You are currently viewing میرامن اور سرور کے ادبی معرکے

میرامن اور سرور کے ادبی معرکے

ڈاکٹرثناءاللہ

لیکچرر،اردو،ایم ایل کے پی جی کالج بلرام پور

میرامن اور سرور کے ادبی معرکے

خلاصہ (Abstract)

یہ مقالہ “میر امن اور سرور کے ادبی معرکے” دہلی اور لکھنؤ کے دو بڑے ادبی مراکز کے درمیان لسانی و تہذیبی تنازع اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ادبی پس منظر: دہلی اور لکھنؤ اردو ادب کے دو اہم مراکز تھے جن کی زبان، اسلوب اور ذوق میں فرق نمایاں تھا۔ دہلی کی زبان سادہ، فصیح اور سلیس جبکہ لکھنؤ کی زبان تصنع، ظرافت اور رنگینی سے بھرپور تھی۔ معرکے کی ابتدا: میر امن دہلوی نے ۱۸۰۲ء میں “باغ و بہار” عام فہم دہلوی زبان میں لکھی، جس میں دہلی کی تہذیب جھلکتی ہے۔ انہوں نے دیباچے میں دہلی کی زبان پر فخر کا اظہار کیا۔ سرور کا ردعمل: اس بات پر سرور کو ناگوار گزرا، لہذا انہوں نے ۱۸۲۴ء میں “فسانۂ عجائب” لکھا جو لکھنوی زبان و اسلوب کی نمائندہ ہے اور میر امن کے انداز بیان پر طنز کرتی ہے۔ سخن دہلوی کا جواب: سرور کے طنز کے جواب میں سخن دہلوی نے ۱۸۶۰ء میں “سروش سخن” لکھا، جس میں لکھنوی طرز تحریر اختیار کر کے یہ ثابت کیا کہ دہلوی ادیب بھی مرصع اور رنگین نثر لکھ سکتے ہیں۔ شیون کا ردعمل: آخر میں شیون نے اپنے استاد سرور کی حمایت کرتے ہوئے ۱۸۷۳ء میں “طلسم حیرت” تحریر کی، جس میں سخن دہلوی اور غالبؔ پر خوب طنز کیا ۔ یہ ادبی تنازع محض دو ادیبوں کے درمیان نہیں بلکہ دہلی اور لکھنؤ کی تہذیبی و لسانی برتری کی کشمکش تھی۔ اس معرکے نے اردو نثر کو وسعت بخشی اور نئے اسالیب پیدا کیے۔ میرامن اور سرور کا ادبی معرکہ اردو داستان نگاری کی تاریخ میں ایک اہم باب ہے، جس نے اردو زبان کو مختلف جہتوں سے روشناس کیا۔

میرامن اور سرور کے ادبی معرکے

ادب اپنے وقت کا بہت بڑا نباض ہوتا ہے۔ ادب میں معاشرہ اور تہذیب کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ لہذا شعرا اور ادبا جب کسی فن پارے کی تخلیق کرتے ہیں تو فطری طور پراس عہد کا معاشرہ اور تہذیب زبان و بیان انداز اسلوب محاورہ اورضرب الامثال جوبھی رائج ہوتے ہیں شعرا اور ادبا جس عہد و ماحول میں سانس لے رہے ہوتے ہیں اس کی جھلک  ان کےفن پارے میں صاف طور سےنظر آتی ہے۔ دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ اردو شاعری کے دو دبستان ہیں ان دونوں دبستانوں کی اپنی انفرادی خصوصیات ہے دہلی اور لکھنؤ اپنے تہذیبی ادبی و لسانی  زبان و بیان اور انداز اسلوب کے سبب اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔دہلی اور لکھنؤ شعرو ادب کے دو اہم مراکز ہیں اور دونوں دبستانوں کی اپنی انفرادی پہچان،زبان و بیان،انداز اسلوب اورطرز کلام کی وجہ سےہے دہلی اور لکھنؤ کے لسانی تنازع اردو زبان کی تاریخ میں ایک اہم اور دلچسپ باب ہیں یہ ادبی تنازع دراصل اردو زبان کی ادبی اور تہذیبی رو سے دو مختلف اسالیب ذوق اور زبان و بیان کے فرق کو نمایاں رکھا ہے دہلی کی زبان صاف،سائستہ،دلکش انداز اور قدامت پسند رہی ہے جبکہ لکھنؤ کی زبان مقفع و مسجع اور رنگین  آراستہ و پیراستہ ہے۔ دہلی کے شعرا و ادبا زبان میں سادگی،متانت اور اخلاقی اقدارکو اہمیت دیتے ہیں۔ وہیں لکھنؤ کے شعرا و ادبا کی زبان میں شوخی وظرافت،تصنع و بناوٹ پائی جاتی ہے۔ دہلی کی زبان اسلوب،لب و لہجہ،صاف و سستا ہے جبکہ لکھنؤ کی زبان تصنع آمیز اور مصنوعی ہے دہلی اور لکھنؤ کا تنازع دراصل زبان و بیان،انداز اسلوب،موضوعات اور اظہار خیال کے طریقے کار کا تھا، نہ کی زبان کی بنیادی ساخت کا۔ دہلی والے لکھنؤ کی زبان کو مصنوعی اور نسوانی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ لکھنو والے دہلی کی زبان کو خشک اور ناشائستہ۔جبکہ اردو زبان و ادب میں دونوں دبستانوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے،دہلی اور لکھنؤ کے تنازع نے اردو زبان کو وسعت اور تنوع بخشا،ان دونوں دبستانوں نے نہ صرف اردو زبان کو فروغ دیا۔ بلکہ آج کا اردو زبان و ادب انہی دونوں دبستانوں کے حسین امتزاج کا دلکش نمونہ ہے۔

اردو داستان کے ٹکسال میں ایک ایسا سکہ ڈھلا ہے،جس کے ایک پہلو پر باغ و بہار اور دوسرے پہلو پر فسانۂ عجائب  کا نام ہے جب اردو داستان کا نام زباں پر آتا ہےتو ذہن میں فوراً باغ و بہار اور فسانۂ عجائب کے نقش ابھرنے لگتے ہیں۔ باغ و بہار اور فسانۂ عجائب اردو کی نمایاں مقبول عام داستانیں ہیں، البتہ دونوں داستانوں کا انداز اسلوب جدا جدا ہے۔ ایک طرف باغ و بہار کی زبان جہاں سادگی و پرکاری کا دلکش نمونہ ہے، تو وہیں دوسری طرف فسانۂ عجائب مقفع و مسجع اور رنگیں عبارت آرائی کا بیش بہا خزانہ۔ یہ دونوں داستانیں دو ادبی مراکز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ باغ و بہار میں دہلوی تہذیب کی بھر پور عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے، تو وہیں فسانۂ عجائب میں لکھنوی تہذیب  کوچہ و بازار کی دلکش عکاسی نظر آتی ہے۔ باغ و بہار زبان و بیان اور انداز اسلوب کی بنا پردہلی کی نمائندگی کرتی ہے،تو وہیں فسانۂ عجائب لکھنؤ طرز تحریر کی حامل ہے۔ یہ دونوں داستانیں تقریباً دو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ہر دل عزیز ہیں ان کی مقبولیت میں ذرہ برابر بھی  کمی نہ آئی۔ بلکہ دن بدن اس کی مقبولیت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ یہ دونوں داستانیں  ہند و پاک ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے تمام یونیورسٹیوں کے شعبۂ اردو میں شامل  نصاب ہیں۔

باغ و بہار اور فسانہ عجائب کی زبان و بیان اور انداز اسلوب کے مابین جو فرق ہے اسی کے سبب دہلی اور لکھنؤ کی نثر میں فرق کیا جانے لگا یہ فرق علاقائی ہی نہیں بلکہ ذوق اور مزاج کا فرق ہے کیونکہ میرامن نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان میں باغ و بہار لکھی۔ اور سرور نے بھی لکھنؤ کا جو مزاج تھا اسی روزمرہ کی زبان میں فسانۂ عجائب لکھی ہے لیکن دونوں کا فرق صاف ظاہر ہے دہلی کی زبان سادہ آسان اور عام فہم ہے،تو وہیں لکھنوی طرز تکلم مقفع و مسجع اور رنگین ہیں دونوں مراکز کاانداز بیان اور اسلوب الگ ہے۔

  میرامن دہلوی اور سرور لکھنوی کے درمیان جو ادبی معارکہ آرائی ہوئی وہ اردو ادب کی تاریخ میں ایک درخشاں باب ہے۔ یہ معرکہ صرف دو ادیبوں کے مابین نہیں تھا بلکہ یہ لسانی تنازع دہلی اور لکھنؤ کےادبی و لسانی اور تہذیبی اختلافات حسن گفتار ،طرز تکلم، زبان و بیان اور انداز اسلوب کا تھا۔

سید وقار عظیم دہلی اور لکھنؤ کے لسانی تنازع کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

 ”کبھی کبھی کوئی سیدھی سادی بے ضرر سی بات ایسا بکھیڑا بن جاتی ہے کہ اس کا سمیٹنا اور سنبھالنا خاصی مہم بن جاتاہے۔یوں تو ہماری روزمرہ کی زندگی میں اس طرح کے جھگڑے بکھیڑے معمولات میں داخل ہیں لیکن ادب اور شعر کی دنیا میں یہ کبھی کبھی پیش آتے ہیں اور اسی لیے ان میں ایسی تیزی اور تلخی ہوتی ہے کہ معاملہ’’دلیل و برہان“سے بڑھ کر” تیغ و تفنگ“تک پہنچتا ہے۔“ ۱؎

باغ و بہار اردو ادب کی ایک نمایاں داستان ہےاسے میر امن دہلوی نے ۱۸۰۲ء کلکتہ میں ملازمت کے دوران، فورٹ ولیم کالج کے تحت، ڈاکٹر جان گلکرائسٹ کی فر مائش پر قصہ چار درویش کا آسان اور عام فہم زبان میں لکھا، انہوں نے ترجمہ کے بجاۓ  تخلیقی سطح پر  کام کیا انہوں نے اس میں اپنی طرف سے ترمیم و اضافہ بھی کیا ہے جس سے کہیں بھی ترجمہ کا احساس نہیں ہوتا اردو داستان میں جو شہرت اور مقبولیت باغ و بہار کے حصے میں آئی  وہ کسی بھی داستان کو میسر نہیں زمانے نے کئی کروٹیں لیں تقریباً دو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا رہا اور آ ج بھی بڑی دچسی کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اس کی مقبولیت کا سب سے اہم سبب اس کا انداز بیان اور طرز اسلوب ہے اردو کی قدیم کتب میں کوئی بھی کتاب فصاحت و سلاست کے لحاظ سے باغ و بہار کے مقابل نہیں یہ داستان دہلوی تہذیب اور زبان و بیان اور انداز اسلوب کا دلکش نمونہ ہے۔

میرامن سبب تالیف میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر جان گلکرائسٹ صاحب نے فرمایا کہ

”اس قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں جو اردو کے لوگ ہندو مسلمان عورت مرد لڑکے والے خاص و عام اپس میں بولتے چلتے ہیں ترجمہ کرو موافق حکم حضور کے میں نے بھی اسی محاورے میں لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔“۲؎

میر امن نے اس داستان کو عام بول چال کی زبان میں لکھی ہے اس کی تحریر میں تقریر کا حسن صاف طور سے نمایاں ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرامن داستان تحریر نہیں کر رہے تھے بلکہ داستان گوئی کی محفل میں جیسے قصہ بیان کر رہے تھے سادہ ،آسان اور عام فہم روزمرہ کی زبان جو دہلی اور نواح دہلی میں رائج تھی۔ باغ و بہار کے انداز اسلوب کا اعتراف کرتے ہوۓ سر سید احمد خاں نے لکھا ہے کہ” میرامن کو اردو نثر میں وہی مرتبہ حاصل ہے جو میرتقی میر کو شاعری“  میں میرامن نے سادہ سلیس آسان اور عام فہم روزمرہ کی زبان میں اس داستان کو لکھا ہے لہذا چھوٹے چھوٹے فی البدیہہ جملے میں قصہ کو بیان کیا ہے اور موقع برمحل محاورے اور ضرب الامثال کا استعمال کیا ہے میرامن کی زبان دہلوی ہے جس کا اعتراف انہوں نے کتاب کے سبب تالیف میں کیا ہے کہ

”ہیچ ہے، بادشاہت کے اقبال سے شہر کی رونق تھی۔ ایک بار کی تباہی پڑی۔ رئیس وہاں کے ، میں کہیں تم کہیں ہو کر جہاں جس کے سینگ سمائے وہاں نکل گئے۔ جس ملک میں پہنچے ، وہاں کے آدمیوں کے ساتھ سنگت سے بات چیت میں فرق آیا۔ اور بہت ایسے ہیں کہ دس پانچ برس کسو سبب سے دلی میں گئے اور رہے ، وے بھی کہاں تک بول سکیں گے ، کہیں نہ کہیں چوک ہی جائیں گے۔ اور جو شخص سب آفتیں سہہ کر دلی کا روڑا ہو کر رہا اور دس پانچ پشتیں اسی شہر میں گزاریں، اور اس نے دربار امراؤں کے، اور میلے ٹھیلے، عرس چھڑیاں سیر تماشا اور کوچه گردی اس شہر کی مدت تلک کی ہو گی اور وہاں سے نکلنے کے بعد اپنی اپنی زبان کو لحاظ میں رکھا ہو گا ، اس کا بولنا البتہ ٹھیک ہے۔ یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تما شاد دیکھتا یہاں تلک پہنچا ہے۔ “۳|؎

حالاں کہ اس وقت میرامن کو اس بات کاوہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ بظاہر بے ضرر چند کلمات دلی کے روڑے برسوں تک لوگوں کے لیے موضوع بحث رہیں گے۔

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ  بات  ان کو  بہت  ناگوار گزری ہے

(فیضؔ)

خیر میر امن نے جو باغ و بہار کے سبب تالیف میں دلی کا روڑا ہونے پر فخر کیاوہی بے ضرر چند جملے  اس ادبی تنازع کا باعث بنے حالاں کہ میر امن نے زبان لکھنؤ اور کسی پر کوئی طنز نہیں کیا تھاخدا  جانے کیوں سرور کو یہ بات ناگوار گزری اورسرور نے جب فسانۂ عائب لکھا تو کتاب کے سبب تالیف میں اسی چند کلمات کو طنز و تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔

فسانۂ عجائب لکھنؤ کی ایک ادبی شاہکار تصنیف ہے جس کی عبارت مقفع اور مسجع زبان و بیان کا رنگیں اور دلکش نمونہ ہے  اردو داستانوں میں سب سے زیادہ مقبول عام دو داستانیں ہیں ایک باغ و بہار اور دوسری فسانۂ عجائب میر امن کی باغ و بہار سادہ سلیس آسان اور عام فہم زبان میں ہے تو وہیں  فسانۂ عجائب لکھنوی تہذیب اور زبان و بیان اور انداز اسلوب کا دلکش نمونہ ہے۔ فسانۂ عجائب سرور نے حکیم اسد علی کی فرمائش پر عہد غازی الدین حیدر1824ء کانپور میں لکھی اور 1843ء میں پہلی بار شائع ہوئی اس کے بعد فسانۂ عجائب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے تحسین نے جس انداز تحریر کا ایجاد نورز مرصع سے کیا تھا سرور نے اسی انداز تحریر میں فسانۂ عجائب لکھ کر مقفع و مسجع رنگیں عبارت آرائی کو لکھنؤ کا مخصوص طرز تحریر بنا دیا سرور نے فسانۂ عجائب کے آغاز میں لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت اور کوچہ و بازار کا نقشہ اس انداز سے پیش کیا ہےکہ

”جو گفتگو لکھنو میں کو بہ کو ہے، کسی نے کبھی سنی ہو سنائے۔ لکھی دیکھی ہو ، دکھائے۔ عہد دولت بابر شاہ سے تا سلطنت اکبر ثانی کہ مثل مشہور ہے نہ چولھے آگ نہ گھڑے میں پانی دہلی کی آبادی ویران تھی خلقت معطر و حیراں تھی۔ سب بادشاہوں کے عصر کے روز مرے لہجے ، اردوئے معلیٰ کی فصاحت تصنیف شعرا سے معلوم ہوئی۔ یہ لطافت اور فصاحت و بلاغت کبھی نہ تھی، نہ اب تک وہاں ہے۔ “۴؎

سرور میرامن کے حریف کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے فسانۂ عجائب میرامن کے باغ و بہار کے جواب میں لکھا ہے کیونکہ میرامن نے  اپنی زبان دہلوی ہونے پر فخر کرتے ہوئے باغ و بہار کی سبب تالیف میں اس کا ذکر کیا تھا۔ لہذا سرور جب فسانۂ عجائب لکھ رہے تھے تو میرامن کی بات ان کے ذہن نشیں ضرور رہی ہوگی۔ اس لیے سرور نے لکھنوی طرزتحریر کو زبان دہلی پر ترجیح دینے کی غرض سے میرامن کے انداز اسلوب کو اپنے طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا۔ گو کہ کھلے لفظوں میں یہ نہیں کہا کہ یہ کتاب میرامن کے باغ و بہار کے جواب میں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ فسانۂ عجائب باغ و بہار کا رد عمل ہے انہوں نے فسانۂ عجائب کے سبب تالیف میں لکھا ہے کہ

”اگرچہ اس بیچ میرز کو یہ یارا نہیں کہ دعویٰ اردو زبان پر لائے یا اس فسانے کو یہ نظر نثاری کسی کو سنائے۔ اگر شاہ جہاں آباد کہ مسکن اہل زباں کبھی بیت السلطنت بندوستاں تھا وہاں چندی بود و باش کرتا فصیحوں کو تلاش کرتا، ان سے تحصیل لا حاصل ہوتی تو شاید اس زبان کی کیفیت حاصل ہوتی۔ جیسا میر امن صاحب نے قصہ چار درویش کا باغ و بہار نام رکھ کے خار کھایا ہے، بکھیڑا مچایا ہے کہ ہم لوگوں کے دین حصے میں یہ زبان آئی ہے؛ مگر بہ نسبت مولف اول عطا حسین خان کے ، سو جگہ منہ کی کھائی ہے۔ لکھا تو ہے کہ ہم دلی کے روڑے ہیں، پر محاوروں کے ہاتھ پاؤں توڑے ہیں۔ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پر یہی خیال انسان کا خام ہوتا ہے۔ مفت میں نیک بد نام ہوتا ہے۔ بشر کو دعویٰ کب سزاوار ہے۔ کاملوں کو بیہودہ گوئی سے انکار بلکہ ننگ و عار ہے۔ مشک آنست کہ خود بوید ، نہ کہ عطار گوید یہ وہی مثل سننے میں آئی کہ اپنے منہ سے دھنا بائی۔ لیکن تحریر اس کی، ایفائے تقریر ہے۔ قصہ یہ دل چسپ بے نظیر ہے ۔”۵؎

تو یہ تمام داخلی شہادت فسانہ عجائب کے باغ و بہار کا رد عمل ہونے پر دلالت کرتے ہیں سرور کے فسانہ عجائب سے اردو داستان نگاری میں جواب الجواب کا دور شروع ہو گیا جہاں سرور نے باغ و بہار کے جواب میں فسانہ عجائب لکھ کر میرا من کے زبان کا مذاق اڑایا تو وہیں فسانہ عجائب کے جواب میں سخن دہلوی نے ایک افسانہ سروش سخن 1860ء میں لکھ کر فسانہ عجائب پر طنز کیا ہے انہوں نے اس داستان کے ذریعہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا کہ صرف اہل لکھنو بی مقفی و رنگین زبان نہیں لکھ سکتے بلکہ اہل دہلی بھی اس طرز تحریر میں داستان نگاری کر سکتے ہیں۔

سروش سخن۱۸۶۰ءخواجہ سید فخر الدین حسین سخن دہلوی غالبؔ کے شاگرد تھے اور غالب کو اپنا نانا بھی کہتے تھے بچپن میں سخن دہلوی آرا چلے گئے وہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت شروع کر دی بعد میں منصف ،صدر اعلی اور خان بہادر ہوئے۔ سروش سخن کی تصنیف آرا میں ہوئی۔ یہ عجیب تنازع کی کتاب ہے ایک طرف جہاں سرور سے معرکہ آرائی کی، تو وہیں دوسری طرف صفیر بلگرامی کے ساتھ الجھی ہوئی نظر آتی ہے۔ میرامن دہلوی نے باغ و بہار کے سب تالیف میں دلی کا روڑا ہونے پر فخر کیا، تو وہیں سرور نے فسانۂ عجائب کے دیباچے میں سرور پر طنز کسا۔سخن دہلوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ لہذا سروش سخن کے سبب تالیف میں سرور کو اپنے طنز  و تضحیک کا نشانہ بنایا۔

“اور جو اس قصے کو ملاحظہ کرے ، وہ یه نه سمجهے که فسانۂ عجائب کا جواب لکھا ہے جتنا لکھا ہے لاجواب لکھا ہے نہیں، مرزا صاحب یگانه هیں؛ وہ موجد ہیں ، ھم مقلد ہیں؛ فرق اس قدر که هم کم سن اور مرزا صاحب پرانے آدمی صغیف۔ پھر کہاں ان کی تالیف اور کہاں ھماری تصنیف ! هم نوجوان ، وه صد باران دیده ؛ سنجیده و فهمیده ، پیر کھن پھر کہاں فسانۂ عجائب اور کہاں سروش سخن مگس کو ھما کے ساتھ کیا ھم سری ، ذرے کو سہا سے کیا برابری ! جو لف و نشر مرتب سمجھے ، وہ البته هما را مطلب سمجھے مگر صاحب موصوف نے جو اپنی تالیف میں بے چارے میر امن دھلوی کو بنایا ہے ، اپنی زبان کی تیزی سے اس صاف گو کو ایک آدھ کرا فقرہ سنایا ہے ، تو ھم بھی اب کہتے ہیں کہ سرور لکھنوی نے اٹھارہ مرتبه فسانہ عجائب کو درست کیا ؛ جو فقره سست پایا اسی چست کیا ، مگر غلطی نظر نه آئی ؛ کئی مرتبه کتاب چھپی ، مگر وہ بات نه چهپی قصه اپنا از سر نو ملاحظہ فرمائیں ، ابتدا سے انتہا تک دیکھ جائیں اور سمجھیں کہ کئی جگہ تانیث کو تذکیر لکھا ہے اور تذکیر کو تانیث باندها هی ؛ ارباب بینش پر سب آشکارا ہے؛ حاجت تصریح نہیں : اکثر غلط ھے؛ بالکل صحیح نہیں ۔ حق تو یه هے که جو اردوی معلی کی زبان نہیں جانتا ، تذکیر و تانیث کو نہیں پہچانتا ۔ جو شاہ جہاں آباد میں نہیں رہا ہے ، جس نے دربار شاہی نہیں دیکھا ہے ، وہ فسانہ کیا لکھے ، اس کا منہ کیا ہے۔ یوں تو کہنے کو بہت سے داستان کو دہلی میں لکھنو میں مارے مارے پھرتے ہیں ، اگر وہ بھی چاہیں تو فسانہ لکھ ڈالیں ، تھوڑا کام کر کے بڑا نام کریں ، متقدمین کے سخن پر نکتہ چینی کریں ، ان کے کلام میں کلام کریں ؛ جیسے لکھنؤ کے بعض شاعر ان کے باپ و دادا سب سیکھے سکھائے دہلی سے آئے ، یہاں آباد ہوئے، وہ اب ہر فن کے موجد بنے ، سب شاعروں کے استاد ہوئے۔ انصاف کیجیے ، تعلی کی نہ لیجیے مرزا محمد رفيع السودا اور خواجہ میر درد اور خواجہ محمد نصیر اور میر حسن مصنف مثنوی سحر البیان به سب کہاں کے تھے ؟ میر تقی صاحب غفران مآب تو بادشاه شاعراں سارے جہاں کے تھے ، اس میں تو کسی کو جائے گفتگو اور تقریر نہیں اور اگر ہو تو

ع                       آپ بے بہرہ ھے جو معتقد میں نہیں

ان کو جانے دیجیے ، اب غور کیجیے کہ اس زمانے میں غالب نام ور سب شاعروں میں فرد ہے ، جس کے شب دیز خامه کی ڈیٹ کے سامنے عرصہ نظم و نثر میں تمام اساتذہ کا کلام گرد ہے ھندوستان سے ولایت تک تو ثانی نہیں رکھتا ۔ غالب سب پر غالب ہے ، آپ کا شاگرد ھو جو فن شاعری کا طالب ہے ۔ استاد کو لازم هے که سواے اپنے تلامذہ کے دوسروں کے کلام میں عیب نہ لگائے ، حرف گیر نه هو

اردو جن کی زبان انھیں پر لعن طعن، ایسا بھی آدمی بے پیر نه هوا به قول حضرت نسیم دهلوی :

نسیم دهلوی هم موجد باب فصاحت ھیں

کوئی اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں۔۶؎

سخن دہلوی نے اپنی کتاب کو تصنیف اور فسانہ عجائب کو تالیف قرار دیا ہے سخن دہلوی نے سروش سخن فسانۂ عجائب کے طرز اسلوب پر لکھا ہے کیونکہ سخن دہلوی کا مقصد ہی سرور کو یہ دکھانا تھا کہ اہل دہلی بھی مرصع اور رنگیں عبارت لکھنے کی مادہ رکھتے ہیں انہوں نے داستان کا آغاز اس انداز سے کیا ہے کہ

”راویان اخبار کہن و مصوران پیکری سخن تصویر داستان کی صفحۂ قلم پر یوں کھینچتے ہیں“

سخن دہلوی نے فسانۂ عجائب کے جواب میں سروش سخن لکھا اور  وہی انداز اسلوب اختیار کیا جو سرور نے فسانۂ عجائب میں کیا ہے تاکہ سرور کو انہی کے انداز میں مات دے سکیں کیونکہ سخن دہلوی کو اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ کتاب سرور کے انداز بیان میں ہی مقبول ہوسکتی ہے لہذا انہوں نے سرور کی طرح مقفع و مسجع عبارت آرائی کی اور موقع بر محل اشعار کا بھی خوب استعمال کیا اور سرور کو انہی کی بچھائی ہوئی بساط میں مات دینے کی کوشش کی ہے۔

طلسم  حیرت ۱۸۷۳ء دہلی اور لکھنؤکی لسانی تنازع کی آخری کڑی ہے جس کا آغاز شیون کے استاد سرور نے کیا  سرور نے فسانۂ عجائب ۱۸۲۴ء کی تمہید میں میرمن دہلوی پر کچھ اعتراضات کیے تھے کیونکہ میرمن نے باغ و بہار ۱۸۰۲ء کے سبب تالیف میں دہلی کاروڑا ہونے پر فخر کیا اسی کو سرور نے طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا اس کے بعد سخن دہلوی نے سروش سخن ۱۸۶۰ءمیں  جب تصنیف کی تو انہوں نے کتاب کے دیباچے میں سرور کے انہیں اعتراضات کا جواب دیا جو انہوں نے میر ا من پر چوٹ کیا تھا لہذا شیون اپنے استاد سرور کی حمایت میں سخن دہلوی کا نہایت سخت لہجہ میں  جواب دیا انہوں نے سخن کے ساتھ ساتھ ان کے استاد غالبؔ کو بھی نہیں بخشا طلسم حیرت کی مقبولیت کا سبب بھی  یہی لعن طعن ہے ورنہ کہانی اور زبان و بیان کے اعتبار سے محققین نے اسے ناقص داستان قرار دیا ہے طلسم حیرت میرامن اور سرور کے معرکے کی آخری کڑی ہے اس کی تحریک سروش سخن کے دیباچے سے ہوئی شیون اپنے استاد سرور سے بھی اگے بڑھ کرچار صفحات پر میرامن دہلوی، سخن دہلوی اور غالبؔ پر پھبتنیاں کسیں اور طعن و تشنیع کے تیر برسائے ہیں طلسم حیرت سروش سخن کے جواب میں لکھی گئی ہے سخن نے مہذب الفاظ میں سرور پر طنز کی ہے وہیں شیون نے طیش میں آ کر سخن دہلوی کو جلی کٹی سنائی اور غالبؔ کو بھی نہیں بخشا۔

”کہ جن حضور نے سرور پر طعن تشنیع میں ذہن کند کی تیزی دکھائی ہے ان کو کیا سمائی ہے صاحب من جب آپ کے ہم وطن پر اس غضب کا فقرہ جھونکا کہ آپسے خواہوں نے جھونکا کھایا یہ برا دن پیش آیا شیخی برباد کر دی بادی ظرافت کی طبیعت شاد کر دی پھر آپ کے مقدمہ میں تو کچہ سخن نہیں گوبندہ ان پر طعنہ زن نہیں۔ پر غالب یوں ہے کہ اگر حضرت کے استاد طنز کرتے تو نیز جوہر شمسیر زبان کو آخر گوہر تاشیر بناتی گوکہ آپ کے نزدیک برج اسد پر ہے اپنی حد پر رہے گا وہی زمین دکھا دیتا آہو گیری کا مزہ چکھا دیتا مگر جائے شگفت ہے کہنے والوں کو مقام گفت ہےاستاد فصاحت بنیاد بلبل ہزار داستان طوطیٔ ہندوستان نے گلزار سرور پر باغ باغ ہو کر وہ رنگیں تقریظ فرمائی کی باغ و بہار پر خزاں آئی پھر حضور نے کیا سمجھ کے کلام سرور میں شاخ نکالی نقطہ چینی کی نظر سے آنکھ ڈالی چرخ حقہ باز نے تازہ گل کھلایا کلی ہی تھا وہ آج یہ ماجرا نظر آیا گرو گڑ ہی رہے چیلے شکر ہو گئے شاگرد اور استادی کا دم بھرنے لگے اپنی تحریر پر مرنے لگے یہ لیاقت اور سرور پر زبان طعن دراز مثل مشہور یہ منھ اور نواب کا زیر انداز ابھی کچھ کہوں تو پیچ درپیچ ہو کر کڑکیے جھول جھال چھوڑ کر لکھنؤسے سٹکیے اور نہیں چونکہ آج کل آپ کے علاقت کا پنجڑا کھلا ہے لیاقت کا ڈربا کھلا ہے فقر کا سفم تحریر ٹاپا جائے قرینہ لڑایا جائے پر بیضے سے پائے اپنا سر کھائے اے صاحب ابھی آپ انڈے کی ملوک ہیں و وہیں دن گزرے ہوں گے دولت خانے سے قدم خاکی فرماے گلزار لکھنؤ کی بلبل دیکھ کر عقل کے توتے اڑائے۔“۷؎

یہ کتاب تمام و کمال ضلع جگت ہے اور رعایت لفظی کا اہتمام ہے طلسم حیرت ایک ادبی تنازع کے سبب تالیف ہوئی اسی وجہ سے مقبول ہے ورنہ اس کی کوئی ادبی اہمیت نہیں تمام داستان رعایت لفظی اور ضلع جگت سے بھری پڑی ہے۔

میرامن اور سرور کے ادبی معرکے کا آغاز  میرامن کی بے ضرر سی باتوں دلی کے روڑے سے ہوا۔ سرور نے میر امن پر طنز کستے ہوئے دہلوی زبان پر لکھنوی زبان کو فوقیت دی بعد میں سخن دہلوی نے سرور کے ہی طرز اسلوب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کی یہ انداز بیان صرف اہل لکھنؤ کو ہی نہیں آتی بلکہ اہل دہلی بھی اس طرح کے اسلوب بیان کا استعمال کر سکتے ہیں آخر میں شیون نے اپنے استاد سرور کی حمایت کرتے ہوئے سخن دہلوی اور ان کے استاد غالبؔ پر لعن طعن  کی اس طرح یہ تنازع میرامن کی باغ و بہار سے شروع ہو کر شیون کی طلسم حیرت پر ختم ہوتا ہے اس لسانی تنازع کے باعث دہلی اور لکھنؤ کے انداز بیان اور طرز اسلوب میں اختلاف کیا جانے لگا اور اس لسانی تنازع سےسروش سخن اور طلسم حیرت کا اردو  داستان کے ذخیرے میں اضافہ ہواان دونوں دبستانوں نے اردو زبان و ادب کو فروغ دیا بلکہ آج کا اردو زبان و ادب انہیں دونوں دبستان کے حسین امتزاج کا عکس ہے۔

مراجع و مصادر

۱۔  ہماری داستانیں،سید وقارعظیم،ص ۳۶۵

۲۔باغ و بہار،میرامن ،ص ۶

۳۔ایضاً،ص ۸

۴۔فسانۂ عجائب،سرور،ص ۲۳

۵۔ایضاً،ص ۳۳

۶۔سروش سخن ،سخن دہلوی،ص ۹۔۸

۷۔طلسم حیرت ،شیون،ص ۱۵

Leave a Reply