You are currently viewing پروفیسرمرغوب بانہالی کا تخلیقی امتیاز ”چراغاں“ کے آئینے میں

پروفیسرمرغوب بانہالی کا تخلیقی امتیاز ”چراغاں“ کے آئینے میں

ڈاکٹرگلزار احمد سوہل    

شعبہ اُردو جموں یونیورسٹی

پروفیسرمرغوب بانہالی کا تخلیقی امتیاز ”چراغاں “ کے آئینے میں

بانہال جموں و کشمیر کے وسط میں واقع وہ خطہ ہے جو چاروں اطراف سے فلک بوس کہساروں کی آغوش میںرقص کرتا نظر آتا ہے۔ یہ خطہ اپنے دلکش فطرتی مناظر اور حسن میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔یہ سرزمین جہاںایک طرف زندگی کے مختلف شعبوںمیںجموں و کشمیر کی ترقی میں پیش پیش رہی ہے وہیں دوسری طرف ادب کے حوالے سے بھی اس کی زرخیزی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔یہاں کے جن شعراءنے اُردو زبان کو ذریعہ اظہار بنا کر اپنی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے کو متاثر کیا ان میں،آعماءعبدالرحیم بانہالی،مرغوب بانہالی،منشور بانہالی اور امین بانہالی وغیرہ کے نام کافی اہمیت کے حامل ہیں۔اکیسویں صدی کی غزلیہ شاعری کے دائرے کواپنی منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے جن فنکاروں نے وسعت عطا کی اُن میں ایک کثیر اللسان شاعر پروفیسر مرغوب بانہالی کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے اپنے مختصر غزلیہ دیوان ”چراغاں“ کے ذریعے اُردو شاعری بالخصوص غزل کو نئی راہوںسے آشنا کروایاجس سے جدید اُردو غزل میں امکانات کے نئے دریچے وا ہوئے۔یہ غزلیہ دیوان فنی اور فکری دونوں سطحوں پر انفرادیت کا حامل ہیں۔

         کلیدی الفاظ۔ بانہال،جدیدادبی منظر نامہ،غزلیہ دیوان،انفرادیت،کثیر اللسان

پروفیسر مرغوب بانہالی ایک کثیراللسان شاعر ، محقق اور تنقید نگار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ اُن کی پیدائش۵مارچ ۱۹۳۷ءکوجموں و کشمیر کے خطہ بانہال کے علاقہ بنکوٹ میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم بانہال سے حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے اَف اے اور بی اے کی سندایک پرائیویٹ اُمید وار کی حیثیت سے حا صل کی اور اس کے بعد بی ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے جموں کار خ کیا۔بعد میں کشمیر یونیورسٹی سے فارسی مضمون میں ایم۔ ائے کی ڈگری حاصل کی اور یہی سے’ کشمیر میں شہمیری دور میں فارسی زبان و ادب “ کے موضوع پر پی ایچ ۔ڈی کے لئے تحقیقی مقالہ تحریر کرکے شعبہ فارسی جامعہ کشمیر کاپہلا ریسرچ اسکالرہونے کا شرف حاصل کیا۔اِسی شعبہ میں اُن کا تقرر بحیثیت لیکچرر ہوا۔ شعبہ فارسی جامعہ کشمیر میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے دس سال بعد آپ کشمیر یونیورسٹی کے سنٹرل ایشین اسٹیڈیز میں ریڈرتعینات ہوئے۔مزید برآں انہوںنے کشمیری زبان کے رسم الخط اور املا کے حوالے سے ایک تھیوری دی جسے’’مرغوب تھیوری ‘‘کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔۱۹۸۶ءمیںپروفیسر مرغوب بانہالی جامعہ کشمیر کے شعبہ کشمیری میں بحیثیت صدر منتخب ہوئے اور 11 سال اس شعبہ کی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۹۷ءکوسبکدوش ہوئے اور آخرکار اپریل ۲۰۲۱ءکو کشمیر میں ہی ۸۴ سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

         پروفیسر مرغوب بانہالی جموں و کشمیر کے ادبی اُفق کا وہ روشن ستارہ ہے جن کوجموں و کشمیر کی ادبی تاریخ میں  کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔وہ اُردو،کشمیری، فارسی ،اور انگریزی زبان پرکامل دسترس رکھتے تھے۔کشمیری زبان کے ایک شعری مجموعے بعنوان ” پرتوستان “ پراُنہیں ہندوستان کے اعلیٰ ادبی اعزاز ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے فارسی ادب میں بھی اپنی تحریروں سے خاصہ اضافہ کیا لیکن یہاں ہمارا سروکار ان کے اُردو ادب بالخصوص غزلیہ شاعری سے ہیں تاکہ اُن کی غزلیہ شاعری کے امتیازی نقوش کواُبھارا جاسکیں ۔تخلیقی ادب کے علاوہ اُنہوں نے اُردو تحقیق و تنقید کے حوالے سے جوکتابیں تحریر کیں اُن میں”آدم گر ِ ی اقبال ‘اور‘کلام اقبال کے روحانی اور فکری سرچشمے “ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اُنہوںنے اُردو میں گرچہ کم لکھا لیکن جو بھی قلمبند کیا وہ ایک نئے فکر و شعور کی غمازی کرتا ہے۔چالیس غزلوں پر مشتمل اُ ردو میں لکھا گیا ایک مختصر دیوان”چراغاں“ اُنہیں جموں و کشمیر کے جدید غزل گو شعراءکی پہلی صف میں شامل کر دیتا ہے۔پروفیسر مرغوب بانہالی نے ایک ایسی غزلیہ کائنات تخلیق کی جس کے فکری سرچشمے قرآن وحدیث،بزرگان دین کے ملفوظات ،اسلاف کے تخلیقی ورثے ،مشرقی تاریخ و تہذیب ،جموں وکشمیر کی تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کے حساس سماجی، سیاسی اور تہذیبی مسائل سے پھوٹتے ہیں۔علامہ اقبال نے جس طرح غزل کو مجازی محبوب کی چوکھٹ سے نکال کر مئے توحید کے مسحور کُن جام سے آشنا کیااُسی طرح پروفیسر مرغوب بانہالی کی ا کثر غزلیں توحید کے نغمات سے شرشار نظرآتی ہیں۔اُنہوں نے اپنے اس مختصر دیوان ” چراغاں“ کے ذریعے اُردو شاعری اور بالخصوص جدید اُردو غزل کو ایک نئی روش سے روشناس کروایا۔ ان کی غزلوںمیں نہ روایتی موضوعات کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور نہ زبان و اسلوب پر کلاسکی اسلوب کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ان کی غزلوں میں الفاظ کی بازی گری نہیں بلکہ زبان و بیان میں بھی اُن کے تجربات اور فکر کی گہرائی موجزن نظر آتی ہے۔اُنہوں نے ایسے الفاظ اور اظہار کے سانچوںکا استعمال کیاہے جو معاصر دور کی زندگی سے ہم آ ہنگ نظر آتے ہیںکیونکہ یہ اکیسویں صدی کی غزل ہے جو روایتی غزل سے بالکل مختلف ہیں جس کے حوالے پروفیسر شارب رودلوی کچھ یوں رقمطراز ہیں:

’’وہ زبان کے اعتبار سے روایتی غزل سے مختلف ہیں اور تشبیہات اور استعارات میں بھی وہ آج کی زندگی سے تشبیہیں اور استعارے اخذکرتی ہے اس نے جدیدیت اور ترقی پسندی کی حد بندیوں کو ایک طرح توڑ دیا اور صرف زندگی، تجربے اور محسوسات کو سامنے رکھا‘‘۔۱

         یہی وجہ ہے کہ مرغوب بانہالی کی غزلوں پر کسی خاص مکتب فکر کا لیبل نہیں لگایا جاسکتا بلکہ یہ غزلیں زندگی کے ان گنت تجربات اوراحساسات کے فنی اور تخلیقی اظہار سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنے دیوان کی ابتداءہی حمدیہ او ر نعتیہ غزلوں سے کی ہیں جن میں معاصر دور کے مسائل بالخصوص جموںو کشمیر کی زندگی کے شب و روز کو انہوں نے تمام تر  باریکیوں کے ساتھ پیش کیا۔پروفیسر مرغوب بانہالی نے اپنی شاعرانہ فکر کو جن مشعلوںسے چراغاں کیا ان میں قرآن وحدیث، صحابہ اکرام اور بزرگان دین کے ملفوظات،تاریخ وتہذیب کے ساتھ ہی ساتھ ان کے اس مخصوص طرزاحساس کے پس پردہ معاصر دور کے سیاسی،اقتصادی اور سماجی مسائل بھی کارفرما نظر آتے ہیں۔وہ ایک تو حید پسند شاعر تھے اسی لئے وہ اپنی شاعری میں توحید سے سرشار نغمات اس طرح منفرد انداز میں گاتے ہیں۔

رہائی کے لیے نالاں میرا دل اے خُدا رکھا

قفس میں ڈال کر طائیرکو یوں محوِ دُعا رکھا

چراغ ِزیست زد میں آندھیوں کے یوں رہا ہر دم

مگر پیہم اُسے فانوسِ رحمت نے بچا رکھا

متاع ِناز ہے مرغوب کو توحید کا جذبہ

کرم سے کنج خلوت اُس کا تو نے پرُضیا رکھا

         یہ اشعار توحید،آزادخیالی ،مسلسل جدوجہداورر جائیت پسندی جیسے تصورات کوتقویت دیتے ہوئے انسان کو ہر حال میں جینے کا حوصلہ بخشتے ہیں ۔ان اشعار میں نہ اللہ کے احکامات سے انحراف کی لے تیز ہوئی ہیں اور نہ کسی قسم کی بد اعتقادی کا شائبہ ہوتا ہے۔ ان حمدیہ اشعار میںغزل گو نے اللہ کی وحدانیت ، رحمت کی کشادگی اور اللہ کی قدرت کو دلکش اورتعمیری سوچ کے ساتھ منفرد انداز میں بیان کیا ہے۔ان اشعار میں معنی کا ایک جہان پوشیدہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ایک طرف ان غزلیہ اشعار میںاللہ کی وحدانیت اور رحمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو دوسری طرف ایک پکے مواحد کی طرح شاعر اللہ کے احکامات کے سامنے سرتسلیم خم نظر آتاہے جس کے حوالے سے پروفیسر ظہور الدین اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’اُردو کی غزلیہ شاعری میں ہم خصوصاً جس روایتی شاعر سے متعارف ہوتے ہیں وہ ایک باغی ،ملحد اور شاکی کردار کا حامل ہیں جو زندگی اور خدادونوں سے بے زارنظر آتا ہے ۔جو سادیت پسند اور قنوطی اور قدم قدم پر اپنے وجود کو لہو لہان کرتا ہوانظر آتا ہے ۔ لیکن یہاں ان غزلوں میں خصوصاً ابتدائی نعتیہ و حمدیہ غزلوں میں ہم ایک ایسے شاعر سے ملتے ہیں جو صابر وشاکر ہی نہیں خدا اور اس کے احکامات کا سختی سے پابند بھی ہیں ۔“۲

         یہ الفاظ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ” چراغاں“ کی غزلیں ماقبل روایتی غزلیہ شاعری سے اس لئے مختلف ہے کہ یہاں ہمیں ان غزلوں کا متکلم توحید کے جام سے سرشار نظر آتا ہے جس کی بدولت وہ ہر حال میں ا   ُمید کی شمع کو فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔ ان حمدیہ غزلوں کے اشعار کے پس پردہ آج کے دور کی زندگی کے نشیب و فراز کا پرتو دیکھا جاسکتا ہے۔شاعر اس دنیا کو حق پر چلنے والے لوگوں کے لئے قید خانہ تصور کرتے ہیںلیکن اس کے باوجو دوہ اللہ کی رحمت سے نااُمید نہیں ہوتے کیونکہ یہی رحمت اُسے آزاد ہونے اور مسلسل جدوجہدکی ترغیب دیتی ہے۔علاوہ ازیں چراغ زیست کاہر دم آندھیوں کی زدمیں رہنامعنی کے نئے دریچے وا کرتا ہے کہ دنیا میںروز ِاول سے حق پر چلنے والے لوگوں کو طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور آج بھی حق پرست لوگوںکی زندگی مسلسل باد مخالف کے نشانے پر رہتی ہیں لیکن اللہ کی رحمت اُن پہ سایہ فگن ہو کر اُن کوشر کی طاقتوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ آخرمیں غزل گو توحید کے جذبے کواپنے لئے باعث افتخار گردانتے ہیں کیونکہ اسی سے پریشانی اور تنہائی میں بھی وہ خود کو اکیلامحسوس نہیں کرتا۔مختصر اًیہ حمدیہ اشعار اس دور کے سیاسی ،سماجی اور معاشی حالات سے صرف آگا ہ نہیں کرتے بلکہ ان مسائل کے سدباب کی طرف بھی ذہن کو منتقل کرتے ہیں ۔یہی مرغوب بانہالی کی غزل کا امتیاز ہے جو انہیں معاصرغزل گو شعرا ءمیں انفرادیت کا حامل بناتا ہے ۔مزید برآں شاعر معاصر دور کے پریشان حال انسان کویہ تلقین کرتے ہیں کہ اللہ کے احکامات کی پیروی ہی زندگی کے مسائل کے تدارک کے لئے ناگزیر ہیں۔

         دنیا میں جن عظیم شخصیات نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک سے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا ا ُن میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کا نام سر فہرست ہیں جن کی مثالی زندگی آج بھی پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے ۔پروفیسر مرغوب بانہالی نے اپنے نعتیہ اشعار میںمحمد ﷺکی زندگی کے ایسے پہلووں سے اُردو غزل کوروشناس کروایاجن کی پیروی میں آج بھی انسانیت کے مسائل کے سدباب کا راز پوشیدہ ہے ۔ یہاںغزل گو نے رحمت العالمین محمدﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو غزل کے پیرائے میںکچھ اس خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

                  اب اُس پر اہلِ مکہ، ، اہل طایِف کیوں نہ ہو ں قرُ باں

                  ستم ِہا سہہ کے بھی دِل میں نہ جس کے انتقام آیا

                  کروفر بادشاہوں کا گرِاِ برگ خزاں بن کر

                  غلاُموں کو چھڑُانے جب وہ شاہِ خوش خرام آیا

                  کہاں تک بد زباں بڑُھیا کی گھٹری آپ نے ڈھولی

                  وہ عالی ظرف کیسے کیسے کم ظرفوں کے کام آیا

                  دِلِ ناداں اُسی کی پیروی ابدی سعادت ہے

                  جہاں میں عدل کرنے کے لیے جسِ کا نظام آیا

         ان غزلیہ اشعارمیں شاعر نے پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی زندگی کے ایسے گوشوں سے متعارف کروایا ہے جن کی اطاعت آج کے سماج کی تعمیر و ترقی اور امن و آشتی کے لئے ناگزیر ہیںجس کا ذکر پروفیسر ظہور الدین کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔

                  ’’رسول اکرم ﷺ نے قوم کی تربیت کے لئے جو مصائب اُ ٹھائے اور لامثال کردار کا جو نمونہ پیش کیا اُس کا جس حسن و خوبی سے ابتدائی                             غزلوں میں بیان ہوا ہے اُس سے قاری متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا“۔۳

         یہ الفاظ اس بات کا بین ثبوت ہیںکہ ”چراغاں“ کی غزلوں میںمحمدﷺ کی مثالی زندگی کومنفرد انداز سے عصر ی تناظرمیں اس طرح پیش کیا گیا ہے جو قاری کوسوچنے پر مجبورکرتا ہے کہ اتنی پریشانیوں کے باوجود بھی اس عظیم شخصیت نے کبھی شر کو پناہ نہیں دی بلکہ ہمیشہ حق پر ثابتِ قدم رہ کرانسانیت کو اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا۔یہ غزلیہ اشعار کارئین کے اذہان کو جنجھوڑنے کے ساتھ ہی ساتھ عمل کی طرف بھی اُکساتے ہیںکہ ایسی عظیم شخصیت جس نے طائف اور مکہ میں اتنے مظالم سہہ کر بھی کسی کو پریشان نہیں کیا بلکہ بدلے میں دعائیں دیں۔دنیا کے عظیم بادشا ہوں کی شان وشوکت پت جھڑ کے پتوں کی طرح گر گئی کیونکہ محمدﷺنے غلاموں کو آزاد کرنے کی تلقین کی ۔انہوں نے اُس بڑھیاں کے ساتھ بھی اچھاسلوک کیا جو آپﷺ کو طرح طرح سے اذیتیں دیتی۔آخر میںغزل گوبنی نو انسان کو یہ تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ محمد ﷺ کی تعلیمات کی پیروی میں ہی اس دنیا کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے کیونکہ ان کے قول و فعل میںعدل و انصاف کی بوباس نظر آتی ہے۔یہی وہ دور تھا جب عدل وانصاف جیسے تصورات کو حقیقی معنوں میںتقویت ملی اور ہر طرف انصاف ہی کا بو ل بالا تھا۔آخر میں شاعر کہتے ہیںکہ اللہ کے نبیﷺ نے جن اعلی ا نسانی اقدار کی آبیاری کی وہی آج بھی انسانیت کے لئے کامیابی کا زینہ ہے۔مختصر یہ کہ پروفیسرمرغوب بانہالی نے جدید اُردو شاعری کو محمدﷺ کی زندگی کے ایسے پہلووںسے روشناس کروایا جن سے ابھی تک اُردو غزل پوری طرح سے آشنا نہیں تھی اور یہی خوبی اُنہیں اپنے دور کے شعراءسے ممیزکرتی ہے۔

         جہاں ایک طرف مرغوب بانہالی کی غزلیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سرشار نظرآتی ہیں توو ہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے گردو پیش کے سیاسی ،سماجی،اقتصادی غرض حساس اور پیچیدہ مسائل سے انحراف نہیں کیا بلکہ معاصر دور کی زندگی کے نشیب وفراز کوکچھ اس طرح منفرداندازمیںپیش کیاہے ۔

                   سہتی رہی ہے بجلیاں ہر گھر کی شاخ ِگل

                  گلشن منائے سوگ بھی کِس کسِ نگاِر کا

                  اُسے نوبت ہی کب آئی قیامت بھو ل جانے کی

                   تری ہر ہر ادا نے دِل میں ہے محشر بپا رکھا

                  میں بھی یہ کڑوی حقیقت کھول کر تم ُسے کہوں

                   رِشوتوں کا ریشیوں کی بستیوں پر اب ہے راج

                  اِن کی حالت اک بڑی عبرت ہے، اللہ سے ڈرو

                  جِن کی فصلیں جل گئی ہیں اُن سے کیا لو گے خراج۔

          یہ اشعار جموں و کشمیر کی سرزمین کے موجودہ سیاسی ،سماجی اور اقتصادی منظر نامے پر ایک طرح کا طنز بھی ہیں کہ اس سرزمین میں ہر گھر کی شاخ گل یعنی گھر کا ہر فرد پریشانیوں میں مبتلاہے۔ اس لیے اب یہ سر زمین کس کس چیزکا ماتم کریں ۔کبھی یہاںسیاسی مفاد کے لئے اس قوم کی مشترکہ تہذیب کومجروح کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی کسی اور طرح سے اس سرزمین کے تقدس کو پاما ل کیا گیا۔ آگے چل کر غزل گو اس سرزمین کی مجموعی صورتحال کو قیامت سے تعبیر کرتے ہیں کہ یہاں اکثر قیامت کی سی بھیڑ لگی رہتی ہے جہاں ایک افراتفری کا ماحول رہتا ہے۔وہ یہاں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہداداران پر طنز کرتے ہیںکہ جس سرزمین کو رشیوں اور صوفی سنتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا تھااُس کے تقدس کو اب رشوت جیسی سماجی بیماری نے داغدار کیاہے ۔علاوہ ازیں وہ ان حکومتی اداروں کی توجہ ا ستعاراتی انداز میں اس با ت کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیںکہ مصائب وآلام سے دوچار لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے کیونکہ ان کو مزید پریشان کرنا اس قوم کے تنزل اور پستی کا موجب بن سکتا ہے۔

         استفہامیہ اندا ز جدید شاعری کا ایک امتیازی پہلو ہے جس کی بنیادباقاعدہ طور پر اُردو غزل میںمرزاغالب نے ڈالی ۔ ”چراغاں“ کی ان غزلوں میںجدیدشعری جمالیات کے اس پہلو کاخوبصورت انداز میں استعمال کچھ اس طرح کیاگیاہے۔

                  چپ یہاں کا ہر اک بشر کیوں ہے؟

                   جُرم یاں سچ کی ہر نوا ہے کیا؟

                  بیچ کھا یا کس نے یوسف کو

                   ہوئی یعقوب سے دغا ہے کیا

                  یاں ہر ایک سے خدا خفا ہے کیا؟

                   جب ہی ہر آہ نا رسا ہے کیا؟

          استفہامیہ انداز کو ان اشعار میں صرف ظاہری حسن کے لئے ہی استعمال نہیں کیا گیاہے بلکہ یہ غزلیہ اشعار معاصر دور کے سماج کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں کہ آج کے جمہوری دور میں اس سرزمین میں ہر طرف کیوں سکوت چھایا ہے کیا حق بات کرنا بھی جرم کے مترادف مانا جاتا ہے۔ آگے چل کرغزل گو اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہاں بھی کئی نوجوان حضرت یوسف کی طرح لا پتہ ہے کیا اُن کے والدین کو بھی حضرت یعقوب کی طرح دغادی گئی ہیںاور آخر میں لوگوں کی توجہ شاعراس بات کی طرف مبذول کرواتے ہےں کہ ہماری ہر پکار بے اثر ہونے کی بنیادی وجہ ہمارے بُرے اعمال ہیں جس کی وجہ سے ہم اللہ کی رحمت سے دور ہے۔ اس لئے اپنے خالق حقیقی سے رشتہ ا ستوار کرنا اس قوم کی بقاءکے لئے ناگزیر ہے۔یہاں استفہامیہ لب و لہجے کا استعمال شاعر نے منفرد انداز میں کیا ہے جو انسان کو عمل کی دعوت دیتاہے اور یہی انداز غزل گو کومنفرد بناتا ہے۔

         پروفیسر مرغوب بانہالی نے ”چراغاں “کی غزلوں میں ایسی تلمیحات کا استعمال کیا جو مشرقی شاعری میں اکثر پائی جاتی ہیں لیکن ان کا یہ امتیاز ہے کہ ان تلمیحات کے پس پردہ معاصر زندگی کے خدوخال نظر آتے ہیں۔انہوں نے ایک دانشور کی طرح تعمیری سوچ کے ساتھ اظہار کے سانچوں کا استعمال کیا جن میں دنیا کو خوبصور ت بنانے کا راز مضمرہے۔وہ اکثر اپنی غزلوں کی تلمیحات کو تاریخ بالخصوص مشرقی تاریخ سے اخذ کرتے ہیں جو اُن کے وسیع مطالعے کی غمازی کرتی ہےں۔انہوں نے اظہار کے ان پیرایوں کاعصری تناظر میں کچھ اس طرح استعمال کیا ہے ۔

         ورغلانے کو نئے شاطر نفاق انگیز ہیں

         یہ نئے ابن اُبے تیری کہیں کھو دیں نہ گھاس

         جو وظیفہ خور بن کر جعفر و صادق بنے

         اس زمیں کو ہے انہی کی دین سارا کشت و خوں

         ظلم نمرود پر بھی ہم چپ ہیں

         کیایہ اُس کے تئیں وفا نہ ہوئی

         پتھروں سے نکلتے ہیں چشمے

         پختہ جب انتظار بنتا ہے۔

         یوسف گم گشتہ کی مرغوب دیکھ

         تک رہے ہیں راہ کب سے بام ودر

          یہ اشعار مرغوب بانہالی کی مشرقی تاریخ و تہذیب کے ساتھ ہی ساتھ دیگر علوم کی شناسائی اور اپنی سرزمین کے شب وروزکے مسائل کے ادراک کی غمازی کرتے ہیں۔یہ تلمیحات صرف ان غزلوں کے خارجی حسن میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ ان میں معنی کا ایک جہان آباد ہے ۔ ان کے پس پردہ اس سرزمین کے متنوع مسائل کا عکس دیکھا جاسکتاہے۔ان تلمیحات کی تہہ میں جب ہم جھانک کر دیکھتے ہیں توہماری فکر کو روشن کرنے کے ساتھ ہی ساتھ عمل کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔یہاں جس انداز سے ان تلمیحات کو عصر ی تناظر میں پیش کیا ہے اُس سے اُردو غزل میں فنی سطح پرامکانات کے نئے در وا ہوئے ۔ انہوں نے محمدﷺ کے دور کے منافقوں کے سردار عبداللہ ابن اُبے کی طرف اشارہ کیاجن کی نفرت انگیزسازشوںسے آج بھی پوری دنیا کے لوگ دوچار ہے۔اسی لئے شاعرموصوف نے یہاں اظہار کے اس سانچے کا استعمال کر کے عصر حاضر کے کچھ منافقانہ ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا جوآج بھی انسانی سماج میں امن و سکون کی فضاوں کو آلودہ کرتے ہےں ۔ ہندوستا ن میں غداری کے لئے میر جعفر اور میر صادق کا نام کافی مشہور ہے جن کی غداری آج بھی اس ملک کی خونریزی کی ذمہ دار نظر آتی ہے۔نمرود کی خدائی سے کون واقف نہیں جس نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کے لئے طرح طرح کی تدبیریں کیں کیونکہ حضرت ابراہیم حق پرست تھے اوراللہ کے سوا کسی کی پیروی کو شرک گردانتے تھے ۔اِسی لئے غزل گوآج کے دور میں حق کو دبانے والے اورظلم کرنے والے لوگوںکے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔مرغوب بانہالی ایک رجائی فکر کے حامل فنکار ہے وہ انسان کو ہمیشہ مسلسل جدوجہدکی ترغیب دیتے ہیں کہ جس طرح حضرت ہاجرہ علیہ سلام اور ان کے شیر خوار فرزند حضرت اسماعیل علیہ سلام کے انتظار کی وجہ سے ذم ذم کا چشمہ صحرائے عرب کے پتھروں سے پھوٹااسی طرح آج بھی اللہ پر کامل یقین رکھاجائے تو اُمید کی کرن ضرور نظر آئے گی۔ حضرت یوسف علیہ سلام کے تاریخی واقعے کو اکثر شعرا ءنے بیان کیا لیکن غزل گونے معاصر دور کے کشمیر کے حالات کے تناظر میں جس انداز میں پیش کیا ہے وہ ایک نئی جہت کا اضافہ ہے کیونکہ آج بھی اس سرزمین میں بہت سے نوجوان غائب ہیں جن کے عزیز واقارب ہر وقت اُن کے دیدار کے منتظررہتے ہیں،حضرت یوسف علیہ سلام کو تو بازار مصر میں خریدار مل گیا لیکن اس دور میں ان گمشدہ نوجوانوں کی آنکھوں کوکبھی اپنے احباب کی زیارت نصیب نہیں ہوتی۔

         آج کا دور صنعتی ترقی کا دور ہے ہر کوئی مادیت کی دوڑ میں محوہے لیکن آج کے صاحب اقتدار لوگوں نے اعلی انسانی قدریں پس پشت چھوڑدیں ہےں اور وہ اپنی آسائش اور ترقی کے لئے غریب اور کمزور لوگوں کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتے ہے۔موجودہ دور میں زندگی کے ہر شعبے میںعام لوگوںکو استحصال کا شکار بڑے ہی شاطرانہ طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ سماج میں اعلی ٰعہدو ں پر فائض افراد اپنی ایمانداری کو ثابت کرنے کے لئے مختلف دلائل پیش کرتے ہیں ۔اسی لئے غزل کا خالق دنیا کے غریب اور کمزورلوگوںپرہونے والے ظلم کے خلاف قلمی احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیںکیونکہ جدید اُردو شاعری سماج میںہونے والے ہر قسم کے ظلم و جبر اور پابندی کے خلاف نبردآزما نظر آتی ہے جس کے حوالے سے مرزا شفیق حسین کچھ یوں رقمطراز ہیں۔

                  ”نئی غزل ہر قسم کے جبرواستحصال کے خلاف ہے اس کا کینوس بہت وسیع اور اس کے تجربات ہمہ گیر ہیں ۔۴

         پروفیسر مرغوب بانہالی نے نہایت ہی فنی انداز میں جدید دور کے اس حساس مسئلے کی عکاسی کچھ اس طرح کی ہے۔

         بُرا ہو اُن لٹیروں کا جنہوں نے محل بنوا کر

          غریبوں کے لہو کا نام ہے فضلِ خدا رکھا

         دینے کو دیتا ہی رہے وہ محل کووسعت

         وہ چھینتا مجھ سے مری کٹیامگر کیوں ہے۔

          یہ اشعار اپنے اندر بلا کی معنویت رکھتے ہیں اوران میں زندگی کے متنوع رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ان اشعار کے پس پردہ دنیا کے اعلیٰ عہدادارن اور عام لوگوںکی حالت کا نقشہ غزل گو نے دلکش انداز   میں کھینچا ہے کہ کس طرح آج کے جمہوری ماحول میں غریب غُرباءکا استحصال بڑے ہی شاطرانہ انداز میں کیا جاتا ہے ۔ان اشعار کے ذریعے دانشورانہ انداز میں صارفانہ سوچ کے حامل اُن لوگوں کی نفسیاتی کیفیت کو بے نقاب کیا ہے جو غریب لوگوں کے استحصا ل سے حاصل ہونے والی ترقی کواللہ کا فضل وکرم اوراحسان گردانتے ہیں۔ ان الفاظ میں ایک دانشورانہ طنز دیکھنے کو ملتا ہے کہ کس طرح سے صاحب ثروت لوگ شاطرانہ انداز میںعام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔آگے چل کر شاعر نے دو مصرعوںکے ذریعے دنیا میں بسے غریب اور مفلس لو گوںکی درد ناک کہانی بیان کی ہے کہ غریب کبھی ان امیر لوگوں کی ترقی میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنتے لیکن کیوں ان مظلوم لوگوںکی بنیادی ضروریات کی ہی قیمت پریہ امیرلوگ اپنے محل سجاتے ہیں۔ان اشعار کے پس پردہ آج کے دور کے حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔مختصر یہ کہ ان اشعار کی صحیح تفہیم و تنقید جدید دور کے مختلف علوم و فنون اور عصر حاضر کے حساس اور پیچیدہ مسائل کے ادراک سے ہی ممکن ہوسکتی ہیں۔یہ اشعار ایک وسیع کینوس پر مختلف مسائل کا فنی اظہارہے جن میںایک خاموش اور پرُ اثر احتجاج بھی ہیںاور عمل کی ترغیب بھی۔درحقیقت پروفیسر مرغوب بانہالی اپنی شاعری کے ذریعے اس دنیا میں امن اور خوشحالی کے پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیںاور یہ ان کی غزل کاایک اختصاصی پہلو بھی ہے۔

         جدید شاعری میں عورتوں کے مسائل پراکثر ادباءنے قلم اُٹھایا ہے کیونکہ جدید دور میں عورتوں کی آواز زندگی کے ہر شعبے میں سنائی دیتی ہے۔جہاں ایک طرف تانیثیت کے نام پر عورتوں نے لیبرلزم، آزاد خیالی،حریت اور مساوات جیسے تصورات کو تقویت دیں وہیںدوسری طرف یہیں تصورات ان عورتوں کے استحصال کے موجب بھی بنے ۔یہاں غزل گو نے عورتوں کے استحصال کی بنیاد کے دونوں پہلووں کوکچھ اس طرح بیان کیا ہے۔

         کاش پھرنسوانیت کی لاج وہ پردہ بنے

         غیرت و عظمت بچانے پر تھا جس کو افتخار

          بچ سکے گی ایک بیٹی،بہن اس قوم کی

         نشہ لے کربیچ کھائے نسل جس کی اپنا ہوش

         اپنے یہاں دختر کشی پر جو نہ کر لے احتجاج

         ننگ ملت ہیں یقینا آج وہ غیرت فروش

         چسکا نسوانیت کا عورت کو

         باعثِ انتشار بنتا ہے۔

         یہان ان اشعار میں مر غو ب بانہالی نے مشرقی اور مغربی عورت کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ یہ اشعارانسانی سماج کو آج کے دور میں عورتوں کے استحصال کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں جہاں ایک طرف عورتوں کے استحصال کے ذمہ دار مرد ہیں وہی دوسری طرف اس میں عورتیں بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔یہاں شاعر مشرقی تہذیب کی پروردہ خواتین کی کہانی بیا ن کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آج بھی اگر وہی پردہ عورتوںکی عزت بنے جس کوکبھی خواتیں کی عظمت اور غیرت کا تحفظ فراہم کرنے پر فخر تھا تو وہ اس قوم کی بقاءکے لئے اہم ہے۔آگے چل کر غزل کا متکلم اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ اس دور میںایک بیٹی اور بہن کی عزت محفوظ رہناناممکن ہے کیونکہ اس قوم کے نوجوان نشے میں اپنا ہوش وحواس ہی کھو بیٹھے ہیں۔دختر کشی ایک حساس مسئلہ ہے جس پر غزل گو احتجاج کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آخر میں شاعراس حقیقت کو منکشف کرتے ہیںکہ ملت میںانتشار کا سبب ہی عورتوں کی عریانیت ہے۔درحقیقت یہ غزلیہ اشعار جدید دور کی خواتیں کواُن کے استحصال اور تنزل کے بنیادی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں۔

         آج کے صارفانہ ماحول میں سماج کی اعلی انسانی اور اخلاقی قدریں زوال پذیر ہو رہی ہیں۔ایسے دور میں یتیموں کو اکثر ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔اسلام میں یتیموںکے ساتھ حسن سکوک کرنا بہت ہی نیک عمل تسلیم کیا جاتا ہے لیکن آج کے اس مادی دور میںانسانی رشتوںکی پامالی ایک عام سی بات ہے ۔غزل گو یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تلقین کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔

         حبُِ یتیم اک سند حبُِ نبی کی ہے

         تصدیق اس کی آتی ہیں درُ یتیم سے

          رحمت اُسی پر برسے گی عرشِ عظیم سے

         شفقت ہو جس کو فرشِ زمین پر یتیم سے

         یہ اشعار یتیموں سے شفقت اور حسن سلوک کی طرف ذہن کو منتقل کرتے ہیںکہ آج کے دور میں جہاں انسان کا انسانیت سے رشتہ ختم ہوتا جارہا ہے وہیں اس دور میں بھی شاعر لوگوں کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ یتیم سے محبت درحقیقت اللہ کے نبی ﷺ سے محبت کی ایک سند ہے کہ جس انسان نے ایک یتیم کے سا تھ حسن سلوک روا رکھا اس پہ اللہ کی طرف سے رحمت باراں ناز ل ہوگی۔درحقیقت شاعر یہاں اسلامی تعلیمات کوغزل کے پیرائے میں بیان کر کے اس اہم اور حساس مسلئے کے تدارک کی طرف قاری کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پروفیسر مرغوب بانہالی ایک توحید پسند فنکار تھے اسی لئے وہ کبھی بھی مایوس نظر نہیں آتے بلکہ ہر حال میں اُمید اور آرزوں کی شمع کو فروزاںکیے ہوئے ہیں۔وہ اللہ کی رحمت سے کبھی بھی نااُمید نہیں ہوتے جس کا اظہار وہ اپنی غزلوں میںکچھ اس طرح کرتے ہیں۔

                           شب گریزاںہوگی آخر جلوہ خورشید سے

                           یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

                           ہر کسی ظلمت پہ آخر غالب آجاتا ہے نور

                           کام میں لاتا نہیں انسان یہ تاریخی شعور

         ’’چراغاں“ کی غزلوں کا خالق ایک رجائیت پسند مفکر اور دانشو رہے جنہیں ہمیشہ ایک بہتر صبح طلوع ہونے کی اُمید نظر آتی ہے کیونکہ انہیں اللہ اور اس کی وحدانیت پر پورا بھروسہ ہے کہ ایک روز یہ چمن توحید کے نور سے روشن ہوگا معنی یہ کہ ہر طرف امن و سکون کی فضا قائم ہوگی۔وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ اس دنیا میں ظلم و جبر کا اندھیراآخر کا ر ختم ہوگا اور اس میں روشنی اور نور ہی نور پھیلا ہوگاکیونکہ یہ نظام ِ فطرت ہیں کہ ظلم کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو اس پر آخر کار حق ہی غالب رہتا ہے ۔

         مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ”چراغاں“ کی غزلوں نے صحیح معنوں میں جدید اُردو غزل کے ایوان کو چراغاں کیا۔ان غزلوں میں زندگی کے متنوع رنگ نظر آتے ہیں کیونکہ یہ مرغوب بانہالی کی غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انتخاب ہے جس میں ان کے فکر و فن کے کئی جہانوں کی سیر کی جاسکتی ہیں۔ ایک طرف ان غزلوں کے پس منظر میںجموںو کشمیرکے سیاسی،سماجی،اقتصاوی اور تہذیبی مسائل کا عکس دیکھا جاسکتا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا کے مسائل سے بھی ان غزلوں میں آگاہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ”چراغاں “کی غزلیںاللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں سرشار نظر آتی ہیں۔ان غزلوں کے استعارات،تلمیحات اور تشبیہات میں زندگی بالخصوص جدید دور کی زندگی کی نیرنگیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ان کی غزلیں علاقائی اور قومی مسائل کے ساتھ ہی بین الالقوامی مسائل تک کا احاطہ کرتی ہے جو ان کے وسیع مطالعے کا بین ثبوت ہیں۔غرض یہ کہ” چراغاں“ فنی اور فکری سطح پر جدید اُردو شاعری میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے اور مرغوب بانہالی کو امتیازی شان کا حامل بنا دیتا ہے۔

حوالہ جات:

۱۔پروفیسر شارب رودلوی،مضمون”اُردو غزل نئی صدی میں،اکیسویں صدی میں اُردو غزل،مرتب،ڈاکٹر منصور خوشتر۔۲۰۱۷ دریا گنج نئی دہلی ،ص۔۵۲

۲۔پروفیسر ظہورالدین ،اظہار خیال بعنوان اللہ رے”چراغاں“دیوانِ غزلیات، پروفیسر مرغوب بانہالی۲۰۱۴ءادارہ فکرو ادب جموں و کشمیر ۔ص۔َ۱۲

۳۔پروفیسر ظہورالدین،اظہارخیال بعنوان اللہ رے”چراغاں“دیوانِ غزلیات، پروفیسر مرغوب بانہالی۲۰۱۴ءادارہ فکرو ادب جموں و کشمیر ۔ص۔۱۳

۴۔مرزا شفیق حسین شفیق،عرفان صدیقی :شخص او رشاعر(جدید اشاعت معاترمیم و اضافہ)ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی۔۲۰۱۲ءص۔۷۱

Leave a Reply