You are currently viewing گو پی چند نارنگ کی تنقیدی نظر و نظریہ

گو پی چند نارنگ کی تنقیدی نظر و نظریہ

ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی (اورنگ آباد دکن)

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو،سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ ضلع بیڑ، مہاراشٹر

گو پی چند نارنگ کی تنقیدی نظر و نظریہ

تلخیص:

گوپی چند نارنگ اردو زبان و ادب کا معتبر نام ہے جس نے اردو تنقید میں ساختیات پس ساختیات، لسانیات، جدیدیت و ما بعد جدیدیت اور اسلوبیات جیسے متعدد موضوعات کو اپنی تنقیدی نظر و نظریے سے روشناس کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نیز گوپی چند نارنگ شعریات، معنی آفرینی، سیاق و سباق، نظری تحلیل اور علمی اعتدال  کو اپنی تنقیدی نظر و نظریات میں پیش کرنے کی ممکن کوشش کی جس کو ذیل کے مقالے میں بیان کرنے کی ممکن کوشش کی ہے۔

اشاریہ:

نارنگ، نظر، نظریات، شعریات، لسانیات، صوتیات، ساختیات، پس ساختیات، معنیات، تنقید، تہذیب شعور وغیرہ۔

تمہید:

اردو زبان و ادب کے جدید تنقیدی منظرنامے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اُس میں پروفیسر گوپی چند نارنگ (1931–2022) کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ وہ محض ایک نقاد ہی نہیں بلکہ ایک ایسا فکری نظام پیش کرنے والے دانشور ادیب و ناقد ہیں جس نے اردو تنقید کو نئی سمتیں عطا کیں۔ ان کی تنقید میں روایت اور جدیدیت، معنیات اور اسلوبیات، ساختیات اور پس ساختیات، تہذیبی شعور اور لسانی علوم ایک ایسی ہم آہنگی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں جو اردو تنقید میں کم یاب ہے۔ نارنگ کی نظر صرف ادب تک محدود نہیں بلکہ لسانیات، تہذیبی مطالعے، جمالیات اور فکری مباحث تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وسعت نظر ان کے نظریے کو اُردو ادب کے دیگر ناقدین سے اُنہیں منفرد بناتی ہے۔

یہ مقالہ نارنگ کی تنقیدی نظر، فکری پس منظر، نظریاتی تشکیل، اسلوب اور اردو ادب پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ گوپی چند نارنگ کا فکری و علمی پس منظر یہ ہے کہ موصوف نے دہلی یونیورسٹی سے علمی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں لسانیات، معنیات، شیریں بیان، فارسی روایت، میر و غالب کے مطالعے نے ان کے ذہن کو گہرائی و وسعت عطا کی۔ اسی وسعت کے مابین نارنگ نے جدید و کلاسیکی تنقید، ہندوستانی شعریات، ساختیات و پس ساختیات، نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی مباحث اور اسلوبیات کو اپنے تنقیدی نظر و نظریہ کا حصہ بنایا۔

نارنگ اس بات کے قائل تھے کہ اردو تنقید اگر صرف مغربی نظریات کی تقلید کرے یا محض کلاسیکی شعریات تک محدود رہے تو اس کی ترقی ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک صحیح تنقید وہ ہے جو روایت اور جدیدیت کو گفت و شنید کے رشتے میں جوڑ سکے۔ نارنگ کی تنقیدی نظرکی بات کریں تو موصوف کے یہاں

( ۱) کثیر سمتی نگاہ (Multidimensionality) ملتی ہے یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ نارنگ کی نظر یک رُخی یا منجمد نہیں۔ وہ ادب کو تاریخی، تہذیبی، لسانی، جمالیاتی، فکری اورعمرانی، پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔ یہی تکثیریت (plurality) ان کی تنقید میں وسعت اور گہرائی لاتی ہے۔نارنگ کے نزدیک ادبی متن جامد شے نہیں بلکہ معنی خیزی کا مسلسل سفر ہے جو قاری، متن اور تہذیب کے مابین جاری رہتا ہے۔

کثیر سمتی نگاہ کے ساتھ ساتھ روایتی شعوری مطالعہ بھی بڑے پیمانے پر ملتاہے۔

) روایت شعوری مطالعہ:انہوں نے اردو کی کلاسیکی روایت   خصوصاً میر، غالب، اقبال، غالبیات اور فارسی و ہندوستانی شعریات—کو نہایت باریک بینی سے سمجھا۔نارنگ روایت کی کلی انکاریت کے قائل نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا:’’ترقی اور جدیدیت، روایت سے انکار نہیں بلکہ اس کی نئی تعبیر کا نام ہے۔‘‘لہٰذا ان کی تنقید میں روایت کا مثبت اور تخلیقی تصور ملتا ہے۔

) بین المتونیت کا شعور:نارنگ نے مغربی تصورات  جیسے بین المتونیت (Intertextuality)کو اردو تنقید میں باقاعدہ جگہ دی۔ ان کے نزدیک ہر نیا متن پچھلے متون سے معنی لیتا اور انہیں نئی سمت دیتا ہے۔مثلاً وہ غالب کے اشعار کو میر، فارسی شعریات اور اردو کے تہذیبی سیاق میں دیکھتے ہیں۔

) متن کا لسانی تجزیہ:نارنگ نے لسانیات (Linguistics) کے اصولوں کو اردو تنقید میں متعارف کرایا۔ ان کے نزدیک زبان محض ذریعہ اظہار نہیں بلکہ معنی کی تخلیق کا بنیادی ذریعہ ہے۔لہٰذا وہ: صوتیات، صرفیات، نحوی ساخت، علامتی نظام، معنیاتی سطح کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ مذکورہ عناصر کے ساتھ نارنگ کے نزدیک نظریاتی مباحث بھی موجود ہیں۔

 نظریاتی مباحث:نارنگ کا تنقیدی نظریہ کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اہم نظری مباحث کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

۱۔ ہندوستانی شعریات اور اردو:نارنگ کی سب سے بڑی خدمات میں ایک یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستانی جمالیاتی روایت۔جس میں رس تھیوری، دھونی تھیوری، اور رچناکو اردو تنقید میں شامل کیا۔جب کہ:رس تھیوری (Rasa Theory)یہ نظریہ جذبات اور جمالیاتی حسیت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ نارنگ نے اس نظریے کی مدد سے میر اور غالب کی شاعری میں چھپی تہذیبی جمالیات کو واضح کیا۔

دھونی تھیوری (Dhvani):اس کا تعلق شعر کی پوشیدہ معنویت سے ہے۔ نارنگ کے نزدیک:’’اردو غزل کا اصل جوہر دھونی میں ہے، یعنی وہ معنی جو شعر کے ظاہر میں نہیں بلکہ اس کی تہ میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔‘‘

 ساختیات (Structuralism):نارنگ نے نشان اور معنی کے تعلق کو اردو ادب کے متن پر منطبق کیا۔

موصوف کا خیال ہے کہ ساختیات:شعر یا نثر کا متن ایک لسانی و علامتی نظام ہے۔معنی متن کے اندرونی رشتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔قاری معنی کی تخلیق میں شریک ہے۔انہوں نے ساختیاتی تنقید کو محض مغربی میکانکی نظریہ سے نہیں سمجھا بلکہ اسے اردو کی تہذیبی ساخت سے ہم آہنگ کر کے پیش کیا۔

۳۔ پس ساختیات (Post-structuralism):نارنگ کے بعد کے کاموں میں پس ساختیاتی مباحث زیادہ نمایاں ہیں۔ اس میں:

معنی کی کثرت، متن کی جملہ قرأتیں، قاری کی مرکزیت، معنی کا عدم استحکام جیسے تصورات شامل ہیں۔نارنگ کے مطابق:’’متن صرف ایک معنی نہیں رکھتا؛ وہ معنیات کی لامحدود دنیا سے ربط رکھتا ہے۔‘‘انہوں نے ان تصورات کو اردو غزل، جدید نظم، اور افسانے میں لاگو کیا۔

۴۔ مابعد نوآبادیاتی مطالعہ

نارنگ کے مابعد نوآبادیاتی مقالوں میں ہندوستانی تہذیب، اردو کی تشکیل، اور سامراجی بیانیے کے اثرات کا جائزہ ملتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ:ہندوستانی زبانیں اپنی تاریخی و تہذیبی جڑوں کے ساتھ زندہ ہیں۔مغربی نامیات (narratives) کو بلا تنقید قبول کرنا درست نہیں۔نارنگ نے اردو کو ایک کثیر تہذیبی، کثیر لسانی اور ہم آہنگی کی زبان قرار دیا۔

 فنِ اسلوبیات میں خدمات:

لہذا نارنگ نے اسلوبیات (Stylistics) کے میدان میں اردو ادب کو منظم بنیاد پر روشناس کرایا۔ان کے مطابق اسلوب میں درج ذیل عناصر اہم ہیں:(1)۔ علامت)2)۔ تشبیہ و استعارہ)3)۔ صوتی ہیئت(4)۔ تکرار (5)۔ جملوں کی ساخت(6)۔ لفظیات

نارنگ کے نزدیک اسلوب دراصل تخلیق کے ذہنی و جمالیاتی مزاج کا آئینہ ہے۔نارنگ کی تحقیق اور تدوین سے متعلق متعدد کتابیں تصنیف و تحقیق کے میدان میں ان کی علمی عظمت کی دلیل ہیں۔ اُن کے کتب میں: اردو زبان کا لسانی و ثقافتی پس منظر،ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات،جدیدیت، مابعد جدیدیت اور اردو ادب،غالب: معنی آفرینی، جہات و امکانات،اردو غزل اور ہندوستانی تہذیب ،یہ کتابیں اردو تنقید کو ایک نئے علمی مدار پر لے جاتی ہیں۔

 نارنگ اور غالبیات:

نارنگ کی غالب شناسی کا دائرہ وسیع ہے۔ انہوں نے غالب کی علامت نگاری، خالص ذاتی و تہذیبی نظامِ فکر، استعاراتی ساخت، معنی کی تہہ داری کو نئے زاویوں سے پیش کیا۔نارنگ کے نزدیک:’’غالب کی معنویت کو محض فلسفے یا محض جمالیات میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک تہذیبی ذہن ہے جو وقت کے ساتھ معنی تخلیق کرتا ہے۔‘‘

نارنگ کی تنقید کا اسلوب:

نارنگ کا اسلوب متوازن، شگفتہ اور مدلل ہے۔ ان کی تحریر میں:تحقیق کا استناد، نظری تحلیل، تہذیبی حوالہ، استعارتی نرمی، علمی اعتدال، سب یکجا نظر آتا ہے۔البتہ نارنگ مشکل سے مشکل نظریات کو عام قاری تک سادہ مگر باوقار انداز میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

 نارنگ پر اعتراضات اور جوابات:

کچھ ناقدین نے نارنگ پر اعتراض کیا کہ وہ مغربی نظریات کو اردو پر ’’نافذ‘‘ کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نارنگ نے کبھی مغربی نظریات کو جامد صورت میں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے ان کا:مقامی تناظر میں جائزہ لیا،ہندوستانی جمالیاتی روایت سے ربط پیدا کیا اور اردو ادب کی ساخت و ذوق کے مطابق استعمال کیا۔ یہی ان کا امتیاز ہے۔

 اردو تنقید پر نارنگ کا اثر:

نارنگ نے اردو تنقید کے کئی اہم رجحانات کی تشکیل کی:۱۔ نظریاتی تنقید کی جدید صورت،۲۔ ساختیات اور پس ساختیات کا تعارف،۳۔ ہندوستانی شعریات،۴۔ لسانی تنقید کا فروغ،۵۔ مابعد جدید مباحث کا منظم مطالعہ،۶۔ نئی نسل کے نقادوں کی تربیت

آج بھی اردو تنقید میں نارنگ کی فکر کے اثرات نمایاں ہیں، جیسے:شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی (مکالماتی سطح پر)،ناصر عباس نیر،خورشید الاسلام، قاضی افضال حسین نے مختلف پہلوؤں سے ان کے نظریات کو آگے بڑھایا۔

نتیجہ:

گوپی چند نارنگ کے نظریات اور تنقیدی خدمات اردو تنقید کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے:روایت و جدیدیت کے درمیان مکالمہ قائم کیا،اردو ادب کے تہذیبی و فکری پس منظر کو عالمی تناظر میں دیکھا،لسانیات، شعریات، ساختیات اور مابعد نوآبادیاتی نظریات کو اردو کے سیاق میں ڈھالا،بین المتونیت اور معنی آفرینی کو نیا افق عطا کیا۔ نارنگ کی فکر نہ صرف موجودہ تنقیدی منظرنامے پر حاوی ہے بلکہ مستقبل کے مباحث کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اردو تنقید اگر آج ایک وسیع، لچکیلی اور علمی فضا رکھتی ہے تو اس میں گوپی چند نارنگ کی خدمات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

حوالہ جات:

  1. نارنگ، گوپی چند۔ ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات۔ نئی دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، 1998۔
  2. نارنگ، گوپی چند۔ اردو غزل اور ہندوستانی تہذیب۔ دہلی: اردو اکادمی، 2002۔
  3. نارنگ، گوپی چند۔ غالب: معنی آفرینی، جہات و امکانات۔ ہم آہنگ پبلشرز، لاہور، 2006۔
  4. ناصر عباس نیر۔ جدید اور مابعد جدید تنقید۔ لاہور: سنگ میل، 2012۔
  5. شمیم حنفی۔ جدید اردو تنقید کی تشکیل۔ دہلی: مکتبہ جامعہ، 1990۔
  6. فاروقی، شمس الرحمن۔ تفہیم غالب۔ نئی دہلی: مکتبہ جامعہ، 1989۔
  7. قاضی افضال حسین۔ “نارنگ کا تنقیدی منہاج”۔ رسالہ آج، شمارہ 112، دہلی، 2015۔
  8. خورشید الاسلام۔ شعر و شعور۔ نئی دہلی، 1978۔

Leave a Reply