob Lynching] کے حوالے سے ان کا یہ شعر دل کو دہلا دینے والا ہے؎

انسانیت کے خون کو سستا جہاں نے کر دیا

دین و دھرم کے نام پر ہتیا ہوئی دنگا مچا

وہ ’اچھے دن‘ کے سراب اور سماجی دکھاوے پر بھی طنز کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سادگی رخصت ہو چکی ہے اور صرف نمایش باقی رہ گئی ہے۔ ’زندگی سستی ہوئی آلات مہنگے ہو گئے‘ والا مصرع دورِ حاضر کی مادّہ پرستی [Materialism] پر ایک گہرا طنز ہے۔

انسانی تعلقات اور جذبات

محبت اور دوستی کے باب میں عاملؔ کا نظریہ نہایت پختہ ہے۔ وہ سچّی دوستی کے لیے ’خموشی‘ کو سمجھنے کی شرط قرار دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں محبت کا وہ رنگ نہیں جو صرف لبوں کی لالی تک محدود ہو، بلکہ وہ جذبات کی صداقت کو اہمیت دیتے ہیں؎

جو کہنے سے بھی نہ سمجھے اسے کیا پیار ہوتا ہے

سمجھتا ہے خموشی بھی جو سچّا یار ہوتا ہے

ان کے اشعار میں بے وفائی کا شکوہ تو ہے، لیکن وہ اپنی عزتِ نفس [Self Respect] پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ’مِری ٹھوکر کے لائق ہے‘ جیسے جملے ان کی قلندرانہ شان کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ منافقت کے دور میں ’تنہائی سے دوستی‘ کر لینے کو ترجیح دیتے ہیں، جو باطنی سکون کا ذریعہ ہے۔

 فنّی محاسن: تشبیہ واستعارہ اور پیکر تراشی

عاملؔ کے فن کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا نظامِ تشبیہ و استعارہ ہے۔ وہ پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی زندگی سے لی گئی تشبیہات کے ذریعے سہل بنا دیتے ہیں۔ ان کے کلام میں کشمیر کے لیے ’سرخ چادر‘ کا استعارہ نہایت بلیغ ہے۔ یہ خون، کرب، اور کرفیو کی ایسی تصویر کشی ہے جو ہزاروں الفاظ پر بھاری ہے۔ اسی طرح ’دردِ دل‘ کو ’لاوا‘ اور’آگ‘ قرار دینا اس باطنی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے جو باہر تو نظر نہیں آتی مگر اندر ہی اندر جلا رہی ہوتی ہے۔’انسان ہوں، جذبات ہیں، پتّا نہیں، ٹوٹا ہوا‘ میں خود کو ٹوٹے ہوئے پتے سے تشبیہ دے کر انھوں نے انسانی زندگی کی بے ثباتی اور تقدیر کے ہاتھوں اس کی مجبوری کو واضح کیا ہے۔ان کے اشعار میں بصری پیکر بہت نمایاں ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ’دل ہے یہ دل، شمع نہیں، جلتا ہے، لیکن بے دھواں‘ تو قاری کی آنکھوں کے سامنے ایک بے آواز جلتی ہوئی کیفیت کا پیکر ابھرتا ہے جو ان کی قادر الکلامی کا ثبوت ہے۔

صنائع و بدائع اور لسانی گرفت

عاملؔ کے کلام میں صنائع و بدائع کا استعمال فطری بہاؤ کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔’خیر و شر‘،’ہندو مسلماں‘، اور’دوست و راہزن‘ جیسے متضاد الفاظ کے ذریعے وہ کائنات کے تضادات کو اجاگر کرتے ہیں۔وہ مذہبی اور تاریخی تلمیحات کو نہایت خوبصورتی سے برتتے ہیں۔ ’موسیٰ کلیم اللہ‘، ’دریا میں راستہ‘، اور’قُم باذن اللہ‘ کے ذریعے وہ کلام میں معنوی گہرائی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے بہت سے اشعار سہلِ ممتنع کے زمرے میں آتے ہیں۔ زبان اتنی سادہ ہے کہ ہر کوئی سمجھ لے، مگر ایسی بات کہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور سماجی میڈیا پر تنقید

ایک جدید مفکر ہونے کے ناطے عاملؔ نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ وہ ان لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں جو بغیر کسی تحقیق کے قائدین اور بزرگوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں؎

مطعون قائد کو کریں ہیں پانی پی پی صبح و شام

جن کی رسائی ہے ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام

یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ عاملؔ کی شاعری صرف پرانے قصوں تک محدود نہیں بلکہ وہ آج کے ڈیجیٹل دور کے مسائل سے بھی پوری طرح باخبر ہیں۔

حاصلِ مطالعہ

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ کی شاعری کا ایک اہم پہلو ’اصلاحِ نفس‘ ہے۔ وہ انسان کو اپنے کردار پر نظر ڈالنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی کی نظر سے گرنے سے پہلے اپنی نظر میں گرنا زیادہ خطرناک ہے۔ وہ’حسد‘ اور’کینہ‘ جیسی باطنی بیماریوں کے خلاف عملی جہاد کرتے نظر آتے ہیں۔ان کا کلام اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تازہ ہوا کا جھونکا ہے جس میں قدیم روایات کی خوشبو بھی ہے اور جدید عہد کے پھولوں کا رنگ بھی۔ ان کا کلام عقیدہ و عمل کا بہترین امتزاج ہے، وہ تشبیہ اور استعارے کے استعمال میں اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، ان کی شاعری سماجی اصلاح کا ایک موثر ذریعہ ہے، وہ زبان کی سادگی کو برقرار رکھتے ہوئے فلسفہ بیان کرنے کی بھی قدرت رکھتے ہیں۔عاملؔ کی شاعری آنسو، آگ، لاوا اور درد کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ امید، بھروسا اور عزم کا استعارہ ہے۔ انھوں نے اپنے خونِ جگر سے لفظوں کی آبیاری کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کی رسائی صرف کانوں تک نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں تک ہے۔ ڈاکٹر ندیم احمد انصاری عاملؔ نے ثابت کیا ہےکہ سچّی شاعری وہی ہے جو اپنے عہد کی ترجمانی کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے اخلاق و محبت کا پیغام چھوڑ جائے۔

Leave a Reply